اہل صحافت حق کی گواہی دو

Click here to View Printed Statement

اس دور کا سب سے سنگین فکری انتشار یہ ہے کہ ہر طبقہ اپنے حقوق کی بات تو کرتا ہے لیکن فرائض کی بات سے بدکتا ہے ۔ ہم جو کام کرتے ہیں اسے کے نتائج کی ذمہ داری بھی اٹھانی چاہئے ۔ باقی شعبوں تک تو یہ احساس کسی نہ کسی طور پایا جاتا ہے لیکن میڈیا شائد وہ واحد شعبہ بن گیا ہے جس کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے لکھے ، چھاپے یا دکھائے لیکن وہ اپنی کسی بھی خبر ، تصویر یا فوٹیج کے منفی نتائج کی ذمہ داری لینے پر تیا ر نہیں ہے ۔ اگر کہیںسے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی آواز اٹھتی ہے تو میڈیا تنظیمیں اور صحافتی انجمنیں واویلا مچانا شروع کر دیتی ہیں کہ یہ آزادی صحافت پر قدغن ہے ۔ ایسا ہی ایک واویلا پریس کونسل آف پاکستان نے مچایا ہے ۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Nov 16

کرپشن کا قرآنی تصور

Click here to View Printed Statement

ہمارے والدین ”کرپشن” کے لفظ سے واقف نہیں تھے۔ قیام پاکستان کے بعد رشوت ستانی کی اصطلاع عام ہوئی تھی۔ بعض بیوروکریٹس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت بڑے رشوت خور ہیں۔ تقسیم کے وقت جھوٹے کلیم بنانے اور ان جعلی کاغذات کے عوض رشوت لے کر زمینیں اور جائیدادیں الاٹ کرنے والوں کا چرچا رہتا تھا۔ جب عدالتی نظام پھیل گیا تو بعض ججوں کے بارے میں بھی خبریں آنا شروع ہوئیں کہ فلاں جج رشوت خُور ہے۔ رشوت ستانی ایک ایسا الزام اور جُرم تھا کہ عام لوگ کسی راشی افسر کو دیکھ لیتے تو کُھلے عام بیزاری کا اظہار کرتے دکھائی دیتے تھے۔ بعض دفاتر کے اندر ”رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں” کی حدیث مبارکہ جلی حروف میں لکھی ہوئی تھی۔ رشوت خوری کیخلاف سماجی اور مذہبی جماعتیں مہمات بھی چلاتی تھیں۔ رشوت خور عہدیدار کے ساتھ کوئی معزز شہری اپنی بیٹی بیاھنے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ پولیس افسران کے خلاف رشوت کے مقدمات بننے شروع ہوئے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Aug 16

عالم اسلام کی جان ۔طیب اُردگان

Click here to View Printed Statement

پچاس کے لگ بھگ مسلمان ممالک کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے دُکھ درد بانٹنے اور مسلمان ملکوں کے اندر مسلمانوں کے ساتھ جاری ناروا سلوک پر بولنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔گذشتہ نصف صدی سے سعودی عرب کو مسلم ورلڈ کا رہنما تصّور کیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی اس اعزاز کا ایران بھی خود کو حقدار سمجھتا ہے۔ لیکن ایران اور سعودی عرب کی آپس میں نہ ختم ہونے والی چقپلش نے متفقہ قیادت و سیاست کے خواب چکنا چور کردیئے ہیں۔ ان حالات میںترکی کو توفیق ہوئی اور جہاں کہیں مسلمانوں پر اُفتاد پڑتی ہے ‘ترکی کے صدر جناب طیِبّ اُردگان تمام تر خطرات مول لے کر مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔فلسطینی مظلوموں کے لئے خوراک پہنچانے کا معاملہ ہو یا میانمیر کے بے سروساماں مہاجرین کی دادرسی ہو‘ اُردگان آگے بڑھ کر دُکھی مسلمانوں کو گلے لگاتے اور غم اور الم کی حالت سے باہر نکالتے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 18 May 16

سیاسی بداخلاقیاں

Click here to View Printed Statement

پاکستانی قوم نے یہ منظر بھی دیکھنا تھا۔پانامہ لیکس کے پردے میں اُٹھنے والے سیاسی طوفان نے جہاں حکمرانوں کی ہوائیاں اُڑائیں وہیں سیاستدانوں کی حواس باختگی بھی سامنے آئی۔ یہ منظر ہم سب نے دیکھا کہ وزیراعظم نوازشریف‘وزیرداخلہ چوہدری نثار‘وزیراعظم کا خاندان اور حزب اختلاف کے رہنما سب کے سب ایک ہی وقت میں لندن یاترا کر رہے تھے۔عمران خان کو بھی لندن جانے کی جلدی تھی۔ ان کے ساتھ ان کی مبینہ طور پر ”اے ٹی ایم مشینیں“ بھی لندن میں تھیں۔ الطاف حسین پہلے ہی لندن میں خود ساختہ جلا وطنی سے لطف اندوز ہورہے ہیں جبکہ آصف علی زرداری بھی بسلسلہ ”علاج“ اسی دیارغیر میں مقیم ہیں۔ بقول شاعر‘
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میّر ہوئے
سب اسی زلف گرِہ گیر کے اسیر ہوئے
یوں لگتا تھا جیسے پاکستان تو آزاد ملک ہے لیکن اس کا حکمران طبقہ ابھی تک آزاد نہیں ہوسکا۔ان کا کاروبار اور اولاد دونوں باہر ہیں۔اثاثے باہر ہیں۔ علاج باہر ہوتا ہے اور سیاسی مشاورت بھی انگلینڈ میں ہوپاتی ہے۔ جب بھی یہ طبقہ کسی ایمرجنسی‘ کسی سیاسی ہلچل یا کسی کرپشن کہانی کا شکار ہوتا ہے لندن کی طرف بھاگتا ہے۔ ان کی لگامیں اب بھی کسی برطانوی خفیہ ایجنسی کے ہاتھوں میں ہیں۔انگریز کا ملک آج بھی ہمارے غلامانہ ذہنیت کے مارے طبقہ اشرافیہ کے لئے آخری جائے پناہ ہوتی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Apr 16

مقروضی معیشت

Click here to View Printed Statement

اڑھائی سال ہوئے ہیں کوئی دن ایسا نہیں جس دن موجودہ حکمرانوں نے قرض کے حصول کی خواہش نہ کی ہو۔ اس خواہش بلکہ ہوس حصول قرض کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اب یہ ملک سر تا پاﺅں قرض میں ڈوب چکا ہے۔67 ارب ڈالر کے قرضے ہمارے سروں پر لاد دیئے گئے ہیں۔ قرض پاکستانی قوم نے نہیں بلکہ حکمرانوں نے لیا ہے۔ ان حکمرانوں کا عوامی مینڈیٹ ایک مخصوص اقلیت کے ووٹ ہیں جنہیں میڈیا اور مال کے زور پر حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اہل ووٹروں کی کل تعداد تقریباً آٹھ کروڑ ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے صرف ڈیڑھ کروڑ ووٹ لے کر حکومت بنا رکھی ہے۔اقلیتی ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت بیس کروڑ پاکستانیوں کی قسمت کا فیصلہ کر رہی ہے۔ قرض کی کسی ڈیل میں عام پاکستانی کی رائے نہیں لی جاتی۔ پارلیمان میں موجود جماعتیں بھی حکومت سے نہیں پوچھتیں کہ آخر یہ دھڑا دھڑا قرض لینے کے پیچھے کونسی معاشی حکمت عملی ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک جوں جوں مقروض ہوتا جارہا ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Jan 16

