آرزو ہے تجھے دیکھا کروں

Click here to View Printed Statement

کائنات کا دولھا انسان اللہ پروردگار عالم کی تخلیق کا بہترین شاہکار ہے۔ رب کائنات نے اسے نعمتوں کے اتنے انبار عطا فرما دیے کہ جنہیں دیکھ کر ذرا سا غور کرنے پر ہمیں اللہ نظر آنے لگتا ہے۔ اللہ خود اپنے کلام میں فرماتا ہے”تمہارے نفوس میں میری نشانیاں موجود ہیں تو کیا تم ان پر غور نہیں کرتے“۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Apr 13

رمضان کی برکتیں کیسے سمیٹیں

Click here to View Printed Statement

JANG LAHORE

ہر سال ماہ صیام میں منبرومحراب سے روزے کی فضیلتیں بیان کی جاتی ہیں اسلامی سکالرز انتہائی فصاحت وبلاغت کے ساتھ اس ماہ مقدس کے ساتھ وابستہ برکتوں’رحمتوں اور بخششوں کے تذکرے دہراتے ہیں۔نماز تراویح’نوافل ‘صدقہ اور خیرات کے طور طریقوں اور آداب و اسلوب کا موثر ذکر ہوتا ہے۔ہمارے اخبارات’رسائل اور ٹی وی چینلز خصوصی پروگرام اور اشاعت کا اہتمام کرتے ہیں۔ کوئی بھی صاحب شعور مسلمان پاکستانی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے روزے کی اہمیت’افطار اور سحر کے طریقے اور رکوع و سجود کے انداز سے واقفیت نہیں ہے۔ لیکن کیا سبب ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیلائی جانے والی آگاہی کے باوجود معاشرے میں اس مقدس مہینے کے طفیل جو بہتری متوقع ہوتی ہے وہ وقوع پذیر نہیں ہوتی اور معاشرے میں اصلاح کی بجائے ہر سال پہلے سے زیادہ بگاڑ دکھائی دیتا ہے؟یوں تو حکومت بھی رحمتوں والے اس مہینے میں عوام الناس کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے حکومتی سطح پر کئی اقدامات اٹھاتی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Jul 12

توانائی بحران اور کوئلے کے ذخائر ‘امکانات اور مشکلات

Click here to View Printed Statement

توانائی بحران کے حوالے سے اب کوئی دوسری رائے نہیں رہی۔ مشرف دور  کے آخری برسوں تک یہ سوچ جاری رہی کہ ملک میں بجلی اورگیس کی وافر مقدار موجود ہے اگر لائن لاسز اور چوری پر قابو پا لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم توانائی کی ضرورتوں کو پہلے سے موجود ذرائع کے ذریعے پورا کرسکتے ہیں۔ لیکن آج چار برس مزید گذرنے کے بعد یہ خوش فہمی بھی دور ہوگئی ہے۔بجلی چوروں کو لگام دینے کی بجائے آج کل ان کے ناز اٹھائے جارہے ہیں۔کراچی میں کنڈا سسٹم کوئی ختم نہیں کراسکتا۔ جنوبی پنجاب  کے بعض حصوں میں بھی بجلی چوری کا رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سندھ کے اکثر دیہی علاقوں میں سال میں ایک بار بجلی کا بل آتا ہے جو ہزار دو ہزار سے زیادہ نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے سرکاری ادارے’وزیراعظم ہائوس ‘ ایوان صدر سب بجلی کے بلوں کے نادہندہ ہیں۔بجلی کے صارفین کا چالیس فیصد حصہ باقی ماندہ ساٹھ فیصد کا بھی بل ادا کرتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 Jun 12

عورت!کل بھی مظلوم تھی اور آج بھی

Click here to View Printed Statements

کہا جاتا ہے کہ دور جاہلیت میں عورت اللہ تعالیٰ کی مظلوم مخلوق تھی۔معاشرے میں اسے سخت حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔طرح طرح کے توہمات اس کی ذات کے ساتھ وابستہ کئے جاتے تھے۔گھروں میں باندیوں سے بدترسلوک اس کا مقدر تھاسوسائٹی میں رائے مشورے اور تنقید واحتساب کا حق اسے قطعاً نہ تھا۔ بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد نہ تھی۔وراثت میں بھی اس کا کوئی حصہ نہ تھا۔زندگی کے کسی شعبے میں بھی اس کی شہادت قابل قبول نہ تھی۔حد تو یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی عورت کو زندہ قبر میں گاڑھ دیا جاتا تھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Nov 11

