کرپشن کا قرآنی تصور

Click here to View Printed Statement

ہمارے والدین ”کرپشن” کے لفظ سے واقف نہیں تھے۔ قیام پاکستان کے بعد رشوت ستانی کی اصطلاع عام ہوئی تھی۔ بعض بیوروکریٹس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت بڑے رشوت خور ہیں۔ تقسیم کے وقت جھوٹے کلیم بنانے اور ان جعلی کاغذات کے عوض رشوت لے کر زمینیں اور جائیدادیں الاٹ کرنے والوں کا چرچا رہتا تھا۔ جب عدالتی نظام پھیل گیا تو بعض ججوں کے بارے میں بھی خبریں آنا شروع ہوئیں کہ فلاں جج رشوت خُور ہے۔ رشوت ستانی ایک ایسا الزام اور جُرم تھا کہ عام لوگ کسی راشی افسر کو دیکھ لیتے تو کُھلے عام بیزاری کا اظہار کرتے دکھائی دیتے تھے۔ بعض دفاتر کے اندر ”رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں” کی حدیث مبارکہ جلی حروف میں لکھی ہوئی تھی۔ رشوت خوری کیخلاف سماجی اور مذہبی جماعتیں مہمات بھی چلاتی تھیں۔ رشوت خور عہدیدار کے ساتھ کوئی معزز شہری اپنی بیٹی بیاھنے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ پولیس افسران کے خلاف رشوت کے مقدمات بننے شروع ہوئے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Aug 16

انفاق فی سبیل اللہ کی قابل تقلید مثال

Click here to View Printed Statement

انفاق فی سبیل اللہ سے مراد ضرورت مندوں‘ یتیموں اور بے سہارا لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو مدنظر رکھتے ہوئے مال خرچ کرنا ہے۔قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر مسلمانوں کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا ہے کہ جو مال تمہاری چند روزہ زندگی میں تمہیں نصیب ہوا ہے اور جسے تم چھوڑ کر جانے والے ہو اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرکے آخرت کا سامان تیار کرو۔سورة الحدید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے‘
”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاﺅ اور اس (مال و دولت) میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب(امین) بنایا ہے“۔
اللہ کی رضا کے لئے ضرورتمندوں کی ضروریات کو پوراکرنا اور اس کے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرنا انفاق فی سبیل اللہ کہلاتا ہے۔
خرچ کرنے کا انداز مختلف ہوسکتا ہے۔ ظاہری اور باطنی طور پر انفاق کرنے کا حکم ہےِ۔یہاں ایک باریک نکتہ سامنے آتا ہے کہ ظاہری طور پر انفاق کرنے یا انفاق کو ظاہر کرنے کی بھی کچھ شرائط ہیں۔آپ اگر ایک ہسپتال بنوا رہے ہیں تو یہ ظاہری انفاق ہے ۔اس سے کسی ضرورت مند کی عزت نفس مجروح ہونے کا اندیشہ نہیں ہے ۔ ایسے کسی فلاحی اور رفاعی پراجیکٹ کے حوالے سے اگر تشہیر کا پہلو نکل رہا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر کسی بیوہ یا یتیم کی مدد ہورہی ہے اور کسی طرح کا امدادی سامان تقسیم کرنا ہو تو پھر فوٹو سیشن بہت ہی معیوب لگتا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 May 16

اُنگلی اُٹھ گئی

Click here to View Printed Statement

میاں محمد نواز شریف کیا سوچ رہے ہوں گے۔شائد وہ یہ سوچ رہے ہوںکہ پاناما لیکس میں اُن کا نام نہیں ہے پھر وہ استعفیٰ کیوں دیں۔ سب سے بڑھ کر وہ یہ سوچ رہے ہوں کہ استعفیٰ کے حوالے سے اپوزیشن پارٹیوں کی ایک رائے نہیں ہے اس لئے کسی بہت بڑی احتجاجی تحریک کا امکان نہیں ہے۔ اُن کے حسین خیالوں میں یہ خیال بھی انگڑائیاں لیتا ہوگا کہ چین اور سعودی عرب جیسے طاقتور دوست اُن کی پشت پر ہیں اور” سی۔پیک منصوبہ“ اُن کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا اس لئے ان کی وزارت عظمیٰ پاکستان ہی نہیںبلکہ دیگر ممالک کی بھی مجبوری ہے۔وزیراعظم پاکستان یہ خوبصورت سوچ بھی سوچتے ہوں گے کہ پارلیمان میں اُن کی قوت ہے اور پیپلزپارٹی کی اپنی کرپشن میاں صاحب کے لئے بہت بڑا آسرا ہے۔ہزار سوچیں سوچتے ہوں گے لیکن آخر پر پھر سوچتے ہوںگے کہ اگر ”انگلی اُٹھ گئی“ تو وہ کیا کریں گے؟ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اسحاق ڈار‘خواجہ آصف ‘خواجہ سعد رفیق اور شہباز شریف سے ”اگر انگلی اٹھ گئی“ کے بعد کا منظر ڈسکس کر لیا ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Apr 16

عافیہ صدیقی کی واپسی۔ معاہدہ کر لیجئے

Click here to View Printed Statement

عافیہ صدیقی کی واپسی ممکن نہیں۔حکومت پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا کہ چونکہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ قیدیوں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں اس لئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان لانا ممکن نہیں ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے ہائیکورٹ کے جسٹس انوارالحق قریشی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی حوالگی کے لئے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور مئوقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان لانا ناممکن ہے۔عدالت نے سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔حکومتی مئوقف پاکستان کے محب وطن اور انصاف پسند حلقوں پر بجلی بن کر گرا ہے۔مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آکر پاکستان کی بیٹی عافیہ کو پاکستان واپس لانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Mar 16

آہ!بھارتی مسلمان

Click here to View Printed Statement

دل دہلا دینے والی تصویریں سامنے پڑی ہیں۔ گاندھی کے پیروکار اس قدر سنگدل ہوجائیں گے۔ یہ کوئی ہندو مسلم فسادات کی تصویر نہیں۔ ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق دو مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا بھیانک منظر ہے۔ تصویر میں دو نوجوان دکھائی دے رہے ہیں۔ اُن کے گلے میں کسے ہوئے پھندے ہیں۔ اُن کے لٹکتے ہوئے دھڑ ہیں۔آنکھیں باہر کو آگئی ہیں۔ وہ درختوں پر لٹکے ہوئے ہیں۔ ان کا اصلی جُرم یہ ہے کہ مسلمان ہیں۔ہندو انتہا پسندوں نے ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے گائے خریدی ہے۔ جھاڑ کھنڈ کی سرکار’ پولیس’ عدلیہ’ سماج سب کے سب ایک ہی طرح کی ذہنیت یعنی مودی ذہنیت کا شکار ہیں۔ کسی نے نہیں روکا’کوئی آگے نہیں آیا۔ کسی نے مسلمانوں کا مئوقف سننے کی زحمت نہیںکی۔مائیں روتی رہیں’ بہنیں منتیں کرتی رہیں’ بچے بلبلاتے رہے۔ لیکن ظالم اور سفاک ہندوئوں نے جنگلوں میں لے جا کر ان مسلمانوں کو شہید کردیا۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ ہر روز یہی سفاکیت ہے۔ بھارتی ادارے رپورٹیں دے چُکے ہیں کہ کس طرح بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Mar 16

یہ فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں

Click here to View Printed Statement

سعودی عرب اور ایران کے درمیان مخاصمت آج کا نہیں برسوں پُرانا معاملہ ہے۔ کبھی یہ مخالفت کم ہوجاتی ہے اور کبھی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔بدقسمتی سے آجکل دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف تابڑ توڑ سفارتی اور سیاسی حملے کر رہے ہیں۔ جب بھی سعودی عرب اور ایران آپس میں ناراض ہوتے ہیں یا ان کی باہمی چپقلش خطرے کے نشان سے آگے بڑھتی ہے مسلم اُمہ کے ماتھے پر خوف کے پسینے تیرنے لگتے ہیں۔ چونکہ مسلم ممالک کے اندر شیعہ سنی جھگڑے ہوتے آئے ہیں اس لئے عام مسلمان ڈرنا شروع کر دیتا ہے کہ کہیں دو ملکوں اور حکومتوں کی باہمی رنجش مسلکی تفریق میں تبدیل نہ ہوجائے۔ باقی ممالک کا تو علم نہیں لیکن پاکستانی بہت سہمے ہوئے ہیں۔ اسی خوف کا اظہار حزب اختلاف کے تمام رہنماﺅں نے کیا ہے‘ اسی طرف جناب عمران خان نے توجہ دلائی ہے اور یہی خوف حکومت کو کسی واضح لائحہ عمل پر چلنے نہیں دے رہا۔ ہمارے ہاں یہ تصور پختہ ہوگیا ہے کہ ایران اہل تشیع کا نمائندہ ملک ہے اور سعودی عرب اہل سنت کا محافظ ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Jan 16

