انفاق فی سبیل اللہ کی قابل تقلید مثال

Click here to View Printed Statement

انفاق فی سبیل اللہ سے مراد ضرورت مندوں‘ یتیموں اور بے سہارا لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو مدنظر رکھتے ہوئے مال خرچ کرنا ہے۔قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر مسلمانوں کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا ہے کہ جو مال تمہاری چند روزہ زندگی میں تمہیں نصیب ہوا ہے اور جسے تم چھوڑ کر جانے والے ہو اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرکے آخرت کا سامان تیار کرو۔سورة الحدید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے‘
”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاﺅ اور اس (مال و دولت) میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب(امین) بنایا ہے“۔
اللہ کی رضا کے لئے ضرورتمندوں کی ضروریات کو پوراکرنا اور اس کے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرنا انفاق فی سبیل اللہ کہلاتا ہے۔
خرچ کرنے کا انداز مختلف ہوسکتا ہے۔ ظاہری اور باطنی طور پر انفاق کرنے کا حکم ہےِ۔یہاں ایک باریک نکتہ سامنے آتا ہے کہ ظاہری طور پر انفاق کرنے یا انفاق کو ظاہر کرنے کی بھی کچھ شرائط ہیں۔آپ اگر ایک ہسپتال بنوا رہے ہیں تو یہ ظاہری انفاق ہے ۔اس سے کسی ضرورت مند کی عزت نفس مجروح ہونے کا اندیشہ نہیں ہے ۔ ایسے کسی فلاحی اور رفاعی پراجیکٹ کے حوالے سے اگر تشہیر کا پہلو نکل رہا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر کسی بیوہ یا یتیم کی مدد ہورہی ہے اور کسی طرح کا امدادی سامان تقسیم کرنا ہو تو پھر فوٹو سیشن بہت ہی معیوب لگتا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 May 16

ہزاروں قارون

Click here to View Printed Statement

قرآن پاک کی سُورة القصص میں بڑی تفصیل سے قارون کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس قصہ کا مقصد اسلام کے نظام مال و زر کی وضاحت کرنا ہے۔قارون مصر میں فرعون کا نمائندہ تھا جسے بنی اسرائیل قوم کو دبانے کے لئے بے بہا دولت دی گئی تھی۔ اُس کی دولت کا عالم یہ تھا کہ اس کے خزانے کی چابیاں اٹھانے کے لئے دس اونٹ درکار ہوتے تھے۔ دولت نے اسے انتہائی متکبر اور خودسر بنا دیا تھا۔ اس کی دولت کا چہارسوچرچا تھا۔ وہ مال و دولت کو خرچ کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کرتا رہتا تھا۔ قارون کو سمجھایا گیا کہ وہ اپنی دولت جمع کرنے کی بجائے مساکین اور ضرورت مندوں پر خرچ کرے اور اس کے ذریعے اپنی آخرت سنوارے۔ لیکن قارونی نفسیات اس قدر غالب تھی کہ وہ اللہ‘ آخرت اور روزوجزا کا مذاق اُڑاتا اور ہوس زر میں مدہوش رہتا تھا۔
قرآن میں قارون کا عبرتناک انجام بتایا گیا ہے۔ وہ اپنے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اُس کی دولت اس کے کسی کام نہ آسکی۔ اس کا آقا فرعون بھی اسے بچا نہ سکا۔ جو لوگ قارون کے خزانوں سے مرعوب رہتے تھے وہ اس کا خوفناک انجام دیکھ کر شکر بجالائے کہ وہ کم از کم قارون بننے سے بچ گئے تھے۔
ہوس زر میں مبتلا ہر شخص قارون ہے۔ قارونی سوچ کے اسیر امراءکی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ جوں جوں دُنیا کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے‘ قارونوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں دُنیا بھر کے قارونوں کی دولت جمع ہے۔ پاکستانیوں کی بھی کثیر تعداد موجود ہے جن کی بے پناہ دولت کا انہیں خود بھی اندازہ نہیں ۔ پھر یہ رپورٹیں بھی سامنے آئیں کہ دُبئی میں بڑے بڑے قارونوں نے پراپرٹی کے اندر بھاری سرمایہ کاری کردی ہے۔ ملائشیا اور برطانیہ میں بھی ہوس زر کے مجسم مظاہرے دیکھنے کو ملے ہیں۔ دُنیا کے امیر ترین افراد کی سب سے بڑی تعداد امریکہ میں ہے جن کی دولت بینکوں میں پڑی ہے اور اس دولت کا نوح انسانی کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Apr 16

زرداری کی دہائی۔نواز کی گواہی

Click here to View Printed Statement

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف عملاً پھٹ پڑے ہیں۔ نیب نے احتساب کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی طرف پنجے بڑھائے تو چیخیں نکل گئی ہیں۔ ایف آئی اے میں بھرتیوں کا سکینڈل’ رائے ونڈ روڈ کی تعمیر کا معمہ’گرین لائن ٹرین کا مُدّا اور پاک قطر ایل این جی معاہدے کا پھڈا۔اور پندرہ افسران کی گردن کے گرد پھندا۔ کیا کیا راز سامنے آرہے ہیں۔دو تہائی اکثریت والی حکومت کے وزیراعظم نے بھری محفل میں اپنی بے بسی کا رونا رویا۔ کہا کہ وہ نیب کے چیئرمین کو متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ بیوروکریٹس کو حراساں نہ کیا جائے لیکن چوہدری قمر الزمان نے کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔وزیراعظم نے یہ بھی بتا دیا کہ اگر چوہدری صاحب نے اپنے ”کارندوں” کو تنگ کرنے سے نہ روکا تو پھر حکومت قانونی بندوبست کرے گی۔ پنجاب کے وزیر قانون نے وزیراعظم کے مئوقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Feb 16

مقروضی معیشت

Click here to View Printed Statement

اڑھائی سال ہوئے ہیں کوئی دن ایسا نہیں جس دن موجودہ حکمرانوں نے قرض کے حصول کی خواہش نہ کی ہو۔ اس خواہش بلکہ ہوس حصول قرض کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اب یہ ملک سر تا پاﺅں قرض میں ڈوب چکا ہے۔67 ارب ڈالر کے قرضے ہمارے سروں پر لاد دیئے گئے ہیں۔ قرض پاکستانی قوم نے نہیں بلکہ حکمرانوں نے لیا ہے۔ ان حکمرانوں کا عوامی مینڈیٹ ایک مخصوص اقلیت کے ووٹ ہیں جنہیں میڈیا اور مال کے زور پر حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اہل ووٹروں کی کل تعداد تقریباً آٹھ کروڑ ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے صرف ڈیڑھ کروڑ ووٹ لے کر حکومت بنا رکھی ہے۔اقلیتی ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت بیس کروڑ پاکستانیوں کی قسمت کا فیصلہ کر رہی ہے۔ قرض کی کسی ڈیل میں عام پاکستانی کی رائے نہیں لی جاتی۔ پارلیمان میں موجود جماعتیں بھی حکومت سے نہیں پوچھتیں کہ آخر یہ دھڑا دھڑا قرض لینے کے پیچھے کونسی معاشی حکمت عملی ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک جوں جوں مقروض ہوتا جارہا ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Jan 16

