محسن پاکستان احسان فرمائیں

Click here to View Printed Statement

سیاسی پارٹیاں ابھی انہیں اپنے لئے کوئی خطرہ نہیں سمجھتیں۔ابھی حفظ مراتب اور وضع داری غالب ہے۔ڈاکٹر صاحب ہر محفل میں بڑی سیاسی پارٹیوں کے نظریاتی قلعوں پر اپنے فکری میزائل داغتے ہیں لیکن چونکہ نشانے خطا جارہے ہیں اور مسلمہ سیاسی قائدین کو ان پھلجھڑیوں سے کوئی خاص کوفت نہیں ہوتی اس لئے وہ ڈاکٹر صاحب کو بزرگی اور بڑائی کا فائدہ دے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ میں اس دن سے ڈرتا ہوں جب ڈاکٹر صاحب اپنی نوزائیدہ پارٹی کے کسی ٹکٹ ہولڈر کے جلسے میں جا کر پی پی پی’ ن لیگ’ ایم کیو ایم یا اے این پی کی قیادتوں کے خلاف بارود اگلیں گے اور جواب میں خدا جانے کتنے پتھر سہنے پڑ جائیں گے۔ تب تقدس کی چادر تار تار ہوجائے گی اور دنیا کہے گی کہ دیکھو پاکستانی سیاست دان محسن پاکستان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Mar 13

توانائی بحران اور کوئلے کے ذخائر ‘امکانات اور مشکلات

Click here to View Printed Statement

توانائی بحران کے حوالے سے اب کوئی دوسری رائے نہیں رہی۔ مشرف دور  کے آخری برسوں تک یہ سوچ جاری رہی کہ ملک میں بجلی اورگیس کی وافر مقدار موجود ہے اگر لائن لاسز اور چوری پر قابو پا لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم توانائی کی ضرورتوں کو پہلے سے موجود ذرائع کے ذریعے پورا کرسکتے ہیں۔ لیکن آج چار برس مزید گذرنے کے بعد یہ خوش فہمی بھی دور ہوگئی ہے۔بجلی چوروں کو لگام دینے کی بجائے آج کل ان کے ناز اٹھائے جارہے ہیں۔کراچی میں کنڈا سسٹم کوئی ختم نہیں کراسکتا۔ جنوبی پنجاب  کے بعض حصوں میں بھی بجلی چوری کا رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سندھ کے اکثر دیہی علاقوں میں سال میں ایک بار بجلی کا بل آتا ہے جو ہزار دو ہزار سے زیادہ نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے سرکاری ادارے’وزیراعظم ہائوس ‘ ایوان صدر سب بجلی کے بلوں کے نادہندہ ہیں۔بجلی کے صارفین کا چالیس فیصد حصہ باقی ماندہ ساٹھ فیصد کا بھی بل ادا کرتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 Jun 12

عمران خان کے حامیوں سے گذارش

Click here to View Printed Statement

مینارپاکستان کے سائے تلے نوجوانوں کے جم غفیر کی توہین کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔ جو سیاسی تجزیہ نگار اور پارٹی ترجمان اس تاریخی جلسے کی تعداد اور استعداد کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ خلق خدا کی آواز کو سننا ہی نہیں چاہتے۔ یہ ٹھیک کہ کسی ایک جلسہ سے انقلاب برپا نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف ہر حال میں جیت جائے گی لیکن یہ تو تسلیم کیا جانا ضروری ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 04 Nov 11

ہر مسئلے کا علاج۔احتجاج احتجاج

Click here to View Printed Statement

بوڑھے پنشنر نے پنشن نہ ملنے کیخلاف احتجاجاً جان دے دی تو حکمرانوں کو پنشن دینے کاخیال آیا۔ وہ مفلوک الحال جو گلے میں پھندے اور منہ میں خشک روٹیاں لٹکائے ماتم کر رہے تھے اور ان کی کہیں شنوائی نہ تھی انہیں بینکوں کے باہر کرسیوں پر بٹھا کر پنشن کی رقم فراہم کردی گئی۔احتجاج کرنے والوں کو سبق ملا کہ اس نظام حکومت میں موت سے ہمکنار ہو کر ہی کوئی آواز ایوان اقتدار تک پہنچائی جاسکتی ہے۔سندھ کے 32سالہ نوجوان راجا خان رند نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے خودسوزی کی۔تنگدستی کیخلاف اس کا احتجاج خودسوزی پر ختم ہوا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Oct 11

