Click here to View Printed Statement

قرآن پاک کی سُورة القصص میں بڑی تفصیل سے قارون کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس قصہ کا مقصد اسلام کے نظام مال و زر کی وضاحت کرنا ہے۔قارون مصر میں فرعون کا نمائندہ تھا جسے بنی اسرائیل قوم کو دبانے کے لئے بے بہا دولت دی گئی تھی۔ اُس کی دولت کا عالم یہ تھا کہ اس کے خزانے کی چابیاں اٹھانے کے لئے دس اونٹ درکار ہوتے تھے۔ دولت نے اسے انتہائی متکبر اور خودسر بنا دیا تھا۔ اس کی دولت کا چہارسوچرچا تھا۔ وہ مال و دولت کو خرچ کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کرتا رہتا تھا۔ قارون کو سمجھایا گیا کہ وہ اپنی دولت جمع کرنے کی بجائے مساکین اور ضرورت مندوں پر خرچ کرے اور اس کے ذریعے اپنی آخرت سنوارے۔ لیکن قارونی نفسیات اس قدر غالب تھی کہ وہ اللہ‘ آخرت اور روزوجزا کا مذاق اُڑاتا اور ہوس زر میں مدہوش رہتا تھا۔
قرآن میں قارون کا عبرتناک انجام بتایا گیا ہے۔ وہ اپنے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اُس کی دولت اس کے کسی کام نہ آسکی۔ اس کا آقا فرعون بھی اسے بچا نہ سکا۔ جو لوگ قارون کے خزانوں سے مرعوب رہتے تھے وہ اس کا خوفناک انجام دیکھ کر شکر بجالائے کہ وہ کم از کم قارون بننے سے بچ گئے تھے۔
ہوس زر میں مبتلا ہر شخص قارون ہے۔ قارونی سوچ کے اسیر امراءکی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ جوں جوں دُنیا کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے‘ قارونوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں دُنیا بھر کے قارونوں کی دولت جمع ہے۔ پاکستانیوں کی بھی کثیر تعداد موجود ہے جن کی بے پناہ دولت کا انہیں خود بھی اندازہ نہیں ۔ پھر یہ رپورٹیں بھی سامنے آئیں کہ دُبئی میں بڑے بڑے قارونوں نے پراپرٹی کے اندر بھاری سرمایہ کاری کردی ہے۔ ملائشیا اور برطانیہ میں بھی ہوس زر کے مجسم مظاہرے دیکھنے کو ملے ہیں۔ دُنیا کے امیر ترین افراد کی سب سے بڑی تعداد امریکہ میں ہے جن کی دولت بینکوں میں پڑی ہے اور اس دولت کا نوح انسانی کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔دُنیا کی چالیس فیصد آبادی خطہ غربت سے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔ دراصل زمینی وسائل سے پیدا ہونے والی دولت پر چند ہزار لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ ساڑھے نوسو ارب پتی لوگوں نے دُنیا کی ننانوے فیصد دولت پر قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ وہ مال و زر ہے جو گردش میں نہیں آرہا اور انسانی معیشت کی رگوں سے خون نچوڑکر سٹور کر لیا گیا ہے۔ انسان بھوک‘قحط اور بیماریوں سے مر رہے ہیں اور جدید دور کے قارون اپنی دولت جمع کرنے اور گننے میں مصروف ہیں۔تکبّر نے ان کی گردنیں اکڑا رکھی ہیں اور انہیں دولت مندی کا گھمنڈ اپنی روش سے رُجوع کرنے نہیں دیتا۔
پاناما لیکس نے ہزاروں نئے قارونوں کی نشاندہی کر دی ہے۔ یہ تمام وہ انسان نما بھیڑیے ہیں جو دولت بچانے کے لئے آف شور کمپنیاں کھولتے ہیں۔ٹیکس سے بچنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ دولت کا وہ معمولی سا حصہ جو عام انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہوتا ہے وہ حصہ بھی دبا لیا جائے۔ پاکستان میں اڑھائی سو ایسے افراد ہیں جن کا نام اس بدنام زمانہ فہرست میں شامل ہے۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ پاکستان میں ہر دوسرا شخص بھوک سے پریشان ہے۔ دوائی دارو تو دور کی بات دو وقت کی روٹی دستیاب نہیں ہے۔ لیکن ان اڑھائی سو لوگوں کو ایک ہی جنون ہے کہ وہ اپنی دولت کو مزید بڑھاتے جائیں۔ پاکستان سے پیسہ اکٹھا کریں اور بیرون ممالک قائم آف شور کمپنیوں میں ڈال کر مزید دولت مند بن جائیں۔ یہ ہیں ہمارے عہد کے جدید قارون۔ میاں نوازشریف کی دولت میں آج تک کمی نہیں ہوسکی۔ پاکستانی قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ میاں برادران کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ وہ ماڈل ٹاﺅن سے نکل کر رائے ونڈ محل میں منتقل ہوچکے ہیں۔اُن کا کاروبار پاکستان سے نکل کر سعودی عرب اور لندن تک پھیل چکا ہے۔ اور اس پھیلاﺅ کی کوئی انتہاءدکھائی نہیں دیتی۔ اگر اللہ کی دی ہوئی ہدایات کی روشنی میں دولت خرچ کی جائے تو دولت میں اچانک اور بے پناہ اضافہ ممکن ہی نہیں ۔لیکن آف شور کمپنیاں چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ یہ لوگ قارون کے پیروکار ہیں۔ اور ان کا انجام بھی قارون جیسا ہو کر رہے گا۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا‘
”اور تم اس میں سے خرچ کرو جو رزق ہم نے تم کو دیا ہے اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے اورپھر وہ کہے کہ اے میرے رب تو نے مجھے کچھ مدت تک اور کیوں نہ مہلت دی کہ میں صدقہ کرتا اور صالح لوگوں میں ہوجاتا۔ اور اللہ ہرگز کسی کو مہلت نہ دے گا جب اس کی اجل آجائے گی۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔“(سورة المنافقون)
” بے شک قارون موسیٰؑ کی قوم میں سے تھا۔پھر اس نے ان پر ظلم کیا۔ اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ بلاشبہ اس کی چابیاں طاقتور مردوں کی ایک جماعت کو تھکا دیتی تھیں۔ یاد کرو جب اس قوم نے اس سے کہا‘اترامت۔ بے شک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر تلاش کر۔ اور تو دنیا میں بھی اپنا حصہ مت بھول۔ اور لوگوں پر ایسے احسان کر جیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے اور زمین میں فساد نہ کر۔اللہ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔قارون بولا۔مجھے تو یہ مال میرے علم کی بنا پر دیا گیا ہے۔ کیا وہ نہیںجانتا تھا کہ بے شک اللہ نے اس سے پہلے بہت سے لوگ ہلاک کردیئے تھے جو قوت و مال میں اس سے زیادہ تھے۔ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔
پھر وہ (قارون) اپنے پورے کروفر کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا تو جو طالب دنیا تھے کہنے لگے کاش ہمارے لئے بھی یہ سب کچھ ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔بلاشبہ یہ بڑے نصیبے والا ہے۔ اس پر اصحاب علم نے کہا۔افسوس تم پر۔ اس شخص کے لئے اللہ کا ثواب بہتر ہے جو ایمان لایا اور نیک عمل کئے اور یہ بات صبر کرنے والوں کو ہی سکھائی جاتی ہے۔ چنانچہ ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔ پھر کوئی جماعت اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد نہ کرسکی اور نہ ہی وہ خود بدلہ لے سکااور جن لوگوں نے کل اس کے مرتبے کی تمنا کی تھی کہنے لگے ہائے شامت اللہ اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے رزق کشادہ اور جس کے لئے چاہے رزق تنگ کرتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو یقینا ہم بھی دھنسا دیئے گئے ہوتے۔ہائے شامت‘ کافر فلاح نہیں پاسکتے۔“
بقول شاعر‘
اب وقت ہے پیچ و خم دستار کو بدلو
اخلاق کو عادات کو اطوار کو بدلو
بدلو گے تو بچ جاﺅ گے تم قہر خدا سے
اڑ جائیں گے یہ ریگ محل ورنہ ہوا سے
جو کچھ بھی ضرورت سے زیادہ ہے لٹا دو
ٹل جاتی ہےں آفات غریبوں کی دُعا سے

Posted by AAMIR JAVED / 28 Apr 16

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player