تجربہ کاروں کا ظلم

Click here to View Printed Statement

ہوسکتا ہے کہ نیت ٹھیک ہو۔لیکن اہلیت بہرحال نہیں ہے۔ حکمران قوم کو کوئی واضح جواب دینے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ پٹرول بحران کے پیٹ سے بجلی بحران بھی باہر نکل آیا ہے۔ماہرین معیشت مشکل اصطلاحات کے ذریعے عوامی ذہنوں کو پراگندہ کر رہے ہیں۔پٹرول پمپوں پر عورتوں کے ہجوم‘ہاتھ میں بوتلیں ‘پہلو میں بچے۔ظلم کی ایک یہ شکل باقی رہ گئی تھی وہ تجربہ کاروں کے ہاتھوںدیکھنے کو مل گئی ہے۔پٹرول روٹی نہ سہی لیکن روٹی کمانے کا ذریعہ تو ہے۔پاکستان کے منظرنامے میں یہ نظارے بھی شامل ہوگئے کہ دولہا اپنی بارات گدھا گاڑیوں پر لےجاتے دیکھے گئے۔ شدید سردی کے عالم میں پٹرول کے انتظار میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے کا تکلیف دہ تصور ہی رونگٹے کھڑا کردیتا ہے۔لیکن وزیر پٹرولیم‘ پی ایس او‘وزارت خزانہ سب کے سب وزیراعظم نوازشریف کی موجودگی میں ”میری ذمہ داری نہیں“ کی رٹ لگاتے سنائی دیئے۔ عوام فقیروں کی طرح خوار ہوتے رہے۔ اعصاب شل ہوگئے۔پاکستانیوں نے ایک بار پھر سوچنا شروع کردیا ہے کہ آیا یہ مُلک رہنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ میڈیا پورے زور وشور سے چیخ رہا ہے۔حکمران جماعت کے وزراءشرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ٹی وی پر آکر معذرت کرتے ہیں لیکن عوام کی تکالیف بڑھتی جارہی ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Jan 15

جومیٹروٹرین سے ٹکرائے گا

Click here to View Printed Statement

سونامی پوے ملک میں سرگرداں ہے۔فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ میں تعداد زیادہ نہ سہی لیکن عمران خان کی گھن گھرج جوں کی توں ہے۔ پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ جگت بازی کے ماہر ہیں انہوں نے لطیف پیرائے میں جلسے کی کم تعداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا” اب عمران نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے” خدا کرے کہ نوجوان نسل کو اس محاوراتی جگت کا مکمل ادراک حاصل نہ ہو ورنہ لطافت کثافت میں بدل جائے گی اور تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈرانا ثناء اللہ صاحب کو حسب سابق آڑے ہاتھوں لیں گے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 May 14

تعمیر پاکستان بذریعہ نظریاتی تعلیم

Click here to View Printed Statement

زرداری اور مشرف دور میں مملکت پاکستان کو سیاسی طور پر ہی نہیں نظریاتی طور پر بھی فکری انتشار کی دلدل میںدھکیل دیا گیا تھا۔ آج بھی ہمارے تعلیمی نصاب میں ہمارے نظریاتی محاذ پر شخصی شب خون کے آثار پوری طرح نمایاں ہیں۔ امید رکھنی چاہیے کہ تعلیم جیسے اہم ترین شعبے میںاہل’اور درد دل رکھنے والے وزیر جناب بلیغ الرحمن پہلی کلاس سے لے کر اعلیٰ تعلیمی نصاب تک جابجا پھیلی ہوئی فکرو نظر کی تباہ کن بارودی مائنز کو صاف کرکے دل و دماغ کے لئے خالص اسلامی اورپاکستانی غذا فراہم کرنے کا سبب پیدا کرسکیں گے۔ آج جس قدر تعلیمی نصاب کی اصلاح ضروری ہے شائد ہی کسی اورشعبے میں ایسی ایمرجنسی تقاضا کرتی ہو۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 09 Apr 14

میری پہچان۔نظریہ پاکستان

Click here to View Printed Statement

دنیا بھر میں ایک سو نوے کے لگ بھگ ممالک ہیں اور ان میں بسنے والوںکی تعداد تقریباًسات ارب ہے۔ کوئی ایسا ملک نہیں جہاں قومی ایام پر ہم آہنگی کی بجائے فکری انتشار پیدا کیا جاتا ہو۔کوئی ملک اس فضول بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا جس میں اس کے قیام کی وجوہات کو ناجائز قرار دیا جائے ۔کوئی قوم اتنی احسان فراموش نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے محسنوں کے کردار پر کیچڑ اچھالے۔ کسی ریاست کا قانون اپنے ذرائع ابلاغ کو اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ ملکی وجود کے خلاف پروپیگنڈا کرنے‘ مسلمہ حقیقتوں کو متنازعہ بنانے اور قومی تخلیق کے اسباب کو غیر حقیقی قرار دےنے پر مذاکرے کرائے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Mar 14

غریب کا مسئلہ۔ڈرون یا ٹماٹر

Click here to View Printed Statement

میڈیائی فضاءمیں طالبان ‘مذاکرات‘ شہید‘نیٹو سپلائی ڈرون ‘جہاد اور امن جیسے عنوانات چھائے ہوئے ہیں۔خدا نہ کرے محرم الحرام کے ماہ میں کوئی سانحہ پیش آئے‘ اگر ایسا ہوا تو پھر لاشیں‘ خون اور آگ کے نظارے بھی ٹی وی سکرینوں پر چھا جائیں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت طالبان مذاکرات کے لئے کوئی ٹیم تشکیل پائے اور ہمارے اینکرپرسنز پورا مہینہ اسی پانی میں مدھانی ڈال کر بیٹھے رہیں۔ غرض یہ کہ ذرائع ابلاغ جنہیں عوام کا ترجمان ہونے کا دعویٰ ہے وہ چند مخصوص واقعات‘لوگوں اور گروہوں کے لئے ہی وقف رہے۔حکومت ایسے حالات میں بڑی مطمئن رہتی ہے۔اور بڑی خاموشی سے مہنگائی کے جن کے ہاتھ پاﺅں کھول دیتی ہے۔آئی۔ ایم۔ایف جیسے اداروں سے مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں اور غریب کو مارنے کے تمام تیر بہدف نسخے بھی آزما لئے جاتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 07 Nov 13

ملی یکجہتی کے تقاضے

Click here to View Printed Statement

مسلکی اختلافات نے نہ ختم ہونے والی باہمی جنگ و جدل کی شکل اختیار کرلی ہے اور صرف مسجدوں‘ کالونیوں اور مدرسوں کی حد تک ہی ”نوگوایریاز“ نہیں بنے زہن و قلب بھی بری طرح تقسیم ہوچکے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف زبان ہی زہر نہیں اگلتی کلاشنکوف‘ دھماکے اور خودکش حملے بھی معمول بن چکے ہیں۔ پاکستان کا کونسا علاقہ‘ صوبہ اورشہر ہے جہاںفرقہ وارانہ فسادات نہیں بھڑکتے اور لاشیں نہیں گرتیں اور خون کی ندیاں نہیں بہتیں۔قیام پاکستان سے قبل ہم پڑھتے ہیں اور بزرگوں سے سنتے ہیں کہ اس برصغیر میں ہندو مسلم فسادات ہوا کرتے تھے۔پاکستان بن جانے کے بعد شیعہ سنی فسادات نے ہندو مسلم فسادات کی جگہ لے لی ہے۔یہ آگ کس نے لگائی‘ ایندھن کس نے فراہم کیا اور جلتی پر تیل کہاں سے آتا ہے۔ یہ سارے خوفناک پہلو ہیں۔ان پر لکھنے اور بات کرنے سے قلم کانپتا ہے۔لیکن وہ پاکستانی جو اس صورتحال سے پریشان رہتے ہیں وہ شیعہ سنی علمائے کرام سے توقع رکھتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 Nov 13