ناکے اور ڈاکے

Click here to View Printed Statement

رینجرز کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بڑے بڑے ڈاکوئوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے اور اگر تفتیش اور تحقیق میں مار نہ کھا گئے تو عدالتوں کے ذریعے عبرتناک سزائوں کی نوید ہے۔ سفید پوش ڈاکوئوں کو پکڑنا مشکل کام ہے۔ اس کے لئے آپ ناکہ نہیں لگا سکتے’ ریڈ نہیں کرسکتے’پولیس مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی رعب داب میں لپٹے اور عزت مآب کی قلغیاں سجائے ان قومی ڈاکوئوں کی تعداد بھی بہت ہے اور ان کے بنتے ٹوٹتے اتحاد وفاقی اداروں کو بعض اوقات بے بس کر دیتے ہیں۔ لیکن سپہ سالار اعظم جناب جنرل راحیل شریف کی کمٹمنٹ پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے کہ وہ اس مشکل ترین مہم میں مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ہماری دلی دُعا ہے کہ وہ خوشامدیوں سے بچ بچا کر قومی بقاء کے اس صالح عمل کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں اور وارداتیوں کی ریشہ دوانبوں سے محفوظ رہیں۔
میں معروف اور دیکھے بھالے ڈاکوئوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔اخبارات کے اندر کرائم کارنرز ایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام اور پرامن شہریوں کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹنے والے ڈاکو کس قدر نڈر اور سفاک ہیں۔ رات اڑھائی بجے کے لگ بھگ ٹی وی چینلز پر متواتر ٹکّر اور تازہ ترین خبریں چل رہی ہوتی ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Sep 15

عالمی ضمیر بحر ہند میں ڈوب گیا

Click here to View Printed Statement

”اے مسلمانو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں کمزور مردوں’عورتوں اور بچوںکی خاطر نہیں لڑتے۔ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال کہ اس کے باشندے ظالم ہیں۔ اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی حمایتی بھیج۔اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مددگار بھیج۔” (سورة النساء آیت نمبر75)
اجتماعی قبریں ان کے اجتماعی احساس کو بیدار نہ کر پائیں۔ ہانپتی’ بھاگتی’کٹتی اور بکھرتی عصمتیں ان کے اجتماعی دل کو موم نہ کرسکیں۔چھتوں’بالکونیوں اور درختوں کیساتھ لٹکتی لاشیں ان کے اجتماعی جسم میں جھر جھریاں پیدا نہ کرسکیں۔ نومولودوں کو وحشی قدموں نے دبوچ ڈالا۔ ننھے ہاتھوں کو سفاک درندوں نے کلہاڑوں کے ساتھ کاٹا’ مسکان بھرے چہروں کو بے رحمی کیساتھ اجاڑا گیا۔ کسی قوم نے آہ نہیں بھری’کسی بھی ملک نے چیخ نہ ماری۔ سات ارب انسان’ انسانی حقوق کی لاکھوں تنظیمیں’ ڈیڑھ ارب مسلمان’ سینکڑوں ممالک۔ دنیا کے منصف لاتعلق۔آخر نسل کشی کے اس بہیمانہ وارداتوں پر دنیا بولتی کیوں نہیں۔ صرف اس لئے کہ روہنگیہ لوگ مسلمان ہیں۔ صرف اس لئے کہ وہ کلمہ گو ہیں۔ صرف اس لئے کہ وہ اسلام کے پیروکار ہیں۔ ان کی زبانوں پر اللہ اکبر’ محمد رسول اللہ’ سبحان اللہ جیسے الفاظ ادا ہوتے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Jun 15

بہتر حالات۔اچھی توقعات

Click here to View Printed Statement

نااُمید ہونے کے لئے ہزاروں دلائل موجود ہیں۔ لیکن پُرامید رہنے کے لئے وجوہات تلاش کرنا پڑتی ہیں۔ پاکستان بیم ورجا کے اس دوراھے پر آگیا ہے کہ اب یہ ہمارے اوپر منحصر ہے کہ ہم پھر سے یاسیت میں ڈوب جائیں یا اپنے دماغ کو جھٹکا دیں اور امید کا ننھا سا دیا روشن کرکے آگے بڑھیں۔ یہ کہا نہیں جاسکتا کہ کب کوئی دہشتگرد کسی ہدف پر پہنچ کر خود کو اڑا دے اور میرا مﺅقف بھی ہوا میں اڑ جائے۔ لیکن ذرا ٹھہریئے۔ کیا یہ بہت بڑی اُمید افزاءبات نہیں ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے اندر دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے عسکری اور سیاسی قوتوں نے کمال اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کیا ہے۔سینکڑوں دہشت گرد پکڑے گئے ہزاروں انتہا پسندوں کے گرد گھیرا تنگ ہوا اور سپہ سالار اعظم اور ان کی ٹیم نے جس طرح افغانستان اور امریکہ کی حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان ممالک کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی کے خلاف قابل فخر پہلو ہے ۔مشیر داخلہ نے بڑے اعتماد سے کہا ہے کہ سول اور ملٹری قیادت میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ استحکام پاکستان کیخلاف خطرے کی گھنٹی ہمیشہ سول ملٹری تعلقات میں دراڑ ہی رہی ہے۔اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان واضح سمت میں بڑی یکسوئی کیساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہمارے انتظامی اور امن وامان کے ذمہ دار اداروں ‘عسکری صلاحیت اور سیاسی سوجھ بوجھ میں بڑی تیزی کے ساتھ بہتری آئی ہے۔ اب عام آدمی پھر سے خوف کی چادر اتار کر احساس تحفظ سے سرشار ہورہا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Mar 15

تجربہ کاروں کا ظلم

Click here to View Printed Statement

ہوسکتا ہے کہ نیت ٹھیک ہو۔لیکن اہلیت بہرحال نہیں ہے۔ حکمران قوم کو کوئی واضح جواب دینے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ پٹرول بحران کے پیٹ سے بجلی بحران بھی باہر نکل آیا ہے۔ماہرین معیشت مشکل اصطلاحات کے ذریعے عوامی ذہنوں کو پراگندہ کر رہے ہیں۔پٹرول پمپوں پر عورتوں کے ہجوم‘ہاتھ میں بوتلیں ‘پہلو میں بچے۔ظلم کی ایک یہ شکل باقی رہ گئی تھی وہ تجربہ کاروں کے ہاتھوںدیکھنے کو مل گئی ہے۔پٹرول روٹی نہ سہی لیکن روٹی کمانے کا ذریعہ تو ہے۔پاکستان کے منظرنامے میں یہ نظارے بھی شامل ہوگئے کہ دولہا اپنی بارات گدھا گاڑیوں پر لےجاتے دیکھے گئے۔ شدید سردی کے عالم میں پٹرول کے انتظار میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے کا تکلیف دہ تصور ہی رونگٹے کھڑا کردیتا ہے۔لیکن وزیر پٹرولیم‘ پی ایس او‘وزارت خزانہ سب کے سب وزیراعظم نوازشریف کی موجودگی میں ”میری ذمہ داری نہیں“ کی رٹ لگاتے سنائی دیئے۔ عوام فقیروں کی طرح خوار ہوتے رہے۔ اعصاب شل ہوگئے۔پاکستانیوں نے ایک بار پھر سوچنا شروع کردیا ہے کہ آیا یہ مُلک رہنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ میڈیا پورے زور وشور سے چیخ رہا ہے۔حکمران جماعت کے وزراءشرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ٹی وی پر آکر معذرت کرتے ہیں لیکن عوام کی تکالیف بڑھتی جارہی ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Jan 15