ایران والے بھی آئیں

Click here to View Printed Statement

سعودی وزیر خارجہ کے بعد وزیر دفاع کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اس کی اہمیت کے حوالے سے گرما گرم بحثیں بپا ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حکومت مخالفت قوتیں اس دورے کو بھی متنازع بنانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن سعودی وزیر دفاع کی آرمی چیف اور وزیراعظم سے ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیانات کے بعد پاکستانیوں کی عمومی رائے سعودی عرب کے حوالے سے بہتر ہوئی ہے۔سعودی عرب نے تمام اُمور پر پاکستان کے مﺅقف کی تائید کا اعلان کرکے بہت سے خدشات دور کر دیئے ہیں۔خوش آئند اور اندر کی خبریں یہ ہیں کہ سعودی ایران تنازعات کو ٹھنڈا رکھنے پر سرزمین حجاز سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے۔ اور چند دنوں میں سفارتی رابطے موثر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان نے سعودی سربراہی میں بننے والے 34 ملکی اتحاد میں شمولیت کا واضح اعلان کردیا ہے اور سعودی سالمیت پر حملے کی صورت میں خود کو غیر جانبداری کے مخمصے سے نکال کر واضح پوزیشن لے لی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Jan 16

صفت ِمطلوب۔مخلوق ِ خدا سے پیار

Click here to View Printed Statement

کائنات کا دولہا انسان اللہ پروردگار عالم کی تخلیق کا بہترین شاہکار ہے۔ رب کائنات نے اسے نعمتوں کے اتنے انبار عطا فرما دیے کہ جنہیں دیکھ کر ذرا سا غور کرنے پر ہمیں اللہ نظر آنے لگتا ہے۔ اللہ خود اپنے کلام میں فرماتا ہے”تمہارے نفوس میں میری نشانیاں موجود ہیں تو کیا تم ان پر غور نہیں کرتے“۔
ہم اپنی ذات سے ذرا باہر نظر دوڑائیں تو سورج‘ چاند‘ ہوا‘ پانی ‘ستارے آسمان‘زمین اور جانور سب کے سب قدرت کی نشانیاں ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت انسان کی ایسے خدمت میں جتے ہوئے ہیں جیسے ان کا ہم سے بہت بڑا کام پھنسا ہوا ہے۔ ان پر نگاہ دوڑا کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سورج چمکتا‘چاند دمکتا‘ستار روشن‘ سمندر موجزن‘ ہوائیں چلتی‘ پھول کھلتے‘پھل پکتے اور جانور سواری و غذا کے لئے پیدا ہی ہمارے لئے کئے گئے ہیں۔ احساس کچھ یوں ہوتا ہے کہ جیسے ہم آقا ہیں اور یہ ہمارے خدمت گزار حالانکہ اصل صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان سب سے پوچھیے کہ اگر انسان نہ ہو تو تمہاری صحت پر کیا اثر پڑے گا تو یہ سب کہیں گے ہماری بلا سے۔ مگر انسان ان کے بغیر ایک پل بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔
غرض ساری کائنات اپنا کام مالک حقیقی کی مرضی کے عین مطابق کر رہی ہے مگر انسان ہے کہ ظالم بھولا ہوا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 Nov 15

ہلال احمر کے چاند اور ستارے

Click here to View Printed Statement

سچے رضاکار کو کسی تعریف یا تحسین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ رضاکارانہ جذبہ انسانی تسکین اور روحانی تشفی کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے۔ طمانیت قلب ہی سب سے بڑا صلہ ہوتاہے۔ ایک مسلمان خلق خدا کے کاموں میں اس لئے حصہ لیتا ہے تاکہ اللہ پاک کی رضا مندی اور قربت حاصل کرسکے۔ جہاں تک کسی فرد کی رضاکارانہ سرگرمیوں کے حوالے سے سماجی اور سماجی تنظیموں کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے لئے رضاکاروں کی عزت افزائی‘ تصدیق اور توثیق ضروری ہوتی ہے۔
پاکستان میں انسانی خدمت کے درجنوں ادارے موجود ہیں۔ سرکاری ‘ نیم سرکاری اورغیر سرکاری سب کی اپنی اپنی خدمات ہیں۔دُکھ اور درد کی گھڑی میں ہمدرد ی کے دو بول بھی بہت وقعت رکھتے ہیں۔ ہلال احمر پاکستان ان سب اداروں سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔
ریڈکریسنٹ یعنی ہلال احمر ایک طرف قومی سطح کا ادارہ ہے تو دوسری طرف یہ ریڈکراس /ریڈکریسنٹ موومنٹ کا حصہ بھی ہے۔ ایک سو نوے ممالک میں ایسے قومی ادارے موجود ہیں۔ انسانی خدمت کی اس تحریک کا ہیڈکوارٹر جنیوا میں ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس/ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے ملاپ سے یہ ایک تحریک بنتی ہے ۔ کسی ممبر مُلک میں کوئی قدرتی آفت آئے‘ دہشت گردی ہو یا جنگیں ہوں اس تحریک میں شامل تمام ادارے اور سوسائٹیاں مدد کو پہنچتی ہیں۔ لیکن اصل امتحان اس ملک کی ریڈکراس یا ریڈکریسنٹ کا ہوتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 Oct 15

کراچی میں لاہور کی خوشبو

Click here to View Printed Statement

شفیق اور ملنسار’معاملہ فہم اور زیرک’ا ہلیت اور ایمانداری چہرے سے عیاں ۔ دھیمے لہجے میں گفتگو کے ماہر۔مخاطب پر بوجھ نہ اُدھورے جُملے۔ بناوٹ اور تصّنع سے دُور۔پہلی ملاقات میں ہی شخصیت کا اسیر ہوجانے کو جی چاہتا ہے۔ میں شخصیت پرستی سے کوسوں دُور رہنے والا آدمی ہوں۔ احباب جانتے ہیں کہ میرا قلم ریاکاری کی بیماری سے ہنوز بچا ہوا ہے۔ شجاعت علی بیگ سے جو لوگ ملے ہیں وہ میری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ بیگ صاحب نے جس شعبے میں بھی قدم رکھا اس شعبے کو معزز کردیا۔ پاکستان کے سینئر ترین بینکار ہیں۔ سندھ حکومت میں وزارت ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے وزیر رہے۔ انہوں نے پورے سندھ کے تعلیمی اداروں کا دورہ کیا’ اور تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ایک بڑی ہی معلوماتی اور کارآمد رپورٹ مرتب کی۔ یہ رپورٹ گورنر سندھ اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو بھجوائی گئی۔ اس رپورٹ پر عملدرآمد تو نہ ہوسکا لیکن یہ حکومتی ریکارڈ کا حصہ بن گئی۔ دو برس قبل جب مملکت پاکستان کی طرف سے نمایاں شخصیات کو تمغات سے نوازنے کا مرحلہ آیا تو ایجوکیشن منسٹری نے اس رپورٹ کا حوالہ دیا۔ رپورٹ از سر نو دیکھی گئی اور اسے اس قابل سمجھا گیا کہ اس کے خالق کو ستارہ امتیاز سے نوازا جائے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Oct 15