درندگی کے پروموٹرز

Click here to View Printed Statement

بھارت میں عورت ذات پر حملوں کی خبریں سُن سُن کر کان پک گئے تھے۔ہرصاحب دل اور ضمیر جب عصمت دری کی خبریں سنتا ہے تو خون کے آنسو روتا ہے۔ آدمیت جہاں ہے وہ شیطانیت کیخلاف آواز بلند کرتی ہے۔ حیوانوں کے غول کسی حوا زادی کی عصمت کی چادر بمبئی میں تار تار کریں یا کسی معصوم دوشیزہ پر انگلینڈ میں حملہ ہوجائے خون کھولتا اور دل مجرموں کو سرعام پھانسی لگتے دیکھنا چاہتا ہے۔اسلام نے تو درندوں کے معاشرے میں عورت کو تقدس کی چادر اوڑھانے کا انقلابی کارنامہ سرانجام دیا اور آج جب کہ ایمان کا درجہ قرون اولیٰ والا نہیں پھر بھی عورت کیخلاف ہر جرم اور زیادتی کو بحیثیت مجموعی مسلمان نفرت اور حقارت سے دیکھتے ہےں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Sep 13

ڈارسے ڈرلگتا ہے

Click here to View Printed Statement

قارئین اکرام! میں آپ سے دست بستہ پہلے تو معافی مانگتا ہوں۔میں نے مسلم لیگ (ن) کے انتخابی نعروں اور وعدوں سے متاثر ہو کر ”خوشخبریاں آنے لگیں“ کے عنوان سے کالم لکھا اور اپنے طور پر یقین کر لیا تھا کہ اب عوام الناس کی معاشی حالت بہتر ہوجائے گی۔لیکن گزشتہ دنوں کے پے در پے ایسے حکومتی اقدامات سامنے آئے ہیں کہ مجھے اپنے لکھے ہوئے لفظوں پر شرمندگی ہورہی ہے اور میں ایک بار پھر سے ”حقیقت پسندی“ کی پرخار وادیوں میں الجھ گیا ہوں۔پنجاب فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی طرز پر پاکستان میں بھی غرباءکے لئے فوڈ سیکورٹی بل پارلیمنٹ میں لایا جائے اور غریبوں کے لئے سستی دال روٹی کا قانون بنا دیا جائے۔ میں نے اخبارات میں شائع ہونے والی یہ خبر پڑھی تو مجھے سخت افسوس ہوا۔آج پاکستان کے اقتصادی حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 09 Sep 13

خوف ہی عذاب ہے

Click here to View Printed Statement

ہر پاکستانی خوف زدہ ہے ۔انجانے خوف نے دل ودماغ پر قبضہ جما رکھا ہے۔ جو ہے وہ چھن جانے کا خوف‘ راہ چلتے لٹ جانے کا خوف‘ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں قتل ہوجانے کا خوف‘بھتہ خوروں کی باہمی چپقلش کا شکار ہوجانے کا خوف‘کسی خودکش دھماکے میںہلاک ہوجانے کا ڈر‘دشمن کے حملے کا کھٹکا‘غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں رسوائی کا عفریت‘عزتوں کی پامالی کا دھچکا‘اولاد کے اغواءہوجانے کا احتمال۔ کسی مفتی کے ہاتھوں کنگال ہوجانے کی فکر۔جو خوشحال ہیں انہیں بدحال ہوجانے کا وسوسہ‘جو بااختیار ہیں انہیں بے اختیارہوجانے کے خدشات۔ کون ہے جو اس خوف سے بچا ہوا ہے۔رات پہلو بدلتے گزرتی ہے کہ ابھی ڈاکو گھس آئیں گے اور دولت لوٹیں گے۔ایسا خوف جو ہر روز بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا۔یہ بستی چھوڑ جانے کو عقل اکساتی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 Sep 13

چند زمردخانوں کی ضرورت ہے

Click here to View Printed Statement

عقل محو تماشاہی رہی اور عشق نے چھلانگ لگا دی۔ دانش مندی اور معاملہ فہمی کا تقاضا تو یہی تھا کہ ایک غیر تربیت یافتہ’جسمانی طور پر ان فٹ اور اسلحہ کے اعتبار سے مکمل طور پرنہتا شخص ایک مسلح’بپھرے ہوئے اور مرنے مارنے پر تلے بیٹھے پاگل کو قابو کرنے کی کوشش نہ کرتا بلکہ ایسا سوچنا بھی حماقت کے زمرے میں آتا ہے۔ عقلمندوں کے نزدیک کوئی احمق آدمی جس کوجان بوجھ کر اپنی جان ضائع کرنے کا شوق ہو وہی ایسی حرکت کرسکتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Aug 13

تارکین وطن کے بابرکت ہاتھ

Click here to View Printed Statement

جب اپنے وطن میں روٹی روزی کے ذرائع محدود اور بے روزگاری لامحدود ہوجائے تو پھر دیارِ غیر جا کر قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ ہجرت تجارت کی غرض سے ہو یا تعلیم کی غایت سے ہو۔ یہ ابن بطوطہ کا سفر ہو یا کولمبس کی سمندر پیمائی ہو’ہجرت کی کلفتیں اورمصیبتیں اپنی جگہ مگر اس کے نتیجے میں بہتری ضرور آتی ہے۔اپنے مالی حالات بہتر بنانے کے لئے ہم گائوں سے شہر اور شہر سے دوسرے شہر ہجرتیں کرتے ہیں۔اسی کے نتیجے میں نئی نئی آبادیاں جنم لیتی ہیں۔ایک دوسرے کی زبانیں سمجھتے ہیں’ایک دوسرے کے رہن سہن اپناتے اور ہنرمندی کو سیکھتے ہیں۔عربی کا محاورہ ہے ”سفر ایک زحمت ہے” لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ”سفر وسیلہ ظفر” بھی ہوتا ہے ۔دونوں محاوروں کا مشترکہ مفہوم یہ کہ ہجرت جدائی اور سفر کی مشکلات اگر برداشت کر لی جائیں تو پھر کامیابی مل جاتی ہے۔رزق کی تلاش میں اس کرہ ارضی پر چلنے پھرنے کا قرآن نے باقاعدہ حکم بھی دیا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Jul 13

روزہ’صبر اور ضبط

Click here to View Printed Statement

پہلے رمضان کو سٹوروں پر’پھل فروشوں کے پاس اور دُکانوں پر بے پناہ رش نظر آیا۔ ہر شخص زیادہ سے زیادہ سامان خوردونوش خریدنے میںجُتا ہوا تھا۔ جس کو ایک تھیلے آٹے کی ضرورت تھی اس کی کوشش تھی کہ وہ پورا یوٹیلٹی سٹور ہی اٹھا کر لے جائے۔جسے روزہ افطار کرنے کے لئے چند کھجوریں دکار تھیں وہ بھی کلو سے کم نہیں لے رہا تھا۔ٹماٹر کے بغیر بھی ہنڈیا چڑھائی جاسکتی ہے لیکن ہر خریدار ٹماٹروں کو یوں للچائی ہوئی نظرو سے گھور رہا تھا گویا اسے زندگی بھر یہ سوغات میسر نہ آسکے گی۔ہر کوئی رمضان کے پورے مہینے کی خریداری کر لینا چاہتا تھا۔ غریب اور امیر کے درمیان صرف قوت خرید کا فرق دیکھا ہے باقی ذخیرہ اندوزانہ طرز فکر میں ذرہ برابر فرق محسوس نہیں ہوا۔ماہ صیام کے بارے میں قرآن پاک میں جو حکم ہوتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 13 Jul 13