خیر اور شر کا تصادم فطری اور دائمی ہے

Click here to View Printed Statement

ایسا کبھی ہوا نہیں کہ دنیا سے شر مکمل طورپر ختم ہوگیا ہو۔انسان کے اندر شر کی قوتیں خیر کی طاقتوں سے ہمیشہ نبردآزما رہتی ہیں ۔آپ اسے حضرت انسان کی فطرت کہہ سکتے ہیں ۔ان شرانگیز طاقتوں کو آپ نیگیٹیو فورسز کا عنوان دے سکتے ہیں ۔قرآن انہیں شیطانی طاقتوں کا نام دیتا ہے ۔ہر منفی سوچ ،ہر تخریبی تصور ہر انسان دشمن منصوبہ ،ہرابلیسی حربہ چاہے اس کا محل وقوع انسان کی اپنی ذات ہو ،اس کا ماحول ہو،ملک ہویاسرزمین ہو ،شیطان ہی کی کارستانی قرار پائے گی۔ہوس لالچ،ظلم ،استبداد ،بدعنوانی ،بدامنی،بد عہدی ،بے وفائی ،دھوکہ دہی ،نوسر بازی ،بزدلی ،منافقت،ہیجان انگیزی ،خیانت،جھوٹ ،فراڈ ،بے ادبی ،فریب کاری ،بعض وعناد،انا پرستی ،چوری ،ڈاکہ زنی ،قتل وغارت اور وحشت وبربریت یہ تمام وہ بیماریاں ہیں جنہیں شیطان نے ایجاد کیا ہے اور وہ کمال ہوشیاری کیساتھ انسانی دل ودماغ میں ان کی پیوندکاری کرتا ہے اور انسان کو شرکے راستے پر ڈال دیتا ہے ۔تشکک اور بے یقینی ،مایوسی اور غفلت جیسے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر شیطان جب حملہ آور ہوتا ہے تو بڑے بڑے پختہ عزم انسان ریت کا ڈھیر ہوجاتے ہیں ۔شیطان کا تصور ہر مذہب اور عقیدے کے پیروکاروں میں اپنے اپنے ناموں اور حوالوں سے موجود ہے ۔قرآن نے اس تصور کو بڑے بلیغ پیرائے میں بیان فرمایا ہے ۔”بے شک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو“ حدیث نبوی ہے ‘
”شیطانی وسوسے تمہارے وجود میں خون کی طرح گردش کرتے ہیں “ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Dec 14

نظریہ پاکستان اور اساتذہ کا کردار

Click here to View Printed Statement

معروف معنوں میں نظرء یہ پاکستان دو قومی نظرء یہ ہے جس کی بنیاد پر 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آگیا۔قائداعظمؒ انگریز سامراج اور ہندو اکثریت کو اپنی سالہا سال کی جدوجہد کے دوران یہ باور کراتے رہے کہ ہندوستان میں مسلمان اور ہندو دو قومیں ہیں جو تہذیبی‘مذہبی‘سیاسی اور تاریخی لحاظ سے بالکل مختلف ہیں ۔ہندوؤں نے مسلمانوں سے اپنی سدا بہار نفرت کے ذریعے بالآخر انگریزوں کو قائداعظمؒ کا مؤقف تسلیم کرنے پر آمادہ کردیا اور پاکستان کا قیام ممکن ہوگیا۔
دو قومی نظریہ نے ہی ثابت کیا کہ قومیں زبان‘رنگ اور نسل کے اعتبار سے ہی مختلف نہیں ہوتیں بلکہ مذہب کی بنیاد پر ان کی جداگانہ حیثیت قائم ہوتی ہے۔ اقبالؒ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا‘ قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تو کچھ بھی نہیں‘‘۔ہندوستان کے رہنے والوں کا رنگ ایک جیسا تھا‘ زبان ایک جیسی تھی اور شائد نسلی حوالے بھی ایک جیسے تھے۔ذات کے اعتبار سے ایک دوسرے کیساتھ جڑے ہوئے تھے لیکن مسلمان اللہ کے پیروکارجبکہ ہندوبت پرست۔ اگر تو اسلام کی جگہ کوئی اور مذہب ہوتا تو شائد معاملہ مختلف ہوتا لیکن اسلام کی تعلیمات مسلمانوں کو غیر مسلموں کی سماجی اور مذہبی برتری قبول کرنے سے روکتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہزار سال تک مسلمان اور ہندو مشترکہ طور پر اس خطے میں ز ندگی گذارتے رہے تھے لیکن یہ اسی صورت ممکن ہوا تھا کہ مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود سیاسی اور مذہبی طور پر بالاتر تھے اور حکومت مسلمانوں کے پاس تھی۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اپنی ریاست قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ اسلام کا ہی سچاجذبہ تھا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن کا مطالبہ کرنے پر اُبھارا۔ لہٰذا نظریہ پاکستان دراصل نظریہ اسلام ہی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Oct 14

متنازع یوم آزادی

Click here to View Printed Statement

اثر ہوتا ہے ۔تقریروں اور تحریروں کا اثر ہوتا ہے۔ جب آپ بار بار لوگوں کو بتائیں کہ ”ملک مکمل طور پر آزاد نہیں ہے اور اس پر ”بادشاہت” نے قبضہ کر لیا ہے تو ان لفظوں کی معصوم انسانی ذہنوں میں خوفناک تصاویر بننا شروع ہوجاتی ہیں۔بادشاہ بڑا ظالم ہوگا۔ اپنے مخالفین کو اندھے کنویں میں ڈالوا دیتا ہوگا۔ جو بھی اختلاف کرے گا اسی وقت سرتن سے جُدا ہوجائے گا۔بادشاہ کی سینکڑوں باندیاں ہوں گی۔محل سرا میں گانے بجانے اور رقص و سرور کی محفلیں سجتی ہوں گی۔ کتنے جذبوں کا ارمان ہوتا ہوگا۔بادشاہ ہاتھی پر چڑھ کر شکار کو جاتا ہوگا اور اس کے سپاہی بے گناہ جانوروں کو پکڑ کر اس کے سامنے لاتے ہوں گے اور وہ گولی چلا دیتا ہوگا” ایسے ظالم بادشاہ کے خلاف جنگ کرنا جہاد ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Aug 14

اس ملک کو معاف کردو

Click here to View Printed Statement

 پاکستان کی بنیادوں میں تو ایسی کوئی کجی نہیں تھی۔اس کے بانیوں کا کردار انتہائی شفاف اور اُجلا تھا۔ کوئی ایک نام بتا دوجس نے دھونس’دھاندلی’زبردستی اور غیر جمہوری رویے کا مظاہرہ کیا ہو۔ بانی پاکستان کی اصول پسندی اور جمہوریت پسندی کی دُنیا معترف ہے۔محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی بھی جمہوریت کی بالادستی کی جدوجہد میں گزری۔ اداروں کی مضبوطی اور پارلیمان کی بالادستی کے لئے قائد نے کتنی شدت کے ساتھ نصیحتیں کی تھیں۔ یہ دھرنے’پُرتشدد مظاہرے اور مُلکی اداروں کو للکارنے کا کلچر تو بعد کی پیداوار ہے۔سڑکوں پر آنا’راستے بند کردینا’دلیل کی بجائے طاقت کے زور پر اپنے مطالبات منوانا اور ”تڑیاں” لگانا کہ ”اگر مجھے بند کیا گیا تو میں پورا ملک بند کردوں گا” اور اپنے کارکنوں کو انگیخت کر نا کہ ”انقلابی جتھے پولیس والوں کے گھروں میں گھس جائیں اور پندرہ جانوں کا بدلہ پندرہ جانوں سے لیا جائے گا” یہ کونسے اصلاح پسند گروہ ہیں جو حکومت گرانے کے لئے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تُل گئے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Aug 14