صفت ِمطلوب۔مخلوق ِ خدا سے پیار

Click here to View Printed Statement

کائنات کا دولہا انسان اللہ پروردگار عالم کی تخلیق کا بہترین شاہکار ہے۔ رب کائنات نے اسے نعمتوں کے اتنے انبار عطا فرما دیے کہ جنہیں دیکھ کر ذرا سا غور کرنے پر ہمیں اللہ نظر آنے لگتا ہے۔ اللہ خود اپنے کلام میں فرماتا ہے”تمہارے نفوس میں میری نشانیاں موجود ہیں تو کیا تم ان پر غور نہیں کرتے“۔
ہم اپنی ذات سے ذرا باہر نظر دوڑائیں تو سورج‘ چاند‘ ہوا‘ پانی ‘ستارے آسمان‘زمین اور جانور سب کے سب قدرت کی نشانیاں ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت انسان کی ایسے خدمت میں جتے ہوئے ہیں جیسے ان کا ہم سے بہت بڑا کام پھنسا ہوا ہے۔ ان پر نگاہ دوڑا کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سورج چمکتا‘چاند دمکتا‘ستار روشن‘ سمندر موجزن‘ ہوائیں چلتی‘ پھول کھلتے‘پھل پکتے اور جانور سواری و غذا کے لئے پیدا ہی ہمارے لئے کئے گئے ہیں۔ احساس کچھ یوں ہوتا ہے کہ جیسے ہم آقا ہیں اور یہ ہمارے خدمت گزار حالانکہ اصل صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان سب سے پوچھیے کہ اگر انسان نہ ہو تو تمہاری صحت پر کیا اثر پڑے گا تو یہ سب کہیں گے ہماری بلا سے۔ مگر انسان ان کے بغیر ایک پل بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔
غرض ساری کائنات اپنا کام مالک حقیقی کی مرضی کے عین مطابق کر رہی ہے مگر انسان ہے کہ ظالم بھولا ہوا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 Nov 15

ہلال احمر کے چاند اور ستارے

Click here to View Printed Statement

سچے رضاکار کو کسی تعریف یا تحسین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ رضاکارانہ جذبہ انسانی تسکین اور روحانی تشفی کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے۔ طمانیت قلب ہی سب سے بڑا صلہ ہوتاہے۔ ایک مسلمان خلق خدا کے کاموں میں اس لئے حصہ لیتا ہے تاکہ اللہ پاک کی رضا مندی اور قربت حاصل کرسکے۔ جہاں تک کسی فرد کی رضاکارانہ سرگرمیوں کے حوالے سے سماجی اور سماجی تنظیموں کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے لئے رضاکاروں کی عزت افزائی‘ تصدیق اور توثیق ضروری ہوتی ہے۔
پاکستان میں انسانی خدمت کے درجنوں ادارے موجود ہیں۔ سرکاری ‘ نیم سرکاری اورغیر سرکاری سب کی اپنی اپنی خدمات ہیں۔دُکھ اور درد کی گھڑی میں ہمدرد ی کے دو بول بھی بہت وقعت رکھتے ہیں۔ ہلال احمر پاکستان ان سب اداروں سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔
ریڈکریسنٹ یعنی ہلال احمر ایک طرف قومی سطح کا ادارہ ہے تو دوسری طرف یہ ریڈکراس /ریڈکریسنٹ موومنٹ کا حصہ بھی ہے۔ ایک سو نوے ممالک میں ایسے قومی ادارے موجود ہیں۔ انسانی خدمت کی اس تحریک کا ہیڈکوارٹر جنیوا میں ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس/ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے ملاپ سے یہ ایک تحریک بنتی ہے ۔ کسی ممبر مُلک میں کوئی قدرتی آفت آئے‘ دہشت گردی ہو یا جنگیں ہوں اس تحریک میں شامل تمام ادارے اور سوسائٹیاں مدد کو پہنچتی ہیں۔ لیکن اصل امتحان اس ملک کی ریڈکراس یا ریڈکریسنٹ کا ہوتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 Oct 15

کراچی میں لاہور کی خوشبو

Click here to View Printed Statement

شفیق اور ملنسار’معاملہ فہم اور زیرک’ا ہلیت اور ایمانداری چہرے سے عیاں ۔ دھیمے لہجے میں گفتگو کے ماہر۔مخاطب پر بوجھ نہ اُدھورے جُملے۔ بناوٹ اور تصّنع سے دُور۔پہلی ملاقات میں ہی شخصیت کا اسیر ہوجانے کو جی چاہتا ہے۔ میں شخصیت پرستی سے کوسوں دُور رہنے والا آدمی ہوں۔ احباب جانتے ہیں کہ میرا قلم ریاکاری کی بیماری سے ہنوز بچا ہوا ہے۔ شجاعت علی بیگ سے جو لوگ ملے ہیں وہ میری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ بیگ صاحب نے جس شعبے میں بھی قدم رکھا اس شعبے کو معزز کردیا۔ پاکستان کے سینئر ترین بینکار ہیں۔ سندھ حکومت میں وزارت ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے وزیر رہے۔ انہوں نے پورے سندھ کے تعلیمی اداروں کا دورہ کیا’ اور تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ایک بڑی ہی معلوماتی اور کارآمد رپورٹ مرتب کی۔ یہ رپورٹ گورنر سندھ اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو بھجوائی گئی۔ اس رپورٹ پر عملدرآمد تو نہ ہوسکا لیکن یہ حکومتی ریکارڈ کا حصہ بن گئی۔ دو برس قبل جب مملکت پاکستان کی طرف سے نمایاں شخصیات کو تمغات سے نوازنے کا مرحلہ آیا تو ایجوکیشن منسٹری نے اس رپورٹ کا حوالہ دیا۔ رپورٹ از سر نو دیکھی گئی اور اسے اس قابل سمجھا گیا کہ اس کے خالق کو ستارہ امتیاز سے نوازا جائے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Oct 15

غم میں ڈوبی ہوئی عید

Click here to View Printed Statement

پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ یہ جنگ ہم پر مسلط کردی گئی ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ ضیاء الحق دور میں غلط خارجی پالیسیوں کے سبب ہم نے دہشت گردی کا راستہ کھولا اور پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کا ساتھ دے کر اس عفریت کو مکمل طور پر اپنے گلے ڈال لیا۔ آج کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکہ’ روس اور دیگر طاقتیں سکون اور امن کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں لیکن یہ پاکستان ‘ہمارا پاکستان ایک ایسی جنگ میں مبتلا ہوچکا ہے جس کے ختم ہونے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ سولہ دسمبر 2014ء کو اے پی ایس پشاور میں دہشت گردوں نے بربریت کی انتہا کردی تھی اور آٹھ ماہ بعد بڈا بیر ایئربیس پر نمازیوں کو خون میں نہلا کر انہوںنے ایک بار پھر اے پی ایس کی خونی یادوں کو تازہ کردیا ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 24 Sep 15

ناکے اور ڈاکے

Click here to View Printed Statement

رینجرز کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بڑے بڑے ڈاکوئوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے اور اگر تفتیش اور تحقیق میں مار نہ کھا گئے تو عدالتوں کے ذریعے عبرتناک سزائوں کی نوید ہے۔ سفید پوش ڈاکوئوں کو پکڑنا مشکل کام ہے۔ اس کے لئے آپ ناکہ نہیں لگا سکتے’ ریڈ نہیں کرسکتے’پولیس مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی رعب داب میں لپٹے اور عزت مآب کی قلغیاں سجائے ان قومی ڈاکوئوں کی تعداد بھی بہت ہے اور ان کے بنتے ٹوٹتے اتحاد وفاقی اداروں کو بعض اوقات بے بس کر دیتے ہیں۔ لیکن سپہ سالار اعظم جناب جنرل راحیل شریف کی کمٹمنٹ پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے کہ وہ اس مشکل ترین مہم میں مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ہماری دلی دُعا ہے کہ وہ خوشامدیوں سے بچ بچا کر قومی بقاء کے اس صالح عمل کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں اور وارداتیوں کی ریشہ دوانبوں سے محفوظ رہیں۔
میں معروف اور دیکھے بھالے ڈاکوئوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔اخبارات کے اندر کرائم کارنرز ایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام اور پرامن شہریوں کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹنے والے ڈاکو کس قدر نڈر اور سفاک ہیں۔ رات اڑھائی بجے کے لگ بھگ ٹی وی چینلز پر متواتر ٹکّر اور تازہ ترین خبریں چل رہی ہوتی ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Sep 15

یہ سکول نہیں کلب ہیں

Click here to View Printed Statement

بھاری فیسیں وصول کرنے اور آئے روز ان فیسوں میں اضافہ کرتے جانے والے سکولوں کے خلاف بچوں کے والدین نے آجکل آہ و بکا شروع کر رکھی ہے۔ حکومت نے ان ”مجبور” والدین کی اشک شوئی کے لئے کراچی’ لاہور اور اسلام آباد میں واقع ان مادر پدر آزاد سکولوں کی انتظامیہ سے مذاکرات کے نام پر چائے پانی کا اہتمام کیا ہے اور خوشخبری دی ہے کہ فیسوں میں کیا گیااچانک اضافہ واپس لے لیا جائے گا۔
میں خود بھی ایک نظریاتی سکول چلاتا ہوں اور جانتا ہوں کہ پانچ سو سے آٹھ سو روپے فیس لے کر سکول کو بہترین طریقے سے چلایا جاسکتا ہے۔میں جب پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں کے بارے میں پڑھتا اور سنتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ سکولوں کی مختلف کیٹگیریز ہیںِ۔ایسے سکول بھی موجود ہیں جو اس غریب مُلک میں ڈالر کرنسی میں فیس وصول کرتے ہیں۔ یہ تو قابل فہم ہے کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ بھاری بھر کم تنخواہوں کے باوجود اساتذہ پڑھانے کے علاوہ ہر کام کرتے ہیں ۔فکر مند والدین اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لئے مجبوراً پرائیویٹ سکولوں کی فیس ادا کرتے ہیں ۔لیکن دس دس بیس بیس ہزار ماہانہ فیس ادا کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسے والدین کی تشویش ناقابل فہم ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Sep 15