لہولہان پاکستان

Click here to View Printed Statement

خون ہی خون ہے۔ دو چار دن کے وقفے کے بعد پاکستانی سوچنے لگتے ہیں کہ شائد قاتلوں اور دہشتگردوں کو رحم سا آگیا ہے۔ ایک موہوم سی اُمید پیدا ہونے لگتی ہے لیکن اُمید کی ڈوری کا سرا پوری طرح تھام نہیں پاتے کہ پھر کسی چوک’ کسی چوراہے پر انسانی جسم کے خون میں لتھڑے ہوئے ٹکڑے ملتے ہیں۔ کوئی جلی لاش کسی ایمبولینس میں رکھی جارہی ہوتی ہے۔ بم دھماکہ’ریموٹ کنٹرول دھماکہ’ خودکش دھماکہ’ ٹارگٹ کلنگ’ بوری بند لاش’ اغوائ’ ہماری سماعتوں میں خوف ہی خوف بھر جاتا ہے۔ ایک پوری فضاء سوگوار ہوجاتی ہے۔صف ماتم لپیٹنے کی فرصت ہی نہیں رہتی۔ہر انسان کش کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے والے ببانگ دہل اخبارات اور ٹی وی والوں کو فون پر بتاتے ہیں کہ جیتے جاگتے انسانوں کو چیتھڑوں میں تبدیل کرنے کا کارنامہ فلاں گروپ نے سرانجام دیا ہے۔ عورتیں’بچے’بوڑھے’ شیعہ’سنی’ مسلم’ غیر مسلم ۔کوئی بھی تو محفوظ نہیں ہے۔وردی اور شیروانی ‘امیر  اور غریب سب ہی قتل گاہوں میں سربریدہ پڑے ہیں۔ بڑے بڑے دل گردے والے ٹی وی پر مقتولوں کی چلنے والی فوٹیج دیکھ نہیں پاتے۔ آگ اور خون کا یہ گھنائونا کھیل کب ختم ہوگا؟

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 04 Jul 13

حج نہیں تو حج کا ثواب ہی سہی

Click here to View Printed Statement

شریف قریشی صاحب عرصہ دراز سے حج کا قصد کر رہے ہیں لیکن ذمہ داریاں ایسی کہ مطلوبہ رقم ہی جمع نہ ہوسکی۔ماشاء اللہ صحت مند ہیں لیکن کثرت اولاد  نے انہیں مالی طور پر کبھی خوشحال ہونے نہیں دیا۔ادھر ایک بیٹی کی شادی ادھر دوسرے بیٹے کے تعلیمی اخراجات۔ایک دکان اور دس انسان۔ بھلا معمولی درجے کا یہ کریانہ سٹور ہے’آخرقارون کا خزانہ تو ہے نہیں۔ارادہ پختہ تھا تھوڑا بہت پس انداز کرتے رہے اور اس سال اڑھائی تین لاکھ روپے جمع ہوئے تھے۔دکانداری کے معاملات چھوٹے بیٹے کو سونپ کر درخواست جمع کرا دی اور عمر کے 70ویں برس” صاحب استطاعت” کی حیثیت سے یہ مذہبی فریضہ ادا کرنے جارہے تھے۔بہت خوش تھے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Jun 13

دال روٹی پر ٹیکس۔کبھی نہیں

Click here to View Printed Statement

سستی روٹی کی سکیم چلانے والوں نے ایک سو اسی درجے کی ”کلٹی” ماری اور روٹی کی موجودہ قیمتوں پر بھی ایک فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ کر ڈالا۔یہ تو بھلا ہو آزاد عدلیہ کا کہ جناب چیف جسٹس نے عوام کے ساتھ یہ ہاتھ ہونے نہیں دیا اور یوں غریب آدمی کی دال ‘روٹی ‘ آلو پیاز’مرچ ‘برف اور باردانہ آئی ایم ایف کی دستبرد سے بچ گئے ورنہ میاں محمد نوازشریف کے قرابت دار ماہرین اقتصادیات نے تو”خونی انقلاب” کی بنیاد رکھ دی تھی۔اس میں کیا شک ہے کہ ملک کے اقتصادی حالات کسی طرح کنٹرول میں نہیں آرہے۔ آئی ایم ایف کڑی شرائط کا تقاضا کرتا ہے اور عوام کے بدن سے مزید خون نچوڑنے کے مختلف طریقے آزمانے پر آمادہ کرتا ہے۔قومی خزانہ ”بڑے حاجی صاحب” اور ان کے وزراء اعظم اور نوسرباز دوست پہلے ہی خالی کرکے جاچکے ہیں۔پاور پلانٹس بجلی پیدا کرنے کے لئے پانچ سو ارب روپے مانگ رہے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Jun 13

”بجلی تو ملے گی نا؟”

Click here to View Printed Statement

نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ ہر وقت ہر شخص ایک ہی موضوع پر بحث کر رہا ہے۔کرم دین سے لیکرچیف جسٹس آف پاکستان تک اور ماسی بشیراں سے لے کر میاں محمد نوازشریف تک توانائی کے اس بحران کو حل کرنے کی تجاویز’پروگرام اور منصوبے پر بحث کر رہا ہے۔”اگر میاں نوازشریف نے لوڈشیڈنگ پر قابو پالیا تو اگلے پانچ سال حکومت کرسکیں گے ورنہ مڈٹرم الیکشن ناگزیر ہوجائیں گے”۔ ہارنے والی پارٹیاں برملا کہہ رہے ہیں کہ میاں برادران بجلی کہاں سے لائیں گے۔آٹھ دس ہزار میگاواٹ کی کمی کیسے پوری کریں گے۔ لہٰذا اپوزیشن پارٹیاں خم ٹھونک کر کھڑی ہیں۔جونہی اقتدار کی منتقلی مکمل ہوگی’جلسے جلوس شروع ہوجائیں گے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 Jun 13

مثبت اشارے

Click here to View Printed Statement

ابھی کچھ ہوا نہیں ہے۔لوڈشیڈنگ ہنوز زندگی چھین رہی ہے۔کرپشن کی منڈیوں میں ویسے ہی تیزی چل رہی ہے۔امن وامان بھی ایک خواب ہے۔خوف نے ہر طرف ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ابھی کچھ بھی بدلا نہیں ہے۔ابھی تو محض خیالات شکل پا رہے ہیں اور ارادے ترتیب لے رہے ہیں۔اچھی امید’نیک ارادے’توقعات اور ترجیحات۔عملاً نتائج ایک خواب ہیں۔لیکن کچھ مثبت اشارے آ رہے ہیں۔اندھیری غار کے آخر پر روشنی دکھائی دینی شروع ہوگئی ہے۔ایک یقین سا پیدا ہورہا ہے کہ پاکستانی قوم گھپ اندھیروں سے نکل سکتی ہے۔ہم دھیرے دھیرے روشنی کی طرف بڑھیں گے اور پھر ایک صبح ایک روشن صبح ہماری منتظرہوگی۔سٹاک مارکیٹ گزشتہ 65برسوںکے تمام ریکارڈ توڑتی ہوئی اوپر ہی اوپر جارہی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 May 13

اپنوں سے بات کیوں نہیں

Click here to View Printed Statement

(ڈاکٹرمرتضیٰ مغل)ڈالرز اور ڈرونز کا کھیل اب اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔بارہ برس قبل وہ سامان حرب جسے امریکی جنگی اڈوں سے اٹھا کر افغانستان کے طول وعرض میں پھیلایا گیا تھا اب سمٹ کر بڑے بڑے کنٹینرز پر لاد کر واپس امریکہ بھجوانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔لاکھوں بے گناہ افغانی بچے عورتیں اور بوڑھے آگے اگلتے ٹینکوں سے بھون ڈالے گئے۔ کروڑ کے لگ بھگ دنیا کے غریب ترین لوگ اپاہج کردیئے گئے۔کتنی عورتیں بیوہ ہوئیں’کتنے بچے یتیم ہوگئے۔2014ء سے پہلے ہی امریکی فوجیوں کا انخلاء شروع ہوگیا۔قابض فوجیوں کی نامراد واپسی کا منظر بڑا ہی عبرتناک ہے۔ ایک افغانی بچہ کنٹینرز پر رکھے ٹینک کے اوپر چڑھتا ہے’ہاتھ فضاء میں لہراتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 May 13

