نظام عدل کا نفاذ

Click here to View Printed Statment

Posted by AAMIR JAVED / 26 Apr 09

رخ کا تعین ضروری ہے

یہ سچ ہے کہ لانگ مارچ کے نتیجے میں ججوںکی بحالی کے بعد ہماری قومی سیاست میں استحکام کا تاثر ابھرا ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی آپس میں ورکنگ ریلیشن شپ قائم کر لینے اور آپس کی چپقلشوں کو بات چیت اور چارٹر آف ڈیموکریسی کی بنیاد پر آگے بڑھانے پر متفق ہوجانے کے بعد قومی اہداف کیا ہیںِ۔ کیا یہ ساری جدوجہد محض پرامن طریقے سے انتخاب کراتے چلے جانے اور باری باری اقتدار سنبھالنے تک ہی محدود ہے یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے عظیم تر مقاصد کے حصول کی جانب بھی کوئی ٹھوس اقدام اٹھانے کی خواہش کار فرما ہے؟

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Apr 09

پاسبان مل گئے

Click here to View Printed Statement

یہ تصور بھی مشکل تھاکہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت مغرب خصوصاً امریکہ کی طرف سے واضح ”احکامات“ سے ”انحراف“ کرتے ہوئے اپنے لوگوں کی آواز پر لبیک کہے گی اور مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذِ شریعت یا عدل ریگولیشن کو قومی اسمبلی سے متفقہ طورپر پاس کروانے کا کارنامہ سرانجام دے گی !۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Apr 09

نظریہ ءپاکستان…. تعمیر پاکستان

Click here to View Printed Statement

مشرف دور میں مملکت پاکستان کو سیاسی طور پر ہی نہیں نظریاتی طور پر بھی فکری انتشار کی دلدل میںدھکیل دیا گیا تھا۔ آج بھی ہمارے تعلیمی نصاب میں ہمارے نظریاتی محاذ پر شخصی شب خون کے آثار پوری طرح نمایاں ہیں۔ امید رکھنی چاہیے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) پنجاب میں کسی مشترکہ فارمولے پر متفق ہوجانے کے بعدمرکز میں تعلیم جیسے اہم ترین شعبے کو کوئی اہل مسلم لیگی وزیر سنبھال لے اور پہلی کلاس سے لے کر اعلیٰ تعلیمی نصاب تک جابجا پھیلی ہوئی فکرو نظر کی تباہ کن بارودی مائنز کو صاف کرکے دل و دماغ کے لئے خالص اسلامی اورپاکستانی غذا فراہم کرنے کا سبب پیدا کرسکے۔ آج جس قدر تعلیمی نصاب کی اصلاح ضروری ہے شائد ہی کسی اورشعبے میں ایسی ایمرجنسی تقاضا کرتی ہو۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 13 Apr 09

دردناک کوڑے….خوفناک پروپیگنڈا

Click here to View Printed Statement

عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ہی سوات میں ایک لڑکی کو کوڑے مارے جانے کے واقعہ کے تمام پہلو سامنے آسکیںگے۔ وڈیو اصلی ہے یا جعلی‘ واقعہ کے محرکات حقیقی ہیں یا بہتان پر مبنی‘ کوڑے مارنے والے اصلی طالبان ہیں یا طالبان کے روپ میں دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں۔ سزا طے کرنے اور اس پر عملدرآمد کرنے والے لوگ واقعتا اسلامی سزا اور جزا کی روح کو سمجھنے والے علماءہیں یا قبائلی سوچ کے حامل چند روایت پرست باریش لوگوں کا کوئی گروہ ہے ۔ اس طرح کے بے شمار سوالات کے جوابات عدالت کے ذریعے ہی مل سکیں گے۔ سوات اور فاٹا کے حالات ایسے ہیں کہ کسی بھی واقعہ کا فوری طور پر سچ اورجھوٹ ڈھونڈ لینا امر محال ہے۔ ہم صرف سوالات اٹھا سکتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 07 Apr 09

نظریاتی تعلیم وقت کی اہم ترین ضرورت

Click here to View Printed Statment

Posted by AAMIR JAVED / 04 Apr 09

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player