Click here to View Printed Statement

ضرب عضب پوری قوت کیساتھ جاری ہے ۔ نتائج بھی بڑی حد تک مثبت قرار دیئے جاسکتے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ دہشت گرد اب میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں ۔ وہ انتہائی مایوسی کی حالت میں بچوں’ عورتوں اور غیرمتحارب کمیونٹی پر حملہ کر رہے ہیں۔ ان کا بچ نکلنا اب محال دکھائی دے رہا ہے۔دہشت گردوں کیخلاف یہ فتوحات خالصتاً عسکری نوعیت کی ہیں۔ہمارے بہادر عساکر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر قومی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔آج پوری قوم اپنی مسلح افواج’ آئی ایس آئی’ رینجرز اور پولیس کی قربانیوں کو دل و جان سے تسلیم کرتی ہے اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں افواج پاکستان کی حکمت عملی’ بہادری اور جوانمردی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے عوام باعزت طور پر گھروں کو واپس جارہے ہیں۔ ان کے پرامن رزو و شب کو یقینی بنانے کے لئے بھی ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔ سرحد پار افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کا پیچھا کیا جارہا ہے۔حکومتی سطح پر افغان حکومت کو قائل کر لیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے۔ حال ہی میںکراچی سے پکڑے جانے والے دہشت گردوں نے ہندوستانی خفیہ ایجنسی ”را” سے تربیت حاصل کرنے کے انکشافات کئے ہیں۔ ان انکشافات کی روشنی میں ”را” کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت بھی بھارت کو دیئے گئے ہیں۔اور ہماری سیاسی اور عسکری قیادتوں نے ”را” کے ملوث ہونے کے بارے میں عوام کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ بلوچستان میں ہتھیار بند علیحدگی پسندوں کا صفایا بھی ہورہا ہے۔ایک اُمید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ تین ماہ تک ملک بھر میں دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی جائے گی۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردی کا یہی واحد حل ہے کہ طاقت کو مزید طاقت سے دباتے رہیں اور ہماری ڈھیر ساری توانائیاں خانہ جنگیوں کی نذر ہوتی رہیں۔اس سوال کا جواب حاصل کرنے سے پہلے ایک ضمنی سوال ضروری ہے۔
”دہشت گرد کون ہے”۔ مذہبی منافرت سے جنم لینے والے نظریات کے حامل افراد اور گروہ دہشت گرد کون ہیں؟ کیا بلوچستان میں حقوق کے نام پر جنگ کرنے والے دہشت گرد ہیں۔ کیا داعش کی سوچ سے متاثر بندوق بردار دہشت گرد ہیں؟ کیا ”را” کے ایجنٹ دہشت گرد ہیں۔ ہم کس کو دہشت گرد کہیں’ کس کو انتہا پسند گردانیں’کس کو ”را” کا ایجنٹ گردانیں؟۔آخر دہشت گرد کی تعریف کیا ہے۔ ایسی تعریف جو بچے’بوڑھے’مسٹر’ مولوی’ امیر’ غریب’فوجی’ سویلین’پارلیمنٹرین اور ووٹر کو سمجھ آسکے۔ہمارے سرکاری تھنک ٹینک ایسی جامع اور مختصر سی تعریف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اگر ایسی تعریف کہیں کی گئی ہے تو اس کی پوری طرح تشہیر نہیں ہوسکی۔ اس لئے آج بھی ہمارے مذہبی طبقات جن کی حب الوطنی پر شک نہیں وہ بعض مسلح گروہوں کیخلاف ریاست کی جاری جدوجہد کو دل سے ٹھیک نہیں سمجھتے۔ کتنے ہی عوامی حلقے ہیں جو بلوچ دہشت گردوں کو تو دہشت گرد قرار دیتے ہیں لیکن طالبان کو وہ ہرگز دہشت گرد نہیں مانتے بلکہ انہیں مجاہدین کہتے ہیں۔ اگرچہ اب کھل کر طالبان کی حمایت سامنے نہیں آرہی لیکن آج اگر سیکورٹی ایجنسیوں کی گرفت کمزور پڑے تو پھر طالبانی جھنڈے لہرانا شروع ہوجائیں گے۔
اس مزاحمتی فکر کا سبب یہ ہے کہ ریاستی سطح پر دہشت گردی کی کوئی متفقہ تعریف سامنے نہیں آسکی اور پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد خارجی افکار اور نظریات سے براہ راست متاثر ہورہی ہے۔ہمارے نامور مذہبی دانشور آج بھی امریکہ کی مخالفت میں طالبانی سوچ اور مسلح جدوجہد کرنے والے جتھوں کو مظلوم سمجھتے ہیں ۔ ان کے لئے ہمدردیوں پروان چڑھاتے ہیں اور غلبہ اسلام کے جوش میں ”مجاہدین اسلام” کی کامیابی کے لئے دُعا گو رہتے ہیں۔
