Jan 19

پاکستانی سیاست صرف پاور پالیٹکس بن چکی ہے۔عوامی خدمت اور سیاسی رہنماؤں کا ذاتی کردار اب فتح و شکست کا کوئی معیار نہیں رہا۔یہی سبب ہے کہ 75برس گزرنے کے بعد اور متعدد بار الیکشن منعقد ہونے کے باوجود مملکت پاکستان قحط اور قحط الرجال میں پوری طرح جکڑا ہوئی ہے۔قرض دینے والے مذید قرض دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔آٹے کے حصول کیلئے عوام قطاروں میں لگے ہیں۔بے یقینی اس قدر ہے کہ ہر گھر باقی اخراجات روک کر آٹا جمع کررہا ہے کہ شائد پھر ملے نہ ملے۔ملک کی معاشی صورتحال ڈیفالٹ کے قریب ہے اور اخلاقی صورتحال کا اندازہ سوشل میڈیا پر سیاسی پوسٹوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

اب پھر انتخابات کا شور شرابا ہے۔مال لگاؤ اور سیٹ جیتو,پھر سیٹ جیت کر اور مال بناؤ۔سیاست بہت بڑی تجارت بن گئی ہے۔سیاستدان ہی نہیں کارکن اور سپورٹرز بھی پیشہ ور ہوچکے ہیں۔حمائت کرنے،دفتر کھولنے،ووٹ ڈلوانے کا صلہ پہلے سے طے کرلیتے ہیں۔کیش کے علاوہ جیتنے کے بعد نوکریاں،ٹھیکے اور مراعات کی پیکج ڈیل ہوتی ہے۔جسطرح ہاؤسنگ سوسائٹیوں کیلئے لینڈ پرووائیڈر ہوتے ہیں اسی طرح سیاسی رہنماؤں کیلئے ووٹ پرووائیڈر بھی پیدا ہوچکے ہیں۔ایک انتہائی منافع بخش کاروبار  ہے۔جس میں میڈیا بھی بڑا حصہ دار ہے۔

خدمت والی سیاست ناپید ہو چکی ہے۔کراچی میں جماعت اسلامی نے اسے کسی حد تک پھر سے بیدار کیا ہے۔دیکھنا ہو گا کہ وہ کسطرح شہریوں کی خدمت کا آئندہ کا سفر پورا کرتی ہے۔

بہت سے لوگ کاروباری سیاست سے دلںرداسشتہ ہو کر نہ صرف سیاست بلکہ ملکی امور سے ہی لاتعلق ہو چکے ہیں۔ظاہر ہے عوام کی اکثریت کی لاتعلقی کا فائیدہ بھی سیاست اور اقتدار کے بیوپاریوں کو ہی ہورہا ہے۔

کیا ایسا ہونے دیا جائے؟ کیا اس ملک کے لئے سوچنے والے یونہی کڑھتے رہیں۔کیا پھر کسی تبدیلی کے نام پر بیوقوف بنتے رہیں؟

تعمیری ذہنوں کو تخریبی ذہنوں کے مقابلے پر بیدار ہونا ہی ہوتا ہے۔یہ فطرت کا اصول ہے،یہ قرآنی حکم ہے۔خیر اور شر کی جنگ میں خیر کی قوتوں کو منظم ہونے اور متحد ہونے کا حکم ہے۔پاکستان میں بھی ایسے افراد کی کمی نہیں جو عوام کی خدمت کے ذریعے اپنے رب کو راضی کرتے اور معاشرے کیلئے نفع مند ہوتے ہیں۔بس ان کی کوئی اجتماعی آواز نہیں ہوتی،ان کیلئے کوئی متحرک سیاسی و سماجی پلیٹ فارم نہیں ہوتا۔

سوچتے بہت سے لوگ ہیں لیکن ہمت کوئی نہیں کرتا۔

ایک  ہمت اب ڈاکٹر محمد حنیف مغل نے کی ہے۔اسلام آباد کے آئی ایٹ مرکز میں ہومیوپیتھک کلینک کرتے ہیں۔ان کے رابطوں کا دائرہ وسیع ہے۔ڈاکٹر صاحب نے خدمت خلق کے ذاتی طور پر کئی طریقے اختیار کر رکھے ہیں۔لیکن ان کا یہ کام ذاتی سطح کا تھا۔انہوں نے اس کام کو ایک تحریک کی شکل دینے کا سوچا اور بڑی تگ و دو کے بعد ایک سیاسی پارٹی رجسٹر کرا لی ہے۔تحریک شاد باد پاکستان کو چاقو نشان الاٹ ہوچکا ہے۔اب اس پارٹی کی سرگرمیوں کا طریقہ کار طے کیا جارہا ہے۔ڈاکٹر حنیف صاحب کا خیال ہے کہ اس تحریک میں پیشہ ور سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں کو شامل نہیں کرنا۔اس میں وہی لوگ اہم عہدوں پر لئے جائیں گے جنہوں نے عملی طور پر خدمت خلق کے کام کئے ہوں اور خدمت کا بنیادی جذبہ رکھتے ہوں۔پھر ان لوگوں کو دعوت دی جائے جو ہنر مند ہوں اور بے ہنر نوجوانوں کو اس قابل بنا سکتے ہوں کہ وہ روزگار کما سکیں۔ڈاکٹر صاحب کے نزدیک پاکستانیوں کو بنیادی تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔ساڑھے تین کروڑ بچے سکولوں اور مدرسوں سے باہر ہیں اور آبادی کیساتھ ساتھ یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ایسے بے سکول بچوں کیلئے ان کے کام کرنے والی جگہوں پر پرائمری ایجوکیشن کا بندوست کیا جائے۔اسی طرح وہ صحت کے معاملے کو بھی میری سوچ کے عین مطابق حل کرنا چاہتے ہیں۔سستی اور مؤثر دوائی۔اس کے لئے وہ ملک بھر میں مسلسل اور متواتر ہومیوپیتھک کے فری کیمپس کا انعقاد کرنا چاہتے ہیں۔