عید کیسے گزاریں

Click here to View Printed Statements

زندگی لیتے رہنے کا نام نہیں لوٹانے کا نام بھی ہے۔ جو فرد اپنے اردگرد کے ماحول اور معاشرے سے فائدہ اٹھا کر مسلسل اپنے دامن کو بھرتا رہتا ہے اور بدلے میں کچھ دیتا نہیں ہے وہ ایسے ہی جیسے نقب زنی کا ارتکاب کر رہا ہو۔ اسلام نے انسانی رویہ میں تبدیلی لانے کےلئے قرآن حکیم کے اندر بار بار لوٹانے پر زوردیا ہے۔مساکین‘یتیم‘بیوائیں بے سہارا لوگ‘ہمسائے حتیٰ کہ مسافر تک کے حقوق کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رویہ کی یہی وہ تبدیلی ہے جو ایک مسلمان معاشرے کو مثالی بناتی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 07 Nov 11

صحافی اور صحت

Click here to View Printed Statement

اس میں کیا شک ہے کہ صحافی پیشہ خواتین وحضرات انتہائی دباﺅ کے تحت کام کرنے والے طبقات میں بلند مقام رکھتے ہیں۔حیات وممات کے اندازے لگانے والوں نے ثابت کیا ہے کہ باقی شعبوں کی نسبت صحافیوں کی عمریں کم ہوتی ہیں۔ وہ جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔پاکستان جیسے ممالک میں صحافت سے وابستہ افراد کی عمریں باقی ممالک کے صحافیوں سے کہیں کم ہیں۔ کم عمری یا جواں سالی کے دوران موت کے بڑے بڑے اسباب میں ایک سبب ڈپریشن ہے۔ذہنی دباﺅ ہی اعصابی تناﺅ کو جنم دیتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Oct 11

لانگ ٹرم پلاننگ

Click here to View Printed Statement

خوب جان لو کہ دنیاکی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اسے پیداہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشتکار خوش ہوگئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 13 Sep 11

اچھے لوگ…. اچھی حکمرانی

Click here to View Printed Statement

بات معمولی سی ہے۔دہلی میںمنعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی دستے کی قیادت ایک کھلاڑی کر رہا تھا۔ سٹیج سے اس ویٹ لفٹر کھلاڑی کا بار بار نام بھی لیا جارہا تھا لیکن ٹی وی سکرین پر پاکستانی جھنڈا کھیل کے صوبائی وزیر نے تھام رکھا تھا۔سندھ سے تعلق رکھنے والے اس وزیر کو نمایاں ہونے کے شوق نے اس قدر دبوچ رکھا تھا کہ اس نے قائد کھلاڑی کو ایک مرحلہ پر آگے بڑھنے سے زبردستی روک دیا۔ ہزاروں لاکھوں ناظرین نے یہ منظر دیکھا۔ہوسکتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 Oct 10

خودکشیوں کا جدید انداز۔خطرے کی گھنٹی

Click here to View Printed Statement

ماضی میں غریب غرباءاپنی غربت اور تنگدستی کو اپنا مقدر سمجھ کر دھیرے دھیرے موت کی طرف بڑھتے رہتے تھے۔بغاوت کا آپشن عام نہیں ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ساٹھ اور ستر کی دیہائیوںمیں اشتراکی نظریات اپنے تمام تر پرکشش نعروں کے باوجود پاکستانی معاشرے میں جڑ نہ پکڑ سکے اور روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ نے پاکستانی عوام کو روس سے بڑی حد تک لاتعلق ہی رکھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Oct 10

