اہل صحافت حق کی گواہی دو

Click here to View Printed Statement

اس دور کا سب سے سنگین فکری انتشار یہ ہے کہ ہر طبقہ اپنے حقوق کی بات تو کرتا ہے لیکن فرائض کی بات سے بدکتا ہے ۔ ہم جو کام کرتے ہیں اسے کے نتائج کی ذمہ داری بھی اٹھانی چاہئے ۔ باقی شعبوں تک تو یہ احساس کسی نہ کسی طور پایا جاتا ہے لیکن میڈیا شائد وہ واحد شعبہ بن گیا ہے جس کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے لکھے ، چھاپے یا دکھائے لیکن وہ اپنی کسی بھی خبر ، تصویر یا فوٹیج کے منفی نتائج کی ذمہ داری لینے پر تیا ر نہیں ہے ۔ اگر کہیںسے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی آواز اٹھتی ہے تو میڈیا تنظیمیں اور صحافتی انجمنیں واویلا مچانا شروع کر دیتی ہیں کہ یہ آزادی صحافت پر قدغن ہے ۔ ایسا ہی ایک واویلا پریس کونسل آف پاکستان نے مچایا ہے ۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Nov 16

شہر بند۔ زندگی بند

Click here to View Printed Statement

وہ کونسا شہر تھا جسے کسی گروہ نے سب سے پہلے بندکیا تھا اس سوال پر تاریخ میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لیکن ہماری حالیہ تاریخ میں شہر بند کرنے کے واقعات عراق میں پیش آئے ہیں۔داعش نے کئی کئی ماہ مختلف شہروں کو گھیرا اور شہریوں کو یرغمال بنائے رکھا ہے۔ فاتحین کے دور میں حملہ آور فوجیں کسی شہر کا گھرائو کرتیں’ اشیائے خوردونوش کی نقل و حمل پر پابندی لگاتیں اور اس وقت تک شہر کا محاصرہ جاری رہتا جب کہ شہری بھوک پیاس سے مرنا شروع نہ ہوجاتے ۔ اس کے نتیجے میں بادشاہ کے خلاف بغاوت پھیل جاتی اور باغی عوام یا فوج کا کوئی حصہ شہر کے دروازے کھول دیتا۔ اس دور میں شہر کے اردگرد فصیلیں ہوتی تھیں۔ فصیلوں پر چوبرجیاں اور چوبرجیوں میں تیر بردار محافظ مستعد کھڑے ہوتے تھے۔کشت و خون ہوتا اور شہر تاراج ہو جاتے ۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Nov 16

ایران کو بھی اعتماد میں لیں

Click here to View Printed Statement

ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ اُڑی پر حملے کے بعد سفارتی محاذ پر جس برق رفتاری کا مظاہرہ ہمیں کرنا چاہیے تھا وہ نہیں ہوسکا۔ اور اس سست روی کا نتیجہ بھی ہم نے دیکھ لیا ہے۔سارک کا پلیٹ فارم بھارت نے عملاً ہتھیا لیا ہے۔ بنگلہ دیش اور افغانستان کی بات چھوڑیے۔سری لنکا اور نیپال جیسے ممالک بھی پاکستان کا ساتھ دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔ مجبوراًپاکستان کو بطور میزبان سارک کانفرنس ملتوی کرنا پڑی۔ یہ ایک سفارتی شکست ہے۔ بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا خوب تماشا لگا رکھاہے۔ امریکہ تو بھارت کی بلائیں لیتے تھکتا نہیں ہے۔اب روس کے صدر نے بھارت جاکر اربوں ڈالر کے معاہدے کر ڈالے ہیں ۔ اگر چین ہماری مدد کو نہ آتا تو برکس کے اجلاس سے مزید اینٹیں برسنے کا امکان تھا ۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Oct 16

کرپشن کا قرآنی تصور

Click here to View Printed Statement

ہمارے والدین ”کرپشن” کے لفظ سے واقف نہیں تھے۔ قیام پاکستان کے بعد رشوت ستانی کی اصطلاع عام ہوئی تھی۔ بعض بیوروکریٹس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت بڑے رشوت خور ہیں۔ تقسیم کے وقت جھوٹے کلیم بنانے اور ان جعلی کاغذات کے عوض رشوت لے کر زمینیں اور جائیدادیں الاٹ کرنے والوں کا چرچا رہتا تھا۔ جب عدالتی نظام پھیل گیا تو بعض ججوں کے بارے میں بھی خبریں آنا شروع ہوئیں کہ فلاں جج رشوت خُور ہے۔ رشوت ستانی ایک ایسا الزام اور جُرم تھا کہ عام لوگ کسی راشی افسر کو دیکھ لیتے تو کُھلے عام بیزاری کا اظہار کرتے دکھائی دیتے تھے۔ بعض دفاتر کے اندر ”رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں” کی حدیث مبارکہ جلی حروف میں لکھی ہوئی تھی۔ رشوت خوری کیخلاف سماجی اور مذہبی جماعتیں مہمات بھی چلاتی تھیں۔ رشوت خور عہدیدار کے ساتھ کوئی معزز شہری اپنی بیٹی بیاھنے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ پولیس افسران کے خلاف رشوت کے مقدمات بننے شروع ہوئے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Aug 16

عالم اسلام کی جان ۔طیب اُردگان

Click here to View Printed Statement

پچاس کے لگ بھگ مسلمان ممالک کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے دُکھ درد بانٹنے اور مسلمان ملکوں کے اندر مسلمانوں کے ساتھ جاری ناروا سلوک پر بولنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔گذشتہ نصف صدی سے سعودی عرب کو مسلم ورلڈ کا رہنما تصّور کیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی اس اعزاز کا ایران بھی خود کو حقدار سمجھتا ہے۔ لیکن ایران اور سعودی عرب کی آپس میں نہ ختم ہونے والی چقپلش نے متفقہ قیادت و سیاست کے خواب چکنا چور کردیئے ہیں۔ ان حالات میںترکی کو توفیق ہوئی اور جہاں کہیں مسلمانوں پر اُفتاد پڑتی ہے ‘ترکی کے صدر جناب طیِبّ اُردگان تمام تر خطرات مول لے کر مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔فلسطینی مظلوموں کے لئے خوراک پہنچانے کا معاملہ ہو یا میانمیر کے بے سروساماں مہاجرین کی دادرسی ہو‘ اُردگان آگے بڑھ کر دُکھی مسلمانوں کو گلے لگاتے اور غم اور الم کی حالت سے باہر نکالتے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 18 May 16

”شانِ مسیحائی۔ڈاکٹر سعید الٰہی“

Click here to View Printed Statement

خیبرپختونخواہ کے گورنر جناب اقبال ظفر جھگڑایوم ہلال احمر کی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وہ اسٹیج پر خطاب کے لئے آئے۔ اُن کی تقریر کا پہلا حصہ انگریزی میں تھا کیونکہ تقریب میں غیر ملکی مہمانوں کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ دوسرا حصہ اُردو میں تھا۔جھگڑا صاحب کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اُن کی انگریزی میری طرح واجبی سی ہوگی۔ لیکن اُنہوں نے اس غیر ملکی زبان میں انتہائی شستہ لہجہ اختیار کیا اور ماہر مقرر کی طرح انگریزی سمجھنے والے مہمانوں کو خوب متاثر کیا۔
اُردو میں بھی کمال مہارت رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو دیر سے سہی لیکن جھگڑا جیسے باصلاحیت شخص کو ذمہ داری سونپنے کا بہتر خیال آیا ہے۔ کاش کہ دوسرے شعبوں میں بھی ایسے سچے لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیا جائے۔ جناب اقبال ظفر نے بتایا کہ ڈاکٹر سعید الٰہی سے اُن کی ملاقات اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے دوران آزادکشمیر میں ہوئی تھی جہاں ڈاکٹر صاحب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر زخمی متاثرین کی طبی امداد میں دن رات مصروف تھے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 09 May 16

ڈونلڈ ٹرمپ۔ دوسرا مودی

Click here to View Printed Statement

نفرت کا کاروبار کرنے والوں کی دنیا میں کبھی بھی کمی نہیں رہی۔ تعصب اور تحقیر کے خمیر سے بنے ہوئے امریکی صدارت کے لئے ریپلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممکنہ امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی نفرت انگیز سوچ کے سبب وقتی طور پر اپنے حریف ریپلکن امیدواروں پر سبقت لے گئے ہیں۔انہوں نے اسلام‘ مسلمانوں حتی کہ عیسائیوں کے خلاف مسلسل بدزبانی کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اُن کی سوچ کو معتدل امریکی حلقے شیطانی سوچ قرار دے چُکے ہیں۔ اُن کے الفاظ کو غلیظ الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امریکی صدر اُوبامہ نے اپنی رائے کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص امریکہ کا صدر نہیں ہوسکتا۔ اس شخص نے امریکہ کا امیج تباہ کردیا ہے اور اگر یہ صدر بننے میں کامیاب ہوگیا تو دُنیا میں امریکہ کی رہی سہی ساکھ بھی تباہ ہوجائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز پہلے پاکستان کے غدار شکیل آفریدی کے حوالے سے بھی ایک ”تڑی“ لگائی تھی۔ اس منہ پھٹ امریکی صدارتی امیدوار نے کہا تھا کہ وہ برسراقتدار آکر پاکستان کو حُکم دے گا کہ آفریدی کو ہمارے حوالے کردو اور پاکستان کو ایسا ہی کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستان امریکی امداد پر پل رہا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 May 16