اعتماد کرنا بھی سیکھیں

Click here to View Printed Statement

بے پناہ اور اکثر اوقات غیر ضروری معلومات تک بہ آسانی رسائی نے ہر بالغ پاکستانی کو مستقل ناقد بنا دیا ہے ۔ جس کو دیکھو جہاں دیکھو تنقید ہی تنقید ہورہی ہے۔ اس تنقیدی فضا کا نقصان بہت ہورہا ہے۔ اور وہ نقصان یہ کہ آج کا کوئی بھی بالغ پاکستانی کسی پر کسی طرح کا اعتماد کرنے کو تیار نہیں بلکہ اس کی ذہنی کیفیت ایسی ہوگئی ہے کہ خود فرد کو اپنے کئے ہوئے عمل پر بھی اعتماد نہیں رہا۔
بداعتمادی نئے نئے طرزکے رَدِعمل سامنے لارہی ہے۔ہم نے جن کو ووٹ دیئے ہمیں ان کی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں ۔ ہم نے جن کیخلاف ووٹ ڈالا ان کی مخالفت پر شک ہے۔ بے یقینی ایسے پھیلی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس سب سے عظیم مخلوق کی’’ By Default‘‘ قسم کی خوبیوں پر بھی یقین نہیں رہا۔آگ جلاتی ہے اس کا یقین ہے‘پانی بہاتا ہے اس پر بھی یقین ہے‘مٹی اگاتی ہے اس کا بھی یقین ہے لیکن انسان بہتری لاسکتا ہے‘بگڑے معاملات سنوار سکتا ہے‘اصلاح احوال کرسکتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 May 13

حوصلہ مند قوم

Click here to View Printed Statement

بڑے دِل گُردے کی بات ہے۔دہشتگردی نے کتنے گھر اُجاڑ دیئے۔کوئی مقام ایسا نہیں جہاں خون نہ بہایا گیا ہو۔خون بہانے والے کھل کر کھیلے اور آئندہ بھی شائد وہ غارت گری کی اسی راہ پر چلتے رہیں۔کوئی بھی ایسی سیاسی پارٹی نہیں جس کے جسد کو بموں اور گولیوں نے چھلنی نہ کیا ہو۔کوئی بڑی سیاسی شخصیت ایسی نہیں جسے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر خوف میں مبتلا نہ کیاگیا ہو۔عام پاکستانی جلسے جلوس میں جانے سے پہلے کئی بار سوچتا رہا کہ وہ واپس آئے گا بھی یا نہیں۔انتخابات کی گہماگہمی اوربموں کی پوچھاڑ ساتھ ساتھ چلتی رہی۔بمبار ہارے نہ ہی عوام نے حوصلہ چھوڑا۔اتنے بڑے خطرات مُول لیکر اس انتخابی نظام میں لوگ آخر کیوں حصہ دار بنے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 13 May 13

لیڈروں کی بدکلامیاں

Click here to View Printed Statement

بچے بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔پیروکار اپنے لیڈروں اور رہنمائوں سے رنگ پکڑتے ہیں۔پیروکاروں کے مزاج اور طرز تکلم سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا لیڈر کیسا ہوگا اور لیڈر کے رویے اور انداز گفتگو سے اس کے پیروکاروں کی ذہنی کیفیت کا اظہار ہوجاتا ہے۔آجکل فیس بک پر سیاسی تنازعات اور فکری اختلافات کے حوالے سے ایسا ایسا مواد سامنے آرہا ہے کہ پبلک ٹائلٹس پر لکھی تحریریں بھی شرما جائیں۔نوجوانوں کی ایک سیاسی پارٹی نے تو انتہا کردی ہے۔وہ مخالف سیاسی تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں پر باقاعدہ حملہ آور ہوتے اور دشنام طرازیوں کے ساتھ یلغار کرتے ہیں۔طفلان انقلاب کا تعلق پسماندہ طبقات سے نہیں کہ وہ تہذیب اور سلیقہ کی ہر حد کو پھلانگ جائیں بلکہ زیادہ تر مڈل کلاسیے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 May 13

آرزو ہے تجھے دیکھا کروں

Click here to View Printed Statement

کائنات کا دولھا انسان اللہ پروردگار عالم کی تخلیق کا بہترین شاہکار ہے۔ رب کائنات نے اسے نعمتوں کے اتنے انبار عطا فرما دیے کہ جنہیں دیکھ کر ذرا سا غور کرنے پر ہمیں اللہ نظر آنے لگتا ہے۔ اللہ خود اپنے کلام میں فرماتا ہے”تمہارے نفوس میں میری نشانیاں موجود ہیں تو کیا تم ان پر غور نہیں کرتے“۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Apr 13

خدمت خلق میں سرمایہ کاری

Click here to View Printed Statement

ہم کاروبار اس لئے کرتے ہیں تاکہ منافع کما سکیں اور اپنی روزمرہ ضروریات کو پورا کرتے ہوئے بہتر سے بہتر معیار زندگی حاصل کرسکیں۔شائد ہی دنیا میں کوئی ایسا شخص ہو جوخسارے کے لئے کاروبار کرتا ہو۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کاروبار سے منافع نہ کمایا جائے بلکہ منافع کا جذبہ ہی کاروبار یا تجارت کی کامیابی کا بنیادی سبب ہے۔ ایک حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دولت کے دس حصوں میں سے نو حصے کاروبار یا تجارت میں رکھ دیئے ہیں۔ جو شخص کاروبار کرتا ہے وہ دراصل رب العالمین کی ربوبیت کے کارعظیم میں حصہ بھی ڈالتا ہے۔ارتکاز دولت کو ختم کرنے کا ذریعہ بھی کاروبار ہی ہے کہ اس عمل میں انسان اپنے لئے ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ چلنے والوں کے لئے بھی کماتا اور تگ و دو کرتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Apr 13

نیک لوگ کب آئیں گے؟

Click here to View Printed Statement

سابق طالب علم رہنما اور ضیاء الحق مرحوم کی آمریت کیخلاف آواز بلند کرنے کے جرم میں قید اور تشدد سہنے والے شفاف سیاست کے ماتھے کا جھومر لیکن آج کی لوٹ مار کی سیاست میں مکمل طور پر ”نااہل” ہمارے دوست محترم ناصر مغل صاحب جب موجودہ حالات کی سنگینی سے اکتا جاتے ہیں توتڑپ کر پوچھتے ہیں”’مرتضیٰ بھائی نیک لوگ کب آئیں گے؟۔یہ وہ سوال ہے جو ہر سچے انسان اور کھرے پاکستانی کے ذہن میںکُلبلاتا رہتا ہے۔ اس بنیادی سوال کا جواب دینے کے لئے انفرادی اور اجتماعی طور پرہر دور میں کوشش کی گئی ہے۔روز اول سے صالح اور نیک سیرت لوگوں کی یہی خواہش رہی ہے کہ ان کے حاکم وہ لوگ ہوں جو ایمانداری اورصلاحیت کے معیار پر پوراتریں امین ہوں’ نوع انسانی سے محبت کریں اور عوام کی مشکلات بڑھانے کی بجائے کم کریں۔قرآن حکیم نے ایسی صالح قیادت کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا”’اور جب انہیں زمین پر اقتدار دیا جاتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Apr 13

قائداعظم کا پاکستان…اسلامی فلاحی ریاست

Click here to View Printed Statement

ہمیںپی پی حکومت کا مشکور ہونا چاہیے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی سالگرہ سرکاری طور پر منانے کا اہتمام ہوا ہے۔
گزشتہ 65 برسوں میں ہم نے اتنے قائد بنا لئے ہیں کہ اپنے اصل قائد کو بھول ہی گئے ہیں۔ بلکہ آمریتوں کے ادوار میں جان بوجھ کر قائداعظم کی سالگرہ اور برسیوں پر خاموشی اختیار کی گئی۔ پرویز مشرف کے دور میں آمریت کے کاسہّ لیس اورشاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروںنے پاکستان کے کرنسی نوٹوں سے بانی پاکستان کی تصویر ہٹا کر جنرل پرویز کی تصویر لگانے کا پورا منصوبہ بنالیا تھا۔ نمونے کے طور پر ایسے نوٹ تیار بھی ہوگئے تھے۔آج بھی قائداعظم کی ذات اور ان کے افکار کو متنازعہ بنانے کا ٹھیکہ لنڈا بازار کے دانشوروں کو دے دیا گیا ہے۔ ایسی ایسی بولیاں سنائی گئیں کہ کان پھٹنے کو آگئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانان ہند نے یہ ملک مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ چند امریکی غلاموں کی ناجائز خواہشوں کی بارآوری کیلئے بنایا تھا۔
”پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ اللہ” والے نعرے کا تمسخر اڑایا جارہا ہے۔ اسلام کا حوالہ مٹانے کی ہر کوشش کی جارہی ہے۔ ایک گروپ نے امریکیوں کے اشارے پر ”اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں سے اسلام کا لفظ حذف کرنے کی رٹ لگانا شروع کررکھی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہمارے دوست کالم نگار بیگ راج نے کہیں لکھ دیا ہے ”اگر آج قائداعظم زندہ ہوتے…” تو بگرام ایئربیس پر امریکیوں کی قید میں ہوتے”

