Click here to View Printed Statement

پچاس کے لگ بھگ مسلمان ممالک کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے دُکھ درد بانٹنے اور مسلمان ملکوں کے اندر مسلمانوں کے ساتھ جاری ناروا سلوک پر بولنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔گذشتہ نصف صدی سے سعودی عرب کو مسلم ورلڈ کا رہنما تصّور کیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی اس اعزاز کا ایران بھی خود کو حقدار سمجھتا ہے۔ لیکن ایران اور سعودی عرب کی آپس میں نہ ختم ہونے والی چقپلش نے متفقہ قیادت و سیاست کے خواب چکنا چور کردیئے ہیں۔ ان حالات میںترکی کو توفیق ہوئی اور جہاں کہیں مسلمانوں پر اُفتاد پڑتی ہے ‘ترکی کے صدر جناب طیِبّ اُردگان تمام تر خطرات مول لے کر مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔فلسطینی مظلوموں کے لئے خوراک پہنچانے کا معاملہ ہو یا میانمیر کے بے سروساماں مہاجرین کی دادرسی ہو‘ اُردگان آگے بڑھ کر دُکھی مسلمانوں کو گلے لگاتے اور غم اور الم کی حالت سے باہر نکالتے ہیں۔ بنگلہ دیش اکثریتی مسلمان مُلک ہے لیکن آج کل ہندو نواز حسینہ کے جمہوری چُنگل میں پھنس گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کو پھانسیوں پر پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ انسانیت کا راگ آلاپنے والے خاموش ہیں۔ایسے ہو کے عالم میں طیبّ اُردگان کی آواز گونجتی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمن کی پھانسی پر یورپی ممالک کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایاہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پھانسی کو ‘دوہرا معیار’ قرار دے کر مغرب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ‘اگر آپ سیاسی پھانسیوں کیخلاف ہیں تو مطیع الرحمن نظامی کی پھانسی پر خاموش کیوں رہے جنہیں کچھ روز قبل شہید کیا گیا تھا۔اردوغان نے کہا کہ ‘کیا آپ نے یورپ سے کچھ سنا؟ نہیں۔ کیا یہ دہرا معیار نہیں؟ بنگلہ دیش نے کچھ روز قبل ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت، جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن کی سزائے موت پر عمل درآمد کروادیا۔بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کی انتظامیہ کے تحت قائم متنازعہ ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف 1971 کی جنگ کے حوالے سے مقدمہ چلایا گیا تھا۔جناب مطیع الرحمن نظامی پر الزام تھا کہ 1971 کی جنگ کے دوران وہ قتل، ریپ اور عوامی رہنماں کے قتل کے منصوبوں میں شامل تھے۔پھانسی پر ترکی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے اپنا سفیر واپس بلالیا تھا۔ مطیع الرحمن کو پھانسی دیئے جانے کے بعد ملک میں احتجاج اور ہنگاموں کو سلسلہ شروع ہوگیا جس کے بعد پولیس نے جے آئی کے سیکٹروں رہنماں اور کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن نظامی کی پھانسی پر پاکستان نے شدید افسوس کا اظہار کیا تھا۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حزب اختلاف کے رہنماں کو ایک متنازع ٹریبونل کے ذریعے قتل کیا جانا جمہوری اصولوں کی روح کے سراسر خلاف ہے۔نفیس زکریا نے مزید کہا تھا کہ مطیع الرحمن کی پھانسی بنگلہ دیش کے عوام کے لیے بھی افسوسناک ہے کیونکہ ان کو عوام نے ووٹ سے پارلیمنٹ میں اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا۔پاکستان نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماں کو 1971 کی جنگ کے مبینہ جرائم پر 45 سال بعد پھانسیاں دینے کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے پر غور شروع کردیا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ محض طیبّ اُردگان ہی کی ذمہ داری ہے ۔ وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا نتیجہ نکلنا چاہیے۔ کم از کم ترکی کے ساتھ ہم آواز ہوجانا چاہیے۔پاکستان کو اپنا سفیر ہی واپس بُلا لینا چاہیے۔

Posted by AAMIR JAVED / 18 May 16

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player