انفاق فی سبیل اللہ کی قابل تقلید مثال

Click here to View Printed Statement

انفاق فی سبیل اللہ سے مراد ضرورت مندوں‘ یتیموں اور بے سہارا لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو مدنظر رکھتے ہوئے مال خرچ کرنا ہے۔قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر مسلمانوں کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا ہے کہ جو مال تمہاری چند روزہ زندگی میں تمہیں نصیب ہوا ہے اور جسے تم چھوڑ کر جانے والے ہو اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرکے آخرت کا سامان تیار کرو۔سورة الحدید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے‘
”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاﺅ اور اس (مال و دولت) میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب(امین) بنایا ہے“۔
اللہ کی رضا کے لئے ضرورتمندوں کی ضروریات کو پوراکرنا اور اس کے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرنا انفاق فی سبیل اللہ کہلاتا ہے۔
خرچ کرنے کا انداز مختلف ہوسکتا ہے۔ ظاہری اور باطنی طور پر انفاق کرنے کا حکم ہےِ۔یہاں ایک باریک نکتہ سامنے آتا ہے کہ ظاہری طور پر انفاق کرنے یا انفاق کو ظاہر کرنے کی بھی کچھ شرائط ہیں۔آپ اگر ایک ہسپتال بنوا رہے ہیں تو یہ ظاہری انفاق ہے ۔اس سے کسی ضرورت مند کی عزت نفس مجروح ہونے کا اندیشہ نہیں ہے ۔ ایسے کسی فلاحی اور رفاعی پراجیکٹ کے حوالے سے اگر تشہیر کا پہلو نکل رہا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر کسی بیوہ یا یتیم کی مدد ہورہی ہے اور کسی طرح کا امدادی سامان تقسیم کرنا ہو تو پھر فوٹو سیشن بہت ہی معیوب لگتا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 May 16

ہزاروں قارون

Click here to View Printed Statement

قرآن پاک کی سُورة القصص میں بڑی تفصیل سے قارون کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس قصہ کا مقصد اسلام کے نظام مال و زر کی وضاحت کرنا ہے۔قارون مصر میں فرعون کا نمائندہ تھا جسے بنی اسرائیل قوم کو دبانے کے لئے بے بہا دولت دی گئی تھی۔ اُس کی دولت کا عالم یہ تھا کہ اس کے خزانے کی چابیاں اٹھانے کے لئے دس اونٹ درکار ہوتے تھے۔ دولت نے اسے انتہائی متکبر اور خودسر بنا دیا تھا۔ اس کی دولت کا چہارسوچرچا تھا۔ وہ مال و دولت کو خرچ کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کرتا رہتا تھا۔ قارون کو سمجھایا گیا کہ وہ اپنی دولت جمع کرنے کی بجائے مساکین اور ضرورت مندوں پر خرچ کرے اور اس کے ذریعے اپنی آخرت سنوارے۔ لیکن قارونی نفسیات اس قدر غالب تھی کہ وہ اللہ‘ آخرت اور روزوجزا کا مذاق اُڑاتا اور ہوس زر میں مدہوش رہتا تھا۔
قرآن میں قارون کا عبرتناک انجام بتایا گیا ہے۔ وہ اپنے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اُس کی دولت اس کے کسی کام نہ آسکی۔ اس کا آقا فرعون بھی اسے بچا نہ سکا۔ جو لوگ قارون کے خزانوں سے مرعوب رہتے تھے وہ اس کا خوفناک انجام دیکھ کر شکر بجالائے کہ وہ کم از کم قارون بننے سے بچ گئے تھے۔
ہوس زر میں مبتلا ہر شخص قارون ہے۔ قارونی سوچ کے اسیر امراءکی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ جوں جوں دُنیا کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے‘ قارونوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں دُنیا بھر کے قارونوں کی دولت جمع ہے۔ پاکستانیوں کی بھی کثیر تعداد موجود ہے جن کی بے پناہ دولت کا انہیں خود بھی اندازہ نہیں ۔ پھر یہ رپورٹیں بھی سامنے آئیں کہ دُبئی میں بڑے بڑے قارونوں نے پراپرٹی کے اندر بھاری سرمایہ کاری کردی ہے۔ ملائشیا اور برطانیہ میں بھی ہوس زر کے مجسم مظاہرے دیکھنے کو ملے ہیں۔ دُنیا کے امیر ترین افراد کی سب سے بڑی تعداد امریکہ میں ہے جن کی دولت بینکوں میں پڑی ہے اور اس دولت کا نوح انسانی کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Apr 16

ایمانداری ہی پاکستان کی بنیاد ہے

Click here to View Printed Statement

سچائی ہی نظریہ پاکستان کا جوہر ہے۔ نظریہ پاکستان ہی پاکستان کی اساس ہے۔ قیام پاکستان کی تحریک کے دوران مخالف لابی نے ایک ایک رہنما کے بارے میں مسلسل چھان بین کی۔کردار کشی کی مہم بھی زوروں پر تھی۔ہندو دانشور دن رات اکابرین ملت کے مالی اور اخلاقی معاملات کی کھوج لگاتے رہتے تھے۔آپ سات برس کی آزادی کی جدوجہد کو پڑھ لیجئے۔ مخالفین کے حملوں کے احوال اور الزامات کی بوچھاڑ کا تذکرہ دیکھ لیجئے۔ کہیں ایک جملہ بھی تحریک پاکستان کے رہنماﺅں کے کردار کے حوالے سے سامنے نہیں آئے گا۔ ایک روپے کی کرپشن کا ذکر نہیں ملے گا۔ ہر رہنما صرف ستھرے کردار میں ڈھلا ہوا سامنے کھڑا ہوگا۔قائداعظمؒ کی ایمانداری کی تعریف تو دشمن بھی کیا کرتے تھے۔ میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی بنیادوں میں نہ کہیں ہوس زر ہے نہ کوئی رشوت ہے اور نہ ہی کوئی مالی منفعت سامنے آتی ہے۔ پھر کیا ہوا کہ ہم نے آم کے درخت کا بیج بویا لیکن ہمیں تھور اور بیول کے کانٹوں کی فصل کاٹنا پڑ رہی ہے۔
گزشتہ دنوں ملک کے ممتاز تجزیہ کار اور کالم نگار جناب جاوید صدیق میرے آفس میں تشریف لائے۔جناب بیگ راج بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سیاست میں کرپشن پر بات شروع ہوئی۔ جاوید صدیق بتا رہے تھے کہ تحریک پاکستان کے رہنماﺅں نے قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کے لئے کس طرح کی مالی قربانیان پیش کیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Apr 16

اُنگلی اُٹھ گئی

Click here to View Printed Statement

میاں محمد نواز شریف کیا سوچ رہے ہوں گے۔شائد وہ یہ سوچ رہے ہوںکہ پاناما لیکس میں اُن کا نام نہیں ہے پھر وہ استعفیٰ کیوں دیں۔ سب سے بڑھ کر وہ یہ سوچ رہے ہوں کہ استعفیٰ کے حوالے سے اپوزیشن پارٹیوں کی ایک رائے نہیں ہے اس لئے کسی بہت بڑی احتجاجی تحریک کا امکان نہیں ہے۔ اُن کے حسین خیالوں میں یہ خیال بھی انگڑائیاں لیتا ہوگا کہ چین اور سعودی عرب جیسے طاقتور دوست اُن کی پشت پر ہیں اور” سی۔پیک منصوبہ“ اُن کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا اس لئے ان کی وزارت عظمیٰ پاکستان ہی نہیںبلکہ دیگر ممالک کی بھی مجبوری ہے۔وزیراعظم پاکستان یہ خوبصورت سوچ بھی سوچتے ہوں گے کہ پارلیمان میں اُن کی قوت ہے اور پیپلزپارٹی کی اپنی کرپشن میاں صاحب کے لئے بہت بڑا آسرا ہے۔ہزار سوچیں سوچتے ہوں گے لیکن آخر پر پھر سوچتے ہوںگے کہ اگر ”انگلی اُٹھ گئی“ تو وہ کیا کریں گے؟ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اسحاق ڈار‘خواجہ آصف ‘خواجہ سعد رفیق اور شہباز شریف سے ”اگر انگلی اٹھ گئی“ کے بعد کا منظر ڈسکس کر لیا ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Apr 16

سیاسی بداخلاقیاں

Click here to View Printed Statement

پاکستانی قوم نے یہ منظر بھی دیکھنا تھا۔پانامہ لیکس کے پردے میں اُٹھنے والے سیاسی طوفان نے جہاں حکمرانوں کی ہوائیاں اُڑائیں وہیں سیاستدانوں کی حواس باختگی بھی سامنے آئی۔ یہ منظر ہم سب نے دیکھا کہ وزیراعظم نوازشریف‘وزیرداخلہ چوہدری نثار‘وزیراعظم کا خاندان اور حزب اختلاف کے رہنما سب کے سب ایک ہی وقت میں لندن یاترا کر رہے تھے۔عمران خان کو بھی لندن جانے کی جلدی تھی۔ ان کے ساتھ ان کی مبینہ طور پر ”اے ٹی ایم مشینیں“ بھی لندن میں تھیں۔ الطاف حسین پہلے ہی لندن میں خود ساختہ جلا وطنی سے لطف اندوز ہورہے ہیں جبکہ آصف علی زرداری بھی بسلسلہ ”علاج“ اسی دیارغیر میں مقیم ہیں۔ بقول شاعر‘
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میّر ہوئے
سب اسی زلف گرِہ گیر کے اسیر ہوئے
یوں لگتا تھا جیسے پاکستان تو آزاد ملک ہے لیکن اس کا حکمران طبقہ ابھی تک آزاد نہیں ہوسکا۔ان کا کاروبار اور اولاد دونوں باہر ہیں۔اثاثے باہر ہیں۔ علاج باہر ہوتا ہے اور سیاسی مشاورت بھی انگلینڈ میں ہوپاتی ہے۔ جب بھی یہ طبقہ کسی ایمرجنسی‘ کسی سیاسی ہلچل یا کسی کرپشن کہانی کا شکار ہوتا ہے لندن کی طرف بھاگتا ہے۔ ان کی لگامیں اب بھی کسی برطانوی خفیہ ایجنسی کے ہاتھوں میں ہیں۔انگریز کا ملک آج بھی ہمارے غلامانہ ذہنیت کے مارے طبقہ اشرافیہ کے لئے آخری جائے پناہ ہوتی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Apr 16