ایرانی گیس کیوں نہیں

Click here to View Printed Statement

لومڑی مکار کیوں ہوتی ہے؟بظاہر تو وہ ایک خوبصورت‘سمارٹ اور پھرتیلا سا جانور ہے لیکن اس کی مکاری سے جنگل کا بادشاہ بھی پناہ مانگتا ہے۔مکاری اور عیاری امریکہ پر ختم ہے۔ہیلری کلنٹن اپنے لاﺅ لشکر سمیت پاکستان تشریف لائیں۔کبھی لہجہ سخت تھا کہیں پھول جھڑتے رہے۔چہرہ تنا ہوا بھی دکھائی دیا اور مسکراہٹیں بکھرتی بھی نظر آئیں۔ پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان کی فکرمندی‘ہمارے آرمی چیف کے جملوں کی جو گالی‘حملہ نہ کرنے کی یقین دہانیاں اور ”ساس“ والی میٹھی میٹھی نصیحتیں بھی سنائیں۔ہم سب نے سکھ کا سانس لیا سب”فتح مندی“ کے احساس سے سرشار ہوئے۔افغانستان پر ہمارا موقف امریکی موقف ٹھہرا۔ گویا امریکیوں نے ہمارے سامنے ”سرنڈر“ کردیا۔آخر اتنی مہربانیاں کیوں ہوئیں۔ نرم گوئی کے پیچھے کیا چھپا ہوا تھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Oct 11

واپڈ ا پھر ڈوب رہا ہے

Click here to View Printed Statement

اسے ڈوبنا ہے‘آج نہیں تو کل۔یہ ٹائیٹنک بچتا دکھائی نہیں دیتا۔ بے ساکھیوں کے سہارے اس کے خسارے پورے نہیں ہوتے۔ ہم اس سے پندرہ بیس برس قبل ہی نجات حاصل کرچکے ہوتے اگر میاں شہبازشریف اسے فوج کا مصنوعی سہارا مہیا نہ کرتے۔ کرپشن کی دیمک نے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے اس پورے نظام کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ بجلی کے ہر کھمبے کے ساتھ مالی بدعنوانی کا ایک میٹر لگا دیا گیا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Oct 11

صحافی اور صحت

Click here to View Printed Statement

اس میں کیا شک ہے کہ صحافی پیشہ خواتین وحضرات انتہائی دباﺅ کے تحت کام کرنے والے طبقات میں بلند مقام رکھتے ہیں۔حیات وممات کے اندازے لگانے والوں نے ثابت کیا ہے کہ باقی شعبوں کی نسبت صحافیوں کی عمریں کم ہوتی ہیں۔ وہ جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔پاکستان جیسے ممالک میں صحافت سے وابستہ افراد کی عمریں باقی ممالک کے صحافیوں سے کہیں کم ہیں۔ کم عمری یا جواں سالی کے دوران موت کے بڑے بڑے اسباب میں ایک سبب ڈپریشن ہے۔ذہنی دباﺅ ہی اعصابی تناﺅ کو جنم دیتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Oct 11

لانگ ٹرم پلاننگ

Click here to View Printed Statement

خوب جان لو کہ دنیاکی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اسے پیداہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشتکار خوش ہوگئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 13 Sep 11

رمضان‘کراچی اور امن

Click here to View Printed Statements

جہاں روزانہ لاشیں گرتی ہوں‘خون بہتا ہو‘گولیاں سنسنا تی ہوں‘آگ بھڑکتی ہو اور آرزوئیں جلتی ہوں ‘وہاں کے رہنے والے کس ذہنی کرب سے گزرتے ہوں گے اس کا اندازہ لاہور اورا سلام آباد میں بیٹھنے والوں کو بمشکل ہی ہوگا۔مائیں اپنے بچوں کو امام ضامن باندھ کر باہر نکالتی ہیں کہ کہیں رقص کرتی موت ان کے لختِ جگر نور نظر کو اچک کر نہ لے جائے۔قاتل کے نزدیک کوئی تفریق نہیں۔عورت‘مرد‘بچہ‘بوڑھا‘مالک‘مزدور‘پٹھان‘مہاجر‘پنجابی‘ بنگالی سب گولی کے سامنے بے بس ۔کسی کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہی۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 04 Aug 11

ہم کوریا سے پیچھے کیوں

Click here to View Printed Statements

کبھی پاکستان کی ترقی کی رفتار دنیا بھر میں سب سے زیادہ تھی۔ 1960ءکے عشرے میں پاکستان کے ماہرین اقتصادیات نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ساﺅتھ کوریانے بغیر کسی جھجھک کے پاکستان کے اقتصادی ماڈل کی نقل تیار کی اور اپنے ملک کو پاکستانی قدموں پر قدم رکھ کر چلانا شروع کردیا۔متاثر ہونے کی بھی حد ہوتی ہے۔ سئیول شہر کوبھی کراچی کی طرز پر بسایا گیا ۔وہ جوہمیںماڈل سمجھ کر ہمارے پیچھے چلے تھے وہ آگے بڑھتے گئے اور ہم روز بروز پیچھے کی طرف سرکتے گئے۔ آج ہم کہاں اور ساﺅتھ کوریا کہاں کھڑا ہے! کوئی تقابل ہی نہیں کوئی موزانہ زیب نہیں دیتا۔آج ہماری ترقی کی رفتار2.2 فیصد پر آکر ایسے رکی گویابریکیں لگ گئیں۔ ہزار دھکے مارو لیکن زمین جنبد نہ جنبد گل محمد Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 01 Jul 11

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player