جو کچھ بھی ضرورت سے زیادہ ہے لٹا دو

Click here to View Printed Statement
Click here to View Printed Statement

یہ کیسی بدنصیبی ہے کہ تاریخ انسانی کا بدترین سیلاب بھی پاکستانی سیاستدانوں کو متحد نہیںکرسکا۔ یہ کیسی مٹی کے بنے ہوئےلاجز خالی ہوجانے چاہیں تھے ۔ اپنے حلقوں میں جا کر ہمدردی کے دو بول ہی بول دیتے۔ لوگ ان سے کھانے کوسونے کے نوالے اور رہنے کو محل تھوڑا ہی مانگ رہے ہیں۔بھوکے ہیںان کی بھوک بانٹ لو‘کھلے آسمان تلے ان کی بے بسی میں حصے دار بن جاﺅ۔ کسی ڈوبتے بوڑھے کی طرف کوئی ہوا بھری ٹیوب پھینک کر اسے بچالو‘ ملیریا سے تڑپتے کسی معصوم کی پیشانی پرشفقت بھرا ہاتھ ہی رکھ دو۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Sep 10

وہ‘ واہ اور وائز

Click here to View Printed Statement

وہ بھی عجیب لوگ ہیں۔ایسے ماحول میں جب ہر بااثر شخص لُوٹنے کی دھن میں مصروف ہے وہ لوٹانے کی فکر میں مبتلا ہیں۔اس زندگی اور اس ملک نے لوگوں کو بہت کچھ دیا ‘اکثر نہیں لیکن ہر شہر اور ہر علاقے میںایسے صالح اعمال پاکستانی موجود ہیں جو اپنی کامیابیوں میں اپنے وطن کے لوگوں کو بھی شریک سمجھتے ہیں اور کچھ نہ کچھ واپس لوٹانے کاکوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Jun 10

آزادی صحافت کی ضمانت

Click here to View Printed Statement

ایک نقطہ نگاہ یہ ہے کہ صحافی معاشرے کا عکس ہوتے ہیں۔ جس طرح کا معاشرہ ہوگا اسی طرح کا عکس ہمارے اخبارات اور ٹی وی سکرین پر دکھائی دے گا۔اخبارات اور ذرائع ابلاغ کا کام تنقید کرنا ہے اصلاح نہیں۔ اصلاح کے ادارے الگ سے موجود ہیں۔پاکستان میں آزادی صحافت کسی نے طشتری میں رکھ کر تحفے میں نہیں دی بلکہ اس کے لئے اخباری کارکنوں اور مالکان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب کسی کی مجال نہیں کہ وہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھ سکے۔صحافت آزاد ہوتی ہے اس کی کوئی نظریاتی‘قومی یا جغرافیائی سرحدیںنہیں ہوتیں۔اخبار نویس کاکام خبر لگانا ہے‘اخبار کا کام اسے شائع کرنا ہے ‘اگر گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کہاں سے؟۔صحافت بس صحافت ہوتی ہے‘زرد یا لال کی تفریق نہیں کی جانی چاہیے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 May 10

ادھورا یومِ شہداء

Click here to View Printed Statement

لوگ مغموم بھی دکھائی دیئے۔آنسو بھی ٹپکے۔ماتمی دھنیں بھی بجائی گئیں اور شہداءکے مزاروں پر پھول بھی نچھاور کئے گئے وہ مائیں‘بہنیں اور بیٹیاں بھی تھیں جن کے عزیز دفاع وطن کی جنگ لڑتے زندگی کی سرحد پار کرکے شہادت کے تخت پر جلوہ گر ہوگئے۔ وہ ننھے بچے بھی تھے جن کے پاپا نے جام شہادت نوش کرتے وقت کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔پورا دن نغمے گونجتے رہے۔ پندرہ ہزار سے زائد شہداءاپنے دامن میں لئے دہشتگردوں کے سرپر وار کرتی افواج پاکستان نے تیس اپریل کو اپنا پہلا یوم شہداءمنایا۔ جنرل ہیڈکوارٹرز میں شام کے وقت یادگار‘ شہداءکی رونمائی ہوئی۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 May 10

تھنکرز فورم میں نظریہ پاکستان کی بازگشت

Click here to View Printed Statement

اپر کلاس دانشوروں کے ہاں نظریات اور عقائد کو عمومی طور پر تنگ نظری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آجکل تو فیشن بن گیا ہے کہ جوں ہی کسی نے خدا ‘رسول اور قرآن کے حوالے سے ملکی معاملات میں کوئی دلیل لانے کی کوشش کی وہیں اسے مذہبی انتہا پسندی کا لیبل لگا کر ناقابل سماعت قرار دے دیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کی وجوہات بھی نئی نئی گھڑنے کی کوشش کی گئی ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Apr 10