علم و ہنر کا گہوارہ…گوجرانوالہ

Click here to View Printed Statement

بدلتے سماجی اور معاشی تقاضوں کی بدولت اب شہروں کی شناخت بھی تبدیل ہورہی ہے۔ گوجرانوالہ پہلوانوں کے شہر کے طور پر مشہور تھا لیکن اب اس شہرت میں تعلیمی اداروں نے بھی اپنا حصہ ڈالنا شروع کردیا ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس نے تعارف کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میڈیکل کالج نے تعلیمی فضاء ہی تبدیل کردی ہے۔ طالبات کے کالجز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور استعداد سے ماحول میں علمی خوشبو رچ بس گئی ہے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے تو دوسری طرف والدین اور طلباء و طالبات کی سہولت کے لئے نت نئے تعلیمی ادارے کھولے جارہے ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب گوجرانوالہ کو بھی کالجوں کا شہر قرار دیا جاسکے گا۔
شہر کے تعلیمی تعارف کا سہرا وہاں سے منتخب ہونے والے چند ممبران صوبائی و قومی اسمبلی کے سر جاتا ہے ۔ ان محدودے چند افراد کا ر نے واقعی عوامی نمائندگی کا حق ادا کردیا ہے ۔ لیکن یہ ناانصافی ہوگی اگر پنجاب کے علم دوست وزیر اعلیٰ شہبازشریف کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ عوامی سہولیات کی فراہمی اور اجتماعی سماجی کاموں کے لئے میاں صاحب صوبہ کے عوامی نمائندگان کو اداروں کے قیام پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔
جناب عبدالرئوف مغل گوجرانوالہ سے ایم۔پی۔اے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلقے میں فروغ تعلیم کے لیے انتھک کام کیا ہے ۔ حال ہی میں بچیوں کے لئے ایک عظیم الشان کالج بنوایا ہے۔ پانچ ستمبر کو اس کالج کی افتتاحی تقریب میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Sep 15

ہلال احمر فورم اور محسنین پاکستان

Click here to View Printed Statement

ڈاکٹر سعید الٰہی رجل العمل ہیں۔ عمل کے آدمی ہیں۔ وہ جو سوچتے ہیں کر گزرتے ہیں ۔اور چونکہ موروثی طور پر پاکستانیت سے جڑے ہوئے ہیں اس لئے ان کی سوچ پاکستان سے باہر جاتی نہیں ہے۔ ان سے جو ایک بار ملتا ہے دوبارہ ملنے کی آرزو پالتا رہتا ہےِ۔ بناوٹ سے کوسوں دور ہیں۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور وہ زندگی کے ہر لمحے میں ملک کے لئے کچھ کر نا چاہتے ہیں۔ منصوبے اور تصّورات ہاتھ باندھے حاضر رہتے ہیں۔ عام آدمی ایک وقت میں کسی ایک اشو کو سُلجھا رہا ہوتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کے پاس ایک نہیں کئی دماغ ہیں۔ وہ بیک وقت درجنوں محاذوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ادھر مسئلہ پیدا ہوا اُدھر کھٹاکھٹ اس کے دو تین حل سامنے آگئے۔ان کے دفتر میں مغل دربار کا سا ماحول ہوتا ہے۔ کچھ نہ کچھ نیا ہورہا ہوتا ہے ۔ بیگ راج جیسے کئی رتن قلم کاغذ لئے ہدایات لے رہے ہوتے ہیں ۔ سیاست پر تجزیہ چل رہا ہے ‘ کسی دوست کی سفارش ہورہی ہے’ ٹی وی پروگرام ریکارڈ ہور ہا ہے’ سیمینار کی تیاری ہورہی ہے’گھریلو معاملات بھی طے ہو رہے ہیں۔ ملاقاتوں کا ایک سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جب سے ہلال احمر کے چیئرمین بنے ہیں سٹاف کی دوڑیں لگی رہتی ہیں ۔ افسر شاہی معدوم ہوگئی ہے۔ کام ‘کام اور بس کام کا منظر دیکھنا ہو تو اس انتھک مسیحا کے ساتھ ہو لیجئے۔ آپ جسمانی اور دماغی طور پر تھک جائیں گے لیکن ڈاکٹر سعید الٰہی کو ہشاش بشاش پائیں گے۔ وہ کم خور ہیں۔ بہت کم سوتے ہیں۔ کام ہی ان کی ”انجوائے منٹ” ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Sep 15

کراچی۔عوام کو ساتھ ملانا ہوگا

Click here to View Printed Statement

ایک سال پہلے اور آج کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اِکا دُکا واقعات کے باوجود منی پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی کارروائیاں بھی تھم چکی ہیں۔ اور بھتہ خوری کی لعنت سے بھی بڑی حد تک چھٹکارا مل چکا ہے۔ میں ہر ماہ کراچی آتا ہوں اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے کاروباری حلقوں میں گھومتا ہوں۔لوگوں سے مفصل گفتگو ہوتی ہے۔ اب یہ نہیں ہوتا کہ ادھر چائے کا کپ ہاتھ میں ہو اور اُدھر سے خبر آئے کہ شٹر بند کردو’ جلوس آرہا ہے۔ یہ بھی اب خال خال ہی دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی حادثہ یا قتل یا سیاسی اشو پر توڑ پھوڑ ہو یا سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگائی جارہی ہو۔ تاجر برادری کے اندر بھی اعتماد بحال ہورہا ہے۔ ان تمام مثبت پہلوئوں کے برعکس ایک انجانا سا خوف موجود ہے۔ کب تک یہاں رینجرزرہیں گے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 31 Aug 15

جنرل حمید گُل کا مشن جاری رہے گا

Click here to View Printed Statement

شخصیات بہت اہم ہوتی ہیں۔افراد ہی قوموں کے مقدر سنوارتے اور بگاڑتے ہیں۔ فرد کو ملت کے مقدر کا ستارہ کہا گیا ہے۔رجال عظیم کسی ملت کے دامن میں سجے ہوئے وہ ہیرے اور جواہرات ہوتے ہیں جن کی تعداد سے قوموں کی توانائی کا اندازہ ہوتا ہے۔قحط الرجال کا مطلب ہی یہی ہے کہ قوم میں رہبری کے منصب پر فائز ہستیاں دُنیا میں نہ رہیں۔ مصلحین سے تہی دامن اقوام بے راہ روی اور گمراہی کا شکار ہوجاتی ہیں۔
قیام پاکستان سے قبل عظیم شخصیات کی ایک تسبیح موجود تھی۔دانے بکھرتے گئے اور قائداعظم کی جیب میں کھوٹے سکّے بچ گئے تھے۔ جو اصلی لوگ تھے وہ اُفتاد زمانہ کا شکار ہوگئے۔ گزشتہ ستر سالہ تاریخ میں ہمیں افراد کار دکھائی تو دیتے ہیں لیکن ان کی تعداد محض آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جنرل حمید گل مرحوم و مغفور ان محدوے چند لوگوں میں شامل ہیں جن کے وجود سے قوم کے اندر اُمید اور یقین کی شمعیں ٹمٹاتی رہی ہیں۔ جنرل صاحب اُن پاکستانیوں کے لئے ایک نفسیاتی سہارا تھے جو خودی اور خوداری کے اوصاف سے لیس ہو کر ملّی تعمیروترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کا مطالعہ زیادہ مفید ہے کیونکہ وہ اپنی سوچ اور فکر کے اعتبار سے مکمل طور پر آزاد تھے۔ عہدے کے بندھن یا کسی سرکاری حیثیت کی نزاکتوں سے مبّرا جنرل حمید گل کا کردار روشن بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Aug 15

اقتصادی راہداری۔متبادل شاہ رگ

Click here to View Printed Statement

آرمی چیف نے بلاکم وکاست واضح کردیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہ داری ہر حال میں مکمل ہوگی۔ جنرل راحیل شریف نے بلوچستان کے دورے کے دوران پاکستان کے دشمنوں کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان اس راہ داری کے مخالفین اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کے دشمنوں کو پوری طرح پہچانتا ہے۔ سپہ سالار کے اس پُراعتمادلہجے کے بعد افواج پاکستان اور سول حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے یک نگاہی کا تاثر مضبوط ہوگیا ہے۔آرمی چیف کے اس عزم کے ساتھ ہی کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی آئی ہے۔میاں محمد نوازشریف نے پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں مسلم لیگی ارکان اسمبلی اور وزراء و مشیران کے اہم ترین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپہ سالار کی بات کو دہرایا ہے۔ انہوںنے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو ”ڈی سیٹ” کرنے کے مطالبے کو غیر ضروری اور وقت کا ضیاع قرا ر دیا ہے Continue reading »

Posted by / 29 Jul 15

شیخ الاسلام کا ” امن نصاب’

Click here to View Printed Statement

دہشت گردی اب کسی ایک مُلک یا قوم کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ ایک بین الاقوامی اشو بن چُکا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے عفریت سے بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ افواج پاکستان کو دہشت گردوں کے خاتمے کا جو ٹاسک دیا گیا تھا وہ بڑی حد تک پورا ہوچکا ہے۔ فوجی نوعیت کی فتوحات قابل ذکر ہیں۔ضرب عضب کے تین اہداف مقرر کئے گئے تھے۔پہلا ہدف ان دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کے ٹھکانے ختم کرنے تھے جو اعلانیہ طور پر ریاست اور ملک کے خلاف برسرپیکار تھے۔ الحمد اللہ ہماری عسکری قوت نے ”ناقابل شکست ” سمجھے جانے والے ان گروہوں کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہ بلوچستان کے علیحدگی پسند لشکر تھے یا اسلام کا نام استعمال کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے دونوں قسم کے گروہ اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں۔ جو چند بچے ہیں وہ بھی فرار کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ہمارے بہادر فوجی ان کی آخری پناہ گاہوں تک جاپہنچے ہیں۔دوسرا ہدف فرقہ وارانہ تنظیموں کی وارداتوں پر قابو پانا تھا۔مقام شکر ہے کہ ان کے وجود کو بھی نیست و نابود کردیا گیا ہے۔ اب ان کے اندر ہتھیار اٹھانے کی ہمت نہیں رہی اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو مضبوط گرفت میں لیا جاچُکا ہے۔ مُلک میں ٹارگٹ کلنک کے اکا دُکا واقعات تو ہوتے ہیں لیکن ایسی انتہا پسند تنظیموں کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیاہے۔ تیسرا اور اہم ترین ہدف دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور معاون لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا تھا اس حوالے سے کراچی میں جو آپریشن ہورہا ہے اس کے ذریعے بڑے بڑے نامی گرامی لوگوں کو پکڑا جا چُکا ہے۔ چونکہ کرپشن انڈسٹری کے ذریعے ہی ان شدت پسند گروہوں کو مالی مدد فراہم کی جاتی تھی اس لئے مالی بدعنوانی کے ذرائع پر آہنی ہاتھ ڈالا گیا ہے ۔ قوم کو یقین ہے کہ کراچی میں آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر ہی ختم ہوگا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Jul 15