ناکے اور ڈاکے

Click here to View Printed Statement

رینجرز کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بڑے بڑے ڈاکوئوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے اور اگر تفتیش اور تحقیق میں مار نہ کھا گئے تو عدالتوں کے ذریعے عبرتناک سزائوں کی نوید ہے۔ سفید پوش ڈاکوئوں کو پکڑنا مشکل کام ہے۔ اس کے لئے آپ ناکہ نہیں لگا سکتے’ ریڈ نہیں کرسکتے’پولیس مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی رعب داب میں لپٹے اور عزت مآب کی قلغیاں سجائے ان قومی ڈاکوئوں کی تعداد بھی بہت ہے اور ان کے بنتے ٹوٹتے اتحاد وفاقی اداروں کو بعض اوقات بے بس کر دیتے ہیں۔ لیکن سپہ سالار اعظم جناب جنرل راحیل شریف کی کمٹمنٹ پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے کہ وہ اس مشکل ترین مہم میں مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ہماری دلی دُعا ہے کہ وہ خوشامدیوں سے بچ بچا کر قومی بقاء کے اس صالح عمل کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں اور وارداتیوں کی ریشہ دوانبوں سے محفوظ رہیں۔
میں معروف اور دیکھے بھالے ڈاکوئوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔اخبارات کے اندر کرائم کارنرز ایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام اور پرامن شہریوں کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹنے والے ڈاکو کس قدر نڈر اور سفاک ہیں۔ رات اڑھائی بجے کے لگ بھگ ٹی وی چینلز پر متواتر ٹکّر اور تازہ ترین خبریں چل رہی ہوتی ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Sep 15

علم و ہنر کا گہوارہ…گوجرانوالہ

Click here to View Printed Statement

بدلتے سماجی اور معاشی تقاضوں کی بدولت اب شہروں کی شناخت بھی تبدیل ہورہی ہے۔ گوجرانوالہ پہلوانوں کے شہر کے طور پر مشہور تھا لیکن اب اس شہرت میں تعلیمی اداروں نے بھی اپنا حصہ ڈالنا شروع کردیا ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس نے تعارف کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میڈیکل کالج نے تعلیمی فضاء ہی تبدیل کردی ہے۔ طالبات کے کالجز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور استعداد سے ماحول میں علمی خوشبو رچ بس گئی ہے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے تو دوسری طرف والدین اور طلباء و طالبات کی سہولت کے لئے نت نئے تعلیمی ادارے کھولے جارہے ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب گوجرانوالہ کو بھی کالجوں کا شہر قرار دیا جاسکے گا۔
شہر کے تعلیمی تعارف کا سہرا وہاں سے منتخب ہونے والے چند ممبران صوبائی و قومی اسمبلی کے سر جاتا ہے ۔ ان محدودے چند افراد کا ر نے واقعی عوامی نمائندگی کا حق ادا کردیا ہے ۔ لیکن یہ ناانصافی ہوگی اگر پنجاب کے علم دوست وزیر اعلیٰ شہبازشریف کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ عوامی سہولیات کی فراہمی اور اجتماعی سماجی کاموں کے لئے میاں صاحب صوبہ کے عوامی نمائندگان کو اداروں کے قیام پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔
جناب عبدالرئوف مغل گوجرانوالہ سے ایم۔پی۔اے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلقے میں فروغ تعلیم کے لیے انتھک کام کیا ہے ۔ حال ہی میں بچیوں کے لئے ایک عظیم الشان کالج بنوایا ہے۔ پانچ ستمبر کو اس کالج کی افتتاحی تقریب میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Sep 15

اقتصادی راہداری۔متبادل شاہ رگ

Click here to View Printed Statement

آرمی چیف نے بلاکم وکاست واضح کردیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہ داری ہر حال میں مکمل ہوگی۔ جنرل راحیل شریف نے بلوچستان کے دورے کے دوران پاکستان کے دشمنوں کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان اس راہ داری کے مخالفین اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کے دشمنوں کو پوری طرح پہچانتا ہے۔ سپہ سالار کے اس پُراعتمادلہجے کے بعد افواج پاکستان اور سول حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے یک نگاہی کا تاثر مضبوط ہوگیا ہے۔آرمی چیف کے اس عزم کے ساتھ ہی کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی آئی ہے۔میاں محمد نوازشریف نے پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں مسلم لیگی ارکان اسمبلی اور وزراء و مشیران کے اہم ترین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپہ سالار کی بات کو دہرایا ہے۔ انہوںنے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو ”ڈی سیٹ” کرنے کے مطالبے کو غیر ضروری اور وقت کا ضیاع قرا ر دیا ہے Continue reading »

Posted by / 29 Jul 15

شیخ الاسلام کا ” امن نصاب’

Click here to View Printed Statement

دہشت گردی اب کسی ایک مُلک یا قوم کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ ایک بین الاقوامی اشو بن چُکا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے عفریت سے بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ افواج پاکستان کو دہشت گردوں کے خاتمے کا جو ٹاسک دیا گیا تھا وہ بڑی حد تک پورا ہوچکا ہے۔ فوجی نوعیت کی فتوحات قابل ذکر ہیں۔ضرب عضب کے تین اہداف مقرر کئے گئے تھے۔پہلا ہدف ان دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کے ٹھکانے ختم کرنے تھے جو اعلانیہ طور پر ریاست اور ملک کے خلاف برسرپیکار تھے۔ الحمد اللہ ہماری عسکری قوت نے ”ناقابل شکست ” سمجھے جانے والے ان گروہوں کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہ بلوچستان کے علیحدگی پسند لشکر تھے یا اسلام کا نام استعمال کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے دونوں قسم کے گروہ اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں۔ جو چند بچے ہیں وہ بھی فرار کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ہمارے بہادر فوجی ان کی آخری پناہ گاہوں تک جاپہنچے ہیں۔دوسرا ہدف فرقہ وارانہ تنظیموں کی وارداتوں پر قابو پانا تھا۔مقام شکر ہے کہ ان کے وجود کو بھی نیست و نابود کردیا گیا ہے۔ اب ان کے اندر ہتھیار اٹھانے کی ہمت نہیں رہی اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو مضبوط گرفت میں لیا جاچُکا ہے۔ مُلک میں ٹارگٹ کلنک کے اکا دُکا واقعات تو ہوتے ہیں لیکن ایسی انتہا پسند تنظیموں کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیاہے۔ تیسرا اور اہم ترین ہدف دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور معاون لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا تھا اس حوالے سے کراچی میں جو آپریشن ہورہا ہے اس کے ذریعے بڑے بڑے نامی گرامی لوگوں کو پکڑا جا چُکا ہے۔ چونکہ کرپشن انڈسٹری کے ذریعے ہی ان شدت پسند گروہوں کو مالی مدد فراہم کی جاتی تھی اس لئے مالی بدعنوانی کے ذرائع پر آہنی ہاتھ ڈالا گیا ہے ۔ قوم کو یقین ہے کہ کراچی میں آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر ہی ختم ہوگا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Jul 15