چونکہ میرا اپنا مشن بھی یہی ہے اس لئے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے ڈاکٹر صاحب سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔انہوں نے مجھے تحریک شاد باد کا مرکزی عہدہ لینے کی پیشکش کی لیکن میں نے اپنے غیر سیاسی مزاج کے سبب شکریہ کے ساتھ پیشکش واپس کردی البتہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے چیف ایڈوائزر کی ذمہ داری اٹھا لی ہے۔امید ہے کہ یہ پلیٹ فارم خدمت خلق کی تعمیری قوتوں کو اکٹھا کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔عام آدمی کو ہنر مند بنانے کا منصوبہ کامیاب ہوگا،صحت مند معاشرہ تعمیر ہوگا اور جہالت سے نجات ملے گی۔

مجھے یقین ہے کہ اس پلیٹ فارم سے جو لوگ خدمت خلق میں حصہ لیں گے، لاتعلق ووٹرز ان اشخاص کو مذید طاقتور بنانے کیلئے ایوانوں میں بھی پہنچائیں گے۔ تحریک کے نشان چاقو سے کاروباری سیاست کی زنجیریں کٹ جائیں گی۔ ہمارا پیارا پاکستان واقعی کشور حسین  شاد باد بن سکے گا۔

ہر گھر آباد،خوشحال پاکستان

تحریک شاد باد،چاقو کا نشان

written by drmurtazamughal

Jan 11

وہ عورت کسقدر خوش تھی۔خیبر پختونخوا کے کسی دور دراز کے گاؤں سے آئی تھی۔اپنے معصوم بچے کی بینائی بچانے کیلئے یہاں آگئی تھی۔والد بھی ساتھ تھا۔اس نے راقم کو بتایا
” بچے کی عمر پانچ برس ہے۔سب ڈاکٹروں کو چیک کرایا لیکن نظر روز بروز کمزور ہوتی جارہی تھی۔جب چاروں طرف سے مایوس ہوگئے تو ہمارے بھتیجے نے پھر ہمیں پشاور شہر میں کسی اور مشہور آئی سپیشلسٹ کے پاس بھیجا۔اس ڈاکٹر نے آنکھ دیکھ کر معذوری ظاہر کردی۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ بچے کی آنکھ میں کینسر ہے اور آنکھوں کے کینسر کا علاج پاکستان میں نہیں ہوتا۔یہ سن کر میری بیوی رونے لگی۔ڈاکٹر نے ایک مہربانی کی اور ہمیں مشورہ دیا کہ آپ راولپنڈی الشفاء آئی ہسپتال چلے جائیں وہاں پچیدہ امراض کا علاج ہوتا ہے،شائد کینسر کا علاج بھی ہوتا ہو۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم یہاں آگئے۔یہاں آنکھوں کے کینسر کا الگ شعبہ ہے اور ہر طرح کی سہولت بھی موجود ہے”
عام کینسرکا علاج بھی انتہائی مہنگا اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔کسی طرح کے کینسر کیلئے کیموتھراپی چاہیے جو غریب آدمی کیلئے ایک ممکن ہی نہیں۔اس کے علاہ بیشمار مہنگے ٹیسٹ ہیں۔پھر نازک قسم کے آپریشن ہوتے ہیں جو صرف آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر ہی کرسکتے ہیں۔جب غریب مریض کو کہا جاتا ہے کہ آپ باہر سے کیموتھراپی کروائیں تو وہ بیچارہ بے بس ہو جاتا ہے۔انتہائی ضروری فالو اپ چیک اپ ہوتے ہیں وہ بھی انتہائی مشکل ہوجاتے ہیں۔جو والدین صاحب استطاعت ہوتے ہیں انہیں بھی مختلف ٹیسٹ مختلف جگہوں سے کرانے میں بڑی دشواری ہوتی ہے۔
الشفاء ٹرسٹ کے صدر جنرل(ریٹائرڈ) رحمت خان نے فیصلہ کیا کہ کینسر سنٹر بھی قائم کیا جائے۔ایشیا کے سب سے بڑے نو تعمیر شدہ چلڈرن آئی ہسپتال کے اندر ہی چلڈرن آئی کینسر سنٹر قائم کردیا۔اس کیلئے بہت بجٹ درکار تھا۔خصوصا کیموتھراپی بے حد مہنگا علاج ہے۔لیکن الشفاء ٹرسٹ کے ڈونرز نے بھر پور ساتھ دیا۔اب اس سنٹر میں 80فیصد مریض بچوں کا مفت علاج ہورہا ہے۔اور مفت اور فیس ادا کرنیوالوں کو ایک جیسی سہولیات مل رہی ہیں۔اب آئی کینسر کے کسی مریض کو علاج کیلئے نہ اندرون ملک خوار ہونے کی ضرورت ہے نہ ہی بیرون ملک قیمتی زرمبادلہ لٹانے کی مجبوری ۔ایک چھت کے نیچے کیموتھراپی سمیت جدید ترین طریقہ علاج میسر ہے۔
