Click here to View Printed Statement

کون نہیں جانتا کہ اکتوبر 1948ء میں بھارت نے فضائی برتری کا سہارا لے کر 50 ہزار غاصب اور جارح مسلح بھارتی فوج کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کیا۔ واضح رہے کہ انہی دنوں بھارت حیدر آباد کن’ بھوپال اور جونا گڑھ کی ریاستوں پر قبضے کے لئے برہنہ عسکری جارحیت کا ارتکاب کرچکا تھا۔ جب عالمی اداروں اور عالمی برادری نے اس کا نوٹس نہ لیا تو بھارتی توسیع پسند اور جنگی جنونی حکمرانوں کے حوصلے بڑھ گئے اور وہ ”وادی جنت نظیر کشمیر” کو بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا دوزخ بنانے پر بلاخوف و خطرکاربند ہوگئے۔ مقبوضہ وادی جموں وکشمیر 68 برسوں سے بھارتی افواج کے غاصبانہ قبضے میں ہے اور اس کی اکثریتی مسلم آبادی کو بھارتی حکومت ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت نازیانہ تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ اس میں نوجوانوں کا قتل عام’ معصوم بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا اور عورتوں کی آبروریزی شامل ہے۔جنیوا میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لئے تیار کی گئی اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کرسٹوف ہینز بھارت پر زور دے چکے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر اور شمالی مشرقی بھارتی ریاستوںمیں نافذ کالے قانون ‘آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ’ منسوخ کرے اور کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی تحقیقات کے لئے کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے اور مستقبل میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی روک تھام کی یقین دہانی کرائی جائے۔
بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جو صرف زندہ انسانوں ہی کو پابند سلاسل نہیں رکھتا بلکہ میتوں کو بھی حبس بے جا میں رکھتا ہے۔ مقبول بٹ شہید اور افضل گورو شہید کی میتیں آج بھی بھارتی جیلوں میں ”قید” ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ وادی جموں وکشمیر کا غزہ بنا رکھا ہے۔ یہ اقدامات بھارتی حکومت کی جمہوریت نوازی اور بھارت کو سکولرسٹیٹ قرار دینے کے دعوئوں کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔ عیاری کی انتہا یہ ہے کہ بھارتی سرکار اور دنیا بھر میں بھارت کے سفارتکار عالمی برادری کے سامنے بھارت کو ایک امن پسند اور جنگ بیزار ملک کی حیثیت سے پورٹرے کرتے ہیں اور عالمی برادری کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں بھارت واحد ملک ہے جو ”امن کی فاختہ” ہے۔ سوال یہ ہے کہ عالمی ضمیر کب بیدار ہوگا۔ یہ ستمبر 2016ء کی بات ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں دہلی میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی خبروں کے ذریعے تاثر دیا گیا کہ بھارتی حکمران سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے مودی جی بھول گئے کہ اس معاہدے کو بین الاقوامی ضمانتیں حاصل ہیں اور اسے بہ یک بیاں ختم نہیں کیا جاسکتا۔بھارتی قیادت چاہتی ہے سندھ طاس معاہدہ ختم کرکے پاکستان کے دریائوں کے پانی کو روک دے تاکہ پاکستان کو زرعی لحاظ سے تباہ کرکے موزمبیق اورصومالیہ بنا دیا جائے۔ ان حالات میں ناگزیر ہے کہ امریکہ جو بھارت کا گلوبل پارٹنر ہے اس کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ کشمیر جس طرح مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کا بنیادی مسئلہ ہے اسی طرح وہ پاکستان کے نزدیک ایک سہ فریقی تنازع ہے۔یہ تلخ سچ پیش نظر رہے کہ کشمیر سے نکلنے والے تمام دریا بھارت کے قبضے میں ہیں اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو پاکستان میں پانی کا قحط پڑ سکتا ہے۔
بھارت آبی جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے پاکستان کے حصے کا پانی روک کر پاکستانی دریائوں پر 2 ڈیم خلاف معاہدہ بنا رہا ہے۔ انہیں اس جارحیت کا سنجیدہ نوٹس لینا ہوگا۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ آبی جارحیت کے ذریعے بھارت کے حصے کا 33ملین ایکڑ فٹ پانی غصب کر رہا ہے۔غصب شدہ پانی کی بازیابی کے لئے بھی امریکیوں کو بھارتی رہنمائوں سے بات کرنا ہوگی۔تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش اسے پوری دنیا میں تنہا کردے گی۔دنیا جانتی ہے کہ وہ معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا لیکن اس کا خیال ہے کہ پاکستان کو فراہم کیے جانے والا دریائی پانی میں کمی لائی جاسکتی ہے لیکن نئی امریکی انتظامیہ کو بھارت کو ایک بار پھر باور کرانا ہوگا کہ ورلڈ بینک معاہدے کی تمام کی تمام شقات پر من و عن عمل درآمد کا ضامن ہے۔
یہ کیسا طرفہ تماشا ہے کہ مودی سرکار نے سندھ طاس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کو بھی 28 ستمبر 2016ء کو معطل کرنے کا نادر شاہی فیصلہ بھی سنا دیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم مودی کے پاکستان مخالف جنون کا عالم یہ ہے کہ اس نے اپکستان کو دیئے گئے پسندیدہ ترین ملک کے درجہ پر نظرثانی کے لئے اگلے ہی دن اجلاس طلب کیا۔ واضح رہے کہ بھارت نے 1966ء میں پاکستان کو موسٹ فیورٹ نیشن سٹیٹس قرار دیا تھا۔ مزید برآں بھارتی وزیراعظم مودی نے تین مغربی دریائوں پر ڈیموں کی تعمیر تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ۔ادھر مودی یہ اوچھی حرکات اور بھونڈے اقدامات کر رہا تھا ادھر انہی دنوں پاکستانی مشیر خارجہ جناب سرتاج عزیز قومی اسمبلی اور سینٹ کو بتا چکے تھے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس معاملے کو عالمی بینک اور بین الاقوامی عدالت میں لے کر جائے گا۔عالمی بینک سندھ طاس معاہدے میں نہ صر ف سہولت کار تھا بلکہ اس معاہدے کا ضامن بھی تھااور بھارت یک طرفہ طور پر اس معاملے پر فیصلہ نہیں کرسکتا’ پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا ۔ ہر باخبر پاکستانی جانتا ہے کہ بھارت مختلف منفی اقدامات کرکے پاکستان کے خلاف پاگل پن کی حد تک بڑھتے ہوئے غم و غصہ کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ خواہش کے برعکس عالمی سطح پر وہ پاکستان پر پابندیاں لگانے اور سفارتی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے میں آج تک تو بری طرح ناکام ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنیکی دھمکی بھی ایک گیدڑ بھبھکی ہے۔

Posted by AAMIR JAVED / 12 Feb 17

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player