وہ‘ واہ اور وائز

Click here to View Printed Statement

وہ بھی عجیب لوگ ہیں۔ایسے ماحول میں جب ہر بااثر شخص لُوٹنے کی دھن میں مصروف ہے وہ لوٹانے کی فکر میں مبتلا ہیں۔اس زندگی اور اس ملک نے لوگوں کو بہت کچھ دیا ‘اکثر نہیں لیکن ہر شہر اور ہر علاقے میںایسے صالح اعمال پاکستانی موجود ہیں جو اپنی کامیابیوں میں اپنے وطن کے لوگوں کو بھی شریک سمجھتے ہیں اور کچھ نہ کچھ واپس لوٹانے کاکوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Jun 10

ڈیم کنارے ملاقاتیں

Click here to View Printed Statement

یہ ملاقاتیں بھی عجیب ہیں۔جب میل ملاپ کے سارے راستے بند ہوں اور فریقین کوماضی مرحوم کی محبتیں ڈسنے لگیں تو پھر کونسا طریقہ نکالاجائے کہ شریفانہ طرز سیاست پر حرف بھی نہ آئے اور ملاقات کا سبب بھی پیدا ہوجائے۔ اس کی زندہ اور تازہ ترین مثال کالا باغ ڈیم کے اشو پر سینٹ کے اندر مسلم لیگ (ن) اور (ق) کے ارکان کا یک زبان ہونا ہے ایک ایسا اشو جسے خود مسلم لیگ (ن) اور(ق) نے”وسیع تر قومی مفاد“ میںدفنا دیا تھا‘قومی وحدت کو ڈیم پر قربان نہ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا‘متبادل

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Jun 10

خونی انقلاب دستک دے رہا ہے

Click here to View Printed Statement

ماضی میں غریب غرباءاپنی غربت اور تنگدستی کو اپنا مقدر سمجھ کر دھیرے دھیرے موت کی طرف بڑھتے رہتے تھے۔بغاوت کا آپشن عام نہیں ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ساٹھ اور ستر کی دیہائیوںمیں اشتراکی نظریات اپنے تمام تر پرکشش نعروں کے باوجود پاکستانی معاشرے میں جڑ نہ پکڑ سکے اور روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ نے پاکستانی عوام کو روس سے بڑی حد تک لاتعلق ہی رکھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Jun 10

ایران کی پہچان

Click here to View Printed Statement

پاک ایران تعلقات کو سرد مہری کا شکار کرنے کےلئے ہمارے ہاں بعض اوقات سپانسرڈ قسم کی خبریں اچھالی جاتی ہیں لیکن ہفتہ بھر ایران میںرہ کر اور وہاں کے لوگوں سے مل کر دل انتہائی مطمئن ہوا ہے کہ اہل ایران نہ صرف یہ کہ پاکستان کے بارے میں بے پناہ محبت رکھتے ہیں بلکہ اس محبت کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ انقلاب ایران سے قبل بھی ایرانی اور پاکستانی اقوام میں بھائی چارے کی فضا ہی تھی لیکن اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ”اسلامی جمہوریہ“ کے لفظ نے معنوی اعتبار سے قربت کو فروغ دیا ہے اور علامہ اقبالؒ کی فارسی شاعری کے حوالے نے ایرانی اور پاکستانی بہن بھائیوں کو قلبی طور پر بھی یک جان دو قالب بنا ڈالا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Jun 10

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player