کینسر کے علاوہ بھی کسی وجہ سے ڈوبتی بصارتوں کی بحالی کا ہر علاج اور ماہر ترین ڈاکٹر الشفاء آئی ہسپتال میں موجود ہیں۔
راولپنڈی میں پہلے الشفاء آئی ہسپتال کی بنیاد 1985ء میں رکھی گئی۔ پھرکوہاٹ،سکھر،
مظفرآباد،چکوال میں ہسپتال بنے۔اب کوئٹہ کا رخ ہے۔اس کے علاوہ چلڈرن آئی ہسپتال،آوٹ ریچ پروگرام،آئی بنک اور ریسرچ سنٹر موجود ہے۔آپٹو میٹری کا بڑا ادارہ ہے اور پبلک ہیلتھ کی ڈگری بھی یہاں سے ملتی ہے۔
الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میرے گھر کے بالکل قریب ہے۔میں اس ٹرسٹ کے تعاون سے اپنے ہومیوپیتھک کیمپ پر سال میں ایک دوبار فری آئی کیمپ بھی لگواتا ہوں۔حیرت ہوتی ہے کہ بالکل قریب کی بستیوں سے آنکھوں کے اتنے مریض آتے ہیں۔یا تو انہیں ہسپتال کے بارے آگاہی نہیں یاوہ اپنی بصارت سے غافل رہتے ہیں۔عورتوں اور بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں شائد صحت ابھی تک پہلی ترجیح نہیں بن سکی۔دوسرا معاملہ یہ کہ پرائیویٹ ہسپتال میں آنکھوں کا چیک اپ اور آپریشن بہت مہنگا ہے۔الشفا ٹرسٹ ہر سال لگ بھگ دس لاکھ مریضوں کا علاج کرتا ہے جس میں سے 80فیصد بالکل مفت ہوتے ہیں۔
ہمارے لوگوں کو کوئی موٹیویٹ بھی نہیں کرتا۔ہم طرح کے مشورے دیتے ہیں لیکن معلومات منتقل نہیں کرتے۔میرا ایک کام پبلک موٹیویشن بھی ہے۔قرآنی آیات اور افکار اقبال کی روشنی میں مختلف تعلیمی اداروں میں موٹیویشنل لیکچر دیتا ہوں اور اس کام کا کوئی،کسی شکل میں بھی معاوضہ نہیں لیتا۔یہ توفیق اللہ کی دی ہوئی ہے۔میری یہ پہچان الشفاء ٹرسٹ میں بھی پہنچی۔مجھے گزشتہ برس ستمبر میں صدر الشفاء ٹرسٹ جنرل رحمت صاحب نے اپنے آفس مدعو کرکے “فرینڈ آف الشفاء”کا سرٹیفکیٹ دیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر بریگیڈیئر رضوان اصغر نے “فرینڈ” ہونے کے تقاضے بتائے۔ایک ہی تقاضا کہ عام لوگوں کو اندھے پن سے بچانے اور بصارت بحال کرنے کیلئے آگاہی پھیلائی جائے۔تحریک پیدا کی جائے۔صحت عامہ چونکہ میرا مشن ہے اس لئے محترم قارئین آپ یا آپ کا کوئی پیارا،کوئی قریبی اپنی آنکھوں میں کسی قسم کی تکلیف محسوس کرے تو اسے امراض چشم کے کسی اچھے ماہر سے چیک اپ پر آمادہ کریں۔اگر کوئی پیچیدہ مرض ہے تو فوری طور پر الشفاء ہسپتال کا رخ کریں۔آپ فیس ادا نہیں کرسکتے تو کسی زکوات سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ الشفاء آئی ہسپتال میں آپکی عزت نفس مجروح نہیں ہوگی۔ صدر جنرل رحمت اپنے پیش رو جنرل حامد مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ٹرسٹ کے بانی جنرل جہانداد جنت نصیب کے اس مشن کو لیکر چل رہے ہیں کہ”جدید ترین طریقوں اور ماہر ترین ڈاکٹروں کے ذریعے ہر کسی کیلیے بینائی کے علاج کی مفت سہولت “
روشنی کے ان سفیرو کا شکریہ،ان خالص جذبوں کو سلام !

written by drmurtazamughal

Jan 08

حال ہی میں بی بی سی نے رپورٹ دی ہے کہ پاکستان ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں شوگر کی بیماری انتہا کو چھو رہی ہے۔ساڑھے تین کروڑ پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہیں اور اتنے ہی وہ ہیں جو جانتے ہی نہیں کہ انہیں شوگر ہے۔ مریضوں میں آدھی تعداد نوجوانوں کی ہے لیکن وہ چیک اپ سے ہچکچاتے ہیں۔شوگر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے اس کے علاوہ اس بیماری سے انسانی جسم پر کتنے خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ ہم سب جانتے ہیں اور ہم میں سے اکثر ان اثرات کو بھگتتے بھی ہیں۔رپورٹ میں نوجوانوں کے اندر شوگر کے