فسادی ذہنیت کیخلاف آپریشن

Click here to View Printed Statement

پنجاب میں بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع ہو چُکا ہے۔ سانحہ اقبال پارک نے حکمرانوں کو جگا دیا ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آپریشن کے لئے شائد کسی خونی المیے کا انتظار کیا جارہا تھا۔ ذرائع ابلاغ اور حزب اختلاف کی طرف سے بار بار یہ سوال اُٹھایا جارہا تھا کہ آخر پنجاب میں دہشت گردوں کیخلاف رینجرز کا آپریشن کیوں نہیں ہورہا۔ یہ الزامات بھی تواتر سے لگے اور لگ رہے ہیں کہ پنجاب حکومت میں بعض وزراء دہشت گرد گروپوں کے حامی ہیں اور وہ اس آپریشن کی راہ میں ہر باررُ کاوٹ بن جاتے ہیں۔ بعض حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ پنجاب میں آپریشن کرنے کا ردعمل بہت ہی شدید ہونے کا اندیشہ تھا۔ اس لئے حکومت اسے پولیس اور دیگر اداروں کی کارروائیوں تک محدود رکھنا چاہتی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں دو سو کے لگ بھگ ایسے مدرسے پائے جاتے ہیں جن کو بیرونی ممالک سے فنڈنگ ہوتی ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Mar 16

عافیہ صدیقی کی واپسی۔ معاہدہ کر لیجئے

Click here to View Printed Statement

عافیہ صدیقی کی واپسی ممکن نہیں۔حکومت پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا کہ چونکہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ قیدیوں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں اس لئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان لانا ممکن نہیں ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے ہائیکورٹ کے جسٹس انوارالحق قریشی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی حوالگی کے لئے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور مئوقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان لانا ناممکن ہے۔عدالت نے سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔حکومتی مئوقف پاکستان کے محب وطن اور انصاف پسند حلقوں پر بجلی بن کر گرا ہے۔مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آکر پاکستان کی بیٹی عافیہ کو پاکستان واپس لانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Mar 16

آہ!بھارتی مسلمان

Click here to View Printed Statement

دل دہلا دینے والی تصویریں سامنے پڑی ہیں۔ گاندھی کے پیروکار اس قدر سنگدل ہوجائیں گے۔ یہ کوئی ہندو مسلم فسادات کی تصویر نہیں۔ ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق دو مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا بھیانک منظر ہے۔ تصویر میں دو نوجوان دکھائی دے رہے ہیں۔ اُن کے گلے میں کسے ہوئے پھندے ہیں۔ اُن کے لٹکتے ہوئے دھڑ ہیں۔آنکھیں باہر کو آگئی ہیں۔ وہ درختوں پر لٹکے ہوئے ہیں۔ ان کا اصلی جُرم یہ ہے کہ مسلمان ہیں۔ہندو انتہا پسندوں نے ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے گائے خریدی ہے۔ جھاڑ کھنڈ کی سرکار’ پولیس’ عدلیہ’ سماج سب کے سب ایک ہی طرح کی ذہنیت یعنی مودی ذہنیت کا شکار ہیں۔ کسی نے نہیں روکا’کوئی آگے نہیں آیا۔ کسی نے مسلمانوں کا مئوقف سننے کی زحمت نہیںکی۔مائیں روتی رہیں’ بہنیں منتیں کرتی رہیں’ بچے بلبلاتے رہے۔ لیکن ظالم اور سفاک ہندوئوں نے جنگلوں میں لے جا کر ان مسلمانوں کو شہید کردیا۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ ہر روز یہی سفاکیت ہے۔ بھارتی ادارے رپورٹیں دے چُکے ہیں کہ کس طرح بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Mar 16

بیٹا یا بیٹی۔ فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں

Click here to View Printed Statement

انسان نے جب بھی فطرت کے خلاف قدم اٹھایا ہے ‘ہمیشہ لڑکھڑایا ہے۔میڈیکل سائنس نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ اب دو ماہ قبل رحمِ مادر میں جھانک کر پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ دُنیا میں آنے والا نیا مہمان بیٹا ہے یا بیٹی؟ اس سائنسی سہولت نے انسانوں کے لئے نئی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں۔ معاشی اور سماجی دبائو سے متاثر ماں باپ خطرناک حد تک غیر فطری عمل کے گذرتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں بیٹی یا بیٹے کے حوالے سے کچھ زیادہ فکر مندی نہیں پائی جاتی اس لئے ان معاشروں میں الٹراسائونڈ کو بیٹیاں مارنے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا لیکن غریب ملکوں میں یہ سہولت ایک عذاب بن گئی ہے۔ ہمسایہ مُلک بھارت میں ایسے کلینک کُھلے ہیں جو بیٹیوں کو رحم مادر سے باہر آنے سے پہلے ہی قتل کردیتے ہیں۔یونیسف کی چونکا دینے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے اندر ہر سال پانچ لاکھ بچیوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ نومولود بچیوں کو مارنے کے دل دہلا دینے والے طریقے نکالے گئے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Mar 16

اڑھائی کروڑ بے سکول بچے

Click here to View Printed Statement

پچیس برس سے اسلام آباد کے دیہی علاقے میں متوسط اور غریب گھرانوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف ڈاکٹر نعیم غنی سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے وہ بے سکول بچوں کی دردناک کہانی سناتے ہیں۔”جوبچے کسی مدرسے یا سکول میں پڑھ رہے ہیں حکومت کی ساری توجہ ان کی طرف ہوتی ہے لیکن وہ اڑھائی کروڑ بچے جن کے لئے نہ سکول ہے نہ اُستاد وہ اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔اُن کے بارے میں کسی کو فکر ہی نہیں”۔”حکومتوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں جس ملک میں تعلیم کا بجٹ ہی دو فیصد سے آگے نہ بڑھا ہو اُس مُلک میں دانش سکول ایک مذاق ہی لگتا ہے”۔
”تعلیم عام کرنا اور ہر بچے کو سکول میں داخل کرنا آئینی تقاضا ہے لیکن شائد آئی ایم ایف کا دبائو ہے کہ صحت اور تعلیم پر سرکاری خزانے سے رقم نہ لگائی جائے اور اسے پرائیوٹائزڈ ہی رہنے دیا جائے”۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 01 Mar 16

بھارت اسلحہ کے ڈھیر کیوں لگا رہا ہے

Click here to View Printed Statement

ہریانہ کے جاٹوں نے احساس محرومی کا شکار ہو کر دہلی کو جانے والی پانی کی نہر بند کردی’پٹریاں اُکھاڑ پھینکی’ عمارتوں کو نذر آتش کردیا۔ فوج بھی پُرتشدد مظاہروں کوروک نہیں پائی۔جاٹ برادری کی احتجاجی تحریک میں 20 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے’ سینکڑوں زخمی ہوئے لیکن مرکزی حکومت مظاہرین کو پُرامن رہنے کی تلقین کرتی رہی۔ مذاکرات کامیاب ہوئے یا ناکام حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے پاس اپنے کسانوں کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ جاٹ تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے۔ مودی سرکار کا شائننگ انڈیا فی الحال بُجھا ہوا ملک ہے جس میں جمہوریت تو بہت ہے لیکن عوام کی حالت زار روز بروز بگڑتی جارہی ہے۔ احساس محرومی پھیلتا جارہا ہے اور خطہ غربت سے رہنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 24 Feb 16

زرداری کی دہائی۔نواز کی گواہی

Click here to View Printed Statement

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف عملاً پھٹ پڑے ہیں۔ نیب نے احتساب کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی طرف پنجے بڑھائے تو چیخیں نکل گئی ہیں۔ ایف آئی اے میں بھرتیوں کا سکینڈل’ رائے ونڈ روڈ کی تعمیر کا معمہ’گرین لائن ٹرین کا مُدّا اور پاک قطر ایل این جی معاہدے کا پھڈا۔اور پندرہ افسران کی گردن کے گرد پھندا۔ کیا کیا راز سامنے آرہے ہیں۔دو تہائی اکثریت والی حکومت کے وزیراعظم نے بھری محفل میں اپنی بے بسی کا رونا رویا۔ کہا کہ وہ نیب کے چیئرمین کو متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ بیوروکریٹس کو حراساں نہ کیا جائے لیکن چوہدری قمر الزمان نے کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔وزیراعظم نے یہ بھی بتا دیا کہ اگر چوہدری صاحب نے اپنے ”کارندوں” کو تنگ کرنے سے نہ روکا تو پھر حکومت قانونی بندوبست کرے گی۔ پنجاب کے وزیر قانون نے وزیراعظم کے مئوقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Feb 16

مردوزن کو شمار کرلو

Click here to View Printed Statement

بندے گننا کتنا مُشکل ہوگیا ہے۔اٹھارہ سال پہلے گنے تھے۔ تب ہم بارہ کروڑ تھے۔ اب کتنے ہیں کچھ حتمی تعداد معلوم نہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ اگر فوج سیکورٹی کے لئے دستیاب ہوئی تو اپنے لوگوں کی گنتی کر لیں گے۔شائد مارچ میں حسب وعدہ یہ کارنامہ سرانجام پاجائے۔ سیکیورٹی کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ایسے پاکستانی بھی ہیں جو کسی گنتی اور شمار میں آنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ کوئی پولیو مہم تو نہیں اس شماریات کی کسی مسلک’مذہب’ علاقے یا زبان سے بھی کوئی ضد نہیں ہے۔ پھر بھی خطروں کی کئی گھنٹیاں بجتے دکھائی دے رہی ہیں۔صوبوں میں آبادی کی تعداد کا معاملہ ہوگا۔ کسی کمیونٹی کو شائد گنتی ناگوار گزرے۔ لیکن جب تک لوگ گنے نہیں جائیں گے ان کی فلاح وبہبود کے لئے منصوبہ بندی کیسے ہوسکے گی۔
ہر گھر کو علم ہے کہ گھر کے افراد کتنے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 18 Feb 16