ہاں پاکستان ایک حقیقت ہے

Click here to View Printed Statement

اگر جسونت سنگھ یہ حقیقت قبول نہ بھی کرتے تو بھی پاکستان کے لازوال وجود پر قطعاً فرق نہ پڑتا۔ یہ اس صالح فکر بھارتی رہنما کی اندر کی سچائی ہے کہ انہوںنے نہ صرف اپنی مشہور تصنیف میں اس حقیقت کو تسلیم کیا بلکہ پاکستان میں اپنی کتاب کی مارکیٹنگ کے دوران رسمی اور غیر رسمی گفتگو میں بھی اعادہ کرتے رہے۔ اسلام آباد کلب میں بھارت کے سابق وزیرخارجہ اور آج کل ہندو انتہا پسندوں کی نفرتوں کے ہدف اس سلجھے ہوئے دانشور سے مجھے ملاقات کا موقعہ ملا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Apr 10

حیران کن عسکری کامیابی

Click here to View Printed Statement

قبائلی علاقوں میں کلاشنکوف کی ایک گولی کی قیمت آج کل بتیس روپے ہے۔ ایک میگزین میں تیس گولیاں پڑتی ہیں۔ ایک بار ٹریگر دبانے سے تیس گولیوں سے بھرا میگزین لمحہ بھر میںخالی ہوجاتا ہے۔ یعنی چند سیکنڈز میں کم از کم ہزار روپیہ پھونک ڈالا جاتا ہے۔ طالبان کی طرف سے صرف کلاشنکوف ہی استعمال نہیںہوتی‘مارٹر گولے تک پھینکے جاتے ہیں۔اینٹی ایئرکرافٹ گنیںچلتی ہیںاور راکٹ لانچرز کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Mar 10

حَد سے بڑھتی ہوئی دانشوری

Click here to View Printed Statement

کسی سچے پاکستانی کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ دانستہ طور پر کسی ایسے ادارے‘تحریک یا پروپیگنڈے کا حصہ بنے گا جس کا فائدہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو پہنچ سکتا ہو۔ اگر کچھ پاکستانی نما لوگ جان بوجھ کر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہےں تو پھر ان کو ”را“ کا ایجنٹ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ افواج پاکستان‘آئی ایس آئی اور دیگر حساس اداروں پر بے جا تنقید پر مبنی جوتبصرے یا کالم شائع ہوتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Mar 10

مائنس وَن اور پلس ون

Click here to View Printed Statment

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ”ن“ چوٹ لگاﺅ اور بھاگو کے فلسفے پر کاربندہے اور اس جماعت کے شہ دماغ پی پی پی کیخلاف ابھی تک کسی باقاعدہ جنگ کو مناسب خیال نہیں کرتے۔ حالانکہ ”ن“ لیگ کے صف اول کے مجاہدین نے طالبانی انداز میں لانگ مارچ کی دھمکی بھی دے دی تھی۔ لیکن چند روز قبل جناب میاں محمد نوازشریف نے اخباری مالکان اور سینئر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر اپنے جن باوضو خیالات کا اظہار کیا اور عمومی سوالات کے جو مصالحانہ جوابات دیئے۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”ن“ لیگ مشرف کے احتساب کے اشو کو اب مزید آگے بڑھانا نہیں چاہتی اور اس اشو کو مستقبل میں پی پی پی کیساتھ ناراض ہونے کے لئے محض ایک پوائنٹ کے طور پر قابل تذکرہ رکھنا چاہتی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 07 Sep 09

لاوترازو تول کے دیکھو

Click here to View Printed Statment

وفاقی دارلحکومت کی بعض شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹا لی گئی ہیں اور آئندہ چند روز تک مزید ”نو گو ایریاز“ بھی ختم ہونے کا امکان ہے۔ تین چار ماہ قبل پاکستان کے شہروں کے اندر جس تواتر کے ساتھ خودکش حملے ہونا شروع ہوئے تھے ، اس سے خوف اور وسوسوں نے ہماری اجتماعی زندگی کو جکڑ لیا تھا۔ امن کی فاختائیں ہمارے منڈیروں سے اُڑ کر ہمسایہ ممالک کا رُخ کر چکی تھیں۔ سکون کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔ زندگی کیا تھی، بس ایک بے یقین سا سایہ تھا جو کسی چوک چوراہے میں خون آلود ہوتا دکھائی دیتا تھا۔ عوام تو عوام ،طبقہ اشرافیہ بھی اپنے بچاو¿ کی تدبیریںڈھونڈتا دکھائی دیتا تھا۔ جتنے اُونچے سر تھے، سب اُڑائے جانے کے ڈر سے نیچے ہو چکے تھے۔ اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں قائم پولیس کے اعلیٰ ترین افسران نے اپنی رہائش گاہوں کی طرف آنے والے راستے سنگ و خار سے بند کر دیئے تھے اور عوام کی حفاظت کے نام پر مراعات اور تنخواہیں بٹورنے والے عملاً قلعہ بند ہو کر کسی حملہ آور کے منتظر بیٹھے سانسیں گنتے تھے۔ سوائے مذمت کے حکمران طبقہ عوام کو کچھ دینے کے قابل نہ تھا اور اسلام آباد چند روز میں فتح ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔  Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 01 Sep 09

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player