درندگی کے پروموٹرز

Click here to View Printed Statement

بھارت میں عورت ذات پر حملوں کی خبریں سُن سُن کر کان پک گئے تھے۔ہرصاحب دل اور ضمیر جب عصمت دری کی خبریں سنتا ہے تو خون کے آنسو روتا ہے۔ آدمیت جہاں ہے وہ شیطانیت کیخلاف آواز بلند کرتی ہے۔ حیوانوں کے غول کسی حوا زادی کی عصمت کی چادر بمبئی میں تار تار کریں یا کسی معصوم دوشیزہ پر انگلینڈ میں حملہ ہوجائے خون کھولتا اور دل مجرموں کو سرعام پھانسی لگتے دیکھنا چاہتا ہے۔اسلام نے تو درندوں کے معاشرے میں عورت کو تقدس کی چادر اوڑھانے کا انقلابی کارنامہ سرانجام دیا اور آج جب کہ ایمان کا درجہ قرون اولیٰ والا نہیں پھر بھی عورت کیخلاف ہر جرم اور زیادتی کو بحیثیت مجموعی مسلمان نفرت اور حقارت سے دیکھتے ہےں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Sep 13

حوصلہ مند قوم

Click here to View Printed Statement

بڑے دِل گُردے کی بات ہے۔دہشتگردی نے کتنے گھر اُجاڑ دیئے۔کوئی مقام ایسا نہیں جہاں خون نہ بہایا گیا ہو۔خون بہانے والے کھل کر کھیلے اور آئندہ بھی شائد وہ غارت گری کی اسی راہ پر چلتے رہیں۔کوئی بھی ایسی سیاسی پارٹی نہیں جس کے جسد کو بموں اور گولیوں نے چھلنی نہ کیا ہو۔کوئی بڑی سیاسی شخصیت ایسی نہیں جسے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر خوف میں مبتلا نہ کیاگیا ہو۔عام پاکستانی جلسے جلوس میں جانے سے پہلے کئی بار سوچتا رہا کہ وہ واپس آئے گا بھی یا نہیں۔انتخابات کی گہماگہمی اوربموں کی پوچھاڑ ساتھ ساتھ چلتی رہی۔بمبار ہارے نہ ہی عوام نے حوصلہ چھوڑا۔اتنے بڑے خطرات مُول لیکر اس انتخابی نظام میں لوگ آخر کیوں حصہ دار بنے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 13 May 13

جب سانپ کی موت آتی ہے

Click here to View Printed Statement

وہ کس قدرمتکبر تھا’ خود اسے بھی اپنے تکبر کی حدود کا علم نہیں تھا۔اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون بن جاتا تھا۔ اس کے اشارہ ابرو سے مملکت میں ہلچل مچ جاتی تھی۔ وہ دن کے وقت طاقتور اور رات کے عالم میں انتہائی طاقتور ہوجاتا تھا۔سگار’کافی اور گلاس اس کا شوق تھے’ساغرومینا اس کے سامنے دست بستہ رہتے تھے۔ اس نے ریفرنڈم کرایا تو رجسٹرڈ ووٹوں سے بھی کہیں زیادہ ووٹ اس کے حق میں پڑتے تھے۔اس نے روشن خیالی کے نام پر ہر اچھے اور صالح خیال کا گلا گھونٹا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Apr 13

خدمت خلق میں سرمایہ کاری

Click here to View Printed Statement

ہم کاروبار اس لئے کرتے ہیں تاکہ منافع کما سکیں اور اپنی روزمرہ ضروریات کو پورا کرتے ہوئے بہتر سے بہتر معیار زندگی حاصل کرسکیں۔شائد ہی دنیا میں کوئی ایسا شخص ہو جوخسارے کے لئے کاروبار کرتا ہو۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کاروبار سے منافع نہ کمایا جائے بلکہ منافع کا جذبہ ہی کاروبار یا تجارت کی کامیابی کا بنیادی سبب ہے۔ ایک حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دولت کے دس حصوں میں سے نو حصے کاروبار یا تجارت میں رکھ دیئے ہیں۔ جو شخص کاروبار کرتا ہے وہ دراصل رب العالمین کی ربوبیت کے کارعظیم میں حصہ بھی ڈالتا ہے۔ارتکاز دولت کو ختم کرنے کا ذریعہ بھی کاروبار ہی ہے کہ اس عمل میں انسان اپنے لئے ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ چلنے والوں کے لئے بھی کماتا اور تگ و دو کرتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Apr 13

قائداعظم کا پاکستان…اسلامی فلاحی ریاست

Click here to View Printed Statement

ہمیںپی پی حکومت کا مشکور ہونا چاہیے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی سالگرہ سرکاری طور پر منانے کا اہتمام ہوا ہے۔
گزشتہ 65 برسوں میں ہم نے اتنے قائد بنا لئے ہیں کہ اپنے اصل قائد کو بھول ہی گئے ہیں۔ بلکہ آمریتوں کے ادوار میں جان بوجھ کر قائداعظم کی سالگرہ اور برسیوں پر خاموشی اختیار کی گئی۔ پرویز مشرف کے دور میں آمریت کے کاسہّ لیس اورشاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروںنے پاکستان کے کرنسی نوٹوں سے بانی پاکستان کی تصویر ہٹا کر جنرل پرویز کی تصویر لگانے کا پورا منصوبہ بنالیا تھا۔ نمونے کے طور پر ایسے نوٹ تیار بھی ہوگئے تھے۔آج بھی قائداعظم کی ذات اور ان کے افکار کو متنازعہ بنانے کا ٹھیکہ لنڈا بازار کے دانشوروں کو دے دیا گیا ہے۔ ایسی ایسی بولیاں سنائی گئیں کہ کان پھٹنے کو آگئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانان ہند نے یہ ملک مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ چند امریکی غلاموں کی ناجائز خواہشوں کی بارآوری کیلئے بنایا تھا۔
”پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ اللہ” والے نعرے کا تمسخر اڑایا جارہا ہے۔ اسلام کا حوالہ مٹانے کی ہر کوشش کی جارہی ہے۔ ایک گروپ نے امریکیوں کے اشارے پر ”اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں سے اسلام کا لفظ حذف کرنے کی رٹ لگانا شروع کررکھی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارے دوست کالم نگار بیگ راج نے کہیں لکھ دیا ہے ”اگر آج قائداعظم زندہ ہوتے…” تو بگرام ایئربیس پر امریکیوں کی قید میں ہوتے”

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Mar 13

محب وطن صنعت کار

Click here to View Printed Statement

”شوگر سے شوگر نہیں ہوتی۔انسانی جسم میں ایک خاص حد تک ہی شوگر جذب ہوسکتی ہے۔ اس قدرتی حد سے بڑھیں گے تو انسانی نظام ہضم خود بخودا کتاہٹ محسوس کرنے لگے گا۔ یہ محض ڈاکٹروں کا پراپیگنڈہ ہے کہ چینی کھانے سے شوگر کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔ اس بیماری کے اسباب کچھ اور ہیں لیکن عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے یہ سستاسا نسخہ گھڑلیا گیا ہے”۔
ملاقات شروع ہی ہوئی تھی کہ سکندر خان اپنے دبنگ لہجے میں شوگر انڈسٹری کو نقصان پہنچانے والے سرکاری اور غیر سرکاری اقدامات کا احاطہ کرنے لگے۔آل پاکستان شوگر ایسوسی ایشن کے سابق صدر اورخیبرپختونخواہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق چیئرمین سکندر خان معروف صنعت کار گھرانے کے چشم وچراغ ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے صنعت کاروں کے اندر حکمرانوں کے سامنے بات کرنے کا حوصلہ پیدا کیا ہے اور وہ قومی سطح کے متعدد فورموں پر صنعت کاروں کے مسائل اور پریشانیوں سے پالیسی ساز اداروں کے سربراہوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Mar 13