ہمیں خوف سے بچائو

Click here to View Printed Statement

ہر طرف خوف ہی خوف ہے۔ خوف کو خوف سے خوفزدہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ خوف بڑھتا جارہا ہے۔ سیلابی پانیوں کی طرح پھیلتا جارہا ہے۔ذہن و قلب پر اژدھا بن کر قابض ہوچکا ہے۔ بچے ‘بوڑھے جوان’ کمزور اور طاقتور محفوظ اور محصور۔ سب اس خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہیں۔دہشت گردوں نے ہمیں کس قدر اپنے خوف میں مبتلا کردیا ہے۔
راولپنڈی کے ایک کالج میں بچیوں کو بھاگتے’ چیختے اور کانپتے دیکھا۔ دہشت گرد آئے نہیں صرف ان کی دہشت کا امکان آیا ہے۔ سائرن بج اٹھے اور سائرن بجتے ہی خوف پھن پھیلا کر سامنے کھڑا تھا۔ قوم کی بیٹیوں کے پاس بے آسرہ ہو کر رونے کے سوا چارہ ہی کیا تھا۔بے بسی کے یہ آنسو اخبارات اور ٹی وی سکرین پر پڑے تو گھروں میں بیٹھے لوگ سہم گئے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Feb 16

اجڑے ہوئوں کو بسانا مشکل ہوتا ہے

Click here to View Printed Statement

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد بے گھر ہونے والے مقامی افراد کو دوبارہ آباد کرنے کا مرحلہ آن پہنچا ہے اور یہ آپریشن کا مُشکل ترین مرحلہ ہے۔ فاٹا اور خیبرپختونخواہ کی خصوصی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آرمی چیف نے قبائلی علاقے کے عوام کے عزم کو سراہا۔”خیبرپختونخواہ اور فاٹا کے عوام کے عزم نے دہشت گردوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ہے”سپہ سالار نے کورہیڈکوارٹرز پشاور میں جس خصوصی اجلاس کی صدارت کی اس میں خیبرپختونخواہ کے گورنر’وزیراعلیٰ’ اداروں کے سربراہان اور کور کمانڈر پشاور بھی موجود تھے۔
اگر کسی کا ہنستابستا گھر اُجڑ ا ہو تو اسے اندازہ ہوگا کہ چھت چھن جانے کے بعد مصیبتوں اور مشکلات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ کیمپوں کی زندگی ہر روز مارتی ہے۔ راشن کا انتظار ‘موسموں کی یلغار اور ڈونرز کی تحقیقات کے عذاب سے گذرنا پڑتا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Feb 16

مس ہینڈلنگ

Click here to View Printed Statement

مسافر چیخ رہا تھا” خدا کے واسطے مجھے مکے مدینے پہنچا دو” میرا سامان جہاز میں اور میں ہوٹل میں خوار ہورہا ہوں” یہ صرف ایک جھلک ہے جگ ہنسائی کی۔پی آئی اے کے ملازمین نے فلائٹ آپریشن ہی بند کروا دیا۔ شہر شہر جلسے اور ریلیاںدیکھ کر اندازہہوا کہ حالت نزع کوپہنچی اس پی آئی اے نے اتنے بڑے ہجوم کو پال رکھا ہے۔ اتنے گھرانوں کو بے رزوگار کرنے سے پہلے ان کے نان و نفقہ کا بندوبست بھی ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔ یہاں تو پی ٹی سی ایل کے فارغ کئے گئے سینکڑوں ملازمین کو آج تک واجبات نہیں ملے’ پی آئی اے والوں کی دادرسی کون کرے گا۔
وزیراعظم سمیت وزراء کی اgیک ایسی ٹولی ہے جو صرف اور صرف کاروبار پر یقین رکھتے ہیں۔ جس کاروبار میں خسارہ ہو اس کو کاروبار نہیں کہا جاسکتا۔ خسارے کا کاروبار کون کرتا ہے۔لیکن سماجیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کو کاروباری اصولوں پر چلایا نہیں جاسکتا۔ ریاست کا حکمران عوام کے لئے باپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کہیں سختی اور کہیں شفقت۔ ریاست کا مقصد اپنے لوگوں کو پالنا ہوتا ہے۔ خسارے اور منافع کی بنیاد پر فیصلے صرف ذاتی ملوں اور شوگرفیکٹریوں میں ہوتے ہیں ‘ ملکوں میں نہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 Feb 16

مقروضی معیشت

Click here to View Printed Statement

اڑھائی سال ہوئے ہیں کوئی دن ایسا نہیں جس دن موجودہ حکمرانوں نے قرض کے حصول کی خواہش نہ کی ہو۔ اس خواہش بلکہ ہوس حصول قرض کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اب یہ ملک سر تا پاﺅں قرض میں ڈوب چکا ہے۔67 ارب ڈالر کے قرضے ہمارے سروں پر لاد دیئے گئے ہیں۔ قرض پاکستانی قوم نے نہیں بلکہ حکمرانوں نے لیا ہے۔ ان حکمرانوں کا عوامی مینڈیٹ ایک مخصوص اقلیت کے ووٹ ہیں جنہیں میڈیا اور مال کے زور پر حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اہل ووٹروں کی کل تعداد تقریباً آٹھ کروڑ ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے صرف ڈیڑھ کروڑ ووٹ لے کر حکومت بنا رکھی ہے۔اقلیتی ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت بیس کروڑ پاکستانیوں کی قسمت کا فیصلہ کر رہی ہے۔ قرض کی کسی ڈیل میں عام پاکستانی کی رائے نہیں لی جاتی۔ پارلیمان میں موجود جماعتیں بھی حکومت سے نہیں پوچھتیں کہ آخر یہ دھڑا دھڑا قرض لینے کے پیچھے کونسی معاشی حکمت عملی ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک جوں جوں مقروض ہوتا جارہا ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Jan 16

راہداری کو راستہ دو

Click here to View Printed Statement

راستے روکے نہیں جاسکتے۔ قافلے منزل تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔زمین تنگ نہیں کہ کوئی متبادل روٹ نہ مل سکے۔ نااتفاقی کے سبب اگر ایک بار اعتماد ختم ہوجائے تو پھر قافلے والے وقت ضائع نہیں کرتے۔ کاروبار میں دوستیاں نہیں ضرورتیں اہم ہوتی ہیں۔ اگر پاکستان کے سیاستدان آپس میں جھگڑتے رہیں گے تو چین کوئی نہ کوئی متبادل حل نکال لے گا۔ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کاروباری رفاقت نے پاکستان کی اقتصادی راہداری کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ چاہ بہار کی بندرگاہ زیر تعمیر ہے۔گوادر نہ سہی چاہ بہار تو ہے ۔ایرانی صدر یورپ میں تجارتی معاہدے کر چُکے ہیں۔ایران کے بنکوں نے از سر نو تجارت شروع کردی ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ہمارے تحفظات ہی دور نہیں ہورہے۔ وزیر منصوبہ بندی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک ”کمیونیکیشن گیپ“ پیدا ہوچکا ہے ۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے آل پارٹیز اجلاس میں تمام پارٹیاں متفق تو ہیں لیکن مطمئن نہیں ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Jan 16

یہ فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں

Click here to View Printed Statement

سعودی عرب اور ایران کے درمیان مخاصمت آج کا نہیں برسوں پُرانا معاملہ ہے۔ کبھی یہ مخالفت کم ہوجاتی ہے اور کبھی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔بدقسمتی سے آجکل دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف تابڑ توڑ سفارتی اور سیاسی حملے کر رہے ہیں۔ جب بھی سعودی عرب اور ایران آپس میں ناراض ہوتے ہیں یا ان کی باہمی چپقلش خطرے کے نشان سے آگے بڑھتی ہے مسلم اُمہ کے ماتھے پر خوف کے پسینے تیرنے لگتے ہیں۔ چونکہ مسلم ممالک کے اندر شیعہ سنی جھگڑے ہوتے آئے ہیں اس لئے عام مسلمان ڈرنا شروع کر دیتا ہے کہ کہیں دو ملکوں اور حکومتوں کی باہمی رنجش مسلکی تفریق میں تبدیل نہ ہوجائے۔ باقی ممالک کا تو علم نہیں لیکن پاکستانی بہت سہمے ہوئے ہیں۔ اسی خوف کا اظہار حزب اختلاف کے تمام رہنماﺅں نے کیا ہے‘ اسی طرف جناب عمران خان نے توجہ دلائی ہے اور یہی خوف حکومت کو کسی واضح لائحہ عمل پر چلنے نہیں دے رہا۔ ہمارے ہاں یہ تصور پختہ ہوگیا ہے کہ ایران اہل تشیع کا نمائندہ ملک ہے اور سعودی عرب اہل سنت کا محافظ ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Jan 16