مودی کا پلہ کیوں بھاری رہا

Click here to View Printed Statement

ایک اخبار نے لکھا ہے کہ روس میں پاک بھارت وزرء اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھارت کے موقف کو نمایاں کوریج ملی کیونکہ بھارتی میڈیا وہاں پر موجود تھا جب کہ پاکستانی وفد کے ہمراہ پاکستانی میڈیا کو نہیں لے جایا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی سے پاکستان کے حق میں فضاء تبدیل ہوجاتی اور جو تصویریں اور فوٹیج بنی ہے اس کے مقابلے میں بھی چند تصاویر چل جاتیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ تھا ہی نہیں۔ ہمارے انکل نسیم انور بیگ (جنت نصیب) فرماتے تھے کہ معاشی آزادی کے بغیر ہر آزادی ادھوری رہتی ہے۔ پاکستان معاشی طور پر آزاد نہیں تو وہ خارجی سطح پر باعزت کیسے ہوسکتا ہے۔ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کا انگ انگ قرضوں میں جکڑا ہوا ہے بلکہ پاکستان کا ہر سال کا بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہوتا ہے اور ہمیں اپنے معاملات ریاست چلانے ‘تنخواہیں دینے اور وزیراعظم ہائوس اور ایوان صدر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے بھی قرض لینا پرتا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Jul 15

تعلیم سب کیلئے کب ہوگی

Click here to View Printed Statement

وزیراعظم پاکستان کی طرف سے بیرونی اخبارات میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں میاں صاحب نے ملکی ترقی کے لئے تعلیم کو بنیاد قرار دیا ہے لیکن عملاً ان کی حکومت تعلیم کے لئے کیا کر رہی ہے اس کا اندازہ ممتاز محقق ا
ور ماہر سیاسیات جناب اکمل سومرو کے حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مضمون سے ہوتا ہے ۔ چند اقتباسات پیش خدمت ہیں”محکمہ اسکولز کی بیوروکریسی نے وزیرِ اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے ساتھ جو چالاکی کی اور جس طرح دروغ گوئی کے ساتھ کام لیا ہے وہ حیران کن ہے۔ جون میں پنجاب اسمبلی نے جو تعلیمی بجٹ منظور کیا ہے اس کی تفصیلات سے خود وزیرِ تعلیم بھی آشنا نہیں ہیں۔ اگروزیر تعلیم کی مرضی سے بجٹ بنا ہوتا یا وہ آگاہ ہوتے تو ذرا بیوروکریسی سے یہ سوال پوچھتے کہ پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب کی مہم نئے سرکاری اسکولز کھولے بغیر کیسے کامیاب ہوگی؟پنجاب میں 40 لاکھ مزید بچوں کو اسکولوں میں لانے کا ہدف ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Jul 15

اچھی اولاد ہی اچھا نصیب ہے

Click here to View Printed Statement

ہم اکثر فیس بک پر دیکھتے ہیں کہ دوست احباب اپنے نومولود بچے بچیوں کی تصاویر لگا دیتے ہیں۔ کمنٹس میں ہم پڑھتے ہیں کہ ہر کوئی بچے کی صحت’درازی عمر اور اچھے نصیب کی دعا کر رہا ہوتا ہے۔عموماً یہ لکھا ہوتا ہے کہ ”خدا زندگی دے’خدا نصیب اچھے کرے”۔ اولاد بذات خود ایک انعام ہے۔ اللہ پاک نے اولاد کو میٹھے میوے سے تشبیہہ دی ہے۔ بیٹوں کے حوالے سے ہم بہت متفکر ّ رہتے ہیں۔ہمیں فکر ہوتی ہے کہ یہ بڑے ہو کر کامیاب انسان بنیں۔خوب دولت اور ناموری کمائیں۔ ایک بڑا حلقہ ابھی تک بیٹیوں کو بوجھ سمجھتا ہے اور شائد غربت’ جہیز اور عدم تحفظ کے سبب بہت سے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹیوں کے معاملے میں حد سے زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ اور آئے دن کے سماجی حادثوں کو دیکھ کر بیٹی کے والدین ایک ہی دعا کرتے ہیں کہ ”یااللہ میری بچی کے نصیب اچھے ہوں”۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Jul 15

تحقیقات اور انتظار

Click here to View Printed Statement

بی بی سی کی رپورٹ آنے کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ وزارت داخلہ حرکت میں آئے گی اور ایم کیو ایم کے متحرک رہنمائوں کے گھروں پر چھاپے پڑیں گے’ دفاتر سیل ہوں گے اور الطاف حسین صاحب کو برطانیہ سے طلب کیا جائے گا۔ ”ایگزیکٹ” کے معاملے میں چوہدری نثار علی خان نے جو سرعت دکھائی تھی’ اس سے یہی توقع تھی ۔ نیو یارک ٹائمز اور بی بی سی کا” تقدس” تقریباً ایک جیسا ہے تو ردعمل بھی برابر کا ہونا چاہیے۔ لیکن چوہدری صاحب اس کے برخلاف بارہ گھنٹے تک خاموش رہے ‘ وزیر دفاع نے بین السطور گفتگو کی اور قومی اسمبلی میں طعنہ دیا کہ ایم ۔ کیو ۔ ایم کی ”لوڈشیڈنگ ” ہونے والی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو کہیں سے فون آیا ہوگا انہوں نے چوہدری نثار کو بی بی سی کی رپورٹ کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چوہدری صاحب نے تحقیقات کے اس کام کو طول دینے کے لئے برطانیہ سے معلومات حاصل کرنے کی راہ ڈھونڈی ہے۔ خط جائے گا’ کب جائے گا’ پھر جواب آئے گا۔بی بی سی والے حکومت پاکستان کو ثبوت فراہم کریں گے یا ٹال دیں گے۔ ابلتا پانی ہے اور اس میں ٹھنڈی مدھانی ہے۔ وزارت داخلہ اسے گھماتی رہے گی۔ہلکا پُھلکا شور اُٹھے گا اور پھر میڈیا کو کوئی بڑی خبر مل جائے گی۔ جس طرح ایم۔ کیو۔ ایم کے خلاف بی بی سی کی رپورٹ نے ملک میں جاری لوڈشیڈنگ کے سبب جاری حملوں سے مسلم لیگ (ن) کو نجات دلائی ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Jul 15

دہشت گردی کیخلاف جنگ اور ہماری ذمہ داریاں

Click here to View Printed Statement

ضرب عضب پوری قوت کیساتھ جاری ہے ۔ نتائج بھی بڑی حد تک مثبت قرار دیئے جاسکتے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ دہشت گرد اب میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں ۔ وہ انتہائی مایوسی کی حالت میں بچوں’ عورتوں اور غیرمتحارب کمیونٹی پر حملہ کر رہے ہیں۔ ان کا بچ نکلنا اب محال دکھائی دے رہا ہے۔دہشت گردوں کیخلاف یہ فتوحات خالصتاً عسکری نوعیت کی ہیں۔ہمارے بہادر عساکر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر قومی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔آج پوری قوم اپنی مسلح افواج’ آئی ایس آئی’ رینجرز اور پولیس کی قربانیوں کو دل و جان سے تسلیم کرتی ہے اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں افواج پاکستان کی حکمت عملی’ بہادری اور جوانمردی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 May 15

دن کو کام …رات کو آرام

Click here to View Printed Statement

ضد کا کوئی علاج نہیں۔محض احتجاجی سیاست کی بُنیاد پر قد بڑھانے ہوں تو یہ مُلک اس طرز سیاست کے لئے بہت ہی زرخیز ہے۔لیکن اگر واقعتا مقصد کاروباری ترقی اور ذہنی و سماجی سکون ہے تو پھر یہ فلسفہ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ رات آٹھ بجے مارکیٹیں بند کرنے سے بزنس کمیونٹی تباہ ہوجائے گی۔ دنیا بھر کے اوقات کار کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ روزانہ آٹھ گھنٹے کا کام ایک نارمل لائف اسٹائل کے لئے بہترین ٹائم ٹیبل ہے۔ مزدور اور کارکن کے بنیادی حقوق بھی یہی طے ہوئے ہیں کہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہ لیا جائے ۔پاکستان ایسے خوش نصیب ملکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں اوقات نماز کی پابندی ہماری عمومی زندگی کا حصہ ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 May 15