دیوار کیا گری

Click here to View Printed Statement

زلزلہ کے دوران حکومت حسب معمول غافل تھی لیکن عوام کا جذبہ دیدنی تھا۔پورے ملک سے زلزلہ زدہ علاقوں کی طرف امدادی سامان کے ٹرک قافلوں کی صورت میں رواں دواں دکھائی دیتے تھے۔ ایک مرحلہ ایسا آیا کہ لاہور سے ایبٹ آباد تک جی ٹی روڈ پر امدادی ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں تھیں اور کراچی سے مظفرآباد تک زلزلہ متاثرین کے لئے ”لائف لائن“ قائم ہوگئی تھی۔اندرون ملک سے آنے والے امدادی سامان کی اس قدر بہتات تھی کہ انتظامیہ کو ٹریفک کا انتظام سنبھالنامشکل ہوگیا تھا۔سڑکوں کے دونوں جانب خوراک‘ پانی اور خیموں کے ڈھیر لگ گئے تھے اور حکومت کو اپیل کرنا پڑی تھی

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 18 Sep 10

جو کچھ بھی ضرورت سے زیادہ ہے لٹا دو

Click here to View Printed Statement
Click here to View Printed Statement

یہ کیسی بدنصیبی ہے کہ تاریخ انسانی کا بدترین سیلاب بھی پاکستانی سیاستدانوں کو متحد نہیںکرسکا۔ یہ کیسی مٹی کے بنے ہوئےلاجز خالی ہوجانے چاہیں تھے ۔ اپنے حلقوں میں جا کر ہمدردی کے دو بول ہی بول دیتے۔ لوگ ان سے کھانے کوسونے کے نوالے اور رہنے کو محل تھوڑا ہی مانگ رہے ہیں۔بھوکے ہیںان کی بھوک بانٹ لو‘کھلے آسمان تلے ان کی بے بسی میں حصے دار بن جاﺅ۔ کسی ڈوبتے بوڑھے کی طرف کوئی ہوا بھری ٹیوب پھینک کر اسے بچالو‘ ملیریا سے تڑپتے کسی معصوم کی پیشانی پرشفقت بھرا ہاتھ ہی رکھ دو۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Sep 10

ایک دن مدینے میں

Click here to View Printed Statement
Click here to View Printed Statement

روزہ کھلنے میں ابھی چالیس منٹ باقی ہیں لیکن مسجد نبوی کے ہر حصے میں نمازی افطار کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ہر شخص اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ افطاری لا رہا ہے جسے دروازوں پر کھڑے ہوئے دربان چیک کرتے ہیں۔کھجوریں‘قہوہ‘جوس کے ڈبے اندر لانے کی اجازت ہے۔سموسوں اور پکوڑوں کی ممانعت ہے۔ یہ پابندی اس لئے عائد ہے کہ مسجد میں گندگی نہ پھیلے۔ تھرموس میں اگر قہوہ ہے تو آپ اسے لے جاسکتے ہیں لیکن دودھ والی چائے پر دربان اعتراض کرتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Aug 10

سعیدہ وارثی کی سعادت مندی

Click here to View Printed Statement

مغرب میں مشرق کی بیٹی سعیدہ وارثی اگر کھوکھلی شخصیت کی مالک ہوتیں تو اپنے ماضی کے سارے حوالے بھول بھال کر یورپ کے رنگ میں رنگی جاچکی ہوتیں۔ نہ انہیں پاکستان یاد ہوتا نہ وہ پاکستانی خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے ”سویرا فاﺅنڈیشن“ کی بنیاد رکھتیں نہ وہ گوجرخوان کی ثناءخواں بنتی اور نہ ہی بیول کے ببول انہیں یاد رہتے۔
سعیدہ تو پیدا ہی برطانیہ میں ہوئیں۔ وہ پیدائشی طور پر برطانوی ہیں۔ ان کی تعلیم وتربیت اور پرورش و پر داخت بھی یورپ کے مرکز و محور میں ہوتی رہی۔ ہمارے پاکستانی نوجوان یہاں پیدا ہوتے ہیں ۔بیس بائیس برس کی بہاریں لوٹتے ہیں اور جب انہیں یورپ کا ویزا ملتا ہے اور وہاں روشن دنوں کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں تو اپنا آپ ہی بھول جاتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 Aug 10

وہ‘ واہ اور وائز

Click here to View Printed Statement

وہ بھی عجیب لوگ ہیں۔ایسے ماحول میں جب ہر بااثر شخص لُوٹنے کی دھن میں مصروف ہے وہ لوٹانے کی فکر میں مبتلا ہیں۔اس زندگی اور اس ملک نے لوگوں کو بہت کچھ دیا ‘اکثر نہیں لیکن ہر شہر اور ہر علاقے میںایسے صالح اعمال پاکستانی موجود ہیں جو اپنی کامیابیوں میں اپنے وطن کے لوگوں کو بھی شریک سمجھتے ہیں اور کچھ نہ کچھ واپس لوٹانے کاکوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Jun 10