ایران والے بھی آئیں

Click here to View Printed Statement

سعودی وزیر خارجہ کے بعد وزیر دفاع کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اس کی اہمیت کے حوالے سے گرما گرم بحثیں بپا ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حکومت مخالفت قوتیں اس دورے کو بھی متنازع بنانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن سعودی وزیر دفاع کی آرمی چیف اور وزیراعظم سے ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیانات کے بعد پاکستانیوں کی عمومی رائے سعودی عرب کے حوالے سے بہتر ہوئی ہے۔سعودی عرب نے تمام اُمور پر پاکستان کے مﺅقف کی تائید کا اعلان کرکے بہت سے خدشات دور کر دیئے ہیں۔خوش آئند اور اندر کی خبریں یہ ہیں کہ سعودی ایران تنازعات کو ٹھنڈا رکھنے پر سرزمین حجاز سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے۔ اور چند دنوں میں سفارتی رابطے موثر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان نے سعودی سربراہی میں بننے والے 34 ملکی اتحاد میں شمولیت کا واضح اعلان کردیا ہے اور سعودی سالمیت پر حملے کی صورت میں خود کو غیر جانبداری کے مخمصے سے نکال کر واضح پوزیشن لے لی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Jan 16

صفت ِمطلوب۔مخلوق ِ خدا سے پیار

Click here to View Printed Statement

کائنات کا دولہا انسان اللہ پروردگار عالم کی تخلیق کا بہترین شاہکار ہے۔ رب کائنات نے اسے نعمتوں کے اتنے انبار عطا فرما دیے کہ جنہیں دیکھ کر ذرا سا غور کرنے پر ہمیں اللہ نظر آنے لگتا ہے۔ اللہ خود اپنے کلام میں فرماتا ہے”تمہارے نفوس میں میری نشانیاں موجود ہیں تو کیا تم ان پر غور نہیں کرتے“۔
ہم اپنی ذات سے ذرا باہر نظر دوڑائیں تو سورج‘ چاند‘ ہوا‘ پانی ‘ستارے آسمان‘زمین اور جانور سب کے سب قدرت کی نشانیاں ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت انسان کی ایسے خدمت میں جتے ہوئے ہیں جیسے ان کا ہم سے بہت بڑا کام پھنسا ہوا ہے۔ ان پر نگاہ دوڑا کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سورج چمکتا‘چاند دمکتا‘ستار روشن‘ سمندر موجزن‘ ہوائیں چلتی‘ پھول کھلتے‘پھل پکتے اور جانور سواری و غذا کے لئے پیدا ہی ہمارے لئے کئے گئے ہیں۔ احساس کچھ یوں ہوتا ہے کہ جیسے ہم آقا ہیں اور یہ ہمارے خدمت گزار حالانکہ اصل صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ان سب سے پوچھیے کہ اگر انسان نہ ہو تو تمہاری صحت پر کیا اثر پڑے گا تو یہ سب کہیں گے ہماری بلا سے۔ مگر انسان ان کے بغیر ایک پل بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔
غرض ساری کائنات اپنا کام مالک حقیقی کی مرضی کے عین مطابق کر رہی ہے مگر انسان ہے کہ ظالم بھولا ہوا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 Nov 15

ہلال احمر کے چاند اور ستارے

Click here to View Printed Statement

سچے رضاکار کو کسی تعریف یا تحسین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ رضاکارانہ جذبہ انسانی تسکین اور روحانی تشفی کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے۔ طمانیت قلب ہی سب سے بڑا صلہ ہوتاہے۔ ایک مسلمان خلق خدا کے کاموں میں اس لئے حصہ لیتا ہے تاکہ اللہ پاک کی رضا مندی اور قربت حاصل کرسکے۔ جہاں تک کسی فرد کی رضاکارانہ سرگرمیوں کے حوالے سے سماجی اور سماجی تنظیموں کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے لئے رضاکاروں کی عزت افزائی‘ تصدیق اور توثیق ضروری ہوتی ہے۔
پاکستان میں انسانی خدمت کے درجنوں ادارے موجود ہیں۔ سرکاری ‘ نیم سرکاری اورغیر سرکاری سب کی اپنی اپنی خدمات ہیں۔دُکھ اور درد کی گھڑی میں ہمدرد ی کے دو بول بھی بہت وقعت رکھتے ہیں۔ ہلال احمر پاکستان ان سب اداروں سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔
ریڈکریسنٹ یعنی ہلال احمر ایک طرف قومی سطح کا ادارہ ہے تو دوسری طرف یہ ریڈکراس /ریڈکریسنٹ موومنٹ کا حصہ بھی ہے۔ ایک سو نوے ممالک میں ایسے قومی ادارے موجود ہیں۔ انسانی خدمت کی اس تحریک کا ہیڈکوارٹر جنیوا میں ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈکراس/ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے ملاپ سے یہ ایک تحریک بنتی ہے ۔ کسی ممبر مُلک میں کوئی قدرتی آفت آئے‘ دہشت گردی ہو یا جنگیں ہوں اس تحریک میں شامل تمام ادارے اور سوسائٹیاں مدد کو پہنچتی ہیں۔ لیکن اصل امتحان اس ملک کی ریڈکراس یا ریڈکریسنٹ کا ہوتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 Oct 15

بندوں کو گنا کرتے ہیں

Click here to View Printed Statement

جمہوریت جُوں جُوں مستحکم ہورہی ہے سرمائے کا عمل دخل بھی بڑھتا جارہا ہے ۔لاہور کے حلقہ 122 میں حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ دولت کو پانی کی طرح بہایا گیا ہے ۔ اگر ایک طرف پیسے کے ساتھ ساتھ اختیار اور اقتدار کا بے دریغ استعمال ہوا تو دوسری طرف حکومتوں کے اثرورسوخ کے مقابلہ کے لئے بھاری رقوم خرچ کی گئیں۔ ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ ووٹروں کو پولنگ بوتھ تک لانے میں اربوں روپے خرچ ہوگئے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے خرچ کئے گئے وسائل پر الگ بجٹ لگا۔ فوج’ پولیس اور دیگر سرکاری عملہ بھی پیسے کے بغیر حرکت نہیں کرسکتا۔ اگر تمام اخراجات کو جمع کر لیا جائے تو ایک ووٹر پر ہزاروں روپے خرچ ہوئے ہیں۔ جمہوریت اس قدر مہنگی ہوگی اس کا تصور تو شائد اس نظام کے بانیوں نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ ابھی بلدیاتی انتخابات کا چل چلائو ہے اور ایک ایک اُمیدوار لاکھوں’ کروڑوں کے اخراجات کا تخمینہ لگائے بیٹھا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Oct 15

کراچی میں لاہور کی خوشبو

Click here to View Printed Statement

شفیق اور ملنسار’معاملہ فہم اور زیرک’ا ہلیت اور ایمانداری چہرے سے عیاں ۔ دھیمے لہجے میں گفتگو کے ماہر۔مخاطب پر بوجھ نہ اُدھورے جُملے۔ بناوٹ اور تصّنع سے دُور۔پہلی ملاقات میں ہی شخصیت کا اسیر ہوجانے کو جی چاہتا ہے۔ میں شخصیت پرستی سے کوسوں دُور رہنے والا آدمی ہوں۔ احباب جانتے ہیں کہ میرا قلم ریاکاری کی بیماری سے ہنوز بچا ہوا ہے۔ شجاعت علی بیگ سے جو لوگ ملے ہیں وہ میری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ بیگ صاحب نے جس شعبے میں بھی قدم رکھا اس شعبے کو معزز کردیا۔ پاکستان کے سینئر ترین بینکار ہیں۔ سندھ حکومت میں وزارت ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے وزیر رہے۔ انہوں نے پورے سندھ کے تعلیمی اداروں کا دورہ کیا’ اور تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ایک بڑی ہی معلوماتی اور کارآمد رپورٹ مرتب کی۔ یہ رپورٹ گورنر سندھ اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو بھجوائی گئی۔ اس رپورٹ پر عملدرآمد تو نہ ہوسکا لیکن یہ حکومتی ریکارڈ کا حصہ بن گئی۔ دو برس قبل جب مملکت پاکستان کی طرف سے نمایاں شخصیات کو تمغات سے نوازنے کا مرحلہ آیا تو ایجوکیشن منسٹری نے اس رپورٹ کا حوالہ دیا۔ رپورٹ از سر نو دیکھی گئی اور اسے اس قابل سمجھا گیا کہ اس کے خالق کو ستارہ امتیاز سے نوازا جائے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Oct 15

غم میں ڈوبی ہوئی عید

Click here to View Printed Statement

پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ یہ جنگ ہم پر مسلط کردی گئی ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ ضیاء الحق دور میں غلط خارجی پالیسیوں کے سبب ہم نے دہشت گردی کا راستہ کھولا اور پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کا ساتھ دے کر اس عفریت کو مکمل طور پر اپنے گلے ڈال لیا۔ آج کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکہ’ روس اور دیگر طاقتیں سکون اور امن کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں لیکن یہ پاکستان ‘ہمارا پاکستان ایک ایسی جنگ میں مبتلا ہوچکا ہے جس کے ختم ہونے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ سولہ دسمبر 2014ء کو اے پی ایس پشاور میں دہشت گردوں نے بربریت کی انتہا کردی تھی اور آٹھ ماہ بعد بڈا بیر ایئربیس پر نمازیوں کو خون میں نہلا کر انہوںنے ایک بار پھر اے پی ایس کی خونی یادوں کو تازہ کردیا ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 24 Sep 15

ناکے اور ڈاکے

Click here to View Printed Statement

رینجرز کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بڑے بڑے ڈاکوئوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے اور اگر تفتیش اور تحقیق میں مار نہ کھا گئے تو عدالتوں کے ذریعے عبرتناک سزائوں کی نوید ہے۔ سفید پوش ڈاکوئوں کو پکڑنا مشکل کام ہے۔ اس کے لئے آپ ناکہ نہیں لگا سکتے’ ریڈ نہیں کرسکتے’پولیس مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی رعب داب میں لپٹے اور عزت مآب کی قلغیاں سجائے ان قومی ڈاکوئوں کی تعداد بھی بہت ہے اور ان کے بنتے ٹوٹتے اتحاد وفاقی اداروں کو بعض اوقات بے بس کر دیتے ہیں۔ لیکن سپہ سالار اعظم جناب جنرل راحیل شریف کی کمٹمنٹ پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے کہ وہ اس مشکل ترین مہم میں مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ہماری دلی دُعا ہے کہ وہ خوشامدیوں سے بچ بچا کر قومی بقاء کے اس صالح عمل کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں اور وارداتیوں کی ریشہ دوانبوں سے محفوظ رہیں۔
میں معروف اور دیکھے بھالے ڈاکوئوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔اخبارات کے اندر کرائم کارنرز ایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام اور پرامن شہریوں کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹنے والے ڈاکو کس قدر نڈر اور سفاک ہیں۔ رات اڑھائی بجے کے لگ بھگ ٹی وی چینلز پر متواتر ٹکّر اور تازہ ترین خبریں چل رہی ہوتی ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Sep 15