بہتر حالات۔اچھی توقعات

Click here to View Printed Statement

نااُمید ہونے کے لئے ہزاروں دلائل موجود ہیں۔ لیکن پُرامید رہنے کے لئے وجوہات تلاش کرنا پڑتی ہیں۔ پاکستان بیم ورجا کے اس دوراھے پر آگیا ہے کہ اب یہ ہمارے اوپر منحصر ہے کہ ہم پھر سے یاسیت میں ڈوب جائیں یا اپنے دماغ کو جھٹکا دیں اور امید کا ننھا سا دیا روشن کرکے آگے بڑھیں۔ یہ کہا نہیں جاسکتا کہ کب کوئی دہشتگرد کسی ہدف پر پہنچ کر خود کو اڑا دے اور میرا مﺅقف بھی ہوا میں اڑ جائے۔ لیکن ذرا ٹھہریئے۔ کیا یہ بہت بڑی اُمید افزاءبات نہیں ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے اندر دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے عسکری اور سیاسی قوتوں نے کمال اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کیا ہے۔سینکڑوں دہشت گرد پکڑے گئے ہزاروں انتہا پسندوں کے گرد گھیرا تنگ ہوا اور سپہ سالار اعظم اور ان کی ٹیم نے جس طرح افغانستان اور امریکہ کی حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان ممالک کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی کے خلاف قابل فخر پہلو ہے ۔مشیر داخلہ نے بڑے اعتماد سے کہا ہے کہ سول اور ملٹری قیادت میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ استحکام پاکستان کیخلاف خطرے کی گھنٹی ہمیشہ سول ملٹری تعلقات میں دراڑ ہی رہی ہے۔اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان واضح سمت میں بڑی یکسوئی کیساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہمارے انتظامی اور امن وامان کے ذمہ دار اداروں ‘عسکری صلاحیت اور سیاسی سوجھ بوجھ میں بڑی تیزی کے ساتھ بہتری آئی ہے۔ اب عام آدمی پھر سے خوف کی چادر اتار کر احساس تحفظ سے سرشار ہورہا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Mar 15

تجربہ کاروں کا ظلم

Click here to View Printed Statement

ہوسکتا ہے کہ نیت ٹھیک ہو۔لیکن اہلیت بہرحال نہیں ہے۔ حکمران قوم کو کوئی واضح جواب دینے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ پٹرول بحران کے پیٹ سے بجلی بحران بھی باہر نکل آیا ہے۔ماہرین معیشت مشکل اصطلاحات کے ذریعے عوامی ذہنوں کو پراگندہ کر رہے ہیں۔پٹرول پمپوں پر عورتوں کے ہجوم‘ہاتھ میں بوتلیں ‘پہلو میں بچے۔ظلم کی ایک یہ شکل باقی رہ گئی تھی وہ تجربہ کاروں کے ہاتھوںدیکھنے کو مل گئی ہے۔پٹرول روٹی نہ سہی لیکن روٹی کمانے کا ذریعہ تو ہے۔پاکستان کے منظرنامے میں یہ نظارے بھی شامل ہوگئے کہ دولہا اپنی بارات گدھا گاڑیوں پر لےجاتے دیکھے گئے۔ شدید سردی کے عالم میں پٹرول کے انتظار میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے کا تکلیف دہ تصور ہی رونگٹے کھڑا کردیتا ہے۔لیکن وزیر پٹرولیم‘ پی ایس او‘وزارت خزانہ سب کے سب وزیراعظم نوازشریف کی موجودگی میں ”میری ذمہ داری نہیں“ کی رٹ لگاتے سنائی دیئے۔ عوام فقیروں کی طرح خوار ہوتے رہے۔ اعصاب شل ہوگئے۔پاکستانیوں نے ایک بار پھر سوچنا شروع کردیا ہے کہ آیا یہ مُلک رہنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ میڈیا پورے زور وشور سے چیخ رہا ہے۔حکمران جماعت کے وزراءشرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ٹی وی پر آکر معذرت کرتے ہیں لیکن عوام کی تکالیف بڑھتی جارہی ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Jan 15

پاکستان میں خیر کی قوتیں مغلوب کیوں

Click here to View Printed Statement

کسی بھی معاشرے اور تہذیب میں جب تک خیر کی قوتیں غالب رہتی ہیں معاشرے تباہ نہیں ہوتے ۔بداطمینانی نہیں پھیلتی اور انتشار گلی کوچوں میں ننگا نہیں ناچتا ۔ملک ،سلطنت اقتدار اور اختیار یہ وہ انعامات ہیں جو فطرت خوش ہوکر کسی قوم ،گروہ یا فرد کیلئے ممکن بنادیتی ہے ۔لیکن جہاں یہ انعامات ہیں وہیں آزمائش بھی ہوتی ہے ۔پاکستان ،ایک نیا ملک ،ایک انعام تھا لیکن ہم نے اپنے زندہ ضمیروں کو ہوس اور لالچ کے ہتھوڑے مارمارکر ادھموا کردیا اور آج یہی انعام ہمارے لئے بہت بڑی آزمائش بن چکا ہے ۔جب گھر کے باسیوں کو اپنے گھر کے درودیوار سے خوف آنے لگے تو اس سے بڑی آزمائش کیا ہوگی ۔دانشور اور غم خوار حلقے ہمیں کسی بڑے قومی حادثے سے بچانے کیلئے نت نئے فارمولے اور حل پیش کرتے ہیں ۔کوئی گڈ گورنس کی بات کرتا ہے ۔کسی کو صدارتی طرز حکومت میں مسائل حل ہوتے دکھائی دیتے ہیں ،کئی مغربی جمہوریت ہی کو کامل حل ثابت کرتے ہیں ۔کسی کا خیال ہے کہ سخت ترین قانون ہمیں شیطانی بیماریوں سے نجات دلاسکتا ہے ۔کسی کو تمام مسائل کی جڑ فوجی اقتدار دکھائی دے رہا ہے ۔کوئی اسلامی انقلاب کا جھنڈا لہرانے میں نجات کی امید لگائے بیٹھا ہے ۔غرض جتنے ذہن ہیں اتنے ہی فارمولے گردش کررہے ہیں ۔پاکستان اس وقت عملی طورپر تیسری دنیا کا چوتھے نمبر کا ملک ہے جس میں ہر تخریبی قوت ،ہر منفی جذبہ اور ہر شیطانی حربہ پوری طاقت اور قوت کیساتھ پھل پھول رہا ہے ۔شرکے مقابلے میں خیر دبکا بیٹھا ،منتظر فردا ہے ۔! Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 18 Dec 14

سوئے ہوئے ضمیروں کو الہامی کتب جگاسکتی ہیں

Click here to View Printed Statement

آپ اپنے گھر سے سکیورٹی آلارم کو ہٹا دیجئے یا اس کی تاریں کھینچ دیں تو پھر واردات کرنے والوں کو کوئی خطرہ نہیں رہتا ۔نہ آلارم بجے گا نہ آپ جاگیں گے ۔نہ اپنے مال واسباب کا تحفظ کرسکیں گے ۔نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کو اگر مسلسل ایک ماہ تک کسی واقعہ پر ضمیر نہ جھنجھوڑے تو سمجھئے کہ انسان کا ضمیر سورہا ہے ۔یعنی الارم کا کنکشن کٹ گیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ضمیر کبھی نہیں سوتا ۔دراصل انسان اپنے کان بند کرلیتا ہے ۔طیش اور عیش انسانی دل ودماغ کی دوایسی حالتیں ہیں جن میں مبتلا ہوکر انسان اپنے جاگے ہوئے ضمیر کو بار بار سلانے کی پریکٹس کرتا ہے ۔شیطان کی جیت کا یہ عجب منظر ہوتا ہے ۔یہ وہ حالت ہوتی ہے کہ انسان خود اپنے آپ کو ماررہا ہوتا ہے ۔وہ اس قدر شقی القلب ہوجاتا ہے کہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے محافظ یعنی ضمیر کو اپنے ہاتھوں سے بے بس کردیتا ہے ۔ایسی حالت سے نکلنے کیلئے ہی عقیدے اور ایمان کی ضرورت پڑتی ہے ۔خالق کائنات نے مردہ ضمیر انسانوں کو جگانے اور واپس فطرت کی طرف لوٹانے کیلئے اپنے پسندیدہ انسانوں یعنی پیغمبروں کے ذریعے زندگی کی گائیڈ بکس اتاری ہیں ۔ارشادرباّنی ہے ‘۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Dec 14

نظریہ پاکستان اور اساتذہ کا کردار

Click here to View Printed Statement

معروف معنوں میں نظرء یہ پاکستان دو قومی نظرء یہ ہے جس کی بنیاد پر 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آگیا۔قائداعظمؒ انگریز سامراج اور ہندو اکثریت کو اپنی سالہا سال کی جدوجہد کے دوران یہ باور کراتے رہے کہ ہندوستان میں مسلمان اور ہندو دو قومیں ہیں جو تہذیبی‘مذہبی‘سیاسی اور تاریخی لحاظ سے بالکل مختلف ہیں ۔ہندوؤں نے مسلمانوں سے اپنی سدا بہار نفرت کے ذریعے بالآخر انگریزوں کو قائداعظمؒ کا مؤقف تسلیم کرنے پر آمادہ کردیا اور پاکستان کا قیام ممکن ہوگیا۔
دو قومی نظریہ نے ہی ثابت کیا کہ قومیں زبان‘رنگ اور نسل کے اعتبار سے ہی مختلف نہیں ہوتیں بلکہ مذہب کی بنیاد پر ان کی جداگانہ حیثیت قائم ہوتی ہے۔ اقبالؒ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا‘ قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تو کچھ بھی نہیں‘‘۔ہندوستان کے رہنے والوں کا رنگ ایک جیسا تھا‘ زبان ایک جیسی تھی اور شائد نسلی حوالے بھی ایک جیسے تھے۔ذات کے اعتبار سے ایک دوسرے کیساتھ جڑے ہوئے تھے لیکن مسلمان اللہ کے پیروکارجبکہ ہندوبت پرست۔ اگر تو اسلام کی جگہ کوئی اور مذہب ہوتا تو شائد معاملہ مختلف ہوتا لیکن اسلام کی تعلیمات مسلمانوں کو غیر مسلموں کی سماجی اور مذہبی برتری قبول کرنے سے روکتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہزار سال تک مسلمان اور ہندو مشترکہ طور پر اس خطے میں ز ندگی گذارتے رہے تھے لیکن یہ اسی صورت ممکن ہوا تھا کہ مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود سیاسی اور مذہبی طور پر بالاتر تھے اور حکومت مسلمانوں کے پاس تھی۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اپنی ریاست قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ اسلام کا ہی سچاجذبہ تھا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن کا مطالبہ کرنے پر اُبھارا۔ لہٰذا نظریہ پاکستان دراصل نظریہ اسلام ہی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Oct 14