عورت کا تقدس و احترام

Click here to View Printed Statement

JANG LAHORE IQRA PAGE

کہا جاتا ہے کہ دور جاہلیت میں عورت اللہ تعالیٰ کی مظلوم مخلوق تھی۔معاشرے میں اسے سخت حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ طرح طرح کے توہمات اس کی ذات کے ساتھ وابستہ کئے جاتے تھے۔گھروں میں باندیوں سے بدترسلوک اس کا مقدر تھا۔ سوسائٹی میں رائے مشورے اور تنقید و احتساب کا حق اسے قطعاً نہ تھا۔ بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد نہ تھی۔وراثت میں بھی اس کا حصہ نہ تھا۔زندگی کے کسی شعبے میں بھی اس کی شہادت قابل قبول نہ تھی۔ حد تو یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی عورت کو زندہ قبر میں گاڑھ دیا جاتا تھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Mar 13

انتخابی بُخار

Click here to View Printed Statement

تینوں چیف متفقہ طور پر قوم کو یقین دلا چکے ہیں کہ انتخابات ہر حال میں ہو کر رہیں گے۔ چیف جسٹس نے فرمایا ہے کہ لوگ ایسے خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیں جن میں انتخابات کے التواء کے حوالے سے کوئی جھلک ہو۔آرمی چیف نے فوجی لب ولہجے کی قطعیت کے ساتھ ایک بار پھر واضع کردیا ہے کہ قوم جس طرح کے چاہے نمائندے منتخب کرے’فوج جمہوریت کا ساتھ دے گی۔ چیف الیکشن کمیشن کے دفتر کی رونقیں بحال ہوچکی ہیں اور وہ کراچی میں غیر لسانی بنیادوں پر انتخابی حلقہ بندیوں میں پھر سے مصروف ہوگئے ہیں۔تینوں چیف کی متواتر یقین دہانیوں کے بعد محترم طاہر القادری کی طرف سے انتخاب کے انعقاد کو حقیقت کے طور پر قبول کر لیاگیا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 Mar 13

ماڈلنگ…عورت کی تضحیک

Click here to View Printed Statement

Jang Lahore Iqra Page

آجکل فحاشی اور عریانی کے ہر مظہر کو ملفوف بنا کر مارکیٹ کرنے کا رواج چل پڑا ہے۔عورت کو حیا اور پاکیزگی کے ماحول سے نکالنے کے نت نئے طریقے ایجاد ہوگئے ہیں۔بدقسمت عورتیں ہیں جو اپنی ناسمجھی یا کسی مجبوری کے سبب ابلیسی دماغوں کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس جاتی ہیں اور پھر ”پبلک پراپرٹی” بن کر اپنے تقدس کو چند ٹکوں کے عوض دربدر نیلام کرتی پھرتی ہیں۔ پاک دامن بچیوں اور بیبیوں کو چکا چوند کردینے والے مناظر کے پیچھے چھپے غلیظ کاروبار سے آگا ہ کرنا جہاں والدین کا فرض اولین ہے وہیں قلم کار وں اور دانشوروں کو بھی اس پھیلے ناسور کا ادراک ہونا چاہیے۔ خوبصورت لباس زیب تن کرنا ہر ذی روح کی قدرتی خواہش ہے اور زیورات اور بنائو سنگھار عورت کی شدید ترین آرزو ہوتی ہے ۔بوتیک پر بکنے والے لباس کے ساتھ اگر کسی ہیروئن یا ماڈل کی تصویر ہو تو کاروبار خوب چمک جاتا ہے ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Feb 13

گوادر’چین اور بھارت

Click here to View Printed Statement

یہ توفیق کی بات ہے ۔اللہ نے موجودہ حکومت کو یہ توفیق بخشی اور کابینہ کے دستخطوں سے پاکستان کی بہتری کا ایک اور بندوبست ہوگیا۔2002ء میں بحیرہ عرب میں گوادر کے مقام پر گہرے پانیوں میںخطے کی ایک بڑی بندرگاہ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ چین کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے تختی کی نقاب کشائی کی تھی۔بندرگاہ کی تعمیر کے لئے سرمایہ چین نے فراہم کیا تھا اور عمومی رائے یہی تھی کہ تعمیر کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد بندرگاہ کے انتظامات بھی چین سنبھالے گا۔ لیکن امریکی دبائو کے سامنے پرویز مشرف صاحب حسب روایت ڈھیر ہوگئے اور سنگاپور کی ایک کمپنی کو انتطامات سونپ دیئے گئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Feb 13

سب سے بڑی اور بُری جمہوریت

Click here to View Printed Statement

ان لوگوں سے پیشگی معذرت جنہوں نے جمہوریت کو مذہب کا درجہ دے رکھا ہے۔مغربی جمہوریت کے شاہکار سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔یورپی ممالک میں اب شہریوں کی فلاح و بہبود کے بجائے ہم جنس پرستوں کے شیطانی حقوق ایشو بن چکے ہیں۔امریکہ کی ایک ریاست میں ”چکلے” چلانے والے ایک بدکار کو گورنر بنایا گیا ہے۔ یہی نہیں امریکی حکومت خصوصاً صدر ابامہ مجبور ہے کہ وہ طاقتور حزب اختلاف  کے دبائو کے سامنے سرنڈر کرجائے اور جنگ بندی کی خواہش کو ترک کرکے نئی جنگوں کی گنجائش پیدا کرے تاکہ امریکی اسلحہ ساز اور آئل کمپنیوں کا بزنس چلتا رہے۔خود پاکستان کے اندر جمہوریت کے پردے میں جو لوٹ مار ہورہی ہے اس کے تذکروں سے اخبارات بھرے پڑے ہیں۔’