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Mar 13

محب وطن صنعت کار

Click here to View Printed Statement

”شوگر سے شوگر نہیں ہوتی۔انسانی جسم میں ایک خاص حد تک ہی شوگر جذب ہوسکتی ہے۔ اس قدرتی حد سے بڑھیں گے تو انسانی نظام ہضم خود بخودا کتاہٹ محسوس کرنے لگے گا۔ یہ محض ڈاکٹروں کا پراپیگنڈہ ہے کہ چینی کھانے سے شوگر کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔ اس بیماری کے اسباب کچھ اور ہیں لیکن عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے یہ سستاسا نسخہ گھڑلیا گیا ہے”۔
ملاقات شروع ہی ہوئی تھی کہ سکندر خان اپنے دبنگ لہجے میں شوگر انڈسٹری کو نقصان پہنچانے والے سرکاری اور غیر سرکاری اقدامات کا احاطہ کرنے لگے۔آل پاکستان شوگر ایسوسی ایشن کے سابق صدر اورخیبرپختونخواہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق چیئرمین سکندر خان معروف صنعت کار گھرانے کے چشم وچراغ ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے صنعت کاروں کے اندر حکمرانوں کے سامنے بات کرنے کا حوصلہ پیدا کیا ہے اور وہ قومی سطح کے متعدد فورموں پر صنعت کاروں کے مسائل اور پریشانیوں سے پالیسی ساز اداروں کے سربراہوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Mar 13

عورت کا تقدس و احترام

Click here to View Printed Statement

JANG LAHORE IQRA PAGE

کہا جاتا ہے کہ دور جاہلیت میں عورت اللہ تعالیٰ کی مظلوم مخلوق تھی۔معاشرے میں اسے سخت حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ طرح طرح کے توہمات اس کی ذات کے ساتھ وابستہ کئے جاتے تھے۔گھروں میں باندیوں سے بدترسلوک اس کا مقدر تھا۔ سوسائٹی میں رائے مشورے اور تنقید و احتساب کا حق اسے قطعاً نہ تھا۔ بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد نہ تھی۔وراثت میں بھی اس کا حصہ نہ تھا۔زندگی کے کسی شعبے میں بھی اس کی شہادت قابل قبول نہ تھی۔ حد تو یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی عورت کو زندہ قبر میں گاڑھ دیا جاتا تھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Mar 13

انتخابی بُخار

Click here to View Printed Statement

تینوں چیف متفقہ طور پر قوم کو یقین دلا چکے ہیں کہ انتخابات ہر حال میں ہو کر رہیں گے۔ چیف جسٹس نے فرمایا ہے کہ لوگ ایسے خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیں جن میں انتخابات کے التواء کے حوالے سے کوئی جھلک ہو۔آرمی چیف نے فوجی لب ولہجے کی قطعیت کے ساتھ ایک بار پھر واضع کردیا ہے کہ قوم جس طرح کے چاہے نمائندے منتخب کرے’فوج جمہوریت کا ساتھ دے گی۔ چیف الیکشن کمیشن کے دفتر کی رونقیں بحال ہوچکی ہیں اور وہ کراچی میں غیر لسانی بنیادوں پر انتخابی حلقہ بندیوں میں پھر سے مصروف ہوگئے ہیں۔تینوں چیف کی متواتر یقین دہانیوں کے بعد محترم طاہر القادری کی طرف سے انتخاب کے انعقاد کو حقیقت کے طور پر قبول کر لیاگیا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 Mar 13

قاضی’مسیحا اور سالک

Click here to View Printed Statement

یہ ایک انوکھی تقریب تھی۔آج پاکستان میں ہر طرف خون کی آندھیاں چل رہی ہیں اور پورا ملک قتل گاہ بن چکا ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیںاورغیر مسلم سہمے ہوئے اپنی جانیں بچانے کی غرض سے ہمسایہ ممالک میں پناہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔مولوی’ مفتی’علامہ’ قاری اور قاضی اور قادری کا نام آتے ہی ایک عجیب سا خوف دامن گیر ہوجاتا ہے ‘مذہب’مدرسہ’ مسجد’جبہ و دستار اور منبرومحراب دہشت کی علامتیںبنا دی گئی ہیں۔کون’ کب’ کہاں کسی کو موت کے گھاٹ اتار دے کچھ اندازہ نہیں ہوسکتا۔شیعہ محفوظ نہ دیوبند ی پرسکون۔یہ تو مسلمانوں کے مختلف مسالک کا حال ہے’ بیچارے غیر مسلم کہاں اور ان کی صدائیں کہاں۔ ایسے خونیں حالات میں جہاں اعتماد اور اعتقاد دونوں مشکوک ہوجائیں وہاں قاضی حسین احمد مرحوم کی یاد میں تقریب گویا نفرتوں میں جلتی ملت کے لئے تھوڑی دیر سستانے اور ذہنی طور پر پاکیزگی اختیار کرنے کا ایک نادر موقعہ تصور کیا جانا چاہیے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Feb 13

ماڈلنگ…عورت کی تضحیک

Click here to View Printed Statement

Jang Lahore Iqra Page

آجکل فحاشی اور عریانی کے ہر مظہر کو ملفوف بنا کر مارکیٹ کرنے کا رواج چل پڑا ہے۔عورت کو حیا اور پاکیزگی کے ماحول سے نکالنے کے نت نئے طریقے ایجاد ہوگئے ہیں۔بدقسمت عورتیں ہیں جو اپنی ناسمجھی یا کسی مجبوری کے سبب ابلیسی دماغوں کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس جاتی ہیں اور پھر ”پبلک پراپرٹی” بن کر اپنے تقدس کو چند ٹکوں کے عوض دربدر نیلام کرتی پھرتی ہیں۔ پاک دامن بچیوں اور بیبیوں کو چکا چوند کردینے والے مناظر کے پیچھے چھپے غلیظ کاروبار سے آگا ہ کرنا جہاں والدین کا فرض اولین ہے وہیں قلم کار وں اور دانشوروں کو بھی اس پھیلے ناسور کا ادراک ہونا چاہیے۔ خوبصورت لباس زیب تن کرنا ہر ذی روح کی قدرتی خواہش ہے اور زیورات اور بنائو سنگھار عورت کی شدید ترین آرزو ہوتی ہے ۔بوتیک پر بکنے والے لباس کے ساتھ اگر کسی ہیروئن یا ماڈل کی تصویر ہو تو کاروبار خوب چمک جاتا ہے ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Feb 13

گوادر’چین اور بھارت

Click here to View Printed Statement

یہ توفیق کی بات ہے ۔اللہ نے موجودہ حکومت کو یہ توفیق بخشی اور کابینہ کے دستخطوں سے پاکستان کی بہتری کا ایک اور بندوبست ہوگیا۔2002ء میں بحیرہ عرب میں گوادر کے مقام پر گہرے پانیوں میںخطے کی ایک بڑی بندرگاہ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ چین کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے تختی کی نقاب کشائی کی تھی۔بندرگاہ کی تعمیر کے لئے سرمایہ چین نے فراہم کیا تھا اور عمومی رائے یہی تھی کہ تعمیر کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد بندرگاہ کے انتظامات بھی چین سنبھالے گا۔ لیکن امریکی دبائو کے سامنے پرویز مشرف صاحب حسب روایت ڈھیر ہوگئے اور سنگاپور کی ایک کمپنی کو انتطامات سونپ دیئے گئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Feb 13