 رجحان کا سبب فاسٹ فوڈ کو قرار دیا گیا ہے۔دوسری وجہ موروثیت اور تیسری وجہ کزن میرج بتائی جاتی ہے۔زمینی حقائق یہ ہیں کہ ہم فاسٹ فوڈ سے تو خود کو بچا سکتے ہیں لیکن جہاں تک موروثی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کا تعلق ہے تو اس معاملے میں پیدا ہونیوالا بچے بے بس ہیں۔یہی معاملہ ہمارے ہاں کزن میرج کا ہے۔اگرچہ چند عوامی حلقوں تک اس سلسلے میں آگاہی پہنچی ہے لیکن سماجی دباو¿ اور رشتوں کی تلاش میں مشکلات اور خدشات کزن میرج سے اجتناب میں آڑے آجاتے ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ شوگر کے پھیلاو¿ کے اسباب ختم ہونے والے نہیں۔لہذا ہمیں اس کی روک تھام کے دیگر ذرائع استعمال کرنے پڑھیں گے۔ایک تو میری نوجوان نسل سے دست بستہ گزارش ہے کہ خدارا فاسٹ فوڈ سے بچنے کی کوشش کریں۔برگر،پیزا سے پرہیز کریں۔برینڈ

شاپ کی رونقیں جوں جوں بڑھیں گی آپکی صحت ایسے ہی متاثر ہوتی جائے گی۔صرف شوگر نہیں بلکہ معدہ،بلڈ پریشر اور دماغی تناو¿ جیسی بیماریاں بھی اسی فاسٹ فوڈ کے بکثرت استعمال سے جنم لیتی ہیں۔دوسری التماس یہ کہ ہماری بیٹیاں اور بیٹے یہ نہ سمجھیں کہ شوگر صرف بڑھاپے کی بیماری ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ آپ میں موروثی طور پر یہ بیماری منتقل ہوئی ہو۔اس لئے جب بھی موقع ملے اپنا میڈیکل چیک اپ ضرور کروائیں۔شوگر اور بلد پریشر چیک کرنے کے آلات ہر گھر میں ہونے چاہیں۔ماں باپ کو اس جانب ضرور توجہ کرنی چاہیے۔اگر کسی طریقے سے آپکو پتا چل جائے کہ آپ کے اندر شوگر کا رجحان ہے تو پھر اس کے سدباب میں دیر مت کریں ۔کسی ماہر ڈاکٹر سے فوری رابطہ کریں ۔بہت امکان ہے کہ اچھے ڈاکٹر کے دئے ہوئے ڈائٹ پلان اور واک اور ورزش سے آغاز ہی میں بیماری پر قابو پالیا جائے۔شوگر کی ایلوپیتھک دوائیوں سے بچنے کی حتی المقدور کوشش کریں۔ ادویہ ساز کمپنیوں نے ہر دوائی کے سائڈ ایفیکٹس دئے ہوتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے ایلوپیتھک ادویات کے مسلسل استعمال سے آپکی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ایک بیماری کے خاتمے کے دوران کئی دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا ہے حتی کہ انسانی جسم کی قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے۔میں قائد اعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر جاب کررہا تھا کہ میری والدہ بیمار ہوگئیں۔ان کی تیمار داری کی ذمہ داری سنبھال لی۔مجھے کئی برس علاج کے سلسلے میں دن رات دھوپ دوڑ کرنا پڑی۔بڑے بڑے معالجین سے والدہ کو چیک کروانا،دوائیوں کے بارے تحقیق کرنا اور متبادل دوائیوں کا کھوج لگانا میرا شوق بن گیا۔والدہ تو دنیا سے رخصت ہوگئیں لیکن متبادل ادویہ کے حوالے سے میری دلچسپی بڑھتی ہی چلی گئی۔والدہ کے علاج کے دوران کئی بار ایسا ہوا کہ جب بھی کسی ہومیوپیتھک دوائی کو آزمایا تو ریلیف بھی ملا اور کوئی پیچیدگی بھی پیدا نہیں ہوئی۔لیکن جب بھی سینئر ڈاکٹر کو بتایا تو اس نے دل شکنی کی کہ یہ ہومیوپیتھک طریقہ علاج نہیں صرف نفسیاتی دھوکا ہے۔ڈاکٹروں کے رویہ نے مجھے ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی طرف بھی متوجہ کیا۔چند سالوں میں میں نے نہ صرف ہومیو پیتھی کا امتحان پاس کیا بلکہ طب یونانی،چینی طریقہ علاج،علاج بذریعہ غذا و پانی ±، روزہ سے اور نمکیات سے علاج، پر بھی ڈھیر ساری تحقیق کر ڈالی۔متبادل ادویہ میں ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں نے مریض دیکھنے اور انہیں مشورہ دینے کا آغاز کردیا۔جب مریض صحت مند ہونا شروع ہو گئے تو میرا اعتماد بڑھا۔گزشتہ بیس برس سے میں باقاعدگی کیساتھ ہر اتوار کیمپ کرتا ہوں اب تک ہزاروں مریض ان کیمپوں میں آکر ہومیو پیتھک ادویات سے صحت مند ہوچکے ہیں اور کار خیر کا یہ سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ساری تفصیلات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ شوگر کے مریض کسی اچھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے بھی رابطہ ضرور کریں۔ انسولین پر جانے سے پہلے اگر آپکو ہومیوپیتھک دوائی مل گئی تو یقین جانے آپکی صحت بھی سدھر جائے گی،آپکا میڈیکل بجٹ بھی کنٹرول رہیگا اور مزید بیماریوں سے بھی آپ بچے رہیں گے۔شہریوں کو اگر بہت معمولی خرچے کیساتھ اپنی صحت کو بحال رکھنا ہے تو خدا را ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی طرف آئیں۔اتائی ڈاکٹروں سے بچیں لیکن پڑھے لکھے ڈاکٹروں کی اب کمی نہیں رہی۔اب ہچکچانے کی ضرورت نہیں۔پاکستان میں اب جرمنی اور دیگر ممالک کی ہومیوپیتھک ادویات میسر ہیں۔ میرے نزدیک صحت مند پاکستان کی منزل میں ہومیوپیتھک طریقہ علاج کا فروغ بہت لازمی ہے۔میں نے اس کے فروغ کو زندگی کا مشن بنایا ہوا ہے۔میری ان کوششوں کو اب ڈاکٹروں کے بڑے حلقے میں بھی پذیرائی مل رہی ہے۔حال ہی میں کمال لیبارٹریز نے مجھے ہومیوپیتھی کے فروغ کے حوالے سے ایوارڈ سے نوازا۔پاکستانیوں کی صحت کیلئے فکر مند افراد میرے اس مشن میں میرا ساتھ دیں اور سستے،بے ضرر اور زود اثر طریقہ علاج کے فروغ میں اپنے طور پر تحقیق کریں،تبلیغ کریں،نسلوں کو شوگر جیسی خاموش قاتل سے بچائیں!