یہ سکول نہیں کلب ہیں

Click here to View Printed Statement

بھاری فیسیں وصول کرنے اور آئے روز ان فیسوں میں اضافہ کرتے جانے والے سکولوں کے خلاف بچوں کے والدین نے آجکل آہ و بکا شروع کر رکھی ہے۔ حکومت نے ان ”مجبور” والدین کی اشک شوئی کے لئے کراچی’ لاہور اور اسلام آباد میں واقع ان مادر پدر آزاد سکولوں کی انتظامیہ سے مذاکرات کے نام پر چائے پانی کا اہتمام کیا ہے اور خوشخبری دی ہے کہ فیسوں میں کیا گیااچانک اضافہ واپس لے لیا جائے گا۔
میں خود بھی ایک نظریاتی سکول چلاتا ہوں اور جانتا ہوں کہ پانچ سو سے آٹھ سو روپے فیس لے کر سکول کو بہترین طریقے سے چلایا جاسکتا ہے۔میں جب پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں کے بارے میں پڑھتا اور سنتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ سکولوں کی مختلف کیٹگیریز ہیںِ۔ایسے سکول بھی موجود ہیں جو اس غریب مُلک میں ڈالر کرنسی میں فیس وصول کرتے ہیں۔ یہ تو قابل فہم ہے کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ بھاری بھر کم تنخواہوں کے باوجود اساتذہ پڑھانے کے علاوہ ہر کام کرتے ہیں ۔فکر مند والدین اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لئے مجبوراً پرائیویٹ سکولوں کی فیس ادا کرتے ہیں ۔لیکن دس دس بیس بیس ہزار ماہانہ فیس ادا کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسے والدین کی تشویش ناقابل فہم ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Sep 15

علم و ہنر کا گہوارہ…گوجرانوالہ

Click here to View Printed Statement

بدلتے سماجی اور معاشی تقاضوں کی بدولت اب شہروں کی شناخت بھی تبدیل ہورہی ہے۔ گوجرانوالہ پہلوانوں کے شہر کے طور پر مشہور تھا لیکن اب اس شہرت میں تعلیمی اداروں نے بھی اپنا حصہ ڈالنا شروع کردیا ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس نے تعارف کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میڈیکل کالج نے تعلیمی فضاء ہی تبدیل کردی ہے۔ طالبات کے کالجز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور استعداد سے ماحول میں علمی خوشبو رچ بس گئی ہے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے تو دوسری طرف والدین اور طلباء و طالبات کی سہولت کے لئے نت نئے تعلیمی ادارے کھولے جارہے ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب گوجرانوالہ کو بھی کالجوں کا شہر قرار دیا جاسکے گا۔
شہر کے تعلیمی تعارف کا سہرا وہاں سے منتخب ہونے والے چند ممبران صوبائی و قومی اسمبلی کے سر جاتا ہے ۔ ان محدودے چند افراد کا ر نے واقعی عوامی نمائندگی کا حق ادا کردیا ہے ۔ لیکن یہ ناانصافی ہوگی اگر پنجاب کے علم دوست وزیر اعلیٰ شہبازشریف کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ عوامی سہولیات کی فراہمی اور اجتماعی سماجی کاموں کے لئے میاں صاحب صوبہ کے عوامی نمائندگان کو اداروں کے قیام پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔
جناب عبدالرئوف مغل گوجرانوالہ سے ایم۔پی۔اے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلقے میں فروغ تعلیم کے لیے انتھک کام کیا ہے ۔ حال ہی میں بچیوں کے لئے ایک عظیم الشان کالج بنوایا ہے۔ پانچ ستمبر کو اس کالج کی افتتاحی تقریب میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Sep 15

ہلال احمر فورم اور محسنین پاکستان

Click here to View Printed Statement

ڈاکٹر سعید الٰہی رجل العمل ہیں۔ عمل کے آدمی ہیں۔ وہ جو سوچتے ہیں کر گزرتے ہیں ۔اور چونکہ موروثی طور پر پاکستانیت سے جڑے ہوئے ہیں اس لئے ان کی سوچ پاکستان سے باہر جاتی نہیں ہے۔ ان سے جو ایک بار ملتا ہے دوبارہ ملنے کی آرزو پالتا رہتا ہےِ۔ بناوٹ سے کوسوں دور ہیں۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور وہ زندگی کے ہر لمحے میں ملک کے لئے کچھ کر نا چاہتے ہیں۔ منصوبے اور تصّورات ہاتھ باندھے حاضر رہتے ہیں۔ عام آدمی ایک وقت میں کسی ایک اشو کو سُلجھا رہا ہوتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کے پاس ایک نہیں کئی دماغ ہیں۔ وہ بیک وقت درجنوں محاذوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ادھر مسئلہ پیدا ہوا اُدھر کھٹاکھٹ اس کے دو تین حل سامنے آگئے۔ان کے دفتر میں مغل دربار کا سا ماحول ہوتا ہے۔ کچھ نہ کچھ نیا ہورہا ہوتا ہے ۔ بیگ راج جیسے کئی رتن قلم کاغذ لئے ہدایات لے رہے ہوتے ہیں ۔ سیاست پر تجزیہ چل رہا ہے ‘ کسی دوست کی سفارش ہورہی ہے’ ٹی وی پروگرام ریکارڈ ہور ہا ہے’ سیمینار کی تیاری ہورہی ہے’گھریلو معاملات بھی طے ہو رہے ہیں۔ ملاقاتوں کا ایک سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جب سے ہلال احمر کے چیئرمین بنے ہیں سٹاف کی دوڑیں لگی رہتی ہیں ۔ افسر شاہی معدوم ہوگئی ہے۔ کام ‘کام اور بس کام کا منظر دیکھنا ہو تو اس انتھک مسیحا کے ساتھ ہو لیجئے۔ آپ جسمانی اور دماغی طور پر تھک جائیں گے لیکن ڈاکٹر سعید الٰہی کو ہشاش بشاش پائیں گے۔ وہ کم خور ہیں۔ بہت کم سوتے ہیں۔ کام ہی ان کی ”انجوائے منٹ” ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Sep 15

کراچی۔عوام کو ساتھ ملانا ہوگا

Click here to View Printed Statement

ایک سال پہلے اور آج کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اِکا دُکا واقعات کے باوجود منی پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی کارروائیاں بھی تھم چکی ہیں۔ اور بھتہ خوری کی لعنت سے بھی بڑی حد تک چھٹکارا مل چکا ہے۔ میں ہر ماہ کراچی آتا ہوں اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے کاروباری حلقوں میں گھومتا ہوں۔لوگوں سے مفصل گفتگو ہوتی ہے۔ اب یہ نہیں ہوتا کہ ادھر چائے کا کپ ہاتھ میں ہو اور اُدھر سے خبر آئے کہ شٹر بند کردو’ جلوس آرہا ہے۔ یہ بھی اب خال خال ہی دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی حادثہ یا قتل یا سیاسی اشو پر توڑ پھوڑ ہو یا سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگائی جارہی ہو۔ تاجر برادری کے اندر بھی اعتماد بحال ہورہا ہے۔ ان تمام مثبت پہلوئوں کے برعکس ایک انجانا سا خوف موجود ہے۔ کب تک یہاں رینجرزرہیں گے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 31 Aug 15

صوبائی اختیارات کے نام پر سیاست

Click here to View Printed Statement

اٹھارویں آئینی ترمیم کو عدالت عظمیٰ کی طرف سے توثیق کی سند عطا ہوگئی ہے ۔ یہ عدالتی فیصلہ ہے۔ لیکن اس ترمیم میں صوبوں کو جس قدر اختیارات دے دیئے گئے ہیں اس کے منفی اثرات سامنے آرہے ہیں۔ ہمارے نظام تعلیم کا بیڑا غرق ہو چُکا ہے۔ ہر صوبہ نے تاریخ’ اسلامیات اور اخلاقیات کے حوالے سے اپنی اپنی تاریخ’ اپنا اپنا اسلام اور اپنی اپنی تہذیب کو پھیلانا شروع کردیا ہے۔ صوبائیت کا جو جن بڑی مشکل سے قابو میں لایا گیا تھا وہ اس جمہوری ترمیم نے بوتل سے نکال دیا ہے۔ اس کا پہلا حملہ تو صوبہ خیبرپختونخواہ کے عوام پر ہوا ہے۔ ہزارہ بیلٹ اس نام سے قطعاً متفق نہیں ہے
انہیں الگ صوبہ کے مطالبہ سے کوئی قومی پارٹی بھی اب باز نہیں رکھ سکتی۔بلکہ صورتحال یہاں تک جا پہنچی ہے کہ پارٹیاں ووٹ اینٹھنے کے لئے ہزارہ والوں کو ”اندر کھاتے” یقین دہانی کراتے ہیں کہ آج نہیں تو کل آپ کو آپ کا صوبہ ضرور مل جائے گا ۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے سرائیکی صوبہ کے مطالبہ کو تو اسمبلی قرارداد کے ذریعے ایک پارلیمانی جواز بھی فراہم کیا جاچکا ہے۔ اگرچہ صوبہ پنجاب کے چیف منسٹر ملتان کے اندر صوبائی دفاتر کی شاخیں کھولنے پر تیزی سے عمل کر رہے ہیں لیکن سرائیکی وسیب کی تحریک اسی شدّومدّ کے ساتھ جاری ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 31 Aug 15