سب سے بڑی اور بُری جمہوریت

Click here to View Printed Statement

ان لوگوں سے پیشگی معذرت جنہوں نے جمہوریت کو مذہب کا درجہ دے رکھا ہے۔مغربی جمہوریت کے شاہکار سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔یورپی ممالک میں اب شہریوں کی فلاح و بہبود کے بجائے ہم جنس پرستوں کے شیطانی حقوق ایشو بن چکے ہیں۔امریکہ کی ایک ریاست میں ”چکلے” چلانے والے ایک بدکار کو گورنر بنایا گیا ہے۔ یہی نہیں امریکی حکومت خصوصاً صدر ابامہ مجبور ہے کہ وہ طاقتور حزب اختلاف  کے دبائو کے سامنے سرنڈر کرجائے اور جنگ بندی کی خواہش کو ترک کرکے نئی جنگوں کی گنجائش پیدا کرے تاکہ امریکی اسلحہ ساز اور آئل کمپنیوں کا بزنس چلتا رہے۔خود پاکستان کے اندر جمہوریت کے پردے میں جو لوٹ مار ہورہی ہے اس کے تذکروں سے اخبارات بھرے پڑے ہیں۔’

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Feb 13

ثقافتی دہشتگردی

Click here to View Printed Statement

ثقافت کی کوئی متفقہ تعریف وقت کی زیاں کاری ہے ۔ایک حقیقت متفقہ ہے کہ ثقافت عقائد سے جنم لیتی ہے۔ اس فارمولے کی مدد سے ہم یورپی’ بھارتی اور پاکستانی ثقافتون میںواضح تفریق کرسکتے ہیں۔ایک عام مسلمان پاکستانی کا عقیدہ کیا ہے۔قرآن کتاب ہدایت ہے اور سیرت رسولۖ اس ہدایت کا نمونہ ہے۔کسی گئے گزرے مسلمان سے بھی پوچھ لیں اسے ایمان کے اس درجے پر آپ ضرور پائیں گے۔پاکستان میں ننانوے فیصد مسلمان ہیں اور وہ اپنی سوچوں میں اسلامی تعلیمات کو ہی اپناذریعہ ہدایت اور وجہ نجات سمجھتے ہیں ۔
ان کی سوچ میں مرد و زن کے وہی رشتے مقدس ہیں جنہیں اسوہ رسولۖ نے مقدس ٹھہرایا ہے۔ لباس’چال چلن’رہن سہن اور بول چال کے جو معیار رات قرآن نے طے کردیئے ہیں ‘ عامتہ الناس ان معیارات کو ہی اعلیٰ اخلاقی اقدار کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم بحیثیت مجموعی ثقافت کی کسی ایسی تشریح کو ماننے پر تیار نہیں جو قرآن وسنت کے صریحاً خلاف ہو۔عمل کی بات نہیں میں یہاں ایمان اور عقیدے کی بات کر رہا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہمارے ٹی وی سکرینوں پر کوئی منظر’کوئی ڈائیلاگ’کوئی کہانی ‘کوئی فوٹیج ایسی دکھائی دیتی ہے جوہماری عظیم اسلامی اقدار کے خلاف ہو تو ناظرین اور سامعین کا بلڈپریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ وہ بیزاری کا اظہار کرتے ہیں لیکن تفریح و معلومات کا کوئی متبادل انتظام نہ ہونے کے سبب دلگرفتگی کے عالم میں چپ سادھ لیتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Feb 13

شیخ الاسلام کی مخالفت کیوں؟

Click here to View Printed Statement

جتنے منہ اُتنی باتیں۔سازشی نظریے بے شمار’ہوائی تجزیے ہزار ہا۔فلسفیانہ پہلوئوں پر بحث و تحمیص تھمنے کا نام نہیں لیتی۔دانشوروں کا ایک گروہ مصرکہ اس سارے ”ڈرامے ”کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا۔دوسرا گروہ بعض ہمسایہ اور دوست ممالک کو چھپا ہوا ہاتھ قرار دے رہا ہے۔ہر کوئی لانگ مارچ کی گتھی سلجھانے میں مصروف ہے لیکن  بدنیتی  کے سبب نہ ڈور سلجھی ہے
نہ سرا ہاتھ آیا ہے۔تحریک منہاج القرآن والے کیوں دبک کر بیٹھ گئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Jan 13

دہر میں اسم محمد ۖ سے اجالا کر دے

Click here to View Printed Statement

JANG LAHORE IQRA PAGE

NAWA-I-WAQT KARACHI MILLI EDITION

آج انسانیت مجموعی طور پر انتشار کا شکار ہے ۔تمام تر ترقی ‘خوشحالی تعلیم اور علم کے باوجود ساڑھے چھ ارب انسان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اس کرہ ارض کو نہ ختم ہونے والے فتنوں میں مبتلا کردینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔کوئی ایسا خطہ نہیں جو جنگ و جدل سے پاک ہو۔ جہاں انسان انسان کو کاٹ نہ رہا ہو۔ جہاں آدم آدم کو لوٹ نہ رہا ہو امیر غریب کو کھائے جارہا ہے۔ باوسیلہ دنیا بے وسیلہ بستیوں کو اجاڑ رہی ہے۔تقابل کا فلسفہ اپنے تمام تر منفی معنوں کے ساتھ نسل انسانی کی تباہ کاریوں میں کارفرما ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Jan 13

کپتان اور قادری

Click here to View Printed Statement

کب سوچا تھا کپتان اور اس کی ٹیم نے۔ابھی کھیل شروع ہی نہیں ہوا تھا کہ ٹیم کی نامزدگی ہی مشکوک ہوگئی۔ مقابلہ میں حصہ لینے والی متوقع ٹیموںمیں کپتان کا نام تیسرا تھا لیکن حالات کی ستم ظریفی کہ قادری فیکٹر اچانک ظہور پذیر ہوا اور ”سپورٹس بورڈ” نے کپتان کے نام کی تختی ہٹا کر وہاں قادری کے نام کا بورڈ لگا دیا ہے۔ ملکی سیاست میں تیسری متوقع قوت اب عمران خان اور ان کی تحریک انصاف نہیں بلکہ ڈاکٹر طاہر Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Jan 13

منور دل روشن دماغ

Click here to View Printed Statement

عام آدمی خاص کیسے بن جاتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو تگ ودو کی زندگی گذارنے  والے ہر صاحب شعور کو بے چین رکھتا ہے۔” مطالعہ’مشاہدہ اور ملاقات” یہ وہ تین ہتھیار ہیں جن سے لیس ہو کر راقم اپنی معلومات کے دائرے کو وسعت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ جناب منور مغل کا نام اکثر قارئین کے حافظہ میں محفوظ ہوگا۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے جناب مغل سے مفصل گفتگو کا کبھی موقعہ نہیں ملا۔لیکن میری خوش بختی کہیے کہ گزشتہ دنوں یہ موقع میسر آگیا۔فون کرنے پر جواب آیا کہ ابھی جائیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Jan 13

قیادت کا فقدان

Click here to View Printed Statement

یہ بات کم و بیش اب ہر پاکستانی کی زبان پر ہے کہ یہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ گزشتہ چار ساڑھے چار برس میں یہ پروپیگنڈہ اب لوگوں کے اندر یقین بن کر اتر گیا ہے اور خواص اور عوام دونوں ہی اس سوچ کے حامی دکھائی دینے لگے ہیں کہ بلوچستان ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔کہا جارہا ہے کہ بلوچستان میں ہم نے بہت ظلم ڈھائے ہیں۔بلوچ کبھی بھی کسی کے ماتحت نہیں رہے۔پنجاب دو نہیں تین حصوں میں تقسیم ہوگا۔پنجاب تقسیم ہوا تو کراچی سندھ سے الگ ہو کر اپنی آزادانہ حیثیت کا اعلان کردے گا۔ صوبہ خیبرپختونخواہ کے نام تبدیل کرنے سے ہزارہ وال اپنا تشخص کھو بیٹھے ہیں اور اب وہ اپنا صوبہ مانگ رہے ہیں اگر ہزارہ الگ ہوگیا تو پھر پختون بلوچستان کے پختون علاقوں کے ساتھ ملکر افغانستان کے ساتھ الحاق کر لیں گے۔ جس ملک میں روزانہ بارہ ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہو وہ مالی طور پر بہت جلد ڈیفالٹ کرجائے گا۔اگر الیکشن ہو بھی گئے تو ملکی معاملات ابتری کی طرف ہی بڑھتے رہیں گے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Dec 12