written by drmurtazamughal

Feb 10

صرف ساڑھے تین برس بیتے ہیں کہ سونامی کی لہریں دم توڑنے لگی ہیں،تبدیلی کی آندھیوں کا دم گھٹنے لگا ہے اور شفافیت کے چہرے پر بدعنوانی کے پسینے بہنے لگے ہیں۔
احتساب اور نہیں چھوڑوں گا کا نعرہ اب “الیکشن کمشن دوسری پارٹیوں کے فنڈز کی بھی تحقیق کرے تک محدود ہوگیا ہے”۔کرپشن کیخلاف جنگ کے تمام دعوے ناکامی کی دھول چاٹ کر اقتدار کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئے ہیں۔اخلاقی بالاتری کے جس خود ساختہ مینار پر کھڑا ہوکر نئے پاکستان کا معمار اپنے سیاسی حریفوں کو للکارا کرتا تھا وہ مینار ہی زمیں بوس ہوگیا ہے۔غیر ملکی تحائف بیچ کھانے کے الزامات کی ابھی مؤثر تردید کا انتظار تھا کہ غیر ملکی فنڈنگ کا قلاوہ گلے میں جھولنے لگا۔اب یہ اداروں کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ سسٹم کو بچانے کیلئے تحریک انصاف کو بچا لیں ورنہ عبرتناک سزا کیلئے قانون نے اپنا دامن وا کردیا ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے جس طرح عمران خان کی مبینہ ایمانداری کو بیچ چوراہے کے دھویا ہے اس کے بعد سچ سمجھ جانے کیلئے کسی بے بہا بصیرت کی گنجائش نہیں رہتی۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Nov 10

ایسا کبھی ہوا نہیں کہ دنیا سے شر مکمل طورپر ختم ہوگیا ہو۔انسان کے اندر شر کی قوتیں خیر کی طاقتوں سے ہمیشہ نبردآزما رہتی ہیں ۔آپ اسے حضرت انسان کی فطرت کہہ سکتے ہیں ۔ان شرانگیز طاقتوں کو آپ نیگیٹیو فورسز کا عنوان دے سکتے ہیں ۔قرآن انہیں شیطانی طاقتوں کا نام دیتا ہے ۔ہر منفی سوچ ،ہر تخریبی تصور ہر انسان دشمن منصوبہ ،ہرابلیسی حربہ چاہے اس کا محل وقوع انسان کی اپنی ذات ہو ،اس کا ماحول ہو،ملک ہویاسرزمین ہو

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Nov 08

 

خدا خدا کر کے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا اور 20 نومبر کو یہ عمل اب تکمیل کو پہنچ جائے گا۔اس غیر ضروری تاخیر کی ضرورت ہی نہیں تھی۔عسکری اور سول حلقے متفق ہیں کہ ہمیں کم از کم عسکری ڈسپلن کیساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنا چاہیے۔یہ کوئی پنجاب پولیس نہیں کہ اپنی من مانی سے جسے چاہیں ہٹا دیں اور جسے چاہیں لگا دیں۔یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نازک معاملہ ہے۔اہم اور کلیدی تعیناتیوں کو طے شدہ میرٹ پر سرانجام دیا جاتا ہے۔یہی ڈسپلن کی خوبصورتی ہے۔ اسی لیے پاک فوج دنیا کی منظم ترین افواج میں شمار یوتی ہے ۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Oct 14

گزشتہ چند برسوں میں ہومیو پیتھی پاکستان میں بھی علاج کا مقبول طریقہ بن گیا ہے اور ملک بھر میں 70 ہزار ہومیو پیتھ موجود ہیں۔ لاکھوں افراد ان سے علاج کراتے ہیں۔ اس طریقہ ء علاج کو میڈیکل انشورنس کی کمپنیاں اور ایلو پیتھک ماہرین غیر مؤثر طریقہ سمجھتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ ایلو پیتھک طریقہ علاج سے جڑے مالی مفادات ہیں۔کمیشن اور کمائی ایلوپیتھک ادویات ٹیسٹس. اور سرجری کرنے سے سے ہی ممکن ہے۔
ہومیو پیتھی کا آغاز اٹھارہویں صدی کے اواخر میں جرمنی سے ہوا تھا۔ اس کی بنیاد اس نظریے پر ہے کہ انسانی جسم اپنا علاج خود کر سکتا ہے۔ ہومیو پیتھ جڑی بوٹیوں اور معدنیات وغیرہ سے دوائیں بناتے ہیں اور یہ دوائیں انتہائ چھوٹی طاقتوں میں دینے انسانی جسم سے بیماری ختم کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
صرف پاکستان ،بنگلہ دیش ،چین اور بھارت جیسے ترقی پذیر ملکوں میں ہی بے شمار لوگ اس کم خرچ علاج کو ترجیح دیتے ۔فرانس جیسے امیر ملک کی 60 فیصد آبادی بھی ہومیوپیتھک دوائیں استعمال کرتی ہے۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Oct 09