جنرل حمید گُل کا مشن جاری رہے گا

Click here to View Printed Statement

شخصیات بہت اہم ہوتی ہیں۔افراد ہی قوموں کے مقدر سنوارتے اور بگاڑتے ہیں۔ فرد کو ملت کے مقدر کا ستارہ کہا گیا ہے۔رجال عظیم کسی ملت کے دامن میں سجے ہوئے وہ ہیرے اور جواہرات ہوتے ہیں جن کی تعداد سے قوموں کی توانائی کا اندازہ ہوتا ہے۔قحط الرجال کا مطلب ہی یہی ہے کہ قوم میں رہبری کے منصب پر فائز ہستیاں دُنیا میں نہ رہیں۔ مصلحین سے تہی دامن اقوام بے راہ روی اور گمراہی کا شکار ہوجاتی ہیں۔
قیام پاکستان سے قبل عظیم شخصیات کی ایک تسبیح موجود تھی۔دانے بکھرتے گئے اور قائداعظم کی جیب میں کھوٹے سکّے بچ گئے تھے۔ جو اصلی لوگ تھے وہ اُفتاد زمانہ کا شکار ہوگئے۔ گزشتہ ستر سالہ تاریخ میں ہمیں افراد کار دکھائی تو دیتے ہیں لیکن ان کی تعداد محض آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جنرل حمید گل مرحوم و مغفور ان محدوے چند لوگوں میں شامل ہیں جن کے وجود سے قوم کے اندر اُمید اور یقین کی شمعیں ٹمٹاتی رہی ہیں۔ جنرل صاحب اُن پاکستانیوں کے لئے ایک نفسیاتی سہارا تھے جو خودی اور خوداری کے اوصاف سے لیس ہو کر ملّی تعمیروترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کا مطالعہ زیادہ مفید ہے کیونکہ وہ اپنی سوچ اور فکر کے اعتبار سے مکمل طور پر آزاد تھے۔ عہدے کے بندھن یا کسی سرکاری حیثیت کی نزاکتوں سے مبّرا جنرل حمید گل کا کردار روشن بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Aug 15

ڈیم بنائیں۔ پانی بچائیں

Click here to View Printed Statement

اللہ پاک نے قرآن پاک میں پانی کو زندگی قرار دیا ہے۔افسوس کہ ہم بحیثیت مسلمان قرآن کی اس انتہائی اہم ہدایت اور روشنی سے اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگیوں کو منور کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ہر سال لاکھوں کیوسک فٹ پانی سمندر میں غرق ہوجاتا ہے۔ بارش کا پانی جو محفوظ ہوجائے تو ہماری بنجر زمینیں بھی لہلاتے کھیتوں میں تبدیل ہوجائیں۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان ریاستی سطح پر ایسی کسی پالیسی پر عملدرآمد کی پابند نہیں ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے کیا کچھ نہیں کرتا۔ زندگی کو خطرہ ہو تو ہم پوری طرح مستعد ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی اپنا بھائی بھی ہماری زندگی کے لئے خطرہ بنے تو بھائی سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نپٹا جاتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ پانی نہ ہو تو ہم سب چند برسوں کے اندر موت کے منہ میں چلے جائیں۔ تصور کریں کہ پاکستان میں دو سال پانی کی فراہمی بند ہوجائے۔ نہ زمین سے میسر ہو’ نہ بارشیں ہوں نہ گلیشیئر پگھلیں۔تو اس ملک کے اندر جانور ہی نہیں انسان بھی چلتے پھرتے ڈھانچے بن جائیں۔ خوراک اُگے نہ حلق تر کرنے کے لئے آب رواں ملے۔ Continue reading »

Posted by / 05 Aug 15

سازشیں کب ختم ہوں گی

Click here to View Printed Statement

جب سے اخبار پڑھنا اور سمجھنا شروع کیا ہے اس مملکت خداداد کے خلاف نت نئی سازشیں ہی پڑھنے کو ملی ہیں۔ کبھی یہ سازشیں عسکری شخصیات کی طرف سے ہوتی ہیں’ کبھی کوئی سیاسی شخصیت کسی سازش میں ملوث پائی جاتی ہے۔ کئی بار سوچا کہ شائد پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے خلاف سب سے زیادہ سازشیں ہوتی ہیں۔ بھارت کی طرف سے گھنائونی سازشیں’ روس کی طرف سے سنگین سازشیں’ امریکہ کی طرف سے سازش در سازش خاد’را’ سی آئی اے’ موساد’ایم۔آئی ٹیکس غرض دُنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں تیسری دُنیا کے اس غریب ترین مُلک کے خلاف کوئی مہینہ ایسا نہیں جس میں سازشیں نہ ہوئی ہوں۔ البتہ یہ امر قابل اطمینان ہے کہ ننانوے فیصد سازشوں کا قبل از وقت بھید کُھل جاتا ہے۔ پھر بھی ایک فیصد ناپاک منصوبوں میں ہم آدھا ملک گنوا بیٹھے’ ایک وزیراعظم کو پھانسی دے دی گئی۔ بھارت کے ساتھ چار جنگیں ہوگئیں۔ تین بار مارشل لاء لگ گیا۔ بلوچ علیحدگی پسند’ پختونخواہ’ سندھو ‘دیش’ سرائیکستان کی تحریکیں آج کل ٹھنڈی پر گئی ہیں Continue reading »

Posted by / 05 Aug 15

اقتصادی راہداری۔متبادل شاہ رگ

Click here to View Printed Statement

آرمی چیف نے بلاکم وکاست واضح کردیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہ داری ہر حال میں مکمل ہوگی۔ جنرل راحیل شریف نے بلوچستان کے دورے کے دوران پاکستان کے دشمنوں کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان اس راہ داری کے مخالفین اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کے دشمنوں کو پوری طرح پہچانتا ہے۔ سپہ سالار کے اس پُراعتمادلہجے کے بعد افواج پاکستان اور سول حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے یک نگاہی کا تاثر مضبوط ہوگیا ہے۔آرمی چیف کے اس عزم کے ساتھ ہی کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی آئی ہے۔میاں محمد نوازشریف نے پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں مسلم لیگی ارکان اسمبلی اور وزراء و مشیران کے اہم ترین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپہ سالار کی بات کو دہرایا ہے۔ انہوںنے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو ”ڈی سیٹ” کرنے کے مطالبے کو غیر ضروری اور وقت کا ضیاع قرا ر دیا ہے Continue reading »

Posted by / 29 Jul 15

شیخ الاسلام کا ” امن نصاب’

Click here to View Printed Statement

دہشت گردی اب کسی ایک مُلک یا قوم کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ ایک بین الاقوامی اشو بن چُکا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے عفریت سے بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ افواج پاکستان کو دہشت گردوں کے خاتمے کا جو ٹاسک دیا گیا تھا وہ بڑی حد تک پورا ہوچکا ہے۔ فوجی نوعیت کی فتوحات قابل ذکر ہیں۔ضرب عضب کے تین اہداف مقرر کئے گئے تھے۔پہلا ہدف ان دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کے ٹھکانے ختم کرنے تھے جو اعلانیہ طور پر ریاست اور ملک کے خلاف برسرپیکار تھے۔ الحمد اللہ ہماری عسکری قوت نے ”ناقابل شکست ” سمجھے جانے والے ان گروہوں کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہ بلوچستان کے علیحدگی پسند لشکر تھے یا اسلام کا نام استعمال کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے دونوں قسم کے گروہ اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں۔ جو چند بچے ہیں وہ بھی فرار کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ہمارے بہادر فوجی ان کی آخری پناہ گاہوں تک جاپہنچے ہیں۔دوسرا ہدف فرقہ وارانہ تنظیموں کی وارداتوں پر قابو پانا تھا۔مقام شکر ہے کہ ان کے وجود کو بھی نیست و نابود کردیا گیا ہے۔ اب ان کے اندر ہتھیار اٹھانے کی ہمت نہیں رہی اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو مضبوط گرفت میں لیا جاچُکا ہے۔ مُلک میں ٹارگٹ کلنک کے اکا دُکا واقعات تو ہوتے ہیں لیکن ایسی انتہا پسند تنظیموں کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیاہے۔ تیسرا اور اہم ترین ہدف دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور معاون لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا تھا اس حوالے سے کراچی میں جو آپریشن ہورہا ہے اس کے ذریعے بڑے بڑے نامی گرامی لوگوں کو پکڑا جا چُکا ہے۔ چونکہ کرپشن انڈسٹری کے ذریعے ہی ان شدت پسند گروہوں کو مالی مدد فراہم کی جاتی تھی اس لئے مالی بدعنوانی کے ذرائع پر آہنی ہاتھ ڈالا گیا ہے ۔ قوم کو یقین ہے کہ کراچی میں آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر ہی ختم ہوگا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Jul 15

قومی وقار کی بحالی کا موقع

Click here to View Printed Statement

اگر آپ بیرون ملک رہتے ہیں اور پاکستان کے بارے میں آنے والی خبروں اور تبصروں پر نگاہ رکھتے ہیں تو آپ کو دو طرح کی صورتحال سے واسطہ پڑے گا۔پہلی صورتحال تو یہ ہے کہ پاکستان میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن ہے ‘چور بازاری ہے ‘رشوت اور اقرباپروری ہے اور اداراتی بگاڑ زوروں پر ہے۔ یہ صورتحال کوئی مصنوعی نہیں ہے۔جہاں نیب جیسا ادارہ سپریم کورٹ میں پچاس میگا کرپشن سکینڈل کی فہرست جمع کروائے اور بتایا جائے کہ ساڑھے چار سو ارب روپے کی مالی بدعنوانی ہوئی ہے اور بدعنوانیوں میں سابق وزراء اعظم تک کے لوگ شامل ہیں پھر خبر آئے کہ کراچی میں سالانہ 2سو تیس ارب روپے کا بھتہ وصول ہوتا ہے اور اس بھتہ خوری کے ڈانڈے بلاول ہائوس سے ملتے ہیں۔ پھر انکشاف ہوا Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 Jul 15

