Click here to View Printed Statement

ہمارے والدین ”کرپشن” کے لفظ سے واقف نہیں تھے۔ قیام پاکستان کے بعد رشوت ستانی کی اصطلاع عام ہوئی تھی۔ بعض بیوروکریٹس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت بڑے رشوت خور ہیں۔ تقسیم کے وقت جھوٹے کلیم بنانے اور ان جعلی کاغذات کے عوض رشوت لے کر زمینیں اور جائیدادیں الاٹ کرنے والوں کا چرچا رہتا تھا۔ جب عدالتی نظام پھیل گیا تو بعض ججوں کے بارے میں بھی خبریں آنا شروع ہوئیں کہ فلاں جج رشوت خُور ہے۔ رشوت ستانی ایک ایسا الزام اور جُرم تھا کہ عام لوگ کسی راشی افسر کو دیکھ لیتے تو کُھلے عام بیزاری کا اظہار کرتے دکھائی دیتے تھے۔ بعض دفاتر کے اندر ”رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں” کی حدیث مبارکہ جلی حروف میں لکھی ہوئی تھی۔ رشوت خوری کیخلاف سماجی اور مذہبی جماعتیں مہمات بھی چلاتی تھیں۔ رشوت خور عہدیدار کے ساتھ کوئی معزز شہری اپنی بیٹی بیاھنے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ پولیس افسران کے خلاف رشوت کے مقدمات بننے شروع ہوئے

اور یہ لطیفہ بھی عام ہوا کہ ”رشوت لینے کے جُرم میں پکڑا جانے والا رشوت دے کر چھوٹ جاتا ہے”۔ اُردو اخبارات کے کالم نگار حکومتوں کو یہ کہہ کر جھنجھوڑتے تھے کہ ملک میں رشوت کا ”چلن ”عام ہوگیا ہے۔ دھیرے دھیرے رشوت ستانی ہمارے سماج اور مزاج کا حصہ بن گئی ہے۔انسداد رشوت ستانی کے محکمے بنائے گئے ۔ قانون میں تبدیلیاں لائی گئیں ۔ایوب خان کے دور میں کوٹے اور پرمٹ کا کلچر عام ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ رشوت تو بہت ہی معصوم سا گناہ ہے۔ پرمٹ حاصل کرنے والوں نے دن دُگنی رات چُگنی دولت سمیٹنا شروع کردی۔ بہت سے نو دو لیتے پیدا ہوگئے۔
جب رشوت خور کی اصطلاح بدعنوانی کے وسیع معنوں کا احاطہ کرنے سے قاصر ہوئی تو پھر ہم نے لفظ ”کرپٹ” مستعار لے لیا۔پہلے پہل کسی کو ”کرپٹ”کہتے ہوئے لہجہ دھیما اور محتاط ہوتا تھا۔
”کرپٹ” ہونے کا مطلب”اخلاقی” طور پر بدیانتی سمجھی جاتی تھی۔ کسی افسر کو ”کرپٹ” کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ شخص انتہائی قسم کا شبابی کبابی ہے۔ پھر وقت بدل گیا اور جنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کا دور آیا۔ اخلاقی بدیانتی اور شراب و شباب بڑے لوگوں کا معمول ٹھہرائے گئے۔ دائیں بازو کے دانشوروں نے ”پینے پلانے” اور ناپاک رشتوں کو ”ذاتی” فعل قرار دے دیا۔ ایک نئی فکری واردات کی گئی۔ بتایا گیا کہ اصل ”کرپشن” تو مالی کرپشن ہوتی ہے۔”مالی کرپشن” کا فلسفہ امریکہ’ یورپ اور روس کی مادر پدر آزاد تہذیب نے گھڑا تھا۔ فحاشی و عریانی”کرپشن” کی تعریف سے نکل گئی۔ بداخلاقی فیشن بن گیا اور مردوزن کے غیر اخلاقی اختلاط کو ”معمول” سمجھ لیا گیا۔ اسلامی معاشرے میں سب سے بدترین شخص ”زانی” سمجھا جاتا تھا۔ لیکن پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے بعض کھلاڑیوں کو کُھلی چھوٹ مل گئی۔ بعد میں یہی کھلاڑی ہمارے قومی ہیرو بنے اور عورتوں کے ساتھ ان کے ناجائز تعلقات سے معاشرے نے نگاہیں پھیرے رکھیں۔ اسلام میں ”زانی” کی سزاسو دُرے ہیں۔ لیکن ”ہیروازم” کے اسیر عوام نے اس جُرم کو بھی ”ہیرو کی شان” سمجھ لیا۔ مسلم معاشروں میں کسی بدکار شخص کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکن جب ہمارے ہیرو سیاستدان بن گئے تو ان کی تمام مبینہ اور کھلے عام بدکاریوں کو ماضی کی خطا سمجھ کر معاف کردیا گیا۔
ہمارے سماجی روّیے تیزی سے بدلنے لگے ہیں۔اس وقت ہم اُسے ”کرپٹ” کہتے ہیں جیسے یورپ ”کرپٹ” سمجھتا ہے۔ ہمارے نزدیک ”کرپشن”کی وہی تعریف معتبر ہے جو یورپی تہذیب میں معتبر ٹھہرتی ہے۔ آج پاکستان میں ہر بچہ’عورت اور مرد”کرپشن کرپشن ”کی گردان سُن رہا ہے۔نئی نسل کے ذہن میں بٹھایا جارہا ہے کہ ”کرپشن” کا مقصد آف شور کمپنی بنانا ہے۔مالی بدعنوانی اور بدکاری میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
قارئین! اب کسی کو کرپٹ کہنے سے اُس کے چہرے پر شرمندگی نمایاں نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ کہنے والا اُس کی ”بدکاری” کے بارے میں نہیں بلکہ ”مالی معاملات” کے حوالے سے کوئی الزام لگا رہا ہے ۔حالانکہ جو شخص اخلاقی بدعنوانی یا ”مورل کرپشن” کا مرتکب ہوگا وہی ہر طرح کی کرپشن کرسکتا ہے۔آپ کے نزدیک آج جتنے بڑے بڑے”کرپٹ” ہیں دراصل وہ پہلے اخلاقی طور پر بھی کبھی پاک صاف نہیں رہے۔ یہ ہونہیں سکتا کہ کوئی شخص اخلاقی طور پر دیانتدار ہو اور مالی طور پر بددیانت۔جو فرد اپنے اللہ کے ساتھ ایماندارانہ رویہ نہیں رکھتا وہ ریاست’عوام اور دُنیا کے ساتھ ایمانداری کا برتائو کیسے کرسکتا ہے۔اور آخر پہ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ’
جہاں قرآن مجید کا واضح حکم ہے کہ ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھائو تو وہیں اللہ قتل اور زنا کو بڑے گناہ قرار دیتے ہوئے یہاں تک فرماتے ہیں کہ زنا کے قریب بھی مت جائو۔ہمیں قرآنی اصطلاحات اور احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا عہد کرنا چاہیے۔

Posted by AAMIR JAVED / 11 Aug 16

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player