اچھی اولاد ہی اچھا نصیب ہے

Click here to View Printed Statement

ہم اکثر فیس بک پر دیکھتے ہیں کہ دوست احباب اپنے نومولود بچے بچیوں کی تصاویر لگا دیتے ہیں۔ کمنٹس میں ہم پڑھتے ہیں کہ ہر کوئی بچے کی صحت’درازی عمر اور اچھے نصیب کی دعا کر رہا ہوتا ہے۔عموماً یہ لکھا ہوتا ہے کہ ”خدا زندگی دے’خدا نصیب اچھے کرے”۔ اولاد بذات خود ایک انعام ہے۔ اللہ پاک نے اولاد کو میٹھے میوے سے تشبیہہ دی ہے۔ بیٹوں کے حوالے سے ہم بہت متفکر ّ رہتے ہیں۔ہمیں فکر ہوتی ہے کہ یہ بڑے ہو کر کامیاب انسان بنیں۔خوب دولت اور ناموری کمائیں۔ ایک بڑا حلقہ ابھی تک بیٹیوں کو بوجھ سمجھتا ہے اور شائد غربت’ جہیز اور عدم تحفظ کے سبب بہت سے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹیوں کے معاملے میں حد سے زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ اور آئے دن کے سماجی حادثوں کو دیکھ کر بیٹی کے والدین ایک ہی دعا کرتے ہیں کہ ”یااللہ میری بچی کے نصیب اچھے ہوں”۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Jul 15

عالمی ضمیر بحر ہند میں ڈوب گیا

Click here to View Printed Statement

”اے مسلمانو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں کمزور مردوں’عورتوں اور بچوںکی خاطر نہیں لڑتے۔ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال کہ اس کے باشندے ظالم ہیں۔ اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی حمایتی بھیج۔اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مددگار بھیج۔” (سورة النساء آیت نمبر75)
اجتماعی قبریں ان کے اجتماعی احساس کو بیدار نہ کر پائیں۔ ہانپتی’ بھاگتی’کٹتی اور بکھرتی عصمتیں ان کے اجتماعی دل کو موم نہ کرسکیں۔چھتوں’بالکونیوں اور درختوں کیساتھ لٹکتی لاشیں ان کے اجتماعی جسم میں جھر جھریاں پیدا نہ کرسکیں۔ نومولودوں کو وحشی قدموں نے دبوچ ڈالا۔ ننھے ہاتھوں کو سفاک درندوں نے کلہاڑوں کے ساتھ کاٹا’ مسکان بھرے چہروں کو بے رحمی کیساتھ اجاڑا گیا۔ کسی قوم نے آہ نہیں بھری’کسی بھی ملک نے چیخ نہ ماری۔ سات ارب انسان’ انسانی حقوق کی لاکھوں تنظیمیں’ ڈیڑھ ارب مسلمان’ سینکڑوں ممالک۔ دنیا کے منصف لاتعلق۔آخر نسل کشی کے اس بہیمانہ وارداتوں پر دنیا بولتی کیوں نہیں۔ صرف اس لئے کہ روہنگیہ لوگ مسلمان ہیں۔ صرف اس لئے کہ وہ کلمہ گو ہیں۔ صرف اس لئے کہ وہ اسلام کے پیروکار ہیں۔ ان کی زبانوں پر اللہ اکبر’ محمد رسول اللہ’ سبحان اللہ جیسے الفاظ ادا ہوتے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Jun 15

دہشت گردی کیخلاف جنگ اور ہماری ذمہ داریاں

Click here to View Printed Statement

ضرب عضب پوری قوت کیساتھ جاری ہے ۔ نتائج بھی بڑی حد تک مثبت قرار دیئے جاسکتے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ دہشت گرد اب میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں ۔ وہ انتہائی مایوسی کی حالت میں بچوں’ عورتوں اور غیرمتحارب کمیونٹی پر حملہ کر رہے ہیں۔ ان کا بچ نکلنا اب محال دکھائی دے رہا ہے۔دہشت گردوں کیخلاف یہ فتوحات خالصتاً عسکری نوعیت کی ہیں۔ہمارے بہادر عساکر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر قومی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔آج پوری قوم اپنی مسلح افواج’ آئی ایس آئی’ رینجرز اور پولیس کی قربانیوں کو دل و جان سے تسلیم کرتی ہے اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں افواج پاکستان کی حکمت عملی’ بہادری اور جوانمردی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 May 15

دن کو کام …رات کو آرام

Click here to View Printed Statement

ضد کا کوئی علاج نہیں۔محض احتجاجی سیاست کی بُنیاد پر قد بڑھانے ہوں تو یہ مُلک اس طرز سیاست کے لئے بہت ہی زرخیز ہے۔لیکن اگر واقعتا مقصد کاروباری ترقی اور ذہنی و سماجی سکون ہے تو پھر یہ فلسفہ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ رات آٹھ بجے مارکیٹیں بند کرنے سے بزنس کمیونٹی تباہ ہوجائے گی۔ دنیا بھر کے اوقات کار کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ روزانہ آٹھ گھنٹے کا کام ایک نارمل لائف اسٹائل کے لئے بہترین ٹائم ٹیبل ہے۔ مزدور اور کارکن کے بنیادی حقوق بھی یہی طے ہوئے ہیں کہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہ لیا جائے ۔پاکستان ایسے خوش نصیب ملکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں اوقات نماز کی پابندی ہماری عمومی زندگی کا حصہ ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 May 15