مودی کا پلہ کیوں بھاری رہا

Click here to View Printed Statement

ایک اخبار نے لکھا ہے کہ روس میں پاک بھارت وزرء اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھارت کے موقف کو نمایاں کوریج ملی کیونکہ بھارتی میڈیا وہاں پر موجود تھا جب کہ پاکستانی وفد کے ہمراہ پاکستانی میڈیا کو نہیں لے جایا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی سے پاکستان کے حق میں فضاء تبدیل ہوجاتی اور جو تصویریں اور فوٹیج بنی ہے اس کے مقابلے میں بھی چند تصاویر چل جاتیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ تھا ہی نہیں۔ ہمارے انکل نسیم انور بیگ (جنت نصیب) فرماتے تھے کہ معاشی آزادی کے بغیر ہر آزادی ادھوری رہتی ہے۔ پاکستان معاشی طور پر آزاد نہیں تو وہ خارجی سطح پر باعزت کیسے ہوسکتا ہے۔ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کا انگ انگ قرضوں میں جکڑا ہوا ہے بلکہ پاکستان کا ہر سال کا بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہوتا ہے اور ہمیں اپنے معاملات ریاست چلانے ‘تنخواہیں دینے اور وزیراعظم ہائوس اور ایوان صدر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے بھی قرض لینا پرتا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Jul 15

تعلیم سب کیلئے کب ہوگی

Click here to View Printed Statement

وزیراعظم پاکستان کی طرف سے بیرونی اخبارات میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں میاں صاحب نے ملکی ترقی کے لئے تعلیم کو بنیاد قرار دیا ہے لیکن عملاً ان کی حکومت تعلیم کے لئے کیا کر رہی ہے اس کا اندازہ ممتاز محقق ا
ور ماہر سیاسیات جناب اکمل سومرو کے حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مضمون سے ہوتا ہے ۔ چند اقتباسات پیش خدمت ہیں”محکمہ اسکولز کی بیوروکریسی نے وزیرِ اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے ساتھ جو چالاکی کی اور جس طرح دروغ گوئی کے ساتھ کام لیا ہے وہ حیران کن ہے۔ جون میں پنجاب اسمبلی نے جو تعلیمی بجٹ منظور کیا ہے اس کی تفصیلات سے خود وزیرِ تعلیم بھی آشنا نہیں ہیں۔ اگروزیر تعلیم کی مرضی سے بجٹ بنا ہوتا یا وہ آگاہ ہوتے تو ذرا بیوروکریسی سے یہ سوال پوچھتے کہ پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب کی مہم نئے سرکاری اسکولز کھولے بغیر کیسے کامیاب ہوگی؟پنجاب میں 40 لاکھ مزید بچوں کو اسکولوں میں لانے کا ہدف ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Jul 15

اچھی اولاد ہی اچھا نصیب ہے

Click here to View Printed Statement

ہم اکثر فیس بک پر دیکھتے ہیں کہ دوست احباب اپنے نومولود بچے بچیوں کی تصاویر لگا دیتے ہیں۔ کمنٹس میں ہم پڑھتے ہیں کہ ہر کوئی بچے کی صحت’درازی عمر اور اچھے نصیب کی دعا کر رہا ہوتا ہے۔عموماً یہ لکھا ہوتا ہے کہ ”خدا زندگی دے’خدا نصیب اچھے کرے”۔ اولاد بذات خود ایک انعام ہے۔ اللہ پاک نے اولاد کو میٹھے میوے سے تشبیہہ دی ہے۔ بیٹوں کے حوالے سے ہم بہت متفکر ّ رہتے ہیں۔ہمیں فکر ہوتی ہے کہ یہ بڑے ہو کر کامیاب انسان بنیں۔خوب دولت اور ناموری کمائیں۔ ایک بڑا حلقہ ابھی تک بیٹیوں کو بوجھ سمجھتا ہے اور شائد غربت’ جہیز اور عدم تحفظ کے سبب بہت سے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹیوں کے معاملے میں حد سے زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ اور آئے دن کے سماجی حادثوں کو دیکھ کر بیٹی کے والدین ایک ہی دعا کرتے ہیں کہ ”یااللہ میری بچی کے نصیب اچھے ہوں”۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Jul 15

پشین گوئیاں اور پیش بندیاں

Click here to View Printed Statement

حکمرانوںنے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ اپنے طرز حکمرانی میں بہتری نہیں لائیں گے اور وقت گزاری اور ڈنگ پٹائو پالیسی پر ہی عمل پیرا رہیں گے۔ خبریں بنانے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے نت نئے ادارے بن جاتے ہیں بلڈنگز کھڑی ہوجاتی ہیں’ تنخواہیں اور ٹی اے ڈی اے کا چکر چل پڑتا ہے لیکن مجال ہے جو کوئی مفید کام بھی ہورہا ہو۔ مجموعی طور پر پاکستان کے تقریباً تمام ملکی وسول اداروں کی یہی حالت ہے لیکن موسمی تغیریرات کی پیشگی اطلاعات بہم پہنچانے والے ادارے اپنے ناکارہ پن کے سبب کافی بدنام ہوچکے ہیں ۔
کراچی میں لُو لگنے سے بے قصور لوگوں کے جاں بحق ہونے کا سلسلہ کئی روز تک جاری رھا۔گرمی کی اس لہر نے پہلے ہندوستان میں ہزاروں انسانوں کو لقمہ اجل بنایا اور ماہرین موسمیات کو علم ہونا چاہیے تھا کہ گرمی کی یہ لہر پاکستان کے ساحلی علاقوں کا بھی رُخ کرے گی۔پھر آخر ایسا کیوں نہ ہوسکا Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Jul 15

تحقیقات اور انتظار

Click here to View Printed Statement

بی بی سی کی رپورٹ آنے کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ وزارت داخلہ حرکت میں آئے گی اور ایم کیو ایم کے متحرک رہنمائوں کے گھروں پر چھاپے پڑیں گے’ دفاتر سیل ہوں گے اور الطاف حسین صاحب کو برطانیہ سے طلب کیا جائے گا۔ ”ایگزیکٹ” کے معاملے میں چوہدری نثار علی خان نے جو سرعت دکھائی تھی’ اس سے یہی توقع تھی ۔ نیو یارک ٹائمز اور بی بی سی کا” تقدس” تقریباً ایک جیسا ہے تو ردعمل بھی برابر کا ہونا چاہیے۔ لیکن چوہدری صاحب اس کے برخلاف بارہ گھنٹے تک خاموش رہے ‘ وزیر دفاع نے بین السطور گفتگو کی اور قومی اسمبلی میں طعنہ دیا کہ ایم ۔ کیو ۔ ایم کی ”لوڈشیڈنگ ” ہونے والی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو کہیں سے فون آیا ہوگا انہوں نے چوہدری نثار کو بی بی سی کی رپورٹ کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چوہدری صاحب نے تحقیقات کے اس کام کو طول دینے کے لئے برطانیہ سے معلومات حاصل کرنے کی راہ ڈھونڈی ہے۔ خط جائے گا’ کب جائے گا’ پھر جواب آئے گا۔بی بی سی والے حکومت پاکستان کو ثبوت فراہم کریں گے یا ٹال دیں گے۔ ابلتا پانی ہے اور اس میں ٹھنڈی مدھانی ہے۔ وزارت داخلہ اسے گھماتی رہے گی۔ہلکا پُھلکا شور اُٹھے گا اور پھر میڈیا کو کوئی بڑی خبر مل جائے گی۔ جس طرح ایم۔ کیو۔ ایم کے خلاف بی بی سی کی رپورٹ نے ملک میں جاری لوڈشیڈنگ کے سبب جاری حملوں سے مسلم لیگ (ن) کو نجات دلائی ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Jul 15

کراچی آپریشن اور ہماری ذمہ داریاں

Click here to View Printed Statement

یہ بات بلا شک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ کراچی میں گذشتہ ایک برس سے جاری آپریشن کسی تخصیص اور تفریق کے بغیر جاری ہے۔ کوئی پارٹی یا گروہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ رینجرز کے اس آپریشن میں کس طرح کی جانبداری برتی جارہی ہے۔ جس پارٹی کا جتنا بڑا سائز اور حجم ہے اسی حساب سے کرپشن اور بدعنوانی کے حوا لے بھی نتھی ہیں۔ ایم کیو ایم کے خلاف اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک سے بھی ثبوت اور انکشافات سامنے آرہے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ متحدہ کے مبّینہ مجرموں کے خلاف گھیرا مکمل ہوچُکا ہے اور اب آخری ہلہ بولا جانا ہے۔ دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی کے درجن بھر لوگ زیرحراست ہیں ‘بعض اہم لوگ پیشگی اطلاعات پر فرار ہوچکے ہیں’لیکن دو درجن سے زائد لوگ جن میں صوبائی وزراء اور مشیر شامل ہیںانہیں باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔نقدی پکڑی گئی ہے اور بہت سے راز دیرینہ راز دانوں نے افشاء کردیئے ہیں۔ خیال یہی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں دو سو تیس ارب روپے کی سالانہ کرپشن کا تمام نیٹ ورک پکڑا جائے گا اور دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے بھی دھر لئے جائیں گے۔ وفاقی حکومت اور افواج پاکستان کے درمیان اس معاملے پر مکمل ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Jun 15

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player