ریاستی اداروں کو ‘ سرکاری دانشوروں کو ایک بات بار بار لوگوں کے ذہنوں میںدلائل کے ساتھ بٹھا دینے کی ضرورت ہے کہ کوئی فرد’ کوئی گروہ’ کوئی جتھہ اسلام ‘حقوق’ انتقام’ مسلک’ زبان ‘ جہادکے نام پر اگر ریاست کے خلاف’عوام کے خلاف’کسی فرد یا کسی دوسرے گروہ کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا تو وہ دہشت گرد کہلائے گا۔بندوق صرف ریاست کا ہتھیار رہے گا۔ کسی کو خوفزدہ کرکے مطلب برآری کا نام دہشت گردی ہے۔ اگر ”دہشت گرد” کے بارے میں حکومتی سطح پر یکسوئی ہوجائے تو پھر عوامی سطح پر بھی اسی کلچر کو فروغ حاصل ہوگا۔ دہشت گرد دراصل فتنہ پھیلاتا ہے۔فساد برپا کردیتا ہے۔فتنہ پھیلانے والوں کو ختم کردینے کا قرآنی حکم واضح ہے۔ قرآنی حکم کو ہر سرکاری دفتر’ہر مسجد اور ہر مدرسہ’ہر تعلیمی ادارے اور ہر عوامی دفتر میں جلی حروف سے لکھا جانا چاہیے ۔جو دہشت گرد ہے وہ فسادی ہے اور جو فسادی ہے وہ دہشت گرد ہے۔ فسادی کو قتل کرنے کا حکم ہے ۔ افواج پاکستان’ سیکورٹی ایجنسیاں اور پولیس جب فسادیوں کو ٹھکانے لگاتی ہیں تو وہ دراصل اللہ کے حکم کو بجالاتی ہے۔ عوام ان کا ساتھ دیں جو فسادیوں کا خاتمہ کرنے میں جُتے ہوئے ہیں۔ اللہ پاک کی ساری محبتیں’سارے انعامات اور جنت کے سارے وعدے انہی بہادروں کے لئے ہیں جو اسلامی ریاست کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور فسادیوں کو واصل جہنم کرنے کے لئے پابہ رکاب رہتے ہیں۔
اس قلبی طمانیت کے بعد یہ بھی سمجھ لینا ضروری ہے کہ فساد کسی فلسفہ کی بنیاد پر بپا کیا جاتا ہے۔جھوٹے سچے خیالات اور فریب کاری کے سبب ہی لوگ گمراہ ہوتے ہیں اور وہ ریاست کیخلاف تلوار اٹھا کر فتنہ پروری پر اتر آتے ہیں۔ جب تک ہم اس فلسفہ پر نظریاتی ضرب نہیں لگاتے تب تک ضرب عضب کے حقیقی فوائد بھی حاصل نہیں ہوسکتے۔ یہ کام شائد حکومتوں سے زیادہ مذہبی ‘سیاسی اور سماجی دانشوروں کا ہوتا ہے۔ہمارا کام صرف خبرنامے سننے تک نہیں رہنا چاہیے۔ہم میں سے ہر ایک کا ایک قومی فریضہ ہے جسے ادا نہ کرنے کی صورت میں ہمیں یا ہمارے بچوں کو کسی نہ کسی شکل میں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ کیا ایسا ہوا ہے کہ عوامی سطح پر ایسے حلقے قائم ہوئے ہوں جہاں مختلف مکاتب فکر کے لوگ مل جل کر دہشت گردی کے خلاف نفرت کا اظہار کریں ۔ہمارے اکثر بہن بھائیوں نے اپنے دماغوں کے اندر دہشت گرد چھپا رکھے ہیں۔معذرت کیساتھ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم آج بھی سنی’ شیعہ وہابی’بریلوی کی مسلکی تفریق میں مبتلا ہیں۔صرف تفریق ہی نہیں بلکہ نفرت پرورش پارہی ہے۔ آپ اس حقیقت کو کیسے جھٹلا سکتے ہیں کہ کوئی دیوبندی کسی بریلوی کے گھر رشتہ کرنے پر آمادہ نہیں’ کوئی شیعہ کسی اہلحدیث کے ساتھ ناطہ قائم کرنا نہیں چاہتا۔ جب ہم سماجی رشتوں میں بھی مسلک کو حائل کرتے ہیں تو پھر شیعہ کافر’ بریلوی ‘مشرک اوردیوبندی گستاخ جیسے نعرے فروغ پاتے ہیں ۔یہ سب زہر ہمارے قومی وجود میں سرائیت کر رہے ہیں۔ موقع پرست دہشت گرد کو جب پہلے سے موجودہ زرخیز زمین ملے گی تو اس کے لئے فساد پھیلانا کتنا آسان ہوجائے گا۔
کیا ہم میں سے ہر شخص یہ نہیں جانتا کہ پیغمبر اسلام نے ہمیں صرف اور صرف مسلمان بنایا اور قرآن اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ایمان کی دو واحد بنیادیں ہیں۔قرآن نے بار بار فرمایا’ ہم نے تمہیں مسلمان بنایا۔یہ مسلک بعد کی پیدوار ہیں۔جو لوگ مسلک کو ہی اسلام سمجھ کر”جہاد فی سبیل اللہ ” کا علم اٹھاتے ہیں وہی گمراہ ہیں۔ اور اس گمراہی سے ہی انتہا پسندی جنم لیتی ہے اور یہ انتہا پسندی دہشت گردی کو ہوا دیتی ہے۔حکومت’ فوج اور ریاستی ادارے اپنے طور کام کریں’لیکن بطور مسلمان اور بطور پاکستانی ہمیں بھی اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔
میری تجویز ہے کہ محلے کی سطح پر عوامی نوعیت کی ایسی یکجہتی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن میں تمام مسالک کے لوگ شامل ہوں۔ مسجدوں کے باہر لکھا جائے کہ یہاں ہر مسلک کا مسلمان نماز ادا کرسکتا ہے۔محرم کے دوران واقعہ کربلا کے ایسے تذکرے ہوں جو سب مسالک کے لئے قابل قبول ہوں۔ جب تک ہم اندر کے مسلکی دہشت گرد کو نہیں مارتے عسکری فتوحات ادھوری رہیں گی۔

Posted by AAMIR JAVED / 20 May 15

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player