مضاربہ سکینڈل کاجھوٹ اور سچ

Click here to View Printed Statement

حکومت اپنے دکھوں کا مداوا نہیںکرپا رہی شہریوں کے دکھوں کا درماں کیسے کرے گی۔ڈبل شاہ سکینڈل کے بعد مفتیان کا مضاربہ سکینڈل سامنے آچکا ہے۔یہاں تو ہر طرف نسیان کے مریض دکھائی دیتے ہیں۔ماضی قریب کو بھول جاتے ہیں۔جن احباب نے مفتیان کو زیادہ منافع کے لئے بھاری رقوم فراہم کیں انہوں نے ڈبل شاہ کے انجام کو سامنے نہیں رکھا ورنہ وہ ایسی غلطی نہ کرتے۔چونکہ ہم بھول جانے کے عادی ہیں۔ اس لئے ایسے سکینڈل آئندہ بھی منظر عام پر آتے رہیں گے۔دوسری بڑی وجہ حد سے بڑھا ہوا لالچ بھی ہے۔ہمارے بینکوں نے منافع کی ایک شرح طے کر رکھی ہے۔انوسٹمنٹ پر اس سے ڈبل یا ٹرپل منافع کا تصور ممکن نہیں ہے لیکن جب کوئی شخص یا گروہ آپ کو بینک کی نسبت تین چار گنا زیادہ منافع دینے کی حامی بھرے تو طبعاً آپ اس کی طرف مائل ضرور ہوجائیں گے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Sep 13

”بجلی تو ملے گی نا؟”

Click here to View Printed Statement

نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ ہر وقت ہر شخص ایک ہی موضوع پر بحث کر رہا ہے۔کرم دین سے لیکرچیف جسٹس آف پاکستان تک اور ماسی بشیراں سے لے کر میاں محمد نوازشریف تک توانائی کے اس بحران کو حل کرنے کی تجاویز’پروگرام اور منصوبے پر بحث کر رہا ہے۔”اگر میاں نوازشریف نے لوڈشیڈنگ پر قابو پالیا تو اگلے پانچ سال حکومت کرسکیں گے ورنہ مڈٹرم الیکشن ناگزیر ہوجائیں گے”۔ ہارنے والی پارٹیاں برملا کہہ رہے ہیں کہ میاں برادران بجلی کہاں سے لائیں گے۔آٹھ دس ہزار میگاواٹ کی کمی کیسے پوری کریں گے۔ لہٰذا اپوزیشن پارٹیاں خم ٹھونک کر کھڑی ہیں۔جونہی اقتدار کی منتقلی مکمل ہوگی’جلسے جلوس شروع ہوجائیں گے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 Jun 13

قیادت کا فقدان

Click here to View Printed Statement

یہ بات کم و بیش اب ہر پاکستانی کی زبان پر ہے کہ یہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ گزشتہ چار ساڑھے چار برس میں یہ پروپیگنڈہ اب لوگوں کے اندر یقین بن کر اتر گیا ہے اور خواص اور عوام دونوں ہی اس سوچ کے حامی دکھائی دینے لگے ہیں کہ بلوچستان ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔کہا جارہا ہے کہ بلوچستان میں ہم نے بہت ظلم ڈھائے ہیں۔بلوچ کبھی بھی کسی کے ماتحت نہیں رہے۔پنجاب دو نہیں تین حصوں میں تقسیم ہوگا۔پنجاب تقسیم ہوا تو کراچی سندھ سے الگ ہو کر اپنی آزادانہ حیثیت کا اعلان کردے گا۔ صوبہ خیبرپختونخواہ کے نام تبدیل کرنے سے ہزارہ وال اپنا تشخص کھو بیٹھے ہیں اور اب وہ اپنا صوبہ مانگ رہے ہیں اگر ہزارہ الگ ہوگیا تو پھر پختون بلوچستان کے پختون علاقوں کے ساتھ ملکر افغانستان کے ساتھ الحاق کر لیں گے۔ جس ملک میں روزانہ بارہ ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہو وہ مالی طور پر بہت جلد ڈیفالٹ کرجائے گا۔اگر الیکشن ہو بھی گئے تو ملکی معاملات ابتری کی طرف ہی بڑھتے رہیں گے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Dec 12