انقلاب اور کردار

Click here to View Printed Statement

یہ قبل مسیح کا قصہ نہیں صرف چودہ سو برس پہلے کی بات ہے کہ مکہ کی پہاڑی پر چڑھ کر اللہ کے رسولۖ اہل مکہ سے مخاطب ہوتے ہیں اور سوال کرتے ہیں”’ کیا میں نے کبھی آپ سے جھوٹ بولا ؟جواب آتا ہے اے محمدۖ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور آپ جو کہیں گے سچ کہیں گے۔ یوںاللہ کے رسولۖ نے سب سے پہلے لوگوں سے اپنے بارے میں سچائی اور کردار کی گواہی لی اور پھر توحید کا پیغام دیا۔ سیرت رسولۖ کا یہ حوالہ اس لئے دے رہا ہوں کہ ہمارے اکثر دانشور اور مفکر انقلاب اور تبدیلی کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ انسانی سماج میں رہنمائی اور رہبری کے لئے شعلہ بیانی اور شخصی مقناطیسیت ایک حد تک معاون ہوسکتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Sep 14

متنازع یوم آزادی

Click here to View Printed Statement

اثر ہوتا ہے ۔تقریروں اور تحریروں کا اثر ہوتا ہے۔ جب آپ بار بار لوگوں کو بتائیں کہ ”ملک مکمل طور پر آزاد نہیں ہے اور اس پر ”بادشاہت” نے قبضہ کر لیا ہے تو ان لفظوں کی معصوم انسانی ذہنوں میں خوفناک تصاویر بننا شروع ہوجاتی ہیں۔بادشاہ بڑا ظالم ہوگا۔ اپنے مخالفین کو اندھے کنویں میں ڈالوا دیتا ہوگا۔ جو بھی اختلاف کرے گا اسی وقت سرتن سے جُدا ہوجائے گا۔بادشاہ کی سینکڑوں باندیاں ہوں گی۔محل سرا میں گانے بجانے اور رقص و سرور کی محفلیں سجتی ہوں گی۔ کتنے جذبوں کا ارمان ہوتا ہوگا۔بادشاہ ہاتھی پر چڑھ کر شکار کو جاتا ہوگا اور اس کے سپاہی بے گناہ جانوروں کو پکڑ کر اس کے سامنے لاتے ہوں گے اور وہ گولی چلا دیتا ہوگا” ایسے ظالم بادشاہ کے خلاف جنگ کرنا جہاد ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Aug 14

بیس کروڑ یرغمالی عوام

Click here to View Printed Statement

سوال یہ ہے کہ عوام اور سیاست کا آپس میں کتنا گہرا تعلق ہے۔اگر اس ملک کی آبادی بیس کروڑ مان لی جائے تو مئی 2013ء کے انتخابات میں انتخابی عمل میں حصہ لینے والے پاکستانیوں کی کل تعداد صرف ساڑھے چار کروڑ بنتی ہے۔یہ ساڑھے چار کروڑ لوگ کل آبادی کا صرف بائیس فیصد بنتے ہیں ۔ یعنی 78فیصد وہ پاکستانی ہیں جو مختلف وجوہات کی بناء پر اس انتخابی عمل سے دور رہے ہیں ۔ مرکز میں حکومت بنانے والی جماعت کو ڈیڑھ کروڑ لوگوںنے ووٹ دیا۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمرانی کا حق حاصل کرنے والی جماعت کو پچھتر لاکھ ووٹ پڑے اور سندھ میں حکمران گروہ کے حصے میں 68لاکھ اور اسی طرح ایم کیو ایم اور آزاد امیدواران کو ووٹ ڈالے گئے ۔ ان تمام اعدادوشمار سے ایک بات ثابت ہوگئی کہ سیاستدانوں کا عوام کے صرف بائیس فیصد حصے سے تعلق ہے۔ باقی عوام کو نہ تو سیاست پر اعتماد ہے اور نہ ہی سیاستدانوںکو اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں ۔یا دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ لیں کہ پاکستانی قوم کا بہت بڑا حصہ سیاسی نظام سے اس قدر مایوس ہوچکا ہے کہ انہیں اس سے کوئی غرض ہی نہیں کہ ملک میں فوج کی حکمرانی ہے۔(ن) کی حکومت ہے۔ طاہر القادری کا انقلاب یا عمران خان کا نیا پاکستان Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Aug 14

اس ملک کو معاف کردو

Click here to View Printed Statement

 پاکستان کی بنیادوں میں تو ایسی کوئی کجی نہیں تھی۔اس کے بانیوں کا کردار انتہائی شفاف اور اُجلا تھا۔ کوئی ایک نام بتا دوجس نے دھونس’دھاندلی’زبردستی اور غیر جمہوری رویے کا مظاہرہ کیا ہو۔ بانی پاکستان کی اصول پسندی اور جمہوریت پسندی کی دُنیا معترف ہے۔محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی بھی جمہوریت کی بالادستی کی جدوجہد میں گزری۔ اداروں کی مضبوطی اور پارلیمان کی بالادستی کے لئے قائد نے کتنی شدت کے ساتھ نصیحتیں کی تھیں۔ یہ دھرنے’پُرتشدد مظاہرے اور مُلکی اداروں کو للکارنے کا کلچر تو بعد کی پیداوار ہے۔سڑکوں پر آنا’راستے بند کردینا’دلیل کی بجائے طاقت کے زور پر اپنے مطالبات منوانا اور ”تڑیاں” لگانا کہ ”اگر مجھے بند کیا گیا تو میں پورا ملک بند کردوں گا” اور اپنے کارکنوں کو انگیخت کر نا کہ ”انقلابی جتھے پولیس والوں کے گھروں میں گھس جائیں اور پندرہ جانوں کا بدلہ پندرہ جانوں سے لیا جائے گا” یہ کونسے اصلاح پسند گروہ ہیں جو حکومت گرانے کے لئے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تُل گئے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Aug 14

دس لاکھ محسنین

Click here to View Printed Statement

ایک بداندیش کالم نگار نے ”پانچ لاکھ خودکش” کے عنوان سے کالم لکھ کر قبائلی عوام کے جذبہ حب الوطنی کو مشکوک ٹھہرایا ہے۔دانشوروں کا المیہ ہی یہی ہے کہ وہ ان جانے خوف پھیلا کر سامنے کی خوبصورت حقیقتوں کا مذاق اڑانے میں ہی کمال قلم و علم ڈھونڈتے ہیں۔ کیا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نہیں ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک خاص فلسفہ کے حامل مسلح گروہ اپنی امارت قائم کرکے پاکستان کو تاخت و تاراج کرنے کی جانب بڑھتے چلے آرہے تھے۔ محب وطن قبائلی لوگ شروع شروع میں مزاحمت کرتے رہے اوروہاں مقامی رہائشیوں اور غیر ملکی جنگجوئوں کے درمیان خونی جھڑپیں بھی ہوتی رہیں لیکن جب ریاست اپنے لوگوں کا تحفظ نہ کرسکی اور وہاں کی سول انتظامیہ بھی خوفزدہ ہوکر ان خارجی عناصر کو راستہ دینے لگی تومقامی عوام خاموش ہوگئے۔ہمارے بعض دینی حلقے بھی جہاد کے نام پر گمراہ ہوئے ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 24 Jul 14

احترام رمضان ا ور سیاسی اخلاق

Click here to View Printed Statement

سیاسی رہنمائوں کی بدزبانی سے پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے ۔اسلام نے بہتان باندھنے اور جھوٹ گھڑنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔انسانی ضمیر بھی یہی درس دیتا ہے کہ محض محفل کو گرمانے اور جلسے کو قابو کرنے کے لئے بے بنیاد الزامات کا سہارا لینا کمینی حرکت ہوتی ہے۔ہمارے سیاستدان خود کو بڑی حد تک بالغ النظر کہتے ہیں لیکن وہ سیاسی مخالفت میں تمام اخلاقی حدود پھلانگ جاتے ہیں۔بعض اوقات تو وہ اپنے مخالف کی نجی زندگی کے معاملات کو بھی چوک چوراہے میں لے آتے ہیں۔ لسانی بدکاری کے لئے جناب شیخ رشید ہی کافی تھے۔اب تو ہر کوئی اسی گمراہی کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Jul 14

روزے کو بچائیں

Click here to View Printed Statement

پاکستان میں انفرادی نیکیوں کی بہار رہتی ہے ۔ زہدوتقویٰ کی ایسی ایسی مثالیں ہیں کہ قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ شائد انہی نیک بندوں کی بدولت ہمارے اجتماعی گناہوں کی ابھی پکڑ نہیں ہوئی اور ہم گرتے پڑتے قومی زندگی کے سفر پر گامزن ہیں۔ اگر پاکستانی معاشرت سے محدود ے چند متقی لوگوں کو منہا کردیا جائے تو یوں محسوس ہوگا کہ اسلامی اقدار اور تعلیمات کا قدم قدم پر مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ اس احساس کو مہیمزاس وقت لگتی ہے جب رمضان المبارک کا مقدس ماہ اپنی رحمتیں لئے آپہنچتا ہے۔ پاکستانی معاشرہ اس رحمتوں والے مہینے کا استقبال ضرور کرتا ہے’ لیکن اس استقبال کے پیچھے کارفرمانیت تقویٰ اور پرہیزگاری نہیں بلکہ نمودونمائش فضول خرچی’ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی جیسے منفی رجحانات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اس استقبال میں آج کل پیش پیش ہمارا میڈیا ہے۔استحصالی میڈیا اس قدر بے رحم ہے کہ وہ صلہ رحمی’ ایثار’ پردہ پوشی اور حاجت روائی جیسے انتہائی خوبصورت ‘انسان پرور اور صحیح اسلامی جذبوں کودبوچ کر ان کی جگہ ”ریٹنگ” اور” گلیمر” کو حاوی کررہا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Jul 14