دس لاکھ محسنین

Click here to View Printed Statement

ایک بداندیش کالم نگار نے ”پانچ لاکھ خودکش” کے عنوان سے کالم لکھ کر قبائلی عوام کے جذبہ حب الوطنی کو مشکوک ٹھہرایا ہے۔دانشوروں کا المیہ ہی یہی ہے کہ وہ ان جانے خوف پھیلا کر سامنے کی خوبصورت حقیقتوں کا مذاق اڑانے میں ہی کمال قلم و علم ڈھونڈتے ہیں۔ کیا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نہیں ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک خاص فلسفہ کے حامل مسلح گروہ اپنی امارت قائم کرکے پاکستان کو تاخت و تاراج کرنے کی جانب بڑھتے چلے آرہے تھے۔ محب وطن قبائلی لوگ شروع شروع میں مزاحمت کرتے رہے اوروہاں مقامی رہائشیوں اور غیر ملکی جنگجوئوں کے درمیان خونی جھڑپیں بھی ہوتی رہیں لیکن جب ریاست اپنے لوگوں کا تحفظ نہ کرسکی اور وہاں کی سول انتظامیہ بھی خوفزدہ ہوکر ان خارجی عناصر کو راستہ دینے لگی تومقامی عوام خاموش ہوگئے۔ہمارے بعض دینی حلقے بھی جہاد کے نام پر گمراہ ہوئے ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 24 Jul 14

نئے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کا پروگرام شروع کیا جائے

Click here to View Printed Statement

گزشتہ بجٹ میں اعدادوشمار کے ذریعے عوام سے جو وعدے کئے گئے وہ پورے نہیں ہوسکے۔بجلی’ گیس’ دہشت گردی’ بیروزگاری اور امن وامان کی صورتحال سب کے سامنے ہے محض نعروں اور طفل تسلیوں سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے۔آج بجٹ کا ایک سال پورا ہوگیا لیکن عام آدمی کی حالت نہیں بدلی اسے بنیادی ضروریات کے حصول کے لئے کن مشکلات کا سامنا ہے’حکمرانوں کو اس سے سروکار نہیں۔مارکیٹ میں اشیائے صرف کی قیمتوں پر کنٹرول نہیں ہے’روزانہ اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں’ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ گیس اور بجلی ‘پٹرول تین ایسی چیزیں ہیں’ ان کی قیمتوں میں ایک پیسہ بھی بڑھا دیا جائے تو ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ پورا سال ان تین چیزوں کی سپلائی اور ڈیمانڈ اس قدر رہی کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں ہی دیکھتے رہے اور آئندہ بھی ان قطاروں میں کمی کی صورت دکھائی نہیں دیتی’نئے بجٹ سے خوش کن توقعات نہیں ہیں۔ یہ الفاظ کا گورکھ دھندا ہوگا۔پرتعیش اشیاء پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکس لگانے سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ لگژری آئٹمز پر ٹیکس عائد کرے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 03 Jun 14

ڈار آگے ۔ڈالر پیچھے

Click here to View Printed Statement

ابھی تک تسلی بخش وضاحت کا انتظار ہے۔حکومت پاکستان نے ”دوست ملک“ سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحفے کے پیچھے کارفرما معاملے کو افشاءنہیں کیا۔قوم کو تسلی دی گئی ہے کہ ” ایران اور سعودی عرب سمیت تمام برادر ممالک سے متوازن تعلقات قائم کئے جائیں گے“۔ ڈالر کی بے قدری کے پیچھے محرکات میں سب سے بڑا محرک یہی ڈیڑھ ارب ڈالرز ہیں جو مبینہ طور پر سعودی حکومت نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی ذاتی درخواست پر مملکت اسلامیہ کو بطور تحفہ دیئے ہیں۔ ان میں سے نصف سے زائد قومی خزانے میں ”پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ“ کے عنوان سے منتقل ہوچکے ہیں اور باقی بھی عنقریب آنے والے ہیں۔اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دوست ملک کی طرف سے کی جانے والی یہ مہربانی کسی وقت واپس لے لی گئی تو ڈالر پھر بے قابو ہو کر روپے کو روند ڈالے گا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Mar 14

مہذب لٹیرے

Click here to View Printed Statement

پاکستانی قوم کو لوٹنے والوں کی متنوع قسمیں اور متعدد شکلیں ہیں۔کسی نے ڈبل شاہ بن کر لوٹا اور کچھ نے ڈبل شاہ کو بھی لوٹ لیا۔بعض مضاربہ کمپنیوں کے نام پر جبہ و دستار میں ظاہر ہوئے اور پھر کھربوں کی لوٹ مار میں سے کروڑوں دے دلا کر چھوٹ گئے۔عوام ہاتھوں میں سادہ کاغذوں پر لکھی مبہوم سی تحریریں لئے نیب کے دفتروں کا چکر لگاتے ہیں اور پھر قسمت کو کوستے واپس گھر آجاتے ہیں۔جو وارداتیں صرف فلموں میں دیکھی جاتی تھیں وہ آئے روز ہماری زندگی میں رونما ہورہی ہیں۔ ریاستی ادارے اپنی اپنی تنخواہیں اور مراعات کو یقینی بنانے کی حد تک بہت مستعد ہیں۔لوگوں کی جمع پونجیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے کسی کو فکر ہے نہ کہیں ذکر۔اخبارات میں خبریں شائع ہوتی ہیں۔چند روز شوروغوغا ہوتا ہے اور پھر کوئی نیا سکینڈل پہلے والے سکینڈل کو زیر زمین کردیتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Dec 13

پاک ایران گیس۔خالی شوں شاں

Click here to View Printed Statement

کیا چرچے تھے۔قوم کو خوشخبری دی گئی تھی کہ جناب آصف علی زرداری نے امریکہ کی آنکھوں میں ایسی آنکھیں ڈالی ہیں کہ سپر پاور شرمندگی سے ”گونگی” ہوگئی ہے۔ ایران کے ساتھ گیس کی فراہمی کے معاہدے پر تہران میں دستخط کئے گئے اور پیپلزپارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں اپنے سب سے بڑے کارنامے کے طور پر اسے درج کیا۔ لوگوں نے ووٹ کیوں نہ ڈالے اس پرلوگوں کو ہی موردالزام ٹھہرانا چاہیے کہ اتنے بڑے”کارنامے” کے بعد گیس کو ترستی عوام کے پاس تیر پر مہر لگانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہونا چاہیے تھا’ لیکن بیلٹ باکس خالی نکلے اور بقول اعتزاز احسن پی پی پی کا ”مینڈیٹ”چرا لیا گیا۔ عوام کے تحت الشور میں موجود تھا کہ انتخابات کی آمد سے چند مہینے پہلے حکومتیں جو ”کارنامے”سرانجام دیتی ہیں وہ صرف درشنی ہوتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Dec 13