”حج ‘حاجی اور خادمین حرمین”

Click here to View Printed Statement

حاجیوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لئے آل سعود ہمہ تن مصروف عمل رہتی ہے ۔بیت اللہ اور مسجد نبویۖ کی توسیع کا عمل جاری رہتاہے۔طواف کعبہ کے لئے آسانیاں فراہم کی جارہی ہیں۔ سعودی عرب کے حکمران یوں تو بادشاہ ہیں لیکن امت مسلمہ کے لئے ان کا مقام اور احترام اس قدر بلند وبالا ہے کہ ہم انہیںخادمین حرمین شریف کے لقب سے پکارتے ہیں۔ ان کے اس ارفع مقام کا واحد سبب یہ ہے کہ وہ کعبة اللہ اورمسجد نبویۖ کی خدمت پر مامور رہتے ہیں۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ آل سعود کی حکمرانی کو دوام بخشے اور جمہوریت کے نام پر ان کے خلاف آئے روز ہونے والی سازشوں کوناکام فرمائے۔ مسلم دنیا میں واحد اسلامی مملکت ہے جس کو ہم فلاحی اسلامی ریاست کہہ سکتے ہیں۔ خدا جانے نمونے کی اس ماڈل ویلفیئر اسٹیٹ کومظاہروں کے ذریعے غیر مستحکم کرنے والے خفیہ ہاتھ کیا چاہتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Dec 12

کیا نوازشریف آرہا ہے؟

Click here to View Printed Statement

ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے کلین سویپ کیا ہے ۔عموماً ووٹرز ان انتخابات سے دور رہتے ہیں کیونکہ منتخب ہونے والے کا عرصہ اقتدار ایک سال یا چند ماہ کا ہوتا ہے’جیتنے والے کو بھی چند ہزار ووٹ پڑتے ہیں اور ہارنے والا بھی کچھ زیادہ  دل گرفتہ نہیں ہوتا۔ لیکن دسمبر کے ضمنی انتخابات میں جیتنے اور ہارنے والے دونوںجنرل الیکشنز جیسے انتخابی معرکے سے دوچار ہوئے۔ انتخابی حلقوں کے اندر جوش و خروش بھی بھرپورتھا۔گویا فریقین نے پورا پورا زور لگایا اور ووٹروں کو پولنگ بوتھ تک پہنچانے کے تمام تر جتن بھی کئے۔مسلم لیگ(ن) کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے والی (ق) لیگ اور پی پی پی کو یقیناً اپنے ووٹ بینک کے دیوالیہ ہونے کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔اب وہ کس طرح اس ووٹ بینک کو ووٹوں سے بھرتے ہیں اس کے لئے ان کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔پی پی پی کا خیال ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Dec 12

غیرت پر یلغار

Click here to View Printed Statement

ہمارے صدر اور وزیراعظم کو خیال نہیں آیا لیکن ترک صدر عبداللہ گُل نے وضاحت کر دی کہ پاکستان کے ایک ٹی وی  چینل پر دکھایا جانے والا ترک ڈرامہ ترک معاشرے کی ہر گز  عکاسی نہیں کرتا ” یہ ہماری تہذیب نہیں ہے” ترک صدر نے جب اُردو ٹی وی پر چلائے جانے والے ڈرامے”عشق ممنوع” کے تھیم اور ناپاک رشتوں کی پروموشن کو دیکھا تو انہوں نے فوراً ترک ڈرامہ کمپنی کے خلاف تحقیقات کا حکم بھی صادر فرما دیا۔پاکستان کے ٹی وی چینلزایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے ہر وقت زنا بالجبر، ڈاکے، قتل، ملک ٹوٹ جانے کی

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Dec 12

دونوں کیوں شکرگزار ہیں؟

Click here to View Printed Statement

راتوں رات تبدیلی نہیں آسکتی۔ سالوں سال بھی تبدیلی شائد نہ آسکتی ہو، لیکن یہ تو نصف صدی پر محیط المیوں اور قومی سانحوں کا دلخراش سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ فوج اور سیاستدان۔ سیاستدان اور فوج۔ دونوںایک دوسرے کیلئے میدان سجاتے رہے ہیں’ ایک دوسرے کیلئے جواز پیدا کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب کی بار سیاستدان خاصے ہوشیار دکھائی دے رہے ہیں۔ جناب ڈاکٹر علامہّ طاہر القادری صاحب ” سیاست نہیں ریاست بچائو”کا نعرہ لے کر میدان میں اترے ہیں اور وہ ریاست بچانے کیلئے اُسی طاقت کو بُلا رہے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Dec 12

پانی تو ہمارا ہے

Click here to View Printed Statement

آج کل کالا باغ ڈیم کا ایشو پورے زوروشور کے ساتھ زیر بحث ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد قومی سیاست دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے ۔سال دو سال قبل ڈیم کے بارے میں بات کرنا گناہ عظیم بن چکا تھا۔ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس بندیال نے اپنے فیصلے میں حکومت کو مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔اب بال حکومت کے کورٹ میں ہے۔ وہ چاہے تو اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے’ چاہے ڈیم کے ایشو کو دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جائے’ کوئی نہ کو ئی و اضح حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 04 Dec 12

میں متکبر نہیں ہوں

Click here to View Printed Statement

تکبّر اور غرور انسانی بیماریوں میں سے انتہائی خطرناک بیماری ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے” خدا تکبّر کرنے والے اور بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا”۔تکبّر کرنے والے بدقسمت شخص کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ تندخو ہوتا ہے۔نرم گوئی ‘شفقت’دلنوازی اور درگزر سے کام لینے کی صلاحیت چھن جاتی ہے اور بیگانے تو بیگانے اس کے اپنے بھی اس کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ عام شخص تو تکبّر اور غرور کی حالت میں مبتلا ہو کر صرف اپنی ذات کا نقصان کرتا ہے لیکن جس شخص کو امت اور قوم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا ہو اس کے لئے یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی اوراس کا قافلہ بددل ہو کر بکھر جاتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 03 Dec 12

بد عنوان حکمران …غیر محفوظ پاکستان

Click here to View Printed Statement

امریکی پالیسی سازوں کو خوش ہونا چاہے کہ انہوں نے ٹھیک کر دینے کے جو فارمولے پاکستان پر آزمائے ہیں وہ پوری طرح کارآمد ثابت ہوئے ہیں اور نتجتاََ یہ ملک اب دُنیا کا ساتواں بدعنوان اور غیر محفوظ مُلک بن چُکا ہے ۔ مالی طور پر غریب ترین، انتظامی طور پر کرپٹ ترین، عدلیہ ناکام ، انتظامیہ بے جان کم از کم اب یہ ایسا مُلک نہیں رہا  جہاں سکون سے سویا جا سکتا ہو، جہاں رشوت دئیے بغیر بچہ سکول داخل کرایا جا سکتاہو۔ غیر محفوظ اس قدر کی جھاڑیاں بھی دہشت گرد دکھائی دیتی ہیں۔ ہر طرف خون ہے، خوف ہے، بھکاری ہیں، بھوک ہے۔ قدم قدم پر نا انصافی ہے، انا رکی ہے، خانہ جنگی ہے اور جنگی مزاج ہے!نائن الیون کو ٹوئن ٹاورزاڑانے والوں میں ایک بھی پاکستانی نہیںتھا لیکن 2002ء کے بعد سے اب تک ہر پاکستانی کو نفسیاتی ، مالی اور ثقافتی طور پر اذیتناک سزادی گئی ہے اور دی جا رہی ہے۔ پہلے والے زخم مند مل ہونے کا نام نہیں لیتے اور اَب یہی امریکہ پاکستانی قوم کو”تعلیم یافتہ” بنانے پر تُل گیا ہے۔ یوایس ایڈ اب ایسی قوم کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کرنے جا رہی ہے جس کا آغاز ہی ”اقرائ” سے ہوا تھا ۔ دس برس بیت گئے ،بجلی ناپید ، گیس غائب، روزگار روٹھ گئے خُدا جانے امریکی ڈالرز جاتے کہاں ہیں۔ سو ڈالر آتا ہے اور ڈیڑھ سو ڈالرز نچوڑ لئے جاتے ہیں۔ جب امریکہ جیسا مُلک دوست ہو تو پھر دشمن کی ضرورت ہی کیا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 30 Nov 12