چین کا اعتماد۔ہمارا امتحان

Click here to View Printed Statement

پہلے تو ہم سب پاکستانیوں کو بانیان پاکستان کا مشکور ہونا چاہیے کہ جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں ہمیں ایک ایسا خطہ ارضی لے دیا جس کی جغرافیائی اہمیت ہر بدلتے منظر نامے میں بڑھتی جارہی ہے ۔ اگر فرصت ہو تو باوضو ہوکر علامہ اقبال ‘ قائداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح جیسی ہستیوں کے لئے فاتحہ خوانی ضرور کرنی چاہیے۔پاکستان کو عالمی سطح پر سرمایہ کاری ضرور کرنی چاہیے۔پاکستان کو عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لئے بہترین ملک قرار دیا جاتا رہا ہے ۔تھوڑے سے حالات سنبھلے ہیں اور چین و پاکستان نے دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ٹریڈ کو ریڈور کی تعمیر کا معاہدہ کر لیا ہے جو دراصل شاہراہ خوشحالی ہے۔پینتالیس ارب ڈالر کے معاہدے جوں جوں زمین پر اترنا شروع ہوں گے۔ معاشی سرگرمیاں تیز ہونا شروع ہوجائیں گے۔انجینئر اور مزدورتو ایک مکان بناتے وقت بھی ضروری ہوتے ہیں یہ تو تین ہزار کلو میٹر طویل کوریڈور ہے۔سینکڑوں پل بننے ہیں۔ کئی بلڈنگز تعمیر ہونی ہیں۔ کئی برس لگنے ہیں۔ بے روزگاری کا خاتمہ یقینی دکھائی دیتا ہے۔بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے لگنے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کے مطابق 2018ء تک بجلی کے منصوبے مکمل ہوجائیں گے اور اگر پہلے سے شروع منصوبوں پربھی تیز رفتاری کے ساتھ کام شروع رہا تو بجلی کی پیداوار کا تخمینہ بارہ سے پندرہ ہزار میگاواٹ کا ہے۔ اگر آئندہ تین برس میں بجلی کی کمی پوری ہوگی تو پاکستان کے اندر پہلے سے موجودہ انڈسٹری کا پہیہ بھی پوری رفتار کے ساتھ گھومے گا اور لوگوں کے دن پھریں گے۔ عام آدمی کو بھی عزت کے ساتھ تو روٹی کمانے کا اپنے ملک کے اندر ہی موقع پیدا ہوجائے گا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Apr 15

بہتر حالات۔اچھی توقعات

Click here to View Printed Statement

نااُمید ہونے کے لئے ہزاروں دلائل موجود ہیں۔ لیکن پُرامید رہنے کے لئے وجوہات تلاش کرنا پڑتی ہیں۔ پاکستان بیم ورجا کے اس دوراھے پر آگیا ہے کہ اب یہ ہمارے اوپر منحصر ہے کہ ہم پھر سے یاسیت میں ڈوب جائیں یا اپنے دماغ کو جھٹکا دیں اور امید کا ننھا سا دیا روشن کرکے آگے بڑھیں۔ یہ کہا نہیں جاسکتا کہ کب کوئی دہشتگرد کسی ہدف پر پہنچ کر خود کو اڑا دے اور میرا مﺅقف بھی ہوا میں اڑ جائے۔ لیکن ذرا ٹھہریئے۔ کیا یہ بہت بڑی اُمید افزاءبات نہیں ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے اندر دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے عسکری اور سیاسی قوتوں نے کمال اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کیا ہے۔سینکڑوں دہشت گرد پکڑے گئے ہزاروں انتہا پسندوں کے گرد گھیرا تنگ ہوا اور سپہ سالار اعظم اور ان کی ٹیم نے جس طرح افغانستان اور امریکہ کی حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان ممالک کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی کے خلاف قابل فخر پہلو ہے ۔مشیر داخلہ نے بڑے اعتماد سے کہا ہے کہ سول اور ملٹری قیادت میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ استحکام پاکستان کیخلاف خطرے کی گھنٹی ہمیشہ سول ملٹری تعلقات میں دراڑ ہی رہی ہے۔اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان واضح سمت میں بڑی یکسوئی کیساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہمارے انتظامی اور امن وامان کے ذمہ دار اداروں ‘عسکری صلاحیت اور سیاسی سوجھ بوجھ میں بڑی تیزی کے ساتھ بہتری آئی ہے۔ اب عام آدمی پھر سے خوف کی چادر اتار کر احساس تحفظ سے سرشار ہورہا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Mar 15

خاندانی سیاست کے پھول اور کانٹے

Click here to View Printed Statement

پٹرول بحران کے دوران تجزیہ نگاروں نے بحران کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اہم عہدوں پر میاں محمد نواز شریف نے اپنے رشتہ داروں کونواز رکھا ہے اس لئے وہ کسی ذمہ دار کو سزا نہیں دے سکتے۔ ایک مﺅقر انگریزی اخبار نے لکھا کہ امور مملکت تین شخصیات کے ہاتھوں میں ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار اور پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب شبہاز شریف کلی طور پر بااختیار ہیں اور تیسرے ظاہر ہے خود میاں محمد نوازشریف ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزراءاپنی ماتحت وزارتوں میں صرف ”ربڑ سٹیمپ“ کا کام کرتے ہیں کیونکہ سیکرٹری اور ایم ڈی براہ راست مذکورہ شخصیات سے ہدایات لیتے ہیں۔ قومی امور میں اسحاق ڈار کو ویٹو کا حق ہے۔ باقی وزراءاسحاق ڈار کی ”نظر کرم“ کے منتظر رہتے ہیں۔ اخبارات میں بڑے بڑے عہدوں پر متمکن افراد کی فہرست بھی دے دی گئی ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر شریف خاندان کے نمک خوار اور وفادار ہیں۔سوال اُٹھایا گیا ہے کہ جو افسران ریاست کی بجائے ایک خاندان کے وفادار ہوں وہ بحران سے کیسے نپٹ سکتے ہیں؟۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Jan 15

تجربہ کاروں کا ظلم

Click here to View Printed Statement

ہوسکتا ہے کہ نیت ٹھیک ہو۔لیکن اہلیت بہرحال نہیں ہے۔ حکمران قوم کو کوئی واضح جواب دینے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ پٹرول بحران کے پیٹ سے بجلی بحران بھی باہر نکل آیا ہے۔ماہرین معیشت مشکل اصطلاحات کے ذریعے عوامی ذہنوں کو پراگندہ کر رہے ہیں۔پٹرول پمپوں پر عورتوں کے ہجوم‘ہاتھ میں بوتلیں ‘پہلو میں بچے۔ظلم کی ایک یہ شکل باقی رہ گئی تھی وہ تجربہ کاروں کے ہاتھوںدیکھنے کو مل گئی ہے۔پٹرول روٹی نہ سہی لیکن روٹی کمانے کا ذریعہ تو ہے۔پاکستان کے منظرنامے میں یہ نظارے بھی شامل ہوگئے کہ دولہا اپنی بارات گدھا گاڑیوں پر لےجاتے دیکھے گئے۔ شدید سردی کے عالم میں پٹرول کے انتظار میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے کا تکلیف دہ تصور ہی رونگٹے کھڑا کردیتا ہے۔لیکن وزیر پٹرولیم‘ پی ایس او‘وزارت خزانہ سب کے سب وزیراعظم نوازشریف کی موجودگی میں ”میری ذمہ داری نہیں“ کی رٹ لگاتے سنائی دیئے۔ عوام فقیروں کی طرح خوار ہوتے رہے۔ اعصاب شل ہوگئے۔پاکستانیوں نے ایک بار پھر سوچنا شروع کردیا ہے کہ آیا یہ مُلک رہنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ میڈیا پورے زور وشور سے چیخ رہا ہے۔حکمران جماعت کے وزراءشرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ٹی وی پر آکر معذرت کرتے ہیں لیکن عوام کی تکالیف بڑھتی جارہی ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Jan 15