خیبرپختونخواہ کا خیرخواہ

Click here to View Printed Statement

حکومت معلق ہی رہتی ہے۔ یہ صوبہ ہی ایسا ہے جس میں مستحکم حکومتیں اور مستحسن فیصلے کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔ تحریک انصاف کی اس اُدھوری حکومت کے بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔بڑے ہی ابتدائی دور سے گزر رہی ہے۔ جو لوگ ابھی سے کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے فیصلے صادر کر رہے ہیں انہیں تجزیاتی انصاف سے کام لینا چاہیے۔صوبائی حکومت کو ”ناکام” قرار دینے سے پہلے اس صوبہ کی حالت زار کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ابتری کو سامنے رکھ کر ہی بہتری کا اندازہ  لگایا جانا چاہیے۔راقم کو کبھی بھی بہت زیادہ توقعات نہیں رہیں ۔ہمارے ہاں جمہوریت ہو یا آمریت چونکہ افراد کی حیثیت اہم ہوتی ہے اس لئے جہاں فرد باصلاحیت ہوا’ وہاں نتائج بہترہوگئے اور جہاں افراد کرپٹ ہوں یا نااہل تو پوری جماعت ملکر بھی ملک کو دلدل سے باہر نہیں نکال سکتی۔ جماعتوں کی کارکردگی ان کی لیڈر شپ سے مترشح ہوتی ہے۔تحریک انصاف ایک نئی سیاسی جماعت ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Nov 13

دولت کی منصفانہ تقسیم

Click here to View Printed Statement

پاکستان میں معاشی لحاظ سے کتنے طبقات ہیں اس بارے کوئی تازہ سروے تو موجود نہیں ہے لیکن اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو شہر ‘ گلی اور محلے میں ہمیں یہ طبقات مجسم صورت میں دکھائی دیں گے۔ایک پورا طبقہ ان خاندانوں پر مشتمل ہے جو پیشہ ور بھکاری ہیں یا ان کے پاس بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں ہے۔بھکاریوں کے جتھے آپ کو پاکستان کے ہر چوک اور چوراہے میں مل جائیں گے۔ بلکہ کسی مذہبی یا قومی تہوار کے دنوں میں مانگنے والوں سے جان چھڑانا ہی بہت بڑی انجوائے منٹ ہوتی ہے۔آپ بھکاریوں کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں ۔آبادی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اس پیشہ یا مجبوری سے منسلک تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ یہ لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں پہنچ رہے ہیں ۔دوسرا طبقہ فاقہ مست دیہاڑی دار مزدوروں اور ہنرمندوں کا ہے۔مزدور مانگ تو نہیں سکتے لیکن ملک میں کوئی کاروبار نہ ہونے کے سبب فاقوں مرتے ہیں۔ بیروزگاری کی شرح میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہرچوتھا آدمی بیکار ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Sep 13

درندگی کے پروموٹرز

Click here to View Printed Statement

بھارت میں عورت ذات پر حملوں کی خبریں سُن سُن کر کان پک گئے تھے۔ہرصاحب دل اور ضمیر جب عصمت دری کی خبریں سنتا ہے تو خون کے آنسو روتا ہے۔ آدمیت جہاں ہے وہ شیطانیت کیخلاف آواز بلند کرتی ہے۔ حیوانوں کے غول کسی حوا زادی کی عصمت کی چادر بمبئی میں تار تار کریں یا کسی معصوم دوشیزہ پر انگلینڈ میں حملہ ہوجائے خون کھولتا اور دل مجرموں کو سرعام پھانسی لگتے دیکھنا چاہتا ہے۔اسلام نے تو درندوں کے معاشرے میں عورت کو تقدس کی چادر اوڑھانے کا انقلابی کارنامہ سرانجام دیا اور آج جب کہ ایمان کا درجہ قرون اولیٰ والا نہیں پھر بھی عورت کیخلاف ہر جرم اور زیادتی کو بحیثیت مجموعی مسلمان نفرت اور حقارت سے دیکھتے ہےں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Sep 13

چند زمردخانوں کی ضرورت ہے

Click here to View Printed Statement

عقل محو تماشاہی رہی اور عشق نے چھلانگ لگا دی۔ دانش مندی اور معاملہ فہمی کا تقاضا تو یہی تھا کہ ایک غیر تربیت یافتہ’جسمانی طور پر ان فٹ اور اسلحہ کے اعتبار سے مکمل طور پرنہتا شخص ایک مسلح’بپھرے ہوئے اور مرنے مارنے پر تلے بیٹھے پاگل کو قابو کرنے کی کوشش نہ کرتا بلکہ ایسا سوچنا بھی حماقت کے زمرے میں آتا ہے۔ عقلمندوں کے نزدیک کوئی احمق آدمی جس کوجان بوجھ کر اپنی جان ضائع کرنے کا شوق ہو وہی ایسی حرکت کرسکتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Aug 13

مُرسی کی مثال سامنے رکھیں

Click here to View Printed Statement

ایک سال بھی مسند اقتدار پر نہ بیٹھ سکے اور فوجیوں کے نرغے میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیئے گئے۔ تجزیہ نگار محمد مرسی کے فوج کے ہاتھوں یوں فارغ ہونے کی وجوہات تراشتے رہیںگے۔ لیکن حقیقت یہ کہ اخوان المسلمین کو برس ہا برس کی آزمائشوں کے بعد مصر کا اقتدار ملا لیکن وہ غیروں کی سازشوں سے زیادہ اپنی نااہلیوں کے سبب اسے سنبھال نہ پائے۔امت مسلمہ کی مذہبی سیاسی جماعتوں کا پرابلم یہی ہے۔وہ اپنے طور پر یہ تصور کر لیتی ہیں کہ معاشرے میں نیکی اور راست روی صرف انہی سے شروع ہوتی اور ُانہی پر ختم ہوجاتی ہے۔وہ امور حکومت کو اپنے محدود نظریات کے مطابق چلانے کی دُھن میں مگن ہوتے ہیں اور عامة الناس کی خالصتاً انسانی ضرورتوں کو بھول کر رضائے الٰہی کے حصول کو اپنی منزل قرار دیتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 09 Jul 13

آرزو ہے تجھے دیکھا کروں

Click here to View Printed Statement

کائنات کا دولھا انسان اللہ پروردگار عالم کی تخلیق کا بہترین شاہکار ہے۔ رب کائنات نے اسے نعمتوں کے اتنے انبار عطا فرما دیے کہ جنہیں دیکھ کر ذرا سا غور کرنے پر ہمیں اللہ نظر آنے لگتا ہے۔ اللہ خود اپنے کلام میں فرماتا ہے”تمہارے نفوس میں میری نشانیاں موجود ہیں تو کیا تم ان پر غور نہیں کرتے“۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Apr 13