ڈیم کنارے ملاقاتیں

Click here to View Printed Statement

یہ ملاقاتیں بھی عجیب ہیں۔جب میل ملاپ کے سارے راستے بند ہوں اور فریقین کوماضی مرحوم کی محبتیں ڈسنے لگیں تو پھر کونسا طریقہ نکالاجائے کہ شریفانہ طرز سیاست پر حرف بھی نہ آئے اور ملاقات کا سبب بھی پیدا ہوجائے۔ اس کی زندہ اور تازہ ترین مثال کالا باغ ڈیم کے اشو پر سینٹ کے اندر مسلم لیگ (ن) اور (ق) کے ارکان کا یک زبان ہونا ہے ایک ایسا اشو جسے خود مسلم لیگ (ن) اور(ق) نے”وسیع تر قومی مفاد“ میںدفنا دیا تھا‘قومی وحدت کو ڈیم پر قربان نہ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا‘متبادل

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Jun 10

خونی انقلاب دستک دے رہا ہے

Click here to View Printed Statement

ماضی میں غریب غرباءاپنی غربت اور تنگدستی کو اپنا مقدر سمجھ کر دھیرے دھیرے موت کی طرف بڑھتے رہتے تھے۔بغاوت کا آپشن عام نہیں ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ساٹھ اور ستر کی دیہائیوںمیں اشتراکی نظریات اپنے تمام تر پرکشش نعروں کے باوجود پاکستانی معاشرے میں جڑ نہ پکڑ سکے اور روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ نے پاکستانی عوام کو روس سے بڑی حد تک لاتعلق ہی رکھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Jun 10

ایران کی پہچان

Click here to View Printed Statement

پاک ایران تعلقات کو سرد مہری کا شکار کرنے کےلئے ہمارے ہاں بعض اوقات سپانسرڈ قسم کی خبریں اچھالی جاتی ہیں لیکن ہفتہ بھر ایران میںرہ کر اور وہاں کے لوگوں سے مل کر دل انتہائی مطمئن ہوا ہے کہ اہل ایران نہ صرف یہ کہ پاکستان کے بارے میں بے پناہ محبت رکھتے ہیں بلکہ اس محبت کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ انقلاب ایران سے قبل بھی ایرانی اور پاکستانی اقوام میں بھائی چارے کی فضا ہی تھی لیکن اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ”اسلامی جمہوریہ“ کے لفظ نے معنوی اعتبار سے قربت کو فروغ دیا ہے اور علامہ اقبالؒ کی فارسی شاعری کے حوالے نے ایرانی اور پاکستانی بہن بھائیوں کو قلبی طور پر بھی یک جان دو قالب بنا ڈالا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Jun 10

ادھورا یومِ شہداء

Click here to View Printed Statement

لوگ مغموم بھی دکھائی دیئے۔آنسو بھی ٹپکے۔ماتمی دھنیں بھی بجائی گئیں اور شہداءکے مزاروں پر پھول بھی نچھاور کئے گئے وہ مائیں‘بہنیں اور بیٹیاں بھی تھیں جن کے عزیز دفاع وطن کی جنگ لڑتے زندگی کی سرحد پار کرکے شہادت کے تخت پر جلوہ گر ہوگئے۔ وہ ننھے بچے بھی تھے جن کے پاپا نے جام شہادت نوش کرتے وقت کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔پورا دن نغمے گونجتے رہے۔ پندرہ ہزار سے زائد شہداءاپنے دامن میں لئے دہشتگردوں کے سرپر وار کرتی افواج پاکستان نے تیس اپریل کو اپنا پہلا یوم شہداءمنایا۔ جنرل ہیڈکوارٹرز میں شام کے وقت یادگار‘ شہداءکی رونمائی ہوئی۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 May 10

تھنکرز فورم میں نظریہ پاکستان کی بازگشت

Click here to View Printed Statement

اپر کلاس دانشوروں کے ہاں نظریات اور عقائد کو عمومی طور پر تنگ نظری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آجکل تو فیشن بن گیا ہے کہ جوں ہی کسی نے خدا ‘رسول اور قرآن کے حوالے سے ملکی معاملات میں کوئی دلیل لانے کی کوشش کی وہیں اسے مذہبی انتہا پسندی کا لیبل لگا کر ناقابل سماعت قرار دے دیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کی وجوہات بھی نئی نئی گھڑنے کی کوشش کی گئی ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Apr 10