جلتی لاشوں پر سیاسی بھنگڑے

Click here to View Printed Statements

پی پی پی سندھ کے معتوب رہنما ڈاکٹر ذوالفقار  مرزا نے قرآن کی قسم کھائی اور بار بار کہا کہ رحمن ملک سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ وزیر داخلہ  کی دروغ گوئی کے بارے میں بلوچ رہنمائوں نے بھی بار بار شکایتیں کی ہیں۔کراچی والوں نے بھی ناراضگی اور غصے کے عالم میں وزیر داخلہ کو کئی بار جھوٹا ثابت کیا ہے۔اے این پی کے رہنمائوں نے بھی ایسے ہی القابات سے نوازا ہے۔ خدا جانے جناب رحمن ملک کے پاس کونسا جن ہے کہ وہ ہر واقعہ’ ہر حادثہ کی جذیات پر نہ صرف یہ کہ مکمل طور پرعبور رکھتے ہیں بلکہ آنے والے حادثات اور خودکش حملوں کی پیشگی اطلاعات بھی فراہم کر دیتے ہیں۔ شائد یہی ”دروغ گوئی” کا فن انہیں جناب گیلانی اور زرداری کے مزید قریب کردیتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Apr 12

سیاچین بے چینی کیا ہے

Click here to View Printed Statements

یہ پہلی بار تو نہیں ہوا کہ افواج پاکستان پر ایسی آزمائش آئی ہو۔ دو ہزار پانچ کے زلزلے کے دوران ہمارے بہادر فوجیوں نے لازوال قربانی دی۔آفات ارضی وسماوی کے سامنے کون دم مار سکتا ہے۔ آپ فوجوں کی تاریخ پڑھیں’لاکھوں فوجی ہیضے سے مر گئے’ملیریا سے جتھے کے جھتے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ آندھیاں آئیں اور توپ وتفننگ تک اڑا لے گئیں’ بگولے آئے’آتش فشاں پھٹے’ سونامی ٹکرائے’ فوجی غیر فوجی سب کچھ بہہ گیا۔پہاڑ سرکے اور قافلوں کے قافلے دب گئے۔آخر ایسی کونسی انوکھی بات ہوئی ‘کونسا مافوق الفطرت سانحہ اور حادثہ ہوا کہ  دفاع وطن کے بنیادی ذمہ داری سے ہی فرار کی راہ ڈھونڈی جارہی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Apr 12

آزادی صحافت کی ضمانت

Click here to View Printed Statement

ایک نقطہ نگاہ یہ ہے کہ صحافی معاشرے کا عکس ہوتے ہیں۔ جس طرح کا معاشرہ ہوگا اسی طرح کا عکس ہمارے اخبارات اور ٹی وی سکرین پر دکھائی دے گا۔اخبارات اور ذرائع ابلاغ کا کام تنقید کرنا ہے اصلاح نہیں۔ اصلاح کے ادارے الگ سے موجود ہیں۔پاکستان میں آزادی صحافت کسی نے طشتری میں رکھ کر تحفے میں نہیں دی بلکہ اس کے لئے اخباری کارکنوں اور مالکان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب کسی کی مجال نہیں کہ وہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھ سکے۔صحافت آزاد ہوتی ہے اس کی کوئی نظریاتی‘قومی یا جغرافیائی سرحدیںنہیں ہوتیں۔اخبار نویس کاکام خبر لگانا ہے‘اخبار کا کام اسے شائع کرنا ہے ‘اگر گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کہاں سے؟۔صحافت بس صحافت ہوتی ہے‘زرد یا لال کی تفریق نہیں کی جانی چاہیے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 May 10

صوفیاءکا وارث

Click here to View Printed Statement

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے:
”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور باہم پھوٹ مت ڈالو اور تمہارے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو کہ تم آپس میں دشمن تھے پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ اور اب تم اس (اللہ تعالیٰ) کے فضل سے بھائی بھائی ہو گئے ہو۔“ سورہ العمران۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 18 Nov 06

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player