واپڈ ا پھر ڈوب رہا ہے

Click here to View Printed Statement

اسے ڈوبنا ہے‘آج نہیں تو کل۔یہ ٹائیٹنک بچتا دکھائی نہیں دیتا۔ بے ساکھیوں کے سہارے اس کے خسارے پورے نہیں ہوتے۔ ہم اس سے پندرہ بیس برس قبل ہی نجات حاصل کرچکے ہوتے اگر میاں شہبازشریف اسے فوج کا مصنوعی سہارا مہیا نہ کرتے۔ کرپشن کی دیمک نے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے اس پورے نظام کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ بجلی کے ہر کھمبے کے ساتھ مالی بدعنوانی کا ایک میٹر لگا دیا گیا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 12 Oct 11

لانگ ٹرم پلاننگ

Click here to View Printed Statement

خوب جان لو کہ دنیاکی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اسے پیداہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشتکار خوش ہوگئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 13 Sep 11

مسٹرزرداری بمقابلہ مولوی نوازشریف

Click here to View Printed Statements

قارئین سے التماس ہے کہ وہ سیاسی رہنماﺅں کی ایک دوسرے کے خلاف لسانی ”بدکاریوں“ سے خوفزدہ نہ ہوں۔کسی قسم کا کوئی سیاسی بھونچال آرہا ہے نہ ہی کوئی ”انقلاب“ دروازے پر کھڑا بے چین ہورہاہے۔گرمی اور حبس کے اس موسم میں سیاسی اکھاڑے کو غنیمت سمجھ کر جگت بازیوں اور جملہ آزمایوں سے صرف لطف اندوز ہونے کا سلیقہ سیکھیں تو انشاءاللہ فشار خون مستحکم رہے گا اور شوگر بھی کنٹرول میں رہے گی۔اگر اس لفظی جنگ کو اصلی سمجھ لیا جائے تو پھر کمزور دل حضرات کو لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ قومی غم کے جھٹکے بھی لگنے شروع ہوجائیں گے اور یوں شدت الم کے دورے پڑنے کا خطرہ رہے گا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Jun 11

شہباز نے پیٹ پر پتھر باندھ لئے

Click here to View Printed Statements

تنقید برائے تنقید نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے آئندہ امریکی امداد نہ لینے کا اعلان کرکے صرف صوبہ پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے غیور عوام کے دلوں کی ترجمانی کردی ہے۔ہوسکتا ہے کہ ”سستی روٹی سکیم“ اور ”دانش سکولوں“ کے قیام کی طرح جناب شہباز شریف کا یہ اعلان بھی محض اپنے بکھرتے ہوئے ووٹ بینک کو متحد رکھنے کی کوشش ہو لیکن نتیجہ جو بھی نکلے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں غیر ملکی امداد سے چھٹکارے کا یہ تصور اس قدر خوش آئند ہے کہ شریف برادران کی داد و تحسین کئے بغیر رہا نہیں جاسکتا۔ یوں تو ”قرض اتارو ملک سنوارو مہم“ بھی معاشی خودمختاری کے حصول کی خواہش کے تابع ایک کوشش تھی لیکن تمام ترغیبات کے باوجود بھی قرض اتارنے کے لئے رقم جمع نہ ہوسکی اور جو رقم جمع ہوئی وہ شائد اس قابل بھی نہیں تھی کہ اس کا ذکر کوئی حوالہ بن سکتا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 May 11

اچھے لوگ…. اچھی حکمرانی

Click here to View Printed Statement

بات معمولی سی ہے۔دہلی میںمنعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی دستے کی قیادت ایک کھلاڑی کر رہا تھا۔ سٹیج سے اس ویٹ لفٹر کھلاڑی کا بار بار نام بھی لیا جارہا تھا لیکن ٹی وی سکرین پر پاکستانی جھنڈا کھیل کے صوبائی وزیر نے تھام رکھا تھا۔سندھ سے تعلق رکھنے والے اس وزیر کو نمایاں ہونے کے شوق نے اس قدر دبوچ رکھا تھا کہ اس نے قائد کھلاڑی کو ایک مرحلہ پر آگے بڑھنے سے زبردستی روک دیا۔ ہزاروں لاکھوں ناظرین نے یہ منظر دیکھا۔ہوسکتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 Oct 10

غیروں کی آنکھوں میں کھٹکنے والا سپہ سالار

Click here to View Printed Statement

بعض سیاسی حلقے سپہ سالار جنرل پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کو ”متنازعہ“ بنانے کی معصومانہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے جنرل (ر)مشرف کی طرف سے ہونے والے برے سلوک کا غصہ بھی جنر ل کیانی کے بارے میں کئے گئے فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بنا کر ٹھنڈا کیا ہے حالانکہ نہ سارے جرنیل مشرف کی سوچ کے حامل ہوتے ہیں اور نہ ہی سارے وزرائے اعظم جناب میاں محمد نوازشریف کی طرح جلد باز اورمختار کُل بننے کے جنون میں مبتلا ہوتے ہیں ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Jul 10

ڈیم کنارے ملاقاتیں

Click here to View Printed Statement

یہ ملاقاتیں بھی عجیب ہیں۔جب میل ملاپ کے سارے راستے بند ہوں اور فریقین کوماضی مرحوم کی محبتیں ڈسنے لگیں تو پھر کونسا طریقہ نکالاجائے کہ شریفانہ طرز سیاست پر حرف بھی نہ آئے اور ملاقات کا سبب بھی پیدا ہوجائے۔ اس کی زندہ اور تازہ ترین مثال کالا باغ ڈیم کے اشو پر سینٹ کے اندر مسلم لیگ (ن) اور (ق) کے ارکان کا یک زبان ہونا ہے ایک ایسا اشو جسے خود مسلم لیگ (ن) اور(ق) نے”وسیع تر قومی مفاد“ میںدفنا دیا تھا‘قومی وحدت کو ڈیم پر قربان نہ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا‘متبادل

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Jun 10

حَد سے بڑھتی ہوئی دانشوری

Click here to View Printed Statement

کسی سچے پاکستانی کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ دانستہ طور پر کسی ایسے ادارے‘تحریک یا پروپیگنڈے کا حصہ بنے گا جس کا فائدہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو پہنچ سکتا ہو۔ اگر کچھ پاکستانی نما لوگ جان بوجھ کر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہےں تو پھر ان کو ”را“ کا ایجنٹ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ افواج پاکستان‘آئی ایس آئی اور دیگر حساس اداروں پر بے جا تنقید پر مبنی جوتبصرے یا کالم شائع ہوتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Mar 10

اتنے نہ در بناﺅ

Click here to View Printed Statment

پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ میں اہل اقتدار نے اس ملک اور اس کے عوام کے ساتھ صرف تماشے ہی کئے ہیں اور تماشے دیکھ دیکھ کر عوام ا ب خود بھی تماشہ بن چکے ہیں۔تماشبینی کے اس شوق میں ہی اچھے خاصے سمجھ دار لوگ ٹی وی چینلز کے سامنے دوزانوں ہو کر بیٹھے رہتے ہیں اور بات کا بتنگڑ بننے پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Feb 10

غیور پٹھان

Click here to View Printed Statment

”ظالمان“ کے ظلم کا شکار ہونے والی زیادہ سیاسی شخصیات کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔مالاکنڈ ڈویژن ‘فاٹا اور پشاور میں اے این پی کا شائد ہی کوئی رہنما ہو جسے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ظلم و بربریت کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔ ایک اندازے کے مطابق اے این پی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی لیڈر شپ کا قتل عام کیاگیا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Nov 09