نئے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کا پروگرام شروع کیا جائے

Click here to View Printed Statement

گزشتہ بجٹ میں اعدادوشمار کے ذریعے عوام سے جو وعدے کئے گئے وہ پورے نہیں ہوسکے۔بجلی’ گیس’ دہشت گردی’ بیروزگاری اور امن وامان کی صورتحال سب کے سامنے ہے محض نعروں اور طفل تسلیوں سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے۔آج بجٹ کا ایک سال پورا ہوگیا لیکن عام آدمی کی حالت نہیں بدلی اسے بنیادی ضروریات کے حصول کے لئے کن مشکلات کا سامنا ہے’حکمرانوں کو اس سے سروکار نہیں۔مارکیٹ میں اشیائے صرف کی قیمتوں پر کنٹرول نہیں ہے’روزانہ اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں’ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ گیس اور بجلی ‘پٹرول تین ایسی چیزیں ہیں’ ان کی قیمتوں میں ایک پیسہ بھی بڑھا دیا جائے تو ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ پورا سال ان تین چیزوں کی سپلائی اور ڈیمانڈ اس قدر رہی کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں ہی دیکھتے رہے اور آئندہ بھی ان قطاروں میں کمی کی صورت دکھائی نہیں دیتی’نئے بجٹ سے خوش کن توقعات نہیں ہیں۔ یہ الفاظ کا گورکھ دھندا ہوگا۔پرتعیش اشیاء پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکس لگانے سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ لگژری آئٹمز پر ٹیکس عائد کرے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 03 Jun 14

قائد کے حکم پر قائم مادر علمی

Click here to View Printed Statement

وجیہہ الدین احمد انتہائی منکسر المزاج ہیں۔ انہیں اپنے مشن سے عشق ہے۔ ان کا پورا خاندان ہی شائد ایسے مشنری مزاج کے افرادپر مشتمل ہے۔ربع صدی سے علم وحکمت کی تعلیم عام کرنے والے اس علمی گھرانے کو اپنے سربراہ مولوی ریاض الدین احمدمرحوم کی قومی سطح کی کاوشوں اور علمی نوعیت کی سرگرمیوں پر بہت فخر ہے اور وہ ان کاوشوں کو اپنی خاندانی تاریخ کا ایک سنہری باب تصورکرتے ہیں۔مولوی ریاض الدین احمد مرحوم کے سب سے چھوٹے بیٹے جناب وجیہہ الدین احمد سے کراچی کے علاقے ناظم آباد میں واقع جناح یونیورسٹی فار وومن کے وسیع وعریض کیمپس میں ملاقات ہوئی۔جناب وجیہہ الدین احمد گوناں گوں مصروفیات کے باوجود خوش مزاج شخص ہیں۔ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنا مدعابیان کرنے کے ماہر بھی ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 May 14

سعید الٰہی کی مسیحائی

Click here to View Printed Statement

اچھی حکمرانی کا ایک تقاضا یہ بھی ہوتاہے کہ اچھے لوگوں کو اداروں کا سربراہ مقرر کیا جائے۔موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کرپشن اور نااہلی سے پاک افراد کو مختلف قومی اداروں کی ذمہ داریاں سونپ رہی ہے تاکہ ادارے مضبوط ہوں اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حکومت کے لئے نیک نامی کا باعث بن سکیں۔ ایک سال گذر چکا ہے۔ درجن سے زائد قومی ادارے اب بھی ایسے ہیں جن کے سربراہان مقرر نہیں کئے جاسکے۔لیکن قابل اطمینان پہلو یہ ہے کہ جن لوگوں کو میاں محمد نوازشریف نے ذمہ داریاں سونپی ہیں وہ بڑی حد تک اہل اور ایماندار ثابت ہوئے ہیں ۔میرٹ کی یہی کڑی شرائط اور حد سے بڑھی ہوئی احتیاط دامن گیر ہوگی جس کے سبب حکومت کومناسب لوگ میسر نہیں آپارہے۔
ہلال احمر اس لحاظ سے ایک خوش قسمت ادارہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے حصے میں ڈاکٹر سعید الٰہی جیسی متحرک شخصیت آئی ہے۔ڈاکٹر صاحب سے میرا تعارف سرسری سا ہے لیکن جو کچھ اخبارات میں چھپا ہے اور ٹی وی پر دیکھا گیا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسانی خدمت کے اس ادارے نے انگڑائی ضرور لی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 May 14

وزیراعظم آزادکشمیر کیساتھ ایک ملاقات

Click here to View Printed Statement

 مظفر آباد کی ہردلعزیز شخصیت اور مغل قوم کے عظیم فرزند عارف مغل حکومت آزادکشمیر میں مشیر برائے وزارت اطلاعات و نشریات ہیں ۔گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی پر مدعو کیا۔ ہمدم دیرنہ عظمت اللہ اور معروف صحافی اسد عباس بھی ہمراہ تھے۔ آجکل نظریہ پاکستان کی ترویج کے لئے کمر بستہ ہوں اوراللہ تعالیٰ کی کرم نوازی سے اس خدمت کے لئے بہتر سے بہتر مواقع میسر آرہے ہیں ۔ میں کیا اور میری ہستی کیا۔ ارادہ نیک ہو تو اسباب پیدا ہوہی جاتے ہیں۔عظمت اللہ نے بتایا کہ ان کے کلاس فیلو اور قائداعطم یونیورسٹی میں راقم کے ہاسٹل فیلوجناب فیاض علی عباسی آج کل پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کے عہدے پر فائز ہیں اور ان سے بھی ملنا ضروری ہے۔ باتوں باتوں میں یہ طے پایا کہ ممکن ہو تو فیاض عباسی صاحب کی وساطت سے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید سے بھی ملاقات ہوجائے اور ان کو نظریہ پاکستان کے حوالے سے لٹریچر دیا جائے اور التماس کی جائے کہ پاکستان کے اساسی نظریہ سے آگاہی کے لئے تعلیمی اداروں میں خصوصی سرگرمیاں شروع کرائی جائیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 May 14

ڈار آگے ۔ڈالر پیچھے

Click here to View Printed Statement

ابھی تک تسلی بخش وضاحت کا انتظار ہے۔حکومت پاکستان نے ”دوست ملک“ سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحفے کے پیچھے کارفرما معاملے کو افشاءنہیں کیا۔قوم کو تسلی دی گئی ہے کہ ” ایران اور سعودی عرب سمیت تمام برادر ممالک سے متوازن تعلقات قائم کئے جائیں گے“۔ ڈالر کی بے قدری کے پیچھے محرکات میں سب سے بڑا محرک یہی ڈیڑھ ارب ڈالرز ہیں جو مبینہ طور پر سعودی حکومت نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی ذاتی درخواست پر مملکت اسلامیہ کو بطور تحفہ دیئے ہیں۔ ان میں سے نصف سے زائد قومی خزانے میں ”پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ“ کے عنوان سے منتقل ہوچکے ہیں اور باقی بھی عنقریب آنے والے ہیں۔اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دوست ملک کی طرف سے کی جانے والی یہ مہربانی کسی وقت واپس لے لی گئی تو ڈالر پھر بے قابو ہو کر روپے کو روند ڈالے گا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Mar 14

پروفیسر احمد رفیق اختر۔ایک گوشہ حکمت

Click here to View Printed Statement

اچانک ہی پروگرام بن گیا۔عظمت اللہ دیرینہ دوست ہیں ۔اچھی انگریزی لکھنے والے صحافیوں میں شمار ہوتا ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی کے ساتھی ہیں۔سماجی رابطوں کو نبھانے کا حوصلہ اور ہنر جانتے ہیں۔ معروف ٹی وی اینکر اور کالم نگار جناب اسرار کسانہ بھی اولڈ قائدین ہیں۔سابق انکم ٹیکس ڈپٹی کمشنر ہاورڈیونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور قائداعظم یونیورسٹی کے ہونہار سٹوڈنٹ جناب حسن کامران بشیر بھی ہمراہ تھے۔اسرار کسانہ سے درخواست کی کہ گوجرخان جانے کی تمنا قلب و دماغ کو جکڑ رہی ہے۔ مصروفیات سے کون بچا ہوا ہے۔بہرحال کسانہ آمادہ ہوگئے کہ گوجرخان کے راز دان ہیں اور وہاں کی عقیدت ان کے لب ولہجہ پر حاوی رہتی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Jan 14

مہذب لٹیرے

Click here to View Printed Statement

پاکستانی قوم کو لوٹنے والوں کی متنوع قسمیں اور متعدد شکلیں ہیں۔کسی نے ڈبل شاہ بن کر لوٹا اور کچھ نے ڈبل شاہ کو بھی لوٹ لیا۔بعض مضاربہ کمپنیوں کے نام پر جبہ و دستار میں ظاہر ہوئے اور پھر کھربوں کی لوٹ مار میں سے کروڑوں دے دلا کر چھوٹ گئے۔عوام ہاتھوں میں سادہ کاغذوں پر لکھی مبہوم سی تحریریں لئے نیب کے دفتروں کا چکر لگاتے ہیں اور پھر قسمت کو کوستے واپس گھر آجاتے ہیں۔جو وارداتیں صرف فلموں میں دیکھی جاتی تھیں وہ آئے روز ہماری زندگی میں رونما ہورہی ہیں۔ ریاستی ادارے اپنی اپنی تنخواہیں اور مراعات کو یقینی بنانے کی حد تک بہت مستعد ہیں۔لوگوں کی جمع پونجیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے کسی کو فکر ہے نہ کہیں ذکر۔اخبارات میں خبریں شائع ہوتی ہیں۔چند روز شوروغوغا ہوتا ہے اور پھر کوئی نیا سکینڈل پہلے والے سکینڈل کو زیر زمین کردیتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Dec 13

