قائد کے حکم پر قائم مادر علمی

Click here to View Printed Statement

وجیہہ الدین احمد انتہائی منکسر المزاج ہیں۔ انہیں اپنے مشن سے عشق ہے۔ ان کا پورا خاندان ہی شائد ایسے مشنری مزاج کے افرادپر مشتمل ہے۔ربع صدی سے علم وحکمت کی تعلیم عام کرنے والے اس علمی گھرانے کو اپنے سربراہ مولوی ریاض الدین احمدمرحوم کی قومی سطح کی کاوشوں اور علمی نوعیت کی سرگرمیوں پر بہت فخر ہے اور وہ ان کاوشوں کو اپنی خاندانی تاریخ کا ایک سنہری باب تصورکرتے ہیں۔مولوی ریاض الدین احمد مرحوم کے سب سے چھوٹے بیٹے جناب وجیہہ الدین احمد سے کراچی کے علاقے ناظم آباد میں واقع جناح یونیورسٹی فار وومن کے وسیع وعریض کیمپس میں ملاقات ہوئی۔جناب وجیہہ الدین احمد گوناں گوں مصروفیات کے باوجود خوش مزاج شخص ہیں۔ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنا مدعابیان کرنے کے ماہر بھی ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 May 14

جومیٹروٹرین سے ٹکرائے گا

Click here to View Printed Statement

سونامی پوے ملک میں سرگرداں ہے۔فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ میں تعداد زیادہ نہ سہی لیکن عمران خان کی گھن گھرج جوں کی توں ہے۔ پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ جگت بازی کے ماہر ہیں انہوں نے لطیف پیرائے میں جلسے کی کم تعداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا” اب عمران نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے” خدا کرے کہ نوجوان نسل کو اس محاوراتی جگت کا مکمل ادراک حاصل نہ ہو ورنہ لطافت کثافت میں بدل جائے گی اور تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈرانا ثناء اللہ صاحب کو حسب سابق آڑے ہاتھوں لیں گے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 29 May 14

کشمیریوں کی جائز شکایات

Click here to View Printed Statement

جذباتی لب ولہجہ تسکین قلب کا سبب بن سکتا ہے لیکن اس سے پیٹ نہیں پل سکتا۔تقسیم ہند کے وقت کشمیریوں کے پاس اختیار تھا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کر لیتے لیکن کشمیر کے لوگوں نے تمام تر اندیشوں کے باوجود فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے۔ اس فیصلہ کے نتیجے میں کشمیریوں نے ایسی جانی اور مالی قربانیاں دیں کہ تاریخ میں کسی اور قوم نے محض کسی دوسرے ملک سے الحاق کے لئے ایسا شاندار کردار شائد ہی ادا کیا ہو۔1948ء کی کشمیر کی آزادی کے لئے ہونے والی جنگ سے لے کر آج تک کونسا وہ دن ہے جب کوئی کشمیری نوجوان اس پاکستان پر قربان نہیں ہوتا’ کسی عزت مآب بی بی کی عزت تار تار نہیں ہوتی اور کسی گھر میں ہندو فوجی درندے گھس کر مال و متاع نہیں لوٹتے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اقوام عالم کے غیر متنازعہ اداروں کے ضمیر پر ہر روز کچوکے لگاتی ہے۔کشمیر کا نام آتے ہی بہتے لہو’جلتے گھروندوں اور سسکتے بچوں کی تصویر سامنے آجاتی ہے۔آزادی کشمیر کا بیس کیمپ یعنی آزاد کشمیر ہر ماہ بھارتی فوج کی طرف سے داغے جانے والے گولوں سے زخمی ہوتا ہے۔ چالیس لاکھ کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ محبت کا جذبہ سرد نہیں ہوتا۔ ان کے اندر پاکستان سے بیزاری کی کوئی لہر نہیں اٹھتی۔ وہ ہر روز پاکستان سے قریب تر ہوجاتے ہیں۔آزادکشمیر کے لوگ آزاد تو ہیں لیکن اس آزادی کے وہ ثمرات انہیں نہ مل سکے جو پاکستان کے باقی صوبوں کے حصے میں آئے۔ جو پسماندگی پہلے دن تھی انیس بیس کے فرق سے وہ آج بھی موجود ہے۔ ایک ایسا آزاد حصہ جسے کوئی معقول نام نہ دیا جاسکے اسے وسائل کی تقسیم میں برابر کا حصہ دار کیوںکر تصور کیا جائے گا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 May 14