ہاں پاکستان ایک حقیقت ہے

Click here to View Printed Statement

اگر جسونت سنگھ یہ حقیقت قبول نہ بھی کرتے تو بھی پاکستان کے لازوال وجود پر قطعاً فرق نہ پڑتا۔ یہ اس صالح فکر بھارتی رہنما کی اندر کی سچائی ہے کہ انہوںنے نہ صرف اپنی مشہور تصنیف میں اس حقیقت کو تسلیم کیا بلکہ پاکستان میں اپنی کتاب کی مارکیٹنگ کے دوران رسمی اور غیر رسمی گفتگو میں بھی اعادہ کرتے رہے۔ اسلام آباد کلب میں بھارت کے سابق وزیرخارجہ اور آج کل ہندو انتہا پسندوں کی نفرتوں کے ہدف اس سلجھے ہوئے دانشور سے مجھے ملاقات کا موقعہ ملا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Apr 10

حیران کن عسکری کامیابی

Click here to View Printed Statement

قبائلی علاقوں میں کلاشنکوف کی ایک گولی کی قیمت آج کل بتیس روپے ہے۔ ایک میگزین میں تیس گولیاں پڑتی ہیں۔ ایک بار ٹریگر دبانے سے تیس گولیوں سے بھرا میگزین لمحہ بھر میںخالی ہوجاتا ہے۔ یعنی چند سیکنڈز میں کم از کم ہزار روپیہ پھونک ڈالا جاتا ہے۔ طالبان کی طرف سے صرف کلاشنکوف ہی استعمال نہیںہوتی‘مارٹر گولے تک پھینکے جاتے ہیں۔اینٹی ایئرکرافٹ گنیںچلتی ہیںاور راکٹ لانچرز کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 19 Mar 10

حَد سے بڑھتی ہوئی دانشوری

Click here to View Printed Statement

کسی سچے پاکستانی کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ دانستہ طور پر کسی ایسے ادارے‘تحریک یا پروپیگنڈے کا حصہ بنے گا جس کا فائدہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو پہنچ سکتا ہو۔ اگر کچھ پاکستانی نما لوگ جان بوجھ کر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہےں تو پھر ان کو ”را“ کا ایجنٹ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ افواج پاکستان‘آئی ایس آئی اور دیگر حساس اداروں پر بے جا تنقید پر مبنی جوتبصرے یا کالم شائع ہوتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Mar 10

پاکستان کو خانہ جنگی والی صورتحال سے بچاےا جا سکتا ہے

Click here to View Printed Statement

Posted by AAMIR JAVED / 01 Jan 10

الطاف حسین ہی کوئی راستہ نکالیں

Click here to View Printed Statment

سوات کے بعد جنوبی وزیرستان میں بھی فوجی آپریشن کامیابی کے ساتھ خاتمے کے قریب ہے۔ کرم اور خیبر ایجنسی میں بھی شدت پسندوں کا خاتمہ کیا جارہاہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فوجی آپریشنز کی کامیابی سے ملک کے اندر شدت پسندوں کا خاتمہ ہوجائے گا اور یوں اس ملک کو طالبانائزیشن اور دہشتگردی سے نجات مل جائے گی۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 18 Dec 09

کراچی کا جمال ۔سیّد مصطفی کمال

Click here to View Printed Statement

متحدہ قومی موومنٹ کے دامن میں ایسے ہیرے بھی ہیں کبھی سوچا نہ تھا۔شائد سوچ کا دائرہ متعصب حدوں میں محدود ہی رہتا اگر مجھے تواتر کیساتھ شہر قائد آنے کا موقع نہ ملتا۔آج کا کراچی وہ نہیں جہاں سے فقط مار دھاڑ اور فرقہ وارانہ تشدد کی خبریں موصول ہوتی تھیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Dec 09