سامنے سکرین پر بچے نمودار ہوئے۔صحت مند ہونے کے بعد اٹھکیلیاں کر رہے تھے، سرجری سے قبل ان کی حالت دکھائی گئی۔ایک آنکھ روشن تھی جبکہ دوسری آنکھ میں رسولیاں ابھر کر باہر آرہی تھیں۔ان پھول جیسے بچوں کو زیادہ دیر دیکھتے رہنا انتہائی تکلیف دہ عمل تھا۔حوصلہ ہے ڈاکٹروں کا جو نہ صرف ان ابلتی آنکھوں کا آپریشن کرتے ہیں بلکہ ان بچوں کیساتھ والدین کی طرح پیار بھی کرتے ہیں۔ ویڈیو میں ماں باپ اپنی اپنی دکھ بھری کہانیاں بیان کر رہے تھے۔پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے لوگ جو اپنے جگر گوشے کو لئے مارے مارے پھرتے رہے۔پھر کسی نے الشفاء آئی ہسپتال کا پتا بتا دیا اور ان کے اندر امید اور امنگ جاگ اٹھی۔بچے کی آنکھ اور زندگی دونوں بچ گئے۔ویڈیو میں کامیاب سرجری کے بعد بچوں کو تھینک یو الشفاء” کا نعرہ لگاتے سنا۔
ویڈیو ختم ہوئی اور آڈیٹوریم کی روشنیاں بحال ہوئیں۔میں نے شرکاء کے چہروں پر افسردگی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات دیکھے۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Nov 24

Click here to View Printed Statement

اقبال نے کہا تھا، وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری میں جب پہلی بار سردار یاسر الیاس خان سے ملا تو میرے ذہن میں اقبال کے اس شعر نے سرسراہٹ کی تھی۔سردار یاسر سے تفصیلی ملاقات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ہیڈ آفس میں ہوئی۔اس خوبصورت اور خوب سیرت نوجوان نے مغل وفد کا پر تپاک استقبال کیا۔سردار صاحب کو چیمبر کا الیکشن جیتنے پر جہلم سے جناب میاں نعیم بشیر،جناب ندیم ساجد کی سربراہی میں ممتاز مغل شخصیات پر مشتمل ایک نمائندہ وفد مبارکباد دینے آیا تھا۔اسلام آباد سے جناب بیگ راج اور حسنین عرفانی مغل بھی موجود تھے۔سردار یاسر کمیٹی روم میں وفد کے ارکان سے باری باری گلے ملے،تعارف حاصل کیا اور خیریت دریافت کی۔پھر انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے حوالے سے دلچسپ باتیں بتائیں۔چیمبر کے الیکشن میں سردار صاحب نے سب سے زیادہ ووٹ لیے۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Nov 18

Click here to View Printed Statement

راقم نے آئی جی سندھ کے اغواء کے حوالے سے چند روز قبل “سندھ پولیس کو سیلوٹ”کے عنوان سے کالم لکھا تھا جسے آئی جی مشتاق مہر صاحب نے پڑھا اور شکریہ کا پیغام بھی بھیجا۔میرا خیال ہے کہ پولیس کلچر میں یہ ایک انوکھا واقعہ تھا کہ اپنے سربراہ کی عزت کی خاطر اور پولیس کے مورال کو بلند رکھنے کیلئے افسران نے احتجاجا رخصت پر جانے کا فیصلہ کیا۔ہمارے ہاں پولیس کے بارے میں عمومی تصور یہ ہے کہ چھوٹے افسروں اور سپاہیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے وہ اگر کوئی کارنامہ سر انجام دے بھی دیں تو مقامی ایس ایچ او کریڈٹ اپنے نام کرتا ہے۔اور انعام وغیرہ کے معاملے میں اعلی افسران ہی حقدار ٹھہرائے جاتے ہیں۔حال ہی میں ہم ایسا منظر پنجاب میں دیکھ چکے ہیں۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Nov 09

Click here to View Printed Statement

آج انسانیت مجموعی طور پر انتشار کا شکار ہے ۔تمام تر ترقی ‘خوشحالی تعلیم اور علم کے باوجود ساڑھے چھ ارب انسان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اس کرہ ارض کو نہ ختم ہونے والے فتنوں میں مبتلا کردینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔کوئی ایسا خطہ نہیں جو جنگ و جدل سے پاک ہو۔ جہاں انسان انسان کو کاٹ نہ رہا ہو۔ جہاں آدم آدم کو لوٹ نہ رہا ہو امیر غریب کو کھائے جارہا ہے۔ باوسیلہ دنیا بے وسیلہ بستیوں کو اجاڑ رہی ہے۔تقابل کا فلسفہ اپنے تمام تر منفی معنوں کے ساتھ نسل انسانی کی تباہ کاریوں میں کارفرما ہے۔ کچھ معلوم نہیں کب زیر زمین چھپے ہوئے ایٹم بم’ سمندر میں تیرتی ہوئی نیو کلیائی آب دوزیں ‘تابکاری مواد اٹھائے فضاء میں قلانچیں بھرتے طیارے اور خلا میں ہچکولے لیتے مصنوعی سیارے اچانک کسی مہم جو ذہن کی چھوٹی سی غلطی سے اس قافلہ انسانیت کو آگ لگا دیں اور احسن تقویم کے فارمولے پر پیدا کردہ انسان اپنی ہی بدتد بیری اور بدنیتی کے سبب اپنے گھر کو جلا کر خاکستر کردے۔ انسانیت کو بچانے کی آج جس قدر ضرورت ہے۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Oct 29
Click here to View Printed Statement