”فرعون صحافی”

Click here to View Printed Statement

کسی کی گردن میں بھی تکبر کا سریا ہوسکتا ہے۔ ہمارے بزرگ دانشور مرحوم نسیم انور بیگ فرمایا کرتے تھے کہ تکبر ایک ایسی بیماری ہے جو گردن کو پیچھے سے آلیتی ہے اور انسان بوقت ضرورت بھی گردن نیچے نہیں کرپاتا۔ پاکستان کے صحافیوں کا مجموعی مزاج بڑی حد تک ”برخودارانہ” ہے۔سچ بولتے’ لکھتے اور دکھاتے وقت پوسٹمارٹم تو ہوتا ہے لیکن پھر بھی جمع کا صیغہ استعمال کرکے ذاتی پسند و ناپسند کو ”اشو” اور بعض اوقات ”قومی اشو” کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ اس سے انفرادی حملہ بھی اجتماعی قبولیت کی سند حاصل کرلیتا ہے۔ یہ سلیقے کی بات ہے اور پاکستان میں استاد صحافی بہرحال اس سلیقے سے مسلح رہتے ہیں۔پاکستانی صحافت کو مصری صحافت سے بہت بہتر قرار دیا جاسکتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 24 Sep 12

پاک بھارت دوستی اورمولانا کا پْرمغز بیان

Click here to View Printed Statement

پاک بھارت دوستی کی اس قدر دھول اڑائی جارہی ہے کہ دوست دشمن کا چہرہ  پہچاننا مشکل ہوگیا ہے۔سرکاری ٹی وی پر بھی بھارتی اشتہارات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔کترینہ کیف اور سیف ہمارے ٹی وی چینلز کے اندر خون بن کر دوڑ رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری سوچ اور عقل کے سارے دھارے اب سرحد پار سے پھوٹتے ہیں اور ہم یہاں بیٹھے انہی لفظوںاورانہی استعاروں کی مالا جپتے اور ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ہمارا مقبول ترین سلوگن اب ”نچ لے” بن چکا ہے۔ملی غیرت اور قومی حمیت جیسے الفاظ لکھنے اور بولنے پر دْشنام طرازیوں کے پے در پے وار سہنے پڑ رہے ہیں۔”چھڈوجی پاگل جے” یہ ہے بھارت نواز دانشوروں کی وہ پھبتی جو ”امن کی آشا” اور ”مفادات کی فحاشہ” پر تنقید کرنے پر کسی جاتی ہے۔امن کس کو نہیں چاہیے؟پاکستانیوں کو امن کی جس قدر ضرورت ہے شائد دنیا کی کسی اور قوم کو ہو۔ جہاں ہرروز خون بہتا ہو’لاشے گرتے ہوں’ روحیں تڑپتی ہوں اور بے یقینی ایمان شکنی کی حدیں چھونے لگے وہاں امن کی خواہش کون نہیں کرے گا۔ہمسایوں کے ساتھ پْرامن رہنا ہمسایوں سے زیادہ ہماری ضرورت ہے۔لیکن کیا لفظ امن امن کی گردان کرنے سے امن قائم ہوجاتا ہے؟ آزمودہ قول ہے کہ ظلم اور امن ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ظلم رہے اور امن بھی ہو یہ ناممکنات میں سے ہے۔مظلوم وقتی طور پر ظلم کے سامنے دب سکتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Sep 12

جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل

Click here to View Printed Statement

متحدہ مجلس عمل کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ جماعت اسلامی ہی ہے۔ اب کی بار جماعت کے رہنماء صوبائی کی بجائے قومی سیاست میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔جماعت اسلامی نے ملک کی سیاسی اور جہادی تاریخ میں ہمیشہ عمل انگیز کا کام کیا ہے۔جماعت اسلامی کے تھنک ٹینک اب مصر’تیونس اور ترکی کے تجربات کو پاکستانی سیاست میں آزمانے کے لئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔سولو فلائٹ کی بجائے ہمخیال سیاسی جماعتوں کا اتحاد ان کا سیاسی فلسفہ دکھائی دیتا ہے ۔ اس لئے مولانا فضل الرحمن اگر جماعت اسلامی کے تمام مطالبات مان بھی لیں تو بھی اب کی  بار متحدہ مجلس عمل بحال نہ ہوپائے گی۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Sep 12

اقوام متحدہ کا مشن …ملک دشمنوں کا جشن

Click here to View Printed Statement

کیا کہنے وزارت خارجہ کے۔یہ واقعی خارجیوں کی وزارت ہے۔فارن نہیں فارنرز منسٹری ہے۔ایسی کونسی قیامت آگئی تھی کہ اقوام متحدہ کے مشن برائے انسانی حقوق کے وفد کو خود اسلام آباد نے ہی دعوت دے ڈالی کہ آئو اور دنیا بھر میں ہماری جنگ ہنسائی کے اسباب اکٹھے کرو! کوئی نہ کوئی ایسی رپورٹ تیارکروکہ دنیا کو بتایا جاسکے کہ پاکستان کے اندر افواج پاکستان اور ایجنسیاں اپنے ہی لوگوں کو اٹھا رہی ہیں’قتل کر رہی ہیں۔ انسانی المیہ  جنم لے رہا ہے اور اگر عالمی طاقتوں نے پاک فوج ‘آئی ایس آئی اور ایف سی کیخلاف اپنی فوجیں بلوچستان میںنہ اتاریں تو پھر بلوچ نسل ختم ہوجائے گی۔ پاکستان کے اندرایسے کونے انسانی حقوق پامال ہورہے ہیںکہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کو اپنا چار رکنی وفد بھیجناپڑا ہے ۔؟ کس شیطانی ذہن کا منصوبہ ہے؟تف ہے ایسی سوچ پر’ایسے ذہنوں پر ایسے وزیروں مشیروں پر اور ایسی وزارت پر جو اپنے ملک کا کھاتی ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Sep 12

بڑا ڈیم کیوں ضروری ہے؟

Click here to View Printed Statement

کالاباغ ڈیم کی مخالفت تکینکی نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہے جس میں بھارت کی سازشوں کابھی ہاتھ ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی جانب سے قرض دینے سے انکار کے بعد کالاباغ ڈیم توانائی کے بحران کا واحد حل ہے جس کے لئے عالمی ادارے قرض دینے کو تیار ہیں۔ اے این پی کی قیادت اب پنجاب دشمنی چھوڑ دے ۔خیبر پختون خواہ کے باشعور عوام اے این پی کی قیادت پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے دبائو بڑھائیں تاکہ ملک کے علاوہ ان کی آنے والی نسلیں خوشحال ہو سکیں۔ اس سلسلہ میں پشاور اور دیگر علاقوں سے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس ڈیم کی تعمیر سے پنجاب میں آباد لاکھوں پشتون بھائیوں کا بھی بھلا ہو گا۔خیبر پختونخواہ اور سندھ کالاباغ ڈیم بننے سے نہیں بلکہ نہ بننے سے بنجر ہو جائیں گے۔بھاشا ڈیم سے کوئی نہر نہیں نکل سکے گی جبکہ کالا باغ ڈیم سے نہروں کا جال بچھ جائے گا۔ کالاباغ ڈیم سے غریب عوام کی ستر لاکھ ایکڑ بنجراراضی کو پانی ملے گا Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 03 Sep 12

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player