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Feb 13

ثقافتی دہشتگردی

Click here to View Printed Statement

ثقافت کی کوئی متفقہ تعریف وقت کی زیاں کاری ہے ۔ایک حقیقت متفقہ ہے کہ ثقافت عقائد سے جنم لیتی ہے۔ اس فارمولے کی مدد سے ہم یورپی’ بھارتی اور پاکستانی ثقافتون میںواضح تفریق کرسکتے ہیں۔ایک عام مسلمان پاکستانی کا عقیدہ کیا ہے۔قرآن کتاب ہدایت ہے اور سیرت رسولۖ اس ہدایت کا نمونہ ہے۔کسی گئے گزرے مسلمان سے بھی پوچھ لیں اسے ایمان کے اس درجے پر آپ ضرور پائیں گے۔پاکستان میں ننانوے فیصد مسلمان ہیں اور وہ اپنی سوچوں میں اسلامی تعلیمات کو ہی اپناذریعہ ہدایت اور وجہ نجات سمجھتے ہیں ۔
ان کی سوچ میں مرد و زن کے وہی رشتے مقدس ہیں جنہیں اسوہ رسولۖ نے مقدس ٹھہرایا ہے۔ لباس’چال چلن’رہن سہن اور بول چال کے جو معیار رات قرآن نے طے کردیئے ہیں ‘ عامتہ الناس ان معیارات کو ہی اعلیٰ اخلاقی اقدار کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم بحیثیت مجموعی ثقافت کی کسی ایسی تشریح کو ماننے پر تیار نہیں جو قرآن وسنت کے صریحاً خلاف ہو۔عمل کی بات نہیں میں یہاں ایمان اور عقیدے کی بات کر رہا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہمارے ٹی وی سکرینوں پر کوئی منظر’کوئی ڈائیلاگ’کوئی کہانی ‘کوئی فوٹیج ایسی دکھائی دیتی ہے جوہماری عظیم اسلامی اقدار کے خلاف ہو تو ناظرین اور سامعین کا بلڈپریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ وہ بیزاری کا اظہار کرتے ہیں لیکن تفریح و معلومات کا کوئی متبادل انتظام نہ ہونے کے سبب دلگرفتگی کے عالم میں چپ سادھ لیتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Feb 13

دہر میں اسم محمد ۖ سے اجالا کر دے

Click here to View Printed Statement

JANG LAHORE IQRA PAGE

NAWA-I-WAQT KARACHI MILLI EDITION

آج انسانیت مجموعی طور پر انتشار کا شکار ہے ۔تمام تر ترقی ‘خوشحالی تعلیم اور علم کے باوجود ساڑھے چھ ارب انسان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اس کرہ ارض کو نہ ختم ہونے والے فتنوں میں مبتلا کردینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔کوئی ایسا خطہ نہیں جو جنگ و جدل سے پاک ہو۔ جہاں انسان انسان کو کاٹ نہ رہا ہو۔ جہاں آدم آدم کو لوٹ نہ رہا ہو امیر غریب کو کھائے جارہا ہے۔ باوسیلہ دنیا بے وسیلہ بستیوں کو اجاڑ رہی ہے۔تقابل کا فلسفہ اپنے تمام تر منفی معنوں کے ساتھ نسل انسانی کی تباہ کاریوں میں کارفرما ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Jan 13

منور دل روشن دماغ

Click here to View Printed Statement

عام آدمی خاص کیسے بن جاتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو تگ ودو کی زندگی گذارنے  والے ہر صاحب شعور کو بے چین رکھتا ہے۔” مطالعہ’مشاہدہ اور ملاقات” یہ وہ تین ہتھیار ہیں جن سے لیس ہو کر راقم اپنی معلومات کے دائرے کو وسعت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ جناب منور مغل کا نام اکثر قارئین کے حافظہ میں محفوظ ہوگا۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے جناب مغل سے مفصل گفتگو کا کبھی موقعہ نہیں ملا۔لیکن میری خوش بختی کہیے کہ گزشتہ دنوں یہ موقع میسر آگیا۔فون کرنے پر جواب آیا کہ ابھی جائیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Jan 13

سیاسی سٹیج پر مہمان اداکار”

Click here to View Printed Statement

”بعض حلقوں کا خیال ہے کہ جناب ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے انتخاب سے پہلے اصلاحات کی مہنگی ترین مہم میں تیس کروڑ روپے سے زائد خرچ کی جانے والی بھاری رقم جناب آصف علی زرداری کی وساطت سے ملی ہے۔اگر ایسا ہے تو ہم صدر پاکستان سے دست بستہ عرض کریں گے کہ وہ جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب پر مذید سرمایہ کاری کرنے  سے پہلے جناب میاں محمد نوازشریف سے ان کے بارے میں ضرور پوچھ لیں۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں ان کے بعض دیرینہ دوستوں کا خیال ہے کہ شیخ الاسلام کی جسامت دھوکہ دیتی ہے۔ہاتھی کے دانت کھانے کے اور اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔محترم قادری صاحب بہت کچھ کھا جانے کے بعد بھی اڈکار نہیں لیتے اور ان کی خوش خوراکی کا عالم یہ ہے کہ وہ نہ نہ کرتے دسترخوان کے دستر خوان خالی کر جاتے ہیں۔یہ چھ سات برس پہلے کی بات ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 Dec 12

قیادت کا فقدان

Click here to View Printed Statement

یہ بات کم و بیش اب ہر پاکستانی کی زبان پر ہے کہ یہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ گزشتہ چار ساڑھے چار برس میں یہ پروپیگنڈہ اب لوگوں کے اندر یقین بن کر اتر گیا ہے اور خواص اور عوام دونوں ہی اس سوچ کے حامی دکھائی دینے لگے ہیں کہ بلوچستان ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔کہا جارہا ہے کہ بلوچستان میں ہم نے بہت ظلم ڈھائے ہیں۔بلوچ کبھی بھی کسی کے ماتحت نہیں رہے۔پنجاب دو نہیں تین حصوں میں تقسیم ہوگا۔پنجاب تقسیم ہوا تو کراچی سندھ سے الگ ہو کر اپنی آزادانہ حیثیت کا اعلان کردے گا۔ صوبہ خیبرپختونخواہ کے نام تبدیل کرنے سے ہزارہ وال اپنا تشخص کھو بیٹھے ہیں اور اب وہ اپنا صوبہ مانگ رہے ہیں اگر ہزارہ الگ ہوگیا تو پھر پختون بلوچستان کے پختون علاقوں کے ساتھ ملکر افغانستان کے ساتھ الحاق کر لیں گے۔ جس ملک میں روزانہ بارہ ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہو وہ مالی طور پر بہت جلد ڈیفالٹ کرجائے گا۔اگر الیکشن ہو بھی گئے تو ملکی معاملات ابتری کی طرف ہی بڑھتے رہیں گے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Dec 12

پاک بھارت دوستی اورمولانا کا پْرمغز بیان

Click here to View Printed Statement

پاک بھارت دوستی کی اس قدر دھول اڑائی جارہی ہے کہ دوست دشمن کا چہرہ  پہچاننا مشکل ہوگیا ہے۔سرکاری ٹی وی پر بھی بھارتی اشتہارات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔کترینہ کیف اور سیف ہمارے ٹی وی چینلز کے اندر خون بن کر دوڑ رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری سوچ اور عقل کے سارے دھارے اب سرحد پار سے پھوٹتے ہیں اور ہم یہاں بیٹھے انہی لفظوںاورانہی استعاروں کی مالا جپتے اور ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ہمارا مقبول ترین سلوگن اب ”نچ لے” بن چکا ہے۔ملی غیرت اور قومی حمیت جیسے الفاظ لکھنے اور بولنے پر دْشنام طرازیوں کے پے در پے وار سہنے پڑ رہے ہیں۔”چھڈوجی پاگل جے” یہ ہے بھارت نواز دانشوروں کی وہ پھبتی جو ”امن کی آشا” اور ”مفادات کی فحاشہ” پر تنقید کرنے پر کسی جاتی ہے۔امن کس کو نہیں چاہیے؟پاکستانیوں کو امن کی جس قدر ضرورت ہے شائد دنیا کی کسی اور قوم کو ہو۔ جہاں ہرروز خون بہتا ہو’لاشے گرتے ہوں’ روحیں تڑپتی ہوں اور بے یقینی ایمان شکنی کی حدیں چھونے لگے وہاں امن کی خواہش کون نہیں کرے گا۔ہمسایوں کے ساتھ پْرامن رہنا ہمسایوں سے زیادہ ہماری ضرورت ہے۔لیکن کیا لفظ امن امن کی گردان کرنے سے امن قائم ہوجاتا ہے؟ آزمودہ قول ہے کہ ظلم اور امن ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ظلم رہے اور امن بھی ہو یہ ناممکنات میں سے ہے۔مظلوم وقتی طور پر ظلم کے سامنے دب سکتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Sep 12