سعید الٰہی کی مسیحائی

Click here to View Printed Statement

اچھی حکمرانی کا ایک تقاضا یہ بھی ہوتاہے کہ اچھے لوگوں کو اداروں کا سربراہ مقرر کیا جائے۔موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کرپشن اور نااہلی سے پاک افراد کو مختلف قومی اداروں کی ذمہ داریاں سونپ رہی ہے تاکہ ادارے مضبوط ہوں اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حکومت کے لئے نیک نامی کا باعث بن سکیں۔ ایک سال گذر چکا ہے۔ درجن سے زائد قومی ادارے اب بھی ایسے ہیں جن کے سربراہان مقرر نہیں کئے جاسکے۔لیکن قابل اطمینان پہلو یہ ہے کہ جن لوگوں کو میاں محمد نوازشریف نے ذمہ داریاں سونپی ہیں وہ بڑی حد تک اہل اور ایماندار ثابت ہوئے ہیں ۔میرٹ کی یہی کڑی شرائط اور حد سے بڑھی ہوئی احتیاط دامن گیر ہوگی جس کے سبب حکومت کومناسب لوگ میسر نہیں آپارہے۔
ہلال احمر اس لحاظ سے ایک خوش قسمت ادارہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے حصے میں ڈاکٹر سعید الٰہی جیسی متحرک شخصیت آئی ہے۔ڈاکٹر صاحب سے میرا تعارف سرسری سا ہے لیکن جو کچھ اخبارات میں چھپا ہے اور ٹی وی پر دیکھا گیا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسانی خدمت کے اس ادارے نے انگڑائی ضرور لی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 May 14

وزیراعظم آزادکشمیر کیساتھ ایک ملاقات

Click here to View Printed Statement

 مظفر آباد کی ہردلعزیز شخصیت اور مغل قوم کے عظیم فرزند عارف مغل حکومت آزادکشمیر میں مشیر برائے وزارت اطلاعات و نشریات ہیں ۔گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی پر مدعو کیا۔ ہمدم دیرنہ عظمت اللہ اور معروف صحافی اسد عباس بھی ہمراہ تھے۔ آجکل نظریہ پاکستان کی ترویج کے لئے کمر بستہ ہوں اوراللہ تعالیٰ کی کرم نوازی سے اس خدمت کے لئے بہتر سے بہتر مواقع میسر آرہے ہیں ۔ میں کیا اور میری ہستی کیا۔ ارادہ نیک ہو تو اسباب پیدا ہوہی جاتے ہیں۔عظمت اللہ نے بتایا کہ ان کے کلاس فیلو اور قائداعطم یونیورسٹی میں راقم کے ہاسٹل فیلوجناب فیاض علی عباسی آج کل پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کے عہدے پر فائز ہیں اور ان سے بھی ملنا ضروری ہے۔ باتوں باتوں میں یہ طے پایا کہ ممکن ہو تو فیاض عباسی صاحب کی وساطت سے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید سے بھی ملاقات ہوجائے اور ان کو نظریہ پاکستان کے حوالے سے لٹریچر دیا جائے اور التماس کی جائے کہ پاکستان کے اساسی نظریہ سے آگاہی کے لئے تعلیمی اداروں میں خصوصی سرگرمیاں شروع کرائی جائیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 May 14

سماجی ذمہ داریاں اور اسلامی تعلیمات

Click here to View Printed Statement

 کہا جاتا ہے کہ اگر مواقع (Opportunity )اور اہلیت (Competency)باہم مل جائیں تو پھر کامیابی (Success) یقینی ہوجاتی ہے۔ ہم اپنے اردگرد اس فارمولے کو بنیاد بنا کر جائزہ لیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہر سماج اور معاشرے میں ایسے افراد کی بے شمار تعداد ہے جن میں صلاحیت ہے لیکن موقع نہیں ملتا اور کئی ایسے افراد ہیں جن کے پاس مواقع تو موجود ہیں لیکن ان میں صلاحیت نہیں ہے جس کے باعث وہ معاشرے کے ناکام یا ناکارہ افراد کہلاتے ہیں۔ مواقع پیدا کرنا تاکہ اہل افراد ان مواقع سے فائدہ اٹھا کر کامیابیاں حاصل کریں اور معاشرہ مجموعی طور پر متحرک ہوسکے ایک اہم ترین سماجی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح بے صلاحیت افراد کی ایسے خطوط پر تربیت کرنا کہ ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکے۔یہ بھی برابر کی اہم سماجی ذمہ داری ہے۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صلاحیت اپنے لئے مواقع پیدا کرلیتی ہے اور مواقع اپنے لئے باصلاحیت لوگ تلاش کر لیتے ہیں۔تعلیم وتربیت اور علم و ہنر دراصل اسی مقصد کے لئے ہوتے ہیں تاکہ افرادی قوت کی تعمیر ہوسکے۔کسی بھی فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف افراد کی تعمیروترقی کا نظام وضع کریں اور دوسری طرف صنعت و تجارت اور خدمات کا ایسا سسٹم تیار کریں کہ پیداواری سرگرمیاں عروج پاسکیں۔دنیا میںفلاحی ریاستیں ایسا ہی کرتی ہیں لیکن پاکستان جو کہ کسی لحاظ سے فلاحی’ جمہوری اور اسلامی ریاست نہیں بن سکا اس کے زیرسایہ پروان چڑھنے والے معاشرے اورافراد کی حالت زار بگڑتی چلی جاتی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 May 14

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player