پھانسی سے نظریہ پاکستان پھیلے گا

Click here to View Printed Statement

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما عبدالقادر ملا کو بھارتی نواز حسینہ واجد کی کٹھ پتلی عدالت کی طرف سے پھانسی دیئے کئی روز گذر گئے لیکن بنگلا حکومت کے خلاف نفرت اور بیزاری کی لہر روز بروز زور پکڑتے جارہی ہے۔ردعمل کی لہریں بنگلا حدود سے نکل کر پورے عالم اسلام میںپھیل رہی ہیں۔اور ہر طرف سے ایک ہی صدا ہے کہ ”ظلم ہوا ”۔ اگر کچھ زبانیں ابھی تک کھل کر مذمت نہیں کر پا رہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ پھانسی گھاٹ پر جھولنے والے شخص کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ اگر یہی پھانسی کسی بے ریش اور بے نظریہ اور سیکولر شخصیت کے حصے میں آتی تو یو این او سے لے کر کراچی لاہور تک ہر جگہ شمعیں روشن ہوتیں اور قد آدم تصاویر کے سامنے پھولوں کے ڈھیر لگ جاتے۔پاکستان کی نئی نسل کو شائد علم ہی نہ ہو کہ مقتل میں تڑپتے لاشے کا قصور کیا تھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 Dec 13

دولت کی منصفانہ تقسیم

Click here to View Printed Statement

پاکستان میں معاشی لحاظ سے کتنے طبقات ہیں اس بارے کوئی تازہ سروے تو موجود نہیں ہے لیکن اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو شہر ‘ گلی اور محلے میں ہمیں یہ طبقات مجسم صورت میں دکھائی دیں گے۔ایک پورا طبقہ ان خاندانوں پر مشتمل ہے جو پیشہ ور بھکاری ہیں یا ان کے پاس بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں ہے۔بھکاریوں کے جتھے آپ کو پاکستان کے ہر چوک اور چوراہے میں مل جائیں گے۔ بلکہ کسی مذہبی یا قومی تہوار کے دنوں میں مانگنے والوں سے جان چھڑانا ہی بہت بڑی انجوائے منٹ ہوتی ہے۔آپ بھکاریوں کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں ۔آبادی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اس پیشہ یا مجبوری سے منسلک تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ یہ لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں پہنچ رہے ہیں ۔دوسرا طبقہ فاقہ مست دیہاڑی دار مزدوروں اور ہنرمندوں کا ہے۔مزدور مانگ تو نہیں سکتے لیکن ملک میں کوئی کاروبار نہ ہونے کے سبب فاقوں مرتے ہیں۔ بیروزگاری کی شرح میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہرچوتھا آدمی بیکار ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Sep 13

درندگی کے پروموٹرز

Click here to View Printed Statement

بھارت میں عورت ذات پر حملوں کی خبریں سُن سُن کر کان پک گئے تھے۔ہرصاحب دل اور ضمیر جب عصمت دری کی خبریں سنتا ہے تو خون کے آنسو روتا ہے۔ آدمیت جہاں ہے وہ شیطانیت کیخلاف آواز بلند کرتی ہے۔ حیوانوں کے غول کسی حوا زادی کی عصمت کی چادر بمبئی میں تار تار کریں یا کسی معصوم دوشیزہ پر انگلینڈ میں حملہ ہوجائے خون کھولتا اور دل مجرموں کو سرعام پھانسی لگتے دیکھنا چاہتا ہے۔اسلام نے تو درندوں کے معاشرے میں عورت کو تقدس کی چادر اوڑھانے کا انقلابی کارنامہ سرانجام دیا اور آج جب کہ ایمان کا درجہ قرون اولیٰ والا نہیں پھر بھی عورت کیخلاف ہر جرم اور زیادتی کو بحیثیت مجموعی مسلمان نفرت اور حقارت سے دیکھتے ہےں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Sep 13

خوف ہی عذاب ہے

Click here to View Printed Statement

ہر پاکستانی خوف زدہ ہے ۔انجانے خوف نے دل ودماغ پر قبضہ جما رکھا ہے۔ جو ہے وہ چھن جانے کا خوف‘ راہ چلتے لٹ جانے کا خوف‘ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں قتل ہوجانے کا خوف‘بھتہ خوروں کی باہمی چپقلش کا شکار ہوجانے کا خوف‘کسی خودکش دھماکے میںہلاک ہوجانے کا ڈر‘دشمن کے حملے کا کھٹکا‘غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں رسوائی کا عفریت‘عزتوں کی پامالی کا دھچکا‘اولاد کے اغواءہوجانے کا احتمال۔ کسی مفتی کے ہاتھوں کنگال ہوجانے کی فکر۔جو خوشحال ہیں انہیں بدحال ہوجانے کا وسوسہ‘جو بااختیار ہیں انہیں بے اختیارہوجانے کے خدشات۔ کون ہے جو اس خوف سے بچا ہوا ہے۔رات پہلو بدلتے گزرتی ہے کہ ابھی ڈاکو گھس آئیں گے اور دولت لوٹیں گے۔ایسا خوف جو ہر روز بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا۔یہ بستی چھوڑ جانے کو عقل اکساتی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 Sep 13

پولیس کی بھی سنو

Click here to View Printed Statement

سیاستدانوں نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں میںدل کھول کر ایک دوسرے کی دُرگت بنائی ہے۔تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق وزیر داخلہ نے اپوزیشن کو جواب آں غزل جو سنائی تو ذرائع ابلاغ بھی عش عش کر اٹھے۔ سکندر بمقالہ زمرد کے نت نئے پہلو سامنے آچکے ہیں جن میں سے بعض دلچسپ’کچھ حسرتناک اور چند عبرتناک بھی ہیں۔ اس واقعہ سے کون کیا سیکھتا ہے۔ یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔بہرحال عوام جو کہ تماشبین ثابت ہوئے۔ پولیس جو کہ نااہل ثابت ہوئی ‘میڈیا جو کہ غیر ذمہ دارثابت ہوا اور حکمران جو کہ متذبذب ثابت ہوئے۔ اگر چاہیں تو اپنی اپنی حدود میں رہ کر خود احتسابی کا عمل مکمل کرسکتے ہیں اور یوں ہم آنے والے اس نوعیت کے حادثوں میں مناسب ردعمل کے اظہار کا سلیقہ سیکھ سکتے ہیں ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Aug 13

تارکین وطن کے بابرکت ہاتھ

Click here to View Printed Statement

جب اپنے وطن میں روٹی روزی کے ذرائع محدود اور بے روزگاری لامحدود ہوجائے تو پھر دیارِ غیر جا کر قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ ہجرت تجارت کی غرض سے ہو یا تعلیم کی غایت سے ہو۔ یہ ابن بطوطہ کا سفر ہو یا کولمبس کی سمندر پیمائی ہو’ہجرت کی کلفتیں اورمصیبتیں اپنی جگہ مگر اس کے نتیجے میں بہتری ضرور آتی ہے۔اپنے مالی حالات بہتر بنانے کے لئے ہم گائوں سے شہر اور شہر سے دوسرے شہر ہجرتیں کرتے ہیں۔اسی کے نتیجے میں نئی نئی آبادیاں جنم لیتی ہیں۔ایک دوسرے کی زبانیں سمجھتے ہیں’ایک دوسرے کے رہن سہن اپناتے اور ہنرمندی کو سیکھتے ہیں۔عربی کا محاورہ ہے ”سفر ایک زحمت ہے” لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ”سفر وسیلہ ظفر” بھی ہوتا ہے ۔دونوں محاوروں کا مشترکہ مفہوم یہ کہ ہجرت جدائی اور سفر کی مشکلات اگر برداشت کر لی جائیں تو پھر کامیابی مل جاتی ہے۔رزق کی تلاش میں اس کرہ ارضی پر چلنے پھرنے کا قرآن نے باقاعدہ حکم بھی دیا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Jul 13

لہولہان پاکستان

Click here to View Printed Statement

خون ہی خون ہے۔ دو چار دن کے وقفے کے بعد پاکستانی سوچنے لگتے ہیں کہ شائد قاتلوں اور دہشتگردوں کو رحم سا آگیا ہے۔ ایک موہوم سی اُمید پیدا ہونے لگتی ہے لیکن اُمید کی ڈوری کا سرا پوری طرح تھام نہیں پاتے کہ پھر کسی چوک’ کسی چوراہے پر انسانی جسم کے خون میں لتھڑے ہوئے ٹکڑے ملتے ہیں۔ کوئی جلی لاش کسی ایمبولینس میں رکھی جارہی ہوتی ہے۔ بم دھماکہ’ریموٹ کنٹرول دھماکہ’ خودکش دھماکہ’ ٹارگٹ کلنگ’ بوری بند لاش’ اغوائ’ ہماری سماعتوں میں خوف ہی خوف بھر جاتا ہے۔ ایک پوری فضاء سوگوار ہوجاتی ہے۔صف ماتم لپیٹنے کی فرصت ہی نہیں رہتی۔ہر انسان کش کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے والے ببانگ دہل اخبارات اور ٹی وی والوں کو فون پر بتاتے ہیں کہ جیتے جاگتے انسانوں کو چیتھڑوں میں تبدیل کرنے کا کارنامہ فلاں گروپ نے سرانجام دیا ہے۔ عورتیں’بچے’بوڑھے’ شیعہ’سنی’ مسلم’ غیر مسلم ۔کوئی بھی تو محفوظ نہیں ہے۔وردی اور شیروانی ‘امیر  اور غریب سب ہی قتل گاہوں میں سربریدہ پڑے ہیں۔ بڑے بڑے دل گردے والے ٹی وی پر مقتولوں کی چلنے والی فوٹیج دیکھ نہیں پاتے۔ آگ اور خون کا یہ گھنائونا کھیل کب ختم ہوگا؟

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 04 Jul 13

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player