اقوام متحدہ کا مشن …ملک دشمنوں کا جشن

Click here to View Printed Statement

کیا کہنے وزارت خارجہ کے۔یہ واقعی خارجیوں کی وزارت ہے۔فارن نہیں فارنرز منسٹری ہے۔ایسی کونسی قیامت آگئی تھی کہ اقوام متحدہ کے مشن برائے انسانی حقوق کے وفد کو خود اسلام آباد نے ہی دعوت دے ڈالی کہ آئو اور دنیا بھر میں ہماری جنگ ہنسائی کے اسباب اکٹھے کرو! کوئی نہ کوئی ایسی رپورٹ تیارکروکہ دنیا کو بتایا جاسکے کہ پاکستان کے اندر افواج پاکستان اور ایجنسیاں اپنے ہی لوگوں کو اٹھا رہی ہیں’قتل کر رہی ہیں۔ انسانی المیہ  جنم لے رہا ہے اور اگر عالمی طاقتوں نے پاک فوج ‘آئی ایس آئی اور ایف سی کیخلاف اپنی فوجیں بلوچستان میںنہ اتاریں تو پھر بلوچ نسل ختم ہوجائے گی۔ پاکستان کے اندرایسے کونے انسانی حقوق پامال ہورہے ہیںکہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کو اپنا چار رکنی وفد بھیجناپڑا ہے ۔؟ کس شیطانی ذہن کا منصوبہ ہے؟تف ہے ایسی سوچ پر’ایسے ذہنوں پر ایسے وزیروں مشیروں پر اور ایسی وزارت پر جو اپنے ملک کا کھاتی ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Sep 12

بڑا ڈیم کیوں ضروری ہے؟

Click here to View Printed Statement

کالاباغ ڈیم کی مخالفت تکینکی نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہے جس میں بھارت کی سازشوں کابھی ہاتھ ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی جانب سے قرض دینے سے انکار کے بعد کالاباغ ڈیم توانائی کے بحران کا واحد حل ہے جس کے لئے عالمی ادارے قرض دینے کو تیار ہیں۔ اے این پی کی قیادت اب پنجاب دشمنی چھوڑ دے ۔خیبر پختون خواہ کے باشعور عوام اے این پی کی قیادت پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے دبائو بڑھائیں تاکہ ملک کے علاوہ ان کی آنے والی نسلیں خوشحال ہو سکیں۔ اس سلسلہ میں پشاور اور دیگر علاقوں سے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس ڈیم کی تعمیر سے پنجاب میں آباد لاکھوں پشتون بھائیوں کا بھی بھلا ہو گا۔خیبر پختونخواہ اور سندھ کالاباغ ڈیم بننے سے نہیں بلکہ نہ بننے سے بنجر ہو جائیں گے۔بھاشا ڈیم سے کوئی نہر نہیں نکل سکے گی جبکہ کالا باغ ڈیم سے نہروں کا جال بچھ جائے گا۔ کالاباغ ڈیم سے غریب عوام کی ستر لاکھ ایکڑ بنجراراضی کو پانی ملے گا Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 03 Sep 12

اقتدار کا خواہش مند امارت کا اہل نہیں

Click here to View Printed Statement

حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں خصوصی تحریر
حضرت ابوبکرصدیق جب خلیفہ منتخب ہوئے تو صبح اٹھ کر تجارت کے لئے کپڑے لے کر بازار کی طرف روانہ ہوئے’ راستے میں حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ ملے اور دریافت کرنے لگے کہ کدھر کا قصد ہے؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا:بازار جا رہا ہوں’ ان دونوں نے فرمایا کہ آپ پر تو دربارخلافت کا بار ہے’بازار میں کیا کریں گے؟آپ نے فرمایا:پھر اپنے متعلقین کی پرورش کہاں سے کروں گا؟ انہوں نے کہا کہ آپ تشریف لے چلیں’ ہم آپ کا وظیفہ مقرر کردیں گے’آپ ان دونوں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف لائے تو ان حضرات نے مشورے کے بعد آپ کا معمولی خرچ کا وظیفہ مقرر کردیا’جیسا قبل از خلافت اپنے مال سے خرچ کرتے تھے اور سفر حج کے لئے سواری مقرر کردی اور دو چادریں عطا کردیں کہ جب ایک پرانی ہوجائے تو دوسری لے لیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Aug 12

کارپوریٹ سیکٹر کی سماجی ذمہ داریاں

Click here to View Printed Statement

کہا جاتا ہے کہ اگر مواقع اور اہلیت باہم مل جائیں تو پھر کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔ ہم اپنے اردگرد اس فارمولے کو بنیاد بنا کر جائزہ لیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہر سماج اور معاشرے میں ایسے افراد کی بے شمار تعداد ہے جن میں صلاحیت ہے لیکن موقع نہیں ملتا اور کئی ایسے افراد ہیں جن کے پاس مواقع تو موجود ہیں لیکن ان میں صلاحیت نہیں ہے جس کے باعث وہ معاشرے کے ناکام یا ناکارہ افراد کہلاتے ہیں۔ مواقع پیدا کرنا تاکہ اہل افراد ان مواقع سے فائدہ اٹھا کر کامیابیاں حاصل کریں اور معاشرہ مجموعی طور پر متحرک ہوسکے ایک اہم ترین سماجی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح بے صلاحیت افراد کی ایسے خطوط پر تربیت کرنا کہ ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکے۔یہ بھی برابر کی اہم سماجی ذمہ داری ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Jul 12

رمضان کی برکتیں کیسے سمیٹیں

Click here to View Printed Statement

JANG LAHORE

ہر سال ماہ صیام میں منبرومحراب سے روزے کی فضیلتیں بیان کی جاتی ہیں اسلامی سکالرز انتہائی فصاحت وبلاغت کے ساتھ اس ماہ مقدس کے ساتھ وابستہ برکتوں’رحمتوں اور بخششوں کے تذکرے دہراتے ہیں۔نماز تراویح’نوافل ‘صدقہ اور خیرات کے طور طریقوں اور آداب و اسلوب کا موثر ذکر ہوتا ہے۔ہمارے اخبارات’رسائل اور ٹی وی چینلز خصوصی پروگرام اور اشاعت کا اہتمام کرتے ہیں۔ کوئی بھی صاحب شعور مسلمان پاکستانی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے روزے کی اہمیت’افطار اور سحر کے طریقے اور رکوع و سجود کے انداز سے واقفیت نہیں ہے۔ لیکن کیا سبب ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیلائی جانے والی آگاہی کے باوجود معاشرے میں اس مقدس مہینے کے طفیل جو بہتری متوقع ہوتی ہے وہ وقوع پذیر نہیں ہوتی اور معاشرے میں اصلاح کی بجائے ہر سال پہلے سے زیادہ بگاڑ دکھائی دیتا ہے؟یوں تو حکومت بھی رحمتوں والے اس مہینے میں عوام الناس کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے حکومتی سطح پر کئی اقدامات اٹھاتی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Jul 12