روشنی کا سفیر

Click here to View Printed Statment

تعریفی اسناد‘امتیازی اعزازات اور سنہری تمغات ہر کامیاب انسان کا حق بھی ہے اور خواہش بھی۔ ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ زندگی کے کسی شعبے میں جب بھی کوئی نمایاں کارنامہ سرانجام دے تو سماج اس کو سراہائے‘ اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے اور اس کے سینے پر تمغے سجائے۔ مردم شناس سوسائٹی کو ایسا کرنا بھی چاہیے۔ اچھائی اور نیکی کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ ہم روشن راہوں کے مسافروں کو ان کے حصے کی پذیرائی دینے میں کنجوسی نہ کریں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 31 Oct 09

غربت اور دہشتگردی

Click here to View Printed Statment

دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں جس محاذ پر سب سے زیادہ سرگرمی دکھائے جانے کی ضرورت ہے وہ غربت کا محاذ ہے۔ فوجی آپریشنز وقت مقررہ میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن دہشتگردی کی وجوہات ختم کرنے کا عمل دیرپا اور مسلسل ہوتا ہے۔آج کا پاکستان کراچی سے خیبر تک دہشتگردوں کی کارروائیوں سے لرز رہا ہے۔ کہیں پنجابی طالبان کے نام سے یہ لوگ متحرک ہیں اور کہیں پشتو بولنے والے مجرم سامنے آرہے ہیں۔اب دہشتگردی کی وبا کسی ایک صوبے‘ طبقے یا گروہ تک محدد نہیں رہی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں جہاں غربت کے سائے گہرے ہوتے ہیں‘وہیں سے خودکش بمباروں کی بھرتی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی اختلاف انتہا پسندی کی شکل اس وقت اختیارکرتا ہے جب پیٹ کی بھوک انسان کو ہر طرف سے بے اختیار کردیتی ہے۔بعض بزدل بھوکے حالات سے مجبور ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں جبکہ نوجوان خون بغاوت پر اتر آتا ہے۔ جونہی کوئی ماسٹر مائنڈ کسی غریب نوجوان کو خودکش بمبار بننے کے لئے مذہبی جواز فراہم کرتا ہے‘ پھر انتقام کی بدترین شکلیں سامنے آتی ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Oct 09

کچھ غلط فہمیاں دور ہوئیں

Click here to View Printed Statment

پاکستان کی سیاسی تاریخ غلط فہمیوں سے بھری پڑی ہے۔شائد باقی ملکوں اور قوموں کے ہاں بھی یہی چلن ہو۔ لیکن اپنے وطن میں قیام پاکستان کے بعد سامنے آنے والی سیاسی بلوغت محض ایک دھوکہ‘ سراب اور فریب دکھائی دیتا ہے۔ میں تفصیلات میں جانے کی بجائے حالیہ سیاسی نوک جھونک کے حوالے سے چندنکات سامنے لانے پر اکتفا کروں گا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Sep 09

”گرین سگنل“

Click here to View Printed Statment

گزشتہ ماہ مقامی یونیورسٹی میں مختلف اداروں کے اشتراک سے سکول کے بچے بچیوں کے لئے میتھمیٹکس کے حوالے سے سمر کیمپ لگایا گیا۔ کیمپ کے آخری روز ملنے والے سرٹیفکیٹ اور سکول بیگ دکھاتے ہوئے ہماری بھتیجی نے پرجوش لہجے میں بتایا‘”انکل اب میں چالان بھی کرسکتی ہوں“اور اس کے ساتھ ہی اس نے ایک خوبصورت کارڈ دکھایا جس پر ”وارننگ کارڈ“ کے الفاظ درج تھے۔ یہ کارڈ اسلام آباد ٹریفک پولیس کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ بھتیجی نے بتایا کہ دوران کیمپ سٹوڈنٹس کو ٹریفک پولیس آفس کا دو مرتبہ وزٹ کرایا گیا۔ وہاں مختلف افسران نے ٹریفک رولز پر بریفنگ دی اور پھر شرکاءسے سوالات پوچھے۔ ایک سمارٹ سے انکل جو کہ سب سے بڑے آفیسر تھے انہوں نے ٹریفک رولز پر لیکچر دیا اور لنچ باکس بھی دیئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Aug 09

ظُلمتِ شب میں روشن چراغ

Click here to View Printed Statement

یہ نہیں کہ اس ملک اور معاشرے میں اچھائیاں نہیں رہیں بلکہ اصل المیہ ےہ ہے کہ اچھائیاں اور بھلائیاں ہمارے نزدیک اب خبر کا درجہ نہیں پاتیں۔ اگر ہم تھوڑا سا وقت نکالیں اور اپنے شہر اور محلے پر نگاہ دوڑائیں تو ایسے مردانِ صدق وصفادکھائی دیں گے جو بغیر کِسی نام ونمودکے انسانی خدمت میں جُتے ہوئے ہیں۔ قومی سطح پر بھی ایک نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں ایسے رجال عظیم ہیں جوحسب ونسب ذات ‘اور علاقے ‘ زبان اور مکان کی تفریق رکھے بغیرخدمت خلق کے صالح عمل میں مصروف رہتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے قلم اِن بے لوث ہستیوں کی جائز تعریف میں بھی متحرک نہ ہوئے۔ ہماری زبانوں پر تخریب کاریوں کے تذکرے تو جاری رہتے ہیں لیکن اِن معماروں اور مسیحاﺅں کو ہم نے کبھی ماڈل پاکستانی کے طور پر پیش نہیں کیا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Jun 09

امریکی اعتماد

Click here to View Printed Statement

امریکی حکمران بھی عجیب وغریب قسم کے دماغی خلجان میں مبتلا رہتے ہیں۔ امریکہ بہت بڑا ملک ہے۔ باون ریاستیںہیں‘زرخیز زمینیں ہیں‘ بہترین دماغ ہیں۔ اپنے ملک میں رہیں‘ اپنے لوگوںکی صحت اور تعلیم کی سہولتوں میں اضافہ کریں اور خود خوبصورت زندگی بسر کریں اور دنیا کو اپنے نظریات اور روایات کے مطابق زندگی بسر کرنے دیں۔ خدا جانے بیٹھے بٹھائے وہاں کے شہہ دماغوں کو کون سا کیڑا کاٹتا ہے اور ہر دس سال بعد کسی دوسرے ملک پر یلغار کردیتے ہیں۔ اپنے نوجوانوں کا خون بہاتے ہیں‘ اسلحہ پھونکتے ہیں اور لاشیں گراتے‘ ملکوں کو تہس نہس کرتے ہیں۔ جب مرنے مارنے کے عمل سے تھک جاتے ہیں تو پھر باعزت واپسی کے راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں بلکہ اکثر ہاتھ باندھ کر ‘منتیں کرکے مجروح ملک سے بھاگ جاتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Mar 09

