نظریہ پاکستان اور اساتذہ کا کردار

Click here to View Printed Statement

معروف معنوں میں نظرء یہ پاکستان دو قومی نظرء یہ ہے جس کی بنیاد پر 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آگیا۔قائداعظمؒ انگریز سامراج اور ہندو اکثریت کو اپنی سالہا سال کی جدوجہد کے دوران یہ باور کراتے رہے کہ ہندوستان میں مسلمان اور ہندو دو قومیں ہیں جو تہذیبی‘مذہبی‘سیاسی اور تاریخی لحاظ سے بالکل مختلف ہیں ۔ہندوؤں نے مسلمانوں سے اپنی سدا بہار نفرت کے ذریعے بالآخر انگریزوں کو قائداعظمؒ کا مؤقف تسلیم کرنے پر آمادہ کردیا اور پاکستان کا قیام ممکن ہوگیا۔
دو قومی نظریہ نے ہی ثابت کیا کہ قومیں زبان‘رنگ اور نسل کے اعتبار سے ہی مختلف نہیں ہوتیں بلکہ مذہب کی بنیاد پر ان کی جداگانہ حیثیت قائم ہوتی ہے۔ اقبالؒ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا‘ قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تو کچھ بھی نہیں‘‘۔ہندوستان کے رہنے والوں کا رنگ ایک جیسا تھا‘ زبان ایک جیسی تھی اور شائد نسلی حوالے بھی ایک جیسے تھے۔ذات کے اعتبار سے ایک دوسرے کیساتھ جڑے ہوئے تھے لیکن مسلمان اللہ کے پیروکارجبکہ ہندوبت پرست۔ اگر تو اسلام کی جگہ کوئی اور مذہب ہوتا تو شائد معاملہ مختلف ہوتا لیکن اسلام کی تعلیمات مسلمانوں کو غیر مسلموں کی سماجی اور مذہبی برتری قبول کرنے سے روکتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہزار سال تک مسلمان اور ہندو مشترکہ طور پر اس خطے میں ز ندگی گذارتے رہے تھے لیکن یہ اسی صورت ممکن ہوا تھا کہ مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود سیاسی اور مذہبی طور پر بالاتر تھے اور حکومت مسلمانوں کے پاس تھی۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اپنی ریاست قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ اسلام کا ہی سچاجذبہ تھا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن کا مطالبہ کرنے پر اُبھارا۔ لہٰذا نظریہ پاکستان دراصل نظریہ اسلام ہی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Oct 14

بااختیار عورت ۔کیوں اور کیسے

Click here to View Printed Statement

ایک بار پھر خطہ ء عراق وشام سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ داعش نامی تنظیم اپنے مفتوحہ علاقوں میں مردوں کو قتل کر رہی ہے اور مال غنیمت کے طور پر ہاتھ لگنے والی عورتوں کو فروخت کیا جارہا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ ایسی خبروں میں مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے کچھ مبالغہ بھی ہو لیکن مختلف ذرائع دور جاہلیت والے اس فعل کی تصدیق کرچکے ہیں اور مذکورہ تنظیم کی طرف سے کوئی تردید تاحال سامنے نہیں آئی۔داعش یا دولت اسلامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے ہر طرح کے بیانات شائع ہورہے ہیں اور سوشل میڈیا کسی کنٹرولنگ اتھارٹی کا پابند نہیں اس لئے عورتوں کی فروخت کے حوالے سے تواتر کے ساتھ شائع ہونے والی خبروں کی اگر تردید کی جاتی تو یقیناًوہ بھی کسی نہ کسی طرح منظر پر آجاتی۔پاکستان کے مذہبی حلقوں نے داعش کے ان افعال کو نہ صرف غیر اسلامی قرار دیا بلکہ غیر انسانی بھی کہا ہے۔ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں او ان بدقسمت عورتوں کو قطار میں بٹھایا دکھایا گیا۔ یہ خبریں اور تصویریں دیکھ کر انسانی دماغوں پر ایک سناٹا سا چھا جاتا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور اور اسلامی تعلیمات کے عام ہونے کے باوجود بھی یہ سب کچھ ممکن ہے؟ غیر ملکی دانشوروں کی متفقہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ عورت کے رہنے کے لئے اس دنیا پر بھارت سب سے نامناسب ملک ہے۔ یہ 2014ء ہے اور اب جا کر ہندوستان کے اندر عورت کے حق میں قوانین بننے کا عمل شروع ہوا ہے۔اس پربھی وہاں کے روایتی ہندو حلقے خوش نہیں ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 24 Oct 14

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player