انسانیت کا اہم مسئلہ

Click here to View Printed Statement

انسانیت کے سارے مسائل کی جڑ الہامی تعلیمات سے دوری ہے ۔الہامی تعلیمات سے گریز نے ہی آج کے انسان کو شیطانی قوتوں کے آگے بے بس بناکر رکھ دیا ہے ۔ سائنس اور سائنسی طرز فکر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے انسانی ذہنوں کو شک میں مبتلا کردیا ہے ۔جب تک کسی معاملے میں انسان خود تجربات کرکے کسی نتیجے تک نہ پہنے وہ معاملے کی صداقت اور حقانیت کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا ۔انسانی ذہنوں نے وحی اور الہام کو بھی سائنس کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی ہے انسانی ذہن محسوسات تک محدود بنایا گیا ہے۔اس لئے وہ اللہ ،رسولﷺ اور کتاب اللہ ،جیسے الہامی حقائق کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا ہے ۔جب کہ الہامی ہدایات کا پہلا تقاضا یہی ہے کہ ان کی حقانیت میںرتی برابر شک نہ کیا جائے ۔حکم ہوتا ہے‘ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 31 Dec 14

پاکستان میں خیر کی قوتیں مغلوب کیوں

Click here to View Printed Statement

کسی بھی معاشرے اور تہذیب میں جب تک خیر کی قوتیں غالب رہتی ہیں معاشرے تباہ نہیں ہوتے ۔بداطمینانی نہیں پھیلتی اور انتشار گلی کوچوں میں ننگا نہیں ناچتا ۔ملک ،سلطنت اقتدار اور اختیار یہ وہ انعامات ہیں جو فطرت خوش ہوکر کسی قوم ،گروہ یا فرد کیلئے ممکن بنادیتی ہے ۔لیکن جہاں یہ انعامات ہیں وہیں آزمائش بھی ہوتی ہے ۔پاکستان ،ایک نیا ملک ،ایک انعام تھا لیکن ہم نے اپنے زندہ ضمیروں کو ہوس اور لالچ کے ہتھوڑے مارمارکر ادھموا کردیا اور آج یہی انعام ہمارے لئے بہت بڑی آزمائش بن چکا ہے ۔جب گھر کے باسیوں کو اپنے گھر کے درودیوار سے خوف آنے لگے تو اس سے بڑی آزمائش کیا ہوگی ۔دانشور اور غم خوار حلقے ہمیں کسی بڑے قومی حادثے سے بچانے کیلئے نت نئے فارمولے اور حل پیش کرتے ہیں ۔کوئی گڈ گورنس کی بات کرتا ہے ۔کسی کو صدارتی طرز حکومت میں مسائل حل ہوتے دکھائی دیتے ہیں ،کئی مغربی جمہوریت ہی کو کامل حل ثابت کرتے ہیں ۔کسی کا خیال ہے کہ سخت ترین قانون ہمیں شیطانی بیماریوں سے نجات دلاسکتا ہے ۔کسی کو تمام مسائل کی جڑ فوجی اقتدار دکھائی دے رہا ہے ۔کوئی اسلامی انقلاب کا جھنڈا لہرانے میں نجات کی امید لگائے بیٹھا ہے ۔غرض جتنے ذہن ہیں اتنے ہی فارمولے گردش کررہے ہیں ۔پاکستان اس وقت عملی طورپر تیسری دنیا کا چوتھے نمبر کا ملک ہے جس میں ہر تخریبی قوت ،ہر منفی جذبہ اور ہر شیطانی حربہ پوری طاقت اور قوت کیساتھ پھل پھول رہا ہے ۔شرکے مقابلے میں خیر دبکا بیٹھا ،منتظر فردا ہے ۔! Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 18 Dec 14

خیر اور شر کا تصادم فطری اور دائمی ہے

Click here to View Printed Statement

ایسا کبھی ہوا نہیں کہ دنیا سے شر مکمل طورپر ختم ہوگیا ہو۔انسان کے اندر شر کی قوتیں خیر کی طاقتوں سے ہمیشہ نبردآزما رہتی ہیں ۔آپ اسے حضرت انسان کی فطرت کہہ سکتے ہیں ۔ان شرانگیز طاقتوں کو آپ نیگیٹیو فورسز کا عنوان دے سکتے ہیں ۔قرآن انہیں شیطانی طاقتوں کا نام دیتا ہے ۔ہر منفی سوچ ،ہر تخریبی تصور ہر انسان دشمن منصوبہ ،ہرابلیسی حربہ چاہے اس کا محل وقوع انسان کی اپنی ذات ہو ،اس کا ماحول ہو،ملک ہویاسرزمین ہو ،شیطان ہی کی کارستانی قرار پائے گی۔ہوس لالچ،ظلم ،استبداد ،بدعنوانی ،بدامنی،بد عہدی ،بے وفائی ،دھوکہ دہی ،نوسر بازی ،بزدلی ،منافقت،ہیجان انگیزی ،خیانت،جھوٹ ،فراڈ ،بے ادبی ،فریب کاری ،بعض وعناد،انا پرستی ،چوری ،ڈاکہ زنی ،قتل وغارت اور وحشت وبربریت یہ تمام وہ بیماریاں ہیں جنہیں شیطان نے ایجاد کیا ہے اور وہ کمال ہوشیاری کیساتھ انسانی دل ودماغ میں ان کی پیوندکاری کرتا ہے اور انسان کو شرکے راستے پر ڈال دیتا ہے ۔تشکک اور بے یقینی ،مایوسی اور غفلت جیسے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر شیطان جب حملہ آور ہوتا ہے تو بڑے بڑے پختہ عزم انسان ریت کا ڈھیر ہوجاتے ہیں ۔شیطان کا تصور ہر مذہب اور عقیدے کے پیروکاروں میں اپنے اپنے ناموں اور حوالوں سے موجود ہے ۔قرآن نے اس تصور کو بڑے بلیغ پیرائے میں بیان فرمایا ہے ۔”بے شک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو“ حدیث نبوی ہے ‘
”شیطانی وسوسے تمہارے وجود میں خون کی طرح گردش کرتے ہیں “ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Dec 14

