Click here to View Printed Statement

انسان نے جب بھی فطرت کے خلاف قدم اٹھایا ہے ‘ہمیشہ لڑکھڑایا ہے۔میڈیکل سائنس نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ اب دو ماہ قبل رحمِ مادر میں جھانک کر پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ دُنیا میں آنے والا نیا مہمان بیٹا ہے یا بیٹی؟ اس سائنسی سہولت نے انسانوں کے لئے نئی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں۔ معاشی اور سماجی دبائو سے متاثر ماں باپ خطرناک حد تک غیر فطری عمل کے گذرتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں بیٹی یا بیٹے کے حوالے سے کچھ زیادہ فکر مندی نہیں پائی جاتی اس لئے ان معاشروں میں الٹراسائونڈ کو بیٹیاں مارنے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا لیکن غریب ملکوں میں یہ سہولت ایک عذاب بن گئی ہے۔ ہمسایہ مُلک بھارت میں ایسے کلینک کُھلے ہیں جو بیٹیوں کو رحم مادر سے باہر آنے سے پہلے ہی قتل کردیتے ہیں۔یونیسف کی چونکا دینے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے اندر ہر سال پانچ لاکھ بچیوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ نومولود بچیوں کو مارنے کے دل دہلا دینے والے طریقے نکالے گئے ہیں۔جنس ٹیسٹ کا کلچر عام ہے اور گلی محلے میں اسقاط حمل کے کلینک اس گھنائونے کاروبار میں جُتے ہوئے ہیں۔ بھارت میںجہیز کا خوف بھی بچیوں کو مارنے کا بڑا سبب ہے۔آج کے بھارت میں مرد اور عورت کا فطری توازن بگڑ گیا ہے اور ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں 900 عورتیں ہیں۔ اس بگاڑ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت کے بعض علاقوں میں کنوارے مردوں کی تعداد ایک المیہ بن چُکی ہے ۔ ایسے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں کہ انسانیت سہم کر رہ گئی ہے ۔ عورت کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اس کے دوسرے بھائیوں سے بھی جنسی تعلقات قائم کرے۔ بعض دیہاتوں میں تین تین مرد ایک عورت سے شادی کرتے ہیں۔ اولاد پر لڑائیاں ہوتی اور قتل ہوجاتے ہیں۔فطرت کے خلاف جنگ کرنے کا یہ ایک بھیانک اور خوفناک نتیجہ ہے۔
حال ہی میں چین کے حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ”گنجے درخت” کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”ون چائلڈ” پالیسی کے خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں۔چونکہ ایک ہی بچہ پیدا کرنا ہے اس لئے وہ بیٹا ہی ہونا چاہیے۔ لہٰذا اسقاط حمل کا رواج عام ہے۔ لڑکیوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایک کمیونٹی میں بیس مردوں کے لئے ایک دلہن دستیاب ہے۔دلہن کی قیمت بیس ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے ۔ جن غریب چینیوں کے پاس بیس ہزار ڈالر نہیں وہ عمر بھر شادی نہیں کرسکتے۔ لڑکیوں کے والدین امیر شوہر کی تلاش کے لئے بیٹیوں کو شہر بھجوا دیتے ہیں۔ پیچھے رہ جانے والے مرد عمر بھر کنوارے پھرتے ہیں۔ اُن کی شادی نہیں ہوتی اور اولاد کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے ایسے مردوں کو ”گنجے درخت” کہا جاتا ہے۔ کہ ان کی شاخوں پر پتے ہی نہیں اگتے۔ چین کے اندر لاکھوں ایسے مرد ہیں جو ”ہرے بھرے” نہیں ہوپائے اور بوڑھے ہوگئے۔
چینیوں نے غیر فطری پابندیاں لگا کر اپنے معاشرے میں نر اور مادہ کی تعداد کے درمیان ضروری توازن توڑ دیا ہے۔”گنجے درخت” انتہائی مایوسی کی حالت میں مختلف جرائم اختیار کرچُکے ہیں۔اکثر منشیات کے عادی ہوچکے ہیں۔
خدا کا شکر ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں اپنی ہدایت کی روشنی سے منور فرمایا۔ بیٹی کو رحمت قرار دے کر ہمارے دلوں میں بیٹی کی عظمت کا تصّور اُجاگر کردیا۔بیٹیوں کی تعلیم وتربیت کرنے پر جنت کی بشارت سنائی اور رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے ذریعے بیٹی کی بڑائی کو چار چاند لگا دیئے۔مسلم معاشروں میں آج بھی عمومی طور پر بیٹی سے بے حّد پیار کیا جاتا ہے۔ یہ سب اسلامی تعلیمات کا اثر ہے۔
قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ ہے جو تمہیں بیٹیاں بھی عطا کرتا ہے اور بیٹے بھی۔تم رزق کے خوف سے ان کا قتل مت کرو۔
الٹراسائونڈ کی سہولت اپنی جگہ لیکن کسی بھی سائنسی سہولت کو خلاف فطرت عوامل کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان میں مردوں اور عورتوں کے درمیان تعداد کے اعتبار سے ایک خوبصورت توازن موجود ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان میں عورتیں اکاون فیصد ہوچُکی ہیں۔ ہرگز ایسا نہیں ہے۔اگر ہو بھی تو رحمت میں ہی اضافہ ہوگا۔بہت سے مغربی ممالک میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔لیکن وہاں عورت کی تعلیم وتربیت اور اُس کے روزگار کے ذرائع اس قدر وافر ہیں کہ انہیں کسی معاشی یا سماجی پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔
عورت کو بااختیار بنایئے’ اُس کا احترام کرنا سیکھیے ۔بیٹا یا بیٹی ۔اس کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں کہ وہ فاطرالسموات والعرض ہے!!

Posted by AAMIR JAVED / 08 Mar 16

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player