انسان کے چار وجود ہیںیعنی حیوانی ، عقلی، روحانی اور اخلاقی وجود۔ان کا تذکیہ ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔ اخلاقی وجودسے ہی کاروباری اخلاقیات تشکیل پاتی ہیں۔قرآن پاک میں ایسی بیشمار آیات ہیں جن میںاخلاقی قدروں پر عمل نہ کرے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ تم ناپ تول کر لیتے وقت پورا لیتے ہو اور دیتے وقت کم تولتے ہو۔کیا تم روز آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔اس عظیم دن پر کہ جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔انشورنس میں بھی ہم ایک وعدہ بیچتے ہیں اور کلیم ہمارا پروڈکٹ ہوتا ہے اگر ہم اپنا کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کرتے تو دراصل ہم بھی کم تولنے والوں میں شمار ہونگے۔دنیا کا کوئی کاروبار بھی ایمانداری کے بغیر نہیں چل سکتا۔جہاں ایمانداری نہیں ہوتی وہاں اعتماد نہیں ہوتا اور جہاں اعتماد نہیں ہوتا وہاں کاروباری لین دین نہیں ہوسکتا۔دھوکہ دہی سے وقتی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے لیکن تادیر نقصان مقدر بن جاتا ہے۔انشورنس سیکٹر کی ساری عمارت ہی اعتماد اور اعتبار کی اینٹوں سے جڑی ہے۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Oct 28
Click here to View Printed Statement

صوبہ سندھ کے محکمہ داخلہ کیطرف سے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کے داماد اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے اور پولیس کی اعلی قیادت سے بدسلوکی اور توہین کی تحقیقات کے لیے قائم وزارتی کمیٹی نے اپنی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔اس صوبائی وزارتی کمیٹی کے کنوینر صوبائی وزیر سعید غنی جبکہ ارکان میں ناصر حسین شاہ، سید سردار علی شاہ،اویس قادر شاہ اور معاون خصوصی مرتضی وہاب شامل ہیں۔کمیٹی 18 اور 19 اکتوبر کو کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس پر ڈالے گئے مبینہ دبائواور ہوٹل میں چھاپہ مار کر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی پرائیوسی اور وقار کو مجروح کرنے کے الزامات کی تحقیقات کررہی ہے۔قارئین کو یاد ہو گا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیپٹن (ر) صفدر کو 19 اکتوبر کی صبح کراچی کے ایک مقامی ہوٹل سے گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر نعرے بازی کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Oct 12

Click here to View Printed Statement

written by drmurtazamughal

Oct 12
Click here to View Printed Statement

کالم شروع کرنے سے پہلے چند احادیث پیش خدمت ہیں۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ احسان اور سلوک کا معاملہ کرے، ان کے ساتھ اچھا برتاو کرے، تو اس کی بدولت وہ جنت میں داخل ہوگا (ترمذی) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور اس کو ان بیٹیوں یا بہنوں کی پرورش کا سابقہ پیش آئے اور وہ اللہ تعالی کی رضا کے لئے ان کی پرورش کرے اور ان کو تہذیب و ادب سکھائے اور ان کے کھلانے پلانے اور دیگر ضروریات کے انتظام کی تکلیف پر صبر کرے تو اللہ تعالی اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کو جنت میں داخل کرے گا۔کسی نے سوال کیا: اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟۔ آپۖ نے فرمایا: دو بیٹیوں کا بھی یہی حکم ہے۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Oct 03

Click here to View Printed Statement

وطن عزیز اپنے آغاز سے ہی گوناگوں مسائل سے دوچار رہا ہے۔مسائل کی نوعیت داخلی بھی ہے اور خارجی بھی۔میں نے جب سے اخبارات پڑھنے شروع کیے ہیں یہی سنا اور پڑھا ہے کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔اور اس بات میں کوئی شک بھی نہیں۔اپنوں کی نااہلیاں،حرص و ہوس اور باہمی انتقام نے جہاں ملک میں اچھی حکمرانی کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیا وہیں خارجی محاذ پر دشمن نے ہمیشہ سازشوں کے جال بچھا رکھے ہیں۔آج ہم پھر قومی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں۔لیکن پاکستان کے عوام اپنے حکمرانوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ بہتات میں پیدا ہونے والی گندم اور چینی کی قیمت کنٹرول سے باہر کیوں ہوگئی۔روپیہ افغانستان کی کرنسی سے بھی کیسے نیچے چلا گیا،جی ڈی پی مائنس میں کیسے ہوگئی۔قرضے کیسے بڑھ گئے اور جرائم کی شرع میں کیسے اضافہ ہوگیا؟ یہ ٹھیک ہے کہ ستر برس سے اس ملک میں کرپشن ہورہی ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ انصافی حکومت نے سابق حکمرانوں کو بڑی کامیابی کیساتھ نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے کنٹرول کیا ہوا ہے۔ لیکن اب بھی ہر سال 10ارب ڈالر باہر جارہے ہیں۔کراچی میں بجلی نایاب ہے۔سردیوں میں گیس نہ ہونے کی “خوشخبری” وزیراعظم خود ہی دے رہے ہیں۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Sep 20