مقصد تخلیق انسان۔ اللہ اور بندوں سے پیار

Click here to View Printed Statement

کائنات کا دولہا انسان اللہ پروردگار عالم کی تخلیق کا بہترین شاہکار ہے۔ رب کائنات نے اسے نعمتوں کے اتنے
انبار عطا فرما دیے کہ جنہیں دیکھ کر ذرا سا غور کرنے پر ہمیں اللہ نظر آنے لگتا ہے۔ اللہ خود اپنے کلام میں فرماتا ہے”تمہارے نفوس میں میری نشانیاں موجود ہیں تو کیا تم ان پر غور نہیں کرتے”۔
ہم اپنی ذات سے ذرا باہر نظر دوڑائیں تو سورج’ چاند’ ہوا’ پانی ‘ستارے آسمان’زمین اور جانور سب کے سب قدرت کی نشانیاں ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت انسان کی ایسے خدمت میں جتے ہوئے ہیں جیسے ان کا ہم سے بہت بڑا کام پھنسا ہوا ہے۔ ان پر نگاہ دوڑا کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سورج چمکتا’چاند دمکتا’ستار روشن’ سمندر موجزن’ ہوائیں چلتی’ پھول کھلتے’پھل پکتے اور جانور سواری و غذا کے لئے پیدا ہی ہمارے لئے کئے گئے ہیں۔ احساس کچھ یوں ہوتا ہے کہ جیسے ہم آقا ہیں اور یہ ہمارے خدمت گزار حالانکہ اصل صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان سب سے پوچھیے کہ اگر انسان نہ ہو تو تمہاری صحت پر کیا اثر پڑے گا تو یہ سب کہیں گے ہماری بلا سے۔ مگر انسان ان کے بغیر ایک پل بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Sep 14

ڈار آگے ۔ڈالر پیچھے

Click here to View Printed Statement

ابھی تک تسلی بخش وضاحت کا انتظار ہے۔حکومت پاکستان نے ”دوست ملک“ سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحفے کے پیچھے کارفرما معاملے کو افشاءنہیں کیا۔قوم کو تسلی دی گئی ہے کہ ” ایران اور سعودی عرب سمیت تمام برادر ممالک سے متوازن تعلقات قائم کئے جائیں گے“۔ ڈالر کی بے قدری کے پیچھے محرکات میں سب سے بڑا محرک یہی ڈیڑھ ارب ڈالرز ہیں جو مبینہ طور پر سعودی حکومت نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی ذاتی درخواست پر مملکت اسلامیہ کو بطور تحفہ دیئے ہیں۔ ان میں سے نصف سے زائد قومی خزانے میں ”پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ“ کے عنوان سے منتقل ہوچکے ہیں اور باقی بھی عنقریب آنے والے ہیں۔اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دوست ملک کی طرف سے کی جانے والی یہ مہربانی کسی وقت واپس لے لی گئی تو ڈالر پھر بے قابو ہو کر روپے کو روند ڈالے گا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Mar 14

غریب کا مسئلہ۔ڈرون یا ٹماٹر

Click here to View Printed Statement

میڈیائی فضاءمیں طالبان ‘مذاکرات‘ شہید‘نیٹو سپلائی ڈرون ‘جہاد اور امن جیسے عنوانات چھائے ہوئے ہیں۔خدا نہ کرے محرم الحرام کے ماہ میں کوئی سانحہ پیش آئے‘ اگر ایسا ہوا تو پھر لاشیں‘ خون اور آگ کے نظارے بھی ٹی وی سکرینوں پر چھا جائیں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت طالبان مذاکرات کے لئے کوئی ٹیم تشکیل پائے اور ہمارے اینکرپرسنز پورا مہینہ اسی پانی میں مدھانی ڈال کر بیٹھے رہیں۔ غرض یہ کہ ذرائع ابلاغ جنہیں عوام کا ترجمان ہونے کا دعویٰ ہے وہ چند مخصوص واقعات‘لوگوں اور گروہوں کے لئے ہی وقف رہے۔حکومت ایسے حالات میں بڑی مطمئن رہتی ہے۔اور بڑی خاموشی سے مہنگائی کے جن کے ہاتھ پاﺅں کھول دیتی ہے۔آئی۔ ایم۔ایف جیسے اداروں سے مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں اور غریب کو مارنے کے تمام تیر بہدف نسخے بھی آزما لئے جاتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 07 Nov 13

خیبرپختونخواہ کا خیرخواہ

Click here to View Printed Statement

حکومت معلق ہی رہتی ہے۔ یہ صوبہ ہی ایسا ہے جس میں مستحکم حکومتیں اور مستحسن فیصلے کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔ تحریک انصاف کی اس اُدھوری حکومت کے بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔بڑے ہی ابتدائی دور سے گزر رہی ہے۔ جو لوگ ابھی سے کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے فیصلے صادر کر رہے ہیں انہیں تجزیاتی انصاف سے کام لینا چاہیے۔صوبائی حکومت کو ”ناکام” قرار دینے سے پہلے اس صوبہ کی حالت زار کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ابتری کو سامنے رکھ کر ہی بہتری کا اندازہ  لگایا جانا چاہیے۔راقم کو کبھی بھی بہت زیادہ توقعات نہیں رہیں ۔ہمارے ہاں جمہوریت ہو یا آمریت چونکہ افراد کی حیثیت اہم ہوتی ہے اس لئے جہاں فرد باصلاحیت ہوا’ وہاں نتائج بہترہوگئے اور جہاں افراد کرپٹ ہوں یا نااہل تو پوری جماعت ملکر بھی ملک کو دلدل سے باہر نہیں نکال سکتی۔ جماعتوں کی کارکردگی ان کی لیڈر شپ سے مترشح ہوتی ہے۔تحریک انصاف ایک نئی سیاسی جماعت ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Nov 13

مضاربہ سکینڈل کاجھوٹ اور سچ

Click here to View Printed Statement

حکومت اپنے دکھوں کا مداوا نہیںکرپا رہی شہریوں کے دکھوں کا درماں کیسے کرے گی۔ڈبل شاہ سکینڈل کے بعد مفتیان کا مضاربہ سکینڈل سامنے آچکا ہے۔یہاں تو ہر طرف نسیان کے مریض دکھائی دیتے ہیں۔ماضی قریب کو بھول جاتے ہیں۔جن احباب نے مفتیان کو زیادہ منافع کے لئے بھاری رقوم فراہم کیں انہوں نے ڈبل شاہ کے انجام کو سامنے نہیں رکھا ورنہ وہ ایسی غلطی نہ کرتے۔چونکہ ہم بھول جانے کے عادی ہیں۔ اس لئے ایسے سکینڈل آئندہ بھی منظر عام پر آتے رہیں گے۔دوسری بڑی وجہ حد سے بڑھا ہوا لالچ بھی ہے۔ہمارے بینکوں نے منافع کی ایک شرح طے کر رکھی ہے۔انوسٹمنٹ پر اس سے ڈبل یا ٹرپل منافع کا تصور ممکن نہیں ہے لیکن جب کوئی شخص یا گروہ آپ کو بینک کی نسبت تین چار گنا زیادہ منافع دینے کی حامی بھرے تو طبعاً آپ اس کی طرف مائل ضرور ہوجائیں گے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Sep 13