کوئی آنکھ روئی نہ ماتم ہوا

Click here to View Printed Statement

یوسف رضا گیلانی کو یقین تھا کہ وہ’ آرمی چیف اور چیف جسٹس 2013ء میں ایک ساتھ فارغ ہوں گے۔ اس یقین کا اظہار انہوں نے بارہا سرعام بھی کیا اور اپنے پسندیدہ بلکہ پروردہ صحافیوں کے ساتھ خصوصی ملاقاتوں میں بھی کیا۔ لیکن منگل 19جون 2012ء کی سہ پہر نے ان کی وزارت عظمیٰ ان سے چھین لی۔ عدالت عظمیٰ نے بالآخر ایک خوبصورت وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا۔ ایک ایسا شخص جن کا لباس انتہائی قیمتی تھا’جس کی اہلیہ لندن سے مہنگا ترین پرس خریدنے  میں بازی لے گئی تھی۔ جس کے تین جوڑوں کی قیمت 30لاکھ روپے تھے اور جس نے غریب  ترین ملک کا جمہوری وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اپنے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ برقرار رکھے بلکہ مسند اقتدار پر جلوہ گر ہونے کے بعد اپنے پرشکوہ رہن سہن میں اضافہ کیا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Jun 12

رشوت کے رنگ

Click here to View Printed Statement

دولت کی چمک سے بچنا محال ہوجاتا ہے۔ جو لوگ دام پھینک کر وفاداریاں خریدنے کا دھندہ کرتے ہیں ان کو یقین کامل ہوتا ہے کہ ہر انسان کی ایک قیمت ہوتی ہے۔کامیاب بیوپاری وہ ہوتے ہیں جو بندے کے ماتھے اور آنکھوں سے بھانپ لیتے ہیں کہ ان کے مخاطب کی قیمت کیا ہوگی۔ رشوت لینا اگر ایک فن ہے تو رشوت دینا بہت بڑا فن ہے۔ہرکوئی صاحب ثروت رشوت دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کار شیطانی کے لئے مہارت درکار ہوتی ہے ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 Jun 12

توانائی بحران اور کوئلے کے ذخائر ‘امکانات اور مشکلات

Click here to View Printed Statement

توانائی بحران کے حوالے سے اب کوئی دوسری رائے نہیں رہی۔ مشرف دور  کے آخری برسوں تک یہ سوچ جاری رہی کہ ملک میں بجلی اورگیس کی وافر مقدار موجود ہے اگر لائن لاسز اور چوری پر قابو پا لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم توانائی کی ضرورتوں کو پہلے سے موجود ذرائع کے ذریعے پورا کرسکتے ہیں۔ لیکن آج چار برس مزید گذرنے کے بعد یہ خوش فہمی بھی دور ہوگئی ہے۔بجلی چوروں کو لگام دینے کی بجائے آج کل ان کے ناز اٹھائے جارہے ہیں۔کراچی میں کنڈا سسٹم کوئی ختم نہیں کراسکتا۔ جنوبی پنجاب  کے بعض حصوں میں بھی بجلی چوری کا رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سندھ کے اکثر دیہی علاقوں میں سال میں ایک بار بجلی کا بل آتا ہے جو ہزار دو ہزار سے زیادہ نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے سرکاری ادارے’وزیراعظم ہائوس ‘ ایوان صدر سب بجلی کے بلوں کے نادہندہ ہیں۔بجلی کے صارفین کا چالیس فیصد حصہ باقی ماندہ ساٹھ فیصد کا بھی بل ادا کرتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 Jun 12

خیر اور شر کا تصادم فطری اور دائمی ہے

Click here to View Printed Statement

JANG LAHORE

ایسا کبھی ہوا نہیں کہ دنیا سے شر مکمل طورپر ختم ہوگیا ہو۔انسان کے اندر شر کی قوتیں خیر کی طاقتوں سے ہمیشہ نبردآزما رہتی ہیں ۔آپ اسے حضرت انسان کی فطرت کہہ سکتے ہیں ۔ان شرانگیز طاقتوں کو آپ نیگیٹیو فورسز کا عنوان دے سکتے ہیں ۔قرآن انہیں شیطانی طاقتوں کا نام دیتا ہے ۔ہر منفی سوچ ،ہر تخریبی تصور ہر انسان دشمن منصوبہ ،ہرابلیسی حربہ چاہے اس کا محل وقوع انسان کی اپنی ذات ہو ،اس کا ماحول ہو،ملک ہویاسرزمین ہو

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Jun 12

جلتی لاشوں پر سیاسی بھنگڑے

Click here to View Printed Statements

پی پی پی سندھ کے معتوب رہنما ڈاکٹر ذوالفقار  مرزا نے قرآن کی قسم کھائی اور بار بار کہا کہ رحمن ملک سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ وزیر داخلہ  کی دروغ گوئی کے بارے میں بلوچ رہنمائوں نے بھی بار بار شکایتیں کی ہیں۔کراچی والوں نے بھی ناراضگی اور غصے کے عالم میں وزیر داخلہ کو کئی بار جھوٹا ثابت کیا ہے۔اے این پی کے رہنمائوں نے بھی ایسے ہی القابات سے نوازا ہے۔ خدا جانے جناب رحمن ملک کے پاس کونسا جن ہے کہ وہ ہر واقعہ’ ہر حادثہ کی جذیات پر نہ صرف یہ کہ مکمل طور پرعبور رکھتے ہیں بلکہ آنے والے حادثات اور خودکش حملوں کی پیشگی اطلاعات بھی فراہم کر دیتے ہیں۔ شائد یہی ”دروغ گوئی” کا فن انہیں جناب گیلانی اور زرداری کے مزید قریب کردیتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Apr 12

سیاچین بے چینی کیا ہے

Click here to View Printed Statements

یہ پہلی بار تو نہیں ہوا کہ افواج پاکستان پر ایسی آزمائش آئی ہو۔ دو ہزار پانچ کے زلزلے کے دوران ہمارے بہادر فوجیوں نے لازوال قربانی دی۔آفات ارضی وسماوی کے سامنے کون دم مار سکتا ہے۔ آپ فوجوں کی تاریخ پڑھیں’لاکھوں فوجی ہیضے سے مر گئے’ملیریا سے جتھے کے جھتے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ آندھیاں آئیں اور توپ وتفننگ تک اڑا لے گئیں’ بگولے آئے’آتش فشاں پھٹے’ سونامی ٹکرائے’ فوجی غیر فوجی سب کچھ بہہ گیا۔پہاڑ سرکے اور قافلوں کے قافلے دب گئے۔آخر ایسی کونسی انوکھی بات ہوئی ‘کونسا مافوق الفطرت سانحہ اور حادثہ ہوا کہ  دفاع وطن کے بنیادی ذمہ داری سے ہی فرار کی راہ ڈھونڈی جارہی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Apr 12