غیور پٹھان

Click here to View Printed Statment

”ظالمان“ کے ظلم کا شکار ہونے والی زیادہ سیاسی شخصیات کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔مالاکنڈ ڈویژن ‘فاٹا اور پشاور میں اے این پی کا شائد ہی کوئی رہنما ہو جسے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ظلم و بربریت کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔ ایک اندازے کے مطابق اے این پی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی لیڈر شپ کا قتل عام کیاگیا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Nov 09

پنجاب بلوچ….سانجھی سوچ

Click here to View Printed Statment

قومی وحدت اور ملی یکجہتی کو دورِ آمریت میںجو زخم لگائے گئے تھے‘ وہ رِس رِس کرناسور بن چکے ہیں۔درد کی لہریں وفاقیت کو جھنجھوڑ رہی ہیں اور محب وطن حلقے شدید اضطراب میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔آج کھلے عام ”آزاد بلوچستان“ کے مطالبات ہورہے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Nov 09

روشنی کا سفیر

Click here to View Printed Statment

تعریفی اسناد‘امتیازی اعزازات اور سنہری تمغات ہر کامیاب انسان کا حق بھی ہے اور خواہش بھی۔ ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ زندگی کے کسی شعبے میں جب بھی کوئی نمایاں کارنامہ سرانجام دے تو سماج اس کو سراہائے‘ اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے اور اس کے سینے پر تمغے سجائے۔ مردم شناس سوسائٹی کو ایسا کرنا بھی چاہیے۔ اچھائی اور نیکی کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ ہم روشن راہوں کے مسافروں کو ان کے حصے کی پذیرائی دینے میں کنجوسی نہ کریں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 31 Oct 09

غربت اور دہشتگردی

Click here to View Printed Statment

دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں جس محاذ پر سب سے زیادہ سرگرمی دکھائے جانے کی ضرورت ہے وہ غربت کا محاذ ہے۔ فوجی آپریشنز وقت مقررہ میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن دہشتگردی کی وجوہات ختم کرنے کا عمل دیرپا اور مسلسل ہوتا ہے۔آج کا پاکستان کراچی سے خیبر تک دہشتگردوں کی کارروائیوں سے لرز رہا ہے۔ کہیں پنجابی طالبان کے نام سے یہ لوگ متحرک ہیں اور کہیں پشتو بولنے والے مجرم سامنے آرہے ہیں۔اب دہشتگردی کی وبا کسی ایک صوبے‘ طبقے یا گروہ تک محدد نہیں رہی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں جہاں غربت کے سائے گہرے ہوتے ہیں‘وہیں سے خودکش بمباروں کی بھرتی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی اختلاف انتہا پسندی کی شکل اس وقت اختیارکرتا ہے جب پیٹ کی بھوک انسان کو ہر طرف سے بے اختیار کردیتی ہے۔بعض بزدل بھوکے حالات سے مجبور ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں جبکہ نوجوان خون بغاوت پر اتر آتا ہے۔ جونہی کوئی ماسٹر مائنڈ کسی غریب نوجوان کو خودکش بمبار بننے کے لئے مذہبی جواز فراہم کرتا ہے‘ پھر انتقام کی بدترین شکلیں سامنے آتی ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Oct 09

نشانِ حیدر کے مستحق شہدا

Click here to View Printed Statment

فوجی وردیوں میں ملبوس‘فوجی نمبر پلیٹ والی سوزوکی وین میں سوار ہو کر جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے دھوکہ باز دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوئے یا بری طرح ناکام رہے‘ اس بحث کا فیصلہ وقت پر چھوڑ دیتے ہیں۔لیکن دس اکتوبر کا دن ہماری قومی زندگی میں قیمتی اثاثے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ہر دس اکتوبر ہمیں یاد دلائے گا کہ ہمارے کمانڈوز بہادری اور جانفشانی میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ جونہی وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لئے حرکت کریں گے گولیوں سے بھون ڈالے جائیں گے۔ موت سامنے دیکھتے ہوئے بھی چار کمانڈوز آگے بڑھتے ہیں‘کمانڈر کے سامنے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں اور دہشتگردوں کی توجہ تقسیم کرنے کے لئے سیکورٹی روم کے سامنے آجاتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 Oct 09

کچھ غلط فہمیاں دور ہوئیں

Click here to View Printed Statment

پاکستان کی سیاسی تاریخ غلط فہمیوں سے بھری پڑی ہے۔شائد باقی ملکوں اور قوموں کے ہاں بھی یہی چلن ہو۔