پولیس کی بھی سنو

Click here to View Printed Statement

سیاستدانوں نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں میںدل کھول کر ایک دوسرے کی دُرگت بنائی ہے۔تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق وزیر داخلہ نے اپوزیشن کو جواب آں غزل جو سنائی تو ذرائع ابلاغ بھی عش عش کر اٹھے۔ سکندر بمقالہ زمرد کے نت نئے پہلو سامنے آچکے ہیں جن میں سے بعض دلچسپ’کچھ حسرتناک اور چند عبرتناک بھی ہیں۔ اس واقعہ سے کون کیا سیکھتا ہے۔ یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔بہرحال عوام جو کہ تماشبین ثابت ہوئے۔ پولیس جو کہ نااہل ثابت ہوئی ‘میڈیا جو کہ غیر ذمہ دارثابت ہوا اور حکمران جو کہ متذبذب ثابت ہوئے۔ اگر چاہیں تو اپنی اپنی حدود میں رہ کر خود احتسابی کا عمل مکمل کرسکتے ہیں اور یوں ہم آنے والے اس نوعیت کے حادثوں میں مناسب ردعمل کے اظہار کا سلیقہ سیکھ سکتے ہیں ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Aug 13

اپنوں سے بات کیوں نہیں

Click here to View Printed Statement

(ڈاکٹرمرتضیٰ مغل)ڈالرز اور ڈرونز کا کھیل اب اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔بارہ برس قبل وہ سامان حرب جسے امریکی جنگی اڈوں سے اٹھا کر افغانستان کے طول وعرض میں پھیلایا گیا تھا اب سمٹ کر بڑے بڑے کنٹینرز پر لاد کر واپس امریکہ بھجوانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔لاکھوں بے گناہ افغانی بچے عورتیں اور بوڑھے آگے اگلتے ٹینکوں سے بھون ڈالے گئے۔ کروڑ کے لگ بھگ دنیا کے غریب ترین لوگ اپاہج کردیئے گئے۔کتنی عورتیں بیوہ ہوئیں’کتنے بچے یتیم ہوگئے۔2014ء سے پہلے ہی امریکی فوجیوں کا انخلاء شروع ہوگیا۔قابض فوجیوں کی نامراد واپسی کا منظر بڑا ہی عبرتناک ہے۔ ایک افغانی بچہ کنٹینرز پر رکھے ٹینک کے اوپر چڑھتا ہے’ہاتھ فضاء میں لہراتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 May 13

اعتماد کرنا بھی سیکھیں

Click here to View Printed Statement

بے پناہ اور اکثر اوقات غیر ضروری معلومات تک بہ آسانی رسائی نے ہر بالغ پاکستانی کو مستقل ناقد بنا دیا ہے ۔ جس کو دیکھو جہاں دیکھو تنقید ہی تنقید ہورہی ہے۔ اس تنقیدی فضا کا نقصان بہت ہورہا ہے۔ اور وہ نقصان یہ کہ آج کا کوئی بھی بالغ پاکستانی کسی پر کسی طرح کا اعتماد کرنے کو تیار نہیں بلکہ اس کی ذہنی کیفیت ایسی ہوگئی ہے کہ خود فرد کو اپنے کئے ہوئے عمل پر بھی اعتماد نہیں رہا۔
بداعتمادی نئے نئے طرزکے رَدِعمل سامنے لارہی ہے۔ہم نے جن کو ووٹ دیئے ہمیں ان کی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں ۔ ہم نے جن کیخلاف ووٹ ڈالا ان کی مخالفت پر شک ہے۔ بے یقینی ایسے پھیلی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس سب سے عظیم مخلوق کی’’ By Default‘‘ قسم کی خوبیوں پر بھی یقین نہیں رہا۔آگ جلاتی ہے اس کا یقین ہے‘پانی بہاتا ہے اس پر بھی یقین ہے‘مٹی اگاتی ہے اس کا بھی یقین ہے لیکن انسان بہتری لاسکتا ہے‘بگڑے معاملات سنوار سکتا ہے‘اصلاح احوال کرسکتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 May 13

بُزدل کو جانے دو

Click here to View Printed Statement

ایسا بزدل نکلا۔کمانڈو ایسے ہوتے ہیں؟میرے بہت سے قومی بھائی کمانڈو ہیں۔ایس جی کمانڈوز۔کیا چیتے کی پھرتی ہوتی ہے ان میں۔آنکھوں سے شعلے اگلتے ہیں۔دشمن پر جھپٹتے اور بے بس کردیتے ہیں۔وہ موت کا تعاقب کرتے ہیں۔پاکستانی فوج کے کمانڈو کا نام سن کر موت خوفزدہ ہوجاتی ہے۔ہماری بہادر مسلح فوج اپنے کمانڈو کو ایسے تربیتی ماحول سے گزارتی ہے کہ جسم ہی نہیں ذہن بھی لوہا بن جاتے ہیں۔انہیں مستقبل کے خوف ڈرا نہیں سکتے۔وہ واقعتاً کسی سے نہیں ڈرتے۔پاکستانی کمانڈوز کی تربیت اسلامی تعلیمات کے مطابق کی جاتی ہے۔وہ کسی بے گناہ کا قتل نہیں کرتے۔کسی بچے کسی عورت کی جان نہیںلیتے۔وہ کسی مظلوم مہمان کو گرفتار کرکے دشمنوں کے آگے بیچتے نہیں۔وہ اپنے قومی وقار پر حرف نہیں آنے دیتے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 01 May 13

جب سانپ کی موت آتی ہے

Click here to View Printed Statement

وہ کس قدرمتکبر تھا’ خود اسے بھی اپنے تکبر کی حدود کا علم نہیں تھا۔اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون بن جاتا تھا۔ اس کے اشارہ ابرو سے مملکت میں ہلچل مچ جاتی تھی۔ وہ دن کے وقت طاقتور اور رات کے عالم میں انتہائی طاقتور ہوجاتا تھا۔سگار’کافی اور گلاس اس کا شوق تھے’ساغرومینا اس کے سامنے دست بستہ رہتے تھے۔ اس نے ریفرنڈم کرایا تو رجسٹرڈ ووٹوں سے بھی کہیں زیادہ ووٹ اس کے حق میں پڑتے تھے۔اس نے روشن خیالی کے نام پر ہر اچھے اور صالح خیال کا گلا گھونٹا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Apr 13

خدمت خلق میں سرمایہ کاری

Click here to View Printed Statement

ہم کاروبار اس لئے کرتے ہیں تاکہ منافع کما سکیں اور اپنی روزمرہ ضروریات کو پورا کرتے ہوئے بہتر سے بہتر معیار زندگی حاصل کرسکیں۔شائد ہی دنیا میں کوئی ایسا شخص ہو جوخسارے کے لئے کاروبار کرتا ہو۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کاروبار سے منافع نہ کمایا جائے بلکہ منافع کا جذبہ ہی کاروبار یا تجارت کی کامیابی کا بنیادی سبب ہے۔ ایک حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دولت کے دس حصوں میں سے نو حصے کاروبار یا تجارت میں رکھ دیئے ہیں۔ جو شخص کاروبار کرتا ہے وہ دراصل رب العالمین کی ربوبیت کے کارعظیم میں حصہ بھی ڈالتا ہے۔ارتکاز دولت کو ختم کرنے کا ذریعہ بھی کاروبار ہی ہے کہ اس عمل میں انسان اپنے لئے ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ چلنے والوں کے لئے بھی کماتا اور تگ و دو کرتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Apr 13

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player