Click here to View Printed Statement

خیر اور شر کا تصادم فطری اور دائمی ہے

ایسا کبھی ہوا نہیں کہ دنیا سے شر مکمل طورپر ختم ہوگیا ہو۔انسان کے اندر شر کی قوتیں خیر کی طاقتوں سے ہمیشہ نبردآزما رہتی ہیں ۔آپ اسے حضرت انسان کی فطرت کہہ سکتے ہیں ۔ان شرانگیز طاقتوں کو آپ نیگیٹیو فورسز کا عنوان دے سکتے ہیں ۔قرآن انہیں شیطانی طاقتوں کا نام دیتا ہے ۔ہر منفی سوچ ،ہر تخریبی تصور ہر انسان دشمن منصوبہ ،ہرابلیسی حربہ چاہے اس کا محل وقوع انسان کی اپنی ذات ہو ،اس کا ماحول ہو،ملک ہویاسرزمین ہو

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Sep 16

Click here to View Printed Statement

افسوس کہ ہمارے ہاں کامیابی اور ناکامی کے معیار اقدار پر استوار ہونے کی بجائے اختیاروزر اور اقتدار جیسی مصنوعی بنیادوں پر اٹھائے جارہے ہیں۔جو لوگ اصولوں کیساتھ زندگی گزارتے ہیں وہ ہمارے نزدیک ناکام،بھولے اور بیوقوف قرار پاتے ہیں۔جھکنے والے رفعتیں پاتے ہیں اور بااصول لوگ راندہ درگاہ ہوجاتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا سبب بھی یہی غلط معیارات ہیں۔ہمارے دین نے ہمیں حق کی گواہی دینے کا درس دیا ہے۔اسلام کی ابتدا ہی کلمہ حق کہنے سے ہوئی تھی۔حق گوئی ایک اعلی وصف سمجھا جاتا تھا۔بااصول انسان کی توقیر ہوتی تھی۔سچ بولنے والے کو بہادر ہونے کا لقب ملتا تھا۔جابر سلطان کے سامنے ڈٹ جانے والے عوام کیلئے روشنی کا مینار ہوتیتھے۔معاشرہ انہی روشن میناروں کی روشنی میں صراط مستقیم پر چلتا رہتا تھا۔جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد ہمارے معاشرے کیلئے روشنی کا مینار ہیں۔ لیکن افسوس کہ کچھ کم ظرفوں نے اس روشنی کے اس مینارکو گرانے کی کوشش کی۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Sep 09

Click here to View Printed Statement

مغرب اور مشرق میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ مغرب اپنے فیملی سسٹم کو تباہ کرچکا ہے اور مشرق اس نظام سے ابھی تک جڑا ہوا ہے۔اگرچہ ہمارے ہاں بھی یہ بحث چھیڑ دی گئی ہے کہ خاندانی نظام کا آخر فائدہ کیا ہے؟میرے نزدیک اس نظام کا سب سے بڑا فائدہ حال ہی میں کرونا وباء کے دوران سامنے آیا ہے۔کتنے ہی ایسے مریض تھے جنہیں ان کے بہن بھائیوں اور عزیز واقارب نے سنبھالا۔حالانکہ شروع شروع میں حکومت کیطرف سے بہت سختی کی گئی تھی۔کورونا کے مریض کو اچھوت سمجھ کر سرکاری ہسپتال میں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا جاتا تھا۔لیکن یہ بہن بھائی اور ماں باپ ہی تھے جو بارش اور دھوپ میں وارڈ کے باہر کھڑے رہتے تھے اور ڈاکٹروں سے التجائیں کرتے تھے کہ ایک بار ان کو اپنے مریض کو دیکھ لینے دیں۔جب ادوایات کی فراہمی عام ہوگئی تو گھر والوں نے اپنے مریض کو گھر میں ہی آئسولیٹ کیا اور انہوں نے مریض کو نفسیاتی طور پر بے سہارا نہیں ہونے دیا۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal

Sep 02

Click here to View Printed Statement

بارشوں نے شہروں کے چھپے ہوئے گند کو ہی نہیں اچھالا ہمارے دل ودماغ میں بھری ہوئی بدبو کو بھی شاہراہوں پر انڈیل دیا ہے ۔سیاستدان،میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سب کسی دلچسپ ویڈیو کی تلاش میں ہیں ۔کسی ڈوبتے ہوئے ٹینکر کی تصویر مل جائے ،کسی گٹر میں پھنسے ہوئے بچے کی لاش مل جائے ،کوئی چوتھی منزل سے چھلانگ لگاتا دکھائی دے جائے ،کسی کے گھر پانی گھسے اور دوشیزائیں بھاگتے ہوئے نظر آجائیں ،کسی عورت کا لخت جگر بپھری لہروں میں بہہ جائے۔کہیں سے کچھ ایسا مل جائے جس سے تقریر دلپذیر ہوسکے ،جس سے ریٹنگ بڑھ سکے اور جس سے ویڈیو کلپ وائرل ہوجائے ۔مجھے ایک ویڈیو کلپ دیکھ کر بیحد دکھ ہوا کہ درجنوں لوگ اپنے موبائل فون لیے ایک پل کے بہہ جانے کی ہنس ہنس کر ویڈیو بنا رہے ہیں۔پانی کا بہاؤ اسقدر شدید تھا کہ دو تین منٹوں میں لوگوں کی آنکھوں کے سامنے وہ پل اڑ گیا اور لوگوں نےِِ”وہ گیا،وہ گیا ”کے مسرت بھرے قہقے لگائے ۔

Continue reading »

written by drmurtazamughal