عرب امارات اور پاکستان

Click here to View Printed Statement

پاکستان کے دوست ممالک میں نمایاں ترین دوست ملک ‘متحدہ عرب امارات ہے۔ یہاں کی حکومت نے پاکستان میں سماجی ترقی‘ شعبہ تعلیم اور صحت کی بہتری اور قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
جناب شیخ سلطان النہیان مرحوم پاکستانی عوام میں مقبول ترین شخصیت تھے۔ اور محسن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام ان کی پاکستان کے لئے دوستانہ نوازشات اور سماجی شعبے کی ترقی کے لئے بے مثال خدمات کو نہ صرف احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ انہیں یاد بھی رکھتے ہیں۔اپنے عظیم باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے موجودہ صدر محترم شیخ خلیفہ بن زید النہیان نے پاکستان دوستی اور پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے شیخ زید مرحوم کی روشن خدمات کی دوستانہ روایت کو زندہ رکھا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 Feb 09

اسرائیلی جارحیت …. صرف مذمت کافی نہیں

Click here to View Printed Statement

امریکہ سمیت دنیا کے طول و عرض میں فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے جاری ہیں۔ پاکستان کے اندر بھی عوامی سطح پر اسرائیلی بربریت کی بھرپور مذمت کی جارہی ہے۔ مذمتی بیانات کی حد تک مسلمان حکمران کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ عرب ریاستوں کے بادشاہ ہوں یا مشرق بعید کے مسلمان ممالک …. سب نے لفظی مذمت کی حّد تک اتمام حجت کردی ہے۔ سلامتی کونسل نے جنگ بندی کی قرارداد بھی پاس کردی ہے۔ اور مغربی ممالک بھی طوعا ًکرہاً اسرائیل کو جنگ بند کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ یوںمحسوس ہوتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Jan 09

پاک چین تعلقات۔اعتماد ضروری ہے

Click here to View Printed Statement

معاشی مسابقت کے اس دور میں چین نے اقتصادی ترقی کو ہی اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز و محور بنا لیا ہے۔ ”ہم جنگ نہیں کرینگے“ چین کی قومی قیادت اس فلسفے پر پوری طرح یکسوئی سے عمل پیرا ہے اور دنیا بھر میں مارکیٹوں پر مارکیٹیں فتح کرتے معاشی خوشحالی کے نئے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ یہ نہیں کہ چین اپنے دفاع سے غافل ہے۔ اسلحہ سازی کے اعتبار اور دفاعی تقاضوں کے لحاظ سے بھی چینی حکومت دنیا کی سپرطاقت کے ہم پلہ ہونے کے قریب ہے۔ آج امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک بھی چین کے مقروض ہوچکے ہیں اور دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے چین کی طرف بے چین نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 Dec 08

ڈوبتے مالیاتی نظام کا متبادل کیاہے

Click here to View Printed Statement

یوں تو عالمی کساد بازاری نے پوری دنیا کو ہی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ مالی لحاظ سے مضبوط ممالک اس مالیاتی سونامی کے مزید جھٹکے بھی برداشت کرسکتے ہیں جبکہ کمزور اور پسماندہ ممالک پہلے جھٹکے کے ساتھ ہی مالی طور پر منہدم ہوگئے ہیں۔امریکہ جو کہ دوبرس قبل تک مالی لحاظ سے دنیا کی واحد سپرپاور تھا آج اس کی حالت یہ ہے کہ اربوں ڈالرز قربان کرنے کے باوجود وہ اپنے قومی اداروں اور نجی کارپوریشنوں کو دیوالیہ ہونے سے بچا نہیں پا رہا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Nov 08

نج کاری یا کاروکاری

Click here to View Printed Statement

ابھی تک وہ اعدادوشمار سامنے نہیں آئے جن کی بنیاد پر معلوم ہوسکے کہ پاکستان نے آج تک جتنے ادارے اور صنعتیں پرائیویٹائز کئے ہیں ان سے کل کتنی رقم حاصل ہوئی ہے اور اس رقم سے کتنے غیر ملکی قرضے ادا ہوسکے ہیںلیکن سادہ اور عام فہم سی حقیقت یہ ہے کہ تمام ترنج کاریوں کے باوجود پاکستان کے بیرونی اور اندرونی قرضوں میںاضافہ ہی ہوا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Nov 08

رشتہ داروں سے حسنِ سلوک

Click here to View Printed Statement

کسی امر میں دو افراد کا اشتراک جو قوم و ملک ‘مذہب و ملت ‘پیشہ یا نظریاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے ان میں سب سے بڑھ کر وہ اشتراک ہے جس کی بنیاد رحم مادر ہے۔عربی زبان میں قرابت کا حق ادا کرنے کو وصل ‘رحم ملانا یعنی صلہ رحمی کہتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کا پیدا کردہ اشتراک ہے جس کا توڑنا انسان کے بس میں نہیں۔ اسی لئے اس کے حقوق کی نگہداشت بھی انسانوں پر بہت زیادہ ضروری قرار دی گئی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Nov 08

حمید گل امریکہ سے کیوں نہیں ڈرتے

Click here to View Printed Statement

معروضی حالات اور زمینی حقائق کے ادارک کا دعویٰ کرنے والے ہمارے تمام سکہ بند قسم کے دانشور ہمیں امریکہ سے ڈرنے کے مسلسل مشورے دیتے ہیں ۔ وہ ایسے ایسے دلائل پیش کرتے ہیں کہ اچھا خاصا بہادر آدمی خوف زدہ ہو کر کانپنے لگتا ہے۔ اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کی خاطر امریکی سی آئی اے کی مثبت رپورٹ کے لئے ہمارے اکثر وفاقی سیکرٹریز‘حکومتی عہدیداران جرنیل ‘صنعتکار اور جاگیردار قسم کے لوگ امریکہ کیخلاف بولنا تو درکنار سوچنے کا بھی رسک نہیں لیتے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Nov 08

سندھی‘پنجابی بھائی بھائی

Click here to View Printed Statement

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حسبِ توقع سندھی اور پنجابی کے درمیان نفرتیںپھیلانے والے عناصر پھر سے سرگرم ہوگئے ہیں۔ بعض سیاستدان انتخابی جلسوںکو گرمانے کے لئے صوبائی تعصب سے آلودہ زبان بول رہے ہیں۔ ایسے پارٹی اشتہارات بھی شائع ہوئے ہیں جن سے سندھیوں کے جذبات مجروح ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Oct 08

اسلم جناح کو بھی گھر مل جائے گا

Click here to View Printed Statement

ٹرانسپئرنسی انٹرنیشنل نے کوئی انکشاف نہیںکیاکہ پاکستان کا کرپشن کے اعتبار سے ساٹھواں نمبر ہے۔ تیسری دنیا کے تمام ممالک کم و بیش مالی خوردبرد کی بیماری میں مبتلا ہیں۔آج اگر امریکہ اور یورپ کے اندر بھوک پھیل جائے تو اس کا نتیجہ بھی کرپشن کی بدترین سطح کی صورت میں ہی برآمد ہوگا۔ جہاں وسائل کم اور کھپت زیادہ ہو وہاں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جاتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Sep 08

امریکہ سے دوستی نہیں‘ تعلقات کار چاہیں

Click here to View Printed Statement

پاک امریکہ تعلقات ایک بار پھر ہچکولے لینے لگے ہیں۔ پاکستان کے اندر امور خارجہ کے ماہرین اور ذرائع ابلاغ کے مراکز رائے کے اعتبار سے دو متضاد حلقوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ ایک غالب حلقہ اس خیال کا زبردست حامی دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی ”غلامی“ سے فی الفور چھٹکارا حاصل کرکے اپنے دوستوں کا تعین از سر نو کرنا چاہیے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Sep 08

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player