بپھرے ہوئے امریکی ایجنٹ

Click here to View Printed Statements

اندازہ تھا کہ امریکی یہی کریں گے۔پاکستان کو ”باغیانہ“سوچ کی سزا ضرور دیں گے۔ جوں جوں پاکستان اقتصادی میدان میں ایران کے قریب ہورہا ہے۔امریکی غصے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ امریکی قیادت اہل پاکستان کو سنگین نتائج سے آگاہ کر رہی ہے۔لیکن یہ آگاہی زبانی سے کہیں آگے چلی گئی ہے۔ پاکستان کو معاشی خودمختاری کے خواب دیکھنے پر اندرونی خلفشار کا شکار کرنے کے منصوبے پر بڑی تیز رفتاری کے ساتھ عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 Mar 12

بلوچستان کہیں نہیں جارہا

Click here to View Printed Statements

جب سے امریکی کانگریس کی کمیٹی میں بلوچستان کے اندر انسانی حقوق پر ”تشویش“ بھری بحث ہوئی ہے پاکستان کے محب وطن حلقوں میں ایک سراسمیگی سی پھیل گئی ہے۔سقوط ڈھاکہ کے ڈسے ہوئے پاکستانی خوفزدہ ہیںکہ پاکستان کے سقوط کی اب ایک اور عالمی سازش ترتیب پا رہی ہے اور اب کی بار شائد اس گھناﺅنی سازش کا مرکز و محور ماسکو کی بجائے واشنگٹن ہے۔امریکی کانگریس کمیٹی میں پاکستان کے کسی علاقے کے بارے میں باقاعدہ بحث ہونا اس لحاظ سے شرمناک ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Feb 12

اپنے گھر کی حفاظت کریں

Click here to View Printed Statements

مضبوط خاندان ہی مضبوط معاشرے کا ضامن ہوتا ہے ۔یورپی تہذیب کو سب سے زیادہ دکھ اپنے خاندانی نظام کے معدوم ہوجانے کا ہی ہے۔ امریکی اور برطانوی دانشوروں نے اسلامی تہذیب میں خاندان کے تصور اور تصویر کو ہمیشہ رشک کی نگاہوں سے دیکھا اور کوشش کی کہ اپنے ہاں مقیم مسلمانوں کے ذریعے اپنے شہریوں کے اندر بھی اس نظام کی ترویج کرسکیں۔ برطانیہ میں پہلی مسلمان خاتون وزیر محترمہ سعیدہ وارثی جب اپنے عہدے پر فائز ہوئیں تو ان کی پارٹی کے رہبر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 09 Feb 12

مصلحین کہاں کھوگئے

Click here to View Printed Statements

افسوس صد افسوس! محراب و منبرنے اخلاق سنوارنے کے عظیم مقصد کو پورا کرنا تھا وہ اقتدار کی سیاست گریوں میں ایسے الجھے کہ اپنے فرض کو بھی بھول گئے۔ وہاں اب خوئے دلنوازی کے پھول نہیں نفرت اور حقارت کے کانٹے اگتے ہیں۔ جبہ و دستار جسے اقوال حسنہ کا محافظ بننا تھا وہ فرقہ واریت اور خود نمائی کے نشان بن گئے۔ خانقاہیں اہل نظر سے خالی ہوئیں اور ہوس پرست بہروپیوں نے مسندِارشاد پر قبضہ جمالیا۔مذہبی جماعتیں مذہبی سے سیاسی بنیں اور قوم کے اخلاق و اقدار کو مادر پدر آزاد خیال درندوں کے حوالے کردیا جنہوں نے دانشوری‘آرٹ ‘گلیمر اور شوبز کے پردے میں امت رسول ہاشمی کے دل و دماغ کو جاہلانہ اور حیواناتی خیالات سے داغ دار کردیا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Feb 12

اسوہ رسول اللہ اور فلاحِ انسانیت

Click here to View Printed Statements

آج انسانیت مجموعی طور پر انتشار کا شکار ہے ۔تمام تر ترقی ‘خوشحالی تعلیم اور علم کے باوجود ساڑھے چھ ارب انسان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اس کرہ ارض کو نہ ختم ہونے والے فتنوں میں مبتلا کردینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔کوئی ایسا خطہ نہیں جو جنگ و جدل سے پاک ہو۔ جہاں انسان انسان کو کاٹ نہ رہا ہو۔ جہاں آدم آدم کو لوٹ نہ رہا ہو امیر غریب کو کھائے جارہا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 04 Feb 12

گھیرا تنگ ہورہا ہے

Click here to View Printed Statements

علم نہیں کہ اب کی بار پیپلزپارٹی کو مظلوم بننے کا موقع ملتا ہے یا نہیں لیکن خلق خدا کی زبان پر ایک ہی جملہ ہے”زرداری کب جارہا ہے“۔نااہلیوں اور بدنیتوں سے بوجھل ملکی فضاءمیں پروان چڑھنے والے عوامی غیض و غضب نے انڈے بچے دینے شروع کردیئے ہیں۔اگر ”سٹیٹس کو“ کا مخالف کوئی حقیقی عوامی لیڈر ہوتا تو وہ بیروزگاروں کی فوج کی کمان سنبھال لیتا ۔کراچی سے پشاور تک ہر چوک چوراہے پر اس کا پرہجوم استقبال ہوتا۔لیکن بظاہر وہ تمام لیڈرجو انقلاب کا نعرہ لگاتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 07 Jan 12

مارتے کیوں ہو

Click here to View Printed Statements

مارتے کیوںہو۔غریبوں کو کیوں مارتے ہو؟۔ ان بے آواز لوگوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔کون سی بغاوت کی ہے۔کب آپ کے گریبان چاک کئے ہیں۔انہیں بھوک ستاتی ہے تو رو لیتے ہیں۔آپ کو کبھی نہیں ستاتے۔مرنے پر تیار رہتے ہیں۔اجتماعی خودکشیاں کر لیتے ہیں۔ خودسوزیاں کرتے ہیں۔کسی اور ملک کے غرباءنے کبھی ایسا شریفانہ طرز عمل اختیار نہیں کیا۔ باقی دنیا کے غریب ایوانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں۔تخت و تاراج کو اچھالتے رہتے ہیں۔میرے وطن کے افلاک زدگان تو پتھر بھی ایک دوسرے کو مارتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 Jan 12

تحریک انصاف کی ناانصافیاں

Click here to View Printed Statements

میں عمران خان کا حامی تھا اب نہیں رہا۔عمران نے انقلاب کا نعرہ لگایا۔”چور چوروں کا احتساب نہیں کرسکتے“”روایتی سیاست اور گھسے پٹے سیاستدان اس ملک کی تقدیر کیا بدلیں گے“۔”تحریک انصاف بالکل نئی ٹیم لے کر آئے گی“۔” اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گے“ یہ سیاسی عہد و پیماں تھے جن کے سحر میں میرے جیسے بہت سے محب وطن اسیر ہوئے‘ عمران خان کی صورت میں ہمیں ایک مسیحا نظر آنے لگا۔ میں اور میرے ساتھیوں نے عمران کی ذات سے جڑی بہت سی منفی حقیقتوں‘کہانیوں اور تبصروں کو توجہ نہیں دی اور نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے تبدیلی کے اس نشان کو دل ودماغ میں سجا لیا۔مجھے ذاتی طور پر پہلا دھچکا اس وقت لگا جب عمران خان نے پیپلزپارٹی کی قیادت سے روٹھ کر آنے والے شاہ محمود قریشی کو نہ صرف یہ کہ پارٹی میں شامل کیا بلکہ انہیں وائس چیئرمین بھی بنا ڈالا۔شاہ محمود قریشی جاگیردار ہیں یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک گدی نشین ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 Dec 11

معافی سے لاشیں زندہ نہیں ہوتیں

Click here to View Printed Statements

جارحیت کا ارتکاب کرنے کے بعد اب امریکہ اور اس کے حواریوں کی خواہش ہے کہ زخمی پاکستان آہ و بکا کرنا بھی بند کردے۔پاکستان کی زبان بندی کیلئے ایک طرف امریکی امداد جاری رکھنے کی ”نوید“ سنائی جارہی ہے اور دوسری طرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو غیر محفوظ قرار دینے کے لئے واویلا شروع کردیا گیا ہے۔ مقصد یہ کہ ایسا پروپیگنڈہ کیا جائے جس سے پاکستان سہم جائے۔ دفاعی پوزیشن میں لاکر پھر امریکہ ہمارے ایٹم بم کے محفوظ ہونے کی ضمانت دے گا اور یوں پاکستانیوں کی ہمدردیاں حاصل کر لے گا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Dec 11

میمو کی معافی۔کبھی نہیں

Click here to View Printed Statements

سپریم کورٹ کے انیس رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ جناب نوازشریف سمیت متعدد درخواست گذاروں کی طرف سے میمو سکینڈل کی انکوائری کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت شروع کر رکھی ہے۔گوکہ سابق سفیر حسین حقانی نے عجلت میں استعفیٰ دے کر اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی اور حکومت نے قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کے ذریعے اس معاملے کی اپنے تئیں تحقیق کا بھی آغاز کر رکھا ہے لیکن اب یہ سکینڈل عدالتِ عظمیٰ کے سامنے ہے اور اس کیس کے دوران بڑے بڑے انکشافات ہونے والے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 03 Dec 11

سیاستدانوں کی بدکلامیاں

Click here to View Printed Statements

سکول میں پڑھایا جاتا تھا کہ پہلے تولوپھر بولو۔ ماسٹر جی اس محاورے کی تشریح اس طرح کرتے تھے کہ ”بچو اپنے منہ سے لفظ نکالنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لو کہ ان لفظوں کا مخاطب پر کیا اثر پڑے گا۔ اگر آپ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ الزام‘ بہتان‘شرارت اور شہوت پر مبنی ہیں تو پھر ان کو زبان سے باہر مت آنے دینا کیوں کہ ان کی ادائیگی سے تہذیب شرمندہ ہوگی‘خدا اور اس کے رسول ناراض ہوں گے۔“ یہ سبق ماضی میںکوئی اہمیت رکھتا تھا۔سخت کلامی‘بدزبانی اور توتکار کو غیر مہذب اورگنوار شخص کی پہچان قرار دیا جاتا تھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 30 Nov 11

عورت!کل بھی مظلوم تھی اور آج بھی

Click here to View Printed Statements

کہا جاتا ہے کہ دور جاہلیت میں عورت اللہ تعالیٰ کی مظلوم مخلوق تھی۔معاشرے میں اسے سخت حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔طرح طرح کے توہمات اس کی ذات کے ساتھ وابستہ کئے جاتے تھے۔گھروں میں باندیوں سے بدترسلوک اس کا مقدر تھاسوسائٹی میں رائے مشورے اور تنقید واحتساب کا حق اسے قطعاً نہ تھا۔ بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد نہ تھی۔وراثت میں بھی اس کا کوئی حصہ نہ تھا۔زندگی کے کسی شعبے میں بھی اس کی شہادت قابل قبول نہ تھی۔حد تو یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی عورت کو زندہ قبر میں گاڑھ دیا جاتا تھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Nov 11

میرے ملک کو ایتھوپیا نہ بناﺅ

Click here to View Printed Statements

پچکے گال‘پھولے پیٹ‘ زرد آنکھیں۔حدنگاہ تک پھیلی افلاس زدہ بستیاں‘مٹھی بھر سوکھے چاولوں کیلئے قطاروں میں لگے ننگے‘پیلے اور کالے انسان۔ پوری دنیا ایتھوپیا کے بھوکوں کا پیٹ بھرنے کی دعویدار لیکن بھوک ہر روز پھیلتی جارہی ہے۔قحط الرجال بھی قحط سالی بھی۔آنکھوں میں سہانے سپنوں کی جگہ ڈراﺅنے خواب۔سال ہا سال گزر جاتے ہیں پیٹ بھر کر کھانے کو معدے ترس گئے۔ہجرتوں کے مارے حسرتوں کے ستائے یہ استخوانی ڈھانچے ایڑیاں رگڑتے‘روزجیتے اور روزمرتے ہیں۔ ان کی حالت بدلی ہے نہ بدلے گی کہ ان کے اندر تبدیلی کے ہر خواہش مار دی گئی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Nov 11

ہر مسئلے کا علاج۔احتجاج احتجاج

Click here to View Printed Statement

بوڑھے پنشنر نے پنشن نہ ملنے کیخلاف احتجاجاً جان دے دی تو حکمرانوں کو پنشن دینے کاخیال آیا۔ وہ مفلوک الحال جو گلے میں پھندے اور منہ میں خشک روٹیاں لٹکائے ماتم کر رہے تھے اور ان کی کہیں شنوائی نہ تھی انہیں بینکوں کے باہر کرسیوں پر بٹھا کر پنشن کی رقم فراہم کردی گئی۔احتجاج کرنے والوں کو سبق ملا کہ اس نظام حکومت میں موت سے ہمکنار ہو کر ہی کوئی آواز ایوان اقتدار تک پہنچائی جاسکتی ہے۔سندھ کے 32سالہ نوجوان راجا خان رند نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے خودسوزی کی۔تنگدستی کیخلاف اس کا احتجاج خودسوزی پر ختم ہوا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Oct 11

ایرانی گیس کیوں نہیں

Click here to View Printed Statement

لومڑی مکار کیوں ہوتی ہے؟بظاہر تو وہ ایک خوبصورت‘سمارٹ اور پھرتیلا سا جانور ہے لیکن اس کی مکاری سے جنگل کا بادشاہ بھی پناہ مانگتا ہے۔مکاری اور عیاری امریکہ پر ختم ہے۔ہیلری کلنٹن اپنے لاﺅ لشکر سمیت پاکستان تشریف لائیں۔کبھی لہجہ سخت تھا کہیں پھول جھڑتے رہے۔چہرہ تنا ہوا بھی دکھائی دیا اور مسکراہٹیں بکھرتی بھی نظر آئیں۔ پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان کی فکرمندی‘ہمارے آرمی چیف کے جملوں کی جو گالی‘حملہ نہ کرنے کی یقین دہانیاں اور ”ساس“ والی میٹھی میٹھی نصیحتیں بھی سنائیں۔ہم سب نے سکھ کا سانس لیا سب”فتح مندی“ کے احساس سے سرشار ہوئے۔افغانستان پر ہمارا موقف امریکی موقف ٹھہرا۔ گویا امریکیوں نے ہمارے سامنے ”سرنڈر“ کردیا۔آخر اتنی مہربانیاں کیوں ہوئیں۔ نرم گوئی کے پیچھے کیا چھپا ہوا تھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Oct 11

واپڈ ا پھر ڈوب رہا ہے

Click here to View Printed Statement

اسے ڈوبنا ہے‘آج نہیں تو کل۔یہ ٹائیٹنک بچتا دکھائی نہیں دیتا۔ بے ساکھیوں کے سہارے اس کے خسارے پورے نہیں ہوتے۔ ہم اس سے پندرہ بیس برس قبل ہی نجات حاصل کرچکے ہوتے اگر میاں شہبازشریف اسے فوج کا مصنوعی سہارا مہیا نہ کرتے۔ کرپشن کی دیمک نے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے اس پورے نظام کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ بجلی کے ہر کھمبے کے ساتھ مالی بدعنوانی کا ایک میٹر لگا دیا گیا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Oct 11

صحافی اور صحت

Click here to View Printed Statement

اس میں کیا شک ہے کہ صحافی پیشہ خواتین وحضرات انتہائی دباﺅ کے تحت کام کرنے والے طبقات میں بلند مقام رکھتے ہیں۔حیات وممات کے اندازے لگانے والوں نے ثابت کیا ہے کہ باقی شعبوں کی نسبت صحافیوں کی عمریں کم ہوتی ہیں۔ وہ جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔پاکستان جیسے ممالک میں صحافت سے وابستہ افراد کی عمریں باقی ممالک کے صحافیوں سے کہیں کم ہیں۔ کم عمری یا جواں سالی کے دوران موت کے بڑے بڑے اسباب میں ایک سبب ڈپریشن ہے۔ذہنی دباﺅ ہی اعصابی تناﺅ کو جنم دیتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Oct 11

لانگ ٹرم پلاننگ

Click here to View Printed Statement

خوب جان لو کہ دنیاکی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اسے پیداہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشتکار خوش ہوگئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 13 Sep 11

ظلم….قرآن اور اَمن

Click here to View Printed Statements

اسلام تو آیا ہی امن قائم کرنے کے لئے ہے۔ جو شخص‘گروہ ‘ ملک اور قوم ظلم کرے وہ ظالم ہے اور قرآن اورا سلام میں ظالم کے لئے انتہائی بلیغ اصطلاح ”باطل“ استعمال کی گئی ہے۔”جاءالحق وذحق الباطل“ کی نویدسناتے وقت قرآن نے مسلمانوں کو یہی درس دیا ہے کہ تم باطل کیخلاف دل ‘زبان اور ہاتھ سے جہاد کرو اور اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہیں نصیب ہوجائے گی‘باطل بھاگ جائے گا‘ حق جیت جائے گا او ر امن قائم ہوجائے گا۔باطل قوتیں ہی ظالم قوتیں ہوتی ہیں۔غاصب اور قابض ۔ایسی سفاک قومیں جو دیگر کمزور قوموں پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ ان کے مال مویشی‘ان کی عزت و آبرو کو لوٹ لیتی ہیں۔ ان کے گھر بار چھین لیتی ہیں۔ ان پر یلغار کرتی اور بستیوں کی بستیاں آگ لگا کر خاکستر کر ڈالتی ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Aug 11

ایمان شکن مہنگائی

Click here to View Printed Statements

ماہ صیام میں روزہ داروں کیلئے آسانیاں پیدا کی جانی چاہیں۔لیکن پاکستان میں اسی ماہ مقدس کے اندر لوٹ مار کا وہ سلسلہ جاری ہوتا ہے کہ روزہ دار پناہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں‘الحذر! الحذر!کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔لوگ سوچتے رہتے ہیں کہ اے بار الٰہی رحمتوں کے اس مہینے میں ہم سے قصور کیا ہوا کہ کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے والی عمومی چیزیں بھی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔ہلال رمضان نمودار ہوا تو مبارکبادیںدیں‘”رمضان شریف مبارک ہو“۔متوسط گھرانے نے بجٹ بنایا۔ اور تمام تر احتیاطیں ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اب کی بار سحر و افطار کے اوقات میں ہرگز فضول خرچی نہیں کرنی۔ اہل خانہ سے طویل مشاورت کے بعد طے پایا کہ میٹھا شربت بند‘کولڈ ڈرنکس بند‘صرف لیموں والی نمکین شکنجوین استعمال کی جائے گی۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 13 Aug 11

مونس الٰہی گھبرانا نہیں

Dr Murtaza Mughal’s column (Moonis Elahi Ghabrana Nahin)

Which also mentions

Moonis Elahi, PML(Q), Mian Nawaz Sharif, Chaudhry Shujaaat Hussain, Majid Nizami

Click here to View Printed Statements

بالآخر میاں محمد نوازشریف نے اپنے اصولوں کو قربان کر ہی دیا۔مخالفین کہتے ہیں کہ ایم۔کیو۔ایم کی واحد خوبی یہ ہے کہ اس جماعت نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے اقتدار کی مضبوطی اور طوالت کیلئے برسوں اپنے کندھے پیش کئے رکھے۔یہ وہی جماعت ہے جسے سابق صدر اپنی”عوامی طاقت“ قرار دیتے تھے۔مجھے یہاں ایم۔کیو۔ایم کی کمزوریاں شمار کرنا مقصود نہیں۔حیرت میں ڈوبا ہوں کہ کس طرح میاں نوازشریف اور جناب الطاف حسین باہم شیروشکر ہوتے جارہے ہیں۔کون کس کو دھوکہ دے رہا ہے اس بارے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ۔ایک دوسرے کے ماضی کو بھول جانے کے عہدوپیماں باندھے جارہے ہیں۔رائے ونڈ اورنائن زیرو کے درمیان فاصلے مٹتے جارہے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Jul 11

ہم کوریا سے پیچھے کیوں

Click here to View Printed Statements

کبھی پاکستان کی ترقی کی رفتار دنیا بھر میں سب سے زیادہ تھی۔ 1960ءکے عشرے میں پاکستان کے ماہرین اقتصادیات نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ساﺅتھ کوریانے بغیر کسی جھجھک کے پاکستان کے اقتصادی ماڈل کی نقل تیار کی اور اپنے ملک کو پاکستانی قدموں پر قدم رکھ کر چلانا شروع کردیا۔متاثر ہونے کی بھی حد ہوتی ہے۔ سئیول شہر کوبھی کراچی کی طرز پر بسایا گیا ۔وہ جوہمیںماڈل سمجھ کر ہمارے پیچھے چلے تھے وہ آگے بڑھتے گئے اور ہم روز بروز پیچھے کی طرف سرکتے گئے۔ آج ہم کہاں اور ساﺅتھ کوریا کہاں کھڑا ہے! کوئی تقابل ہی نہیں کوئی موزانہ زیب نہیں دیتا۔آج ہماری ترقی کی رفتار2.2 فیصد پر آکر ایسے رکی گویابریکیں لگ گئیں۔ ہزار دھکے مارو لیکن زمین جنبد نہ جنبد گل محمد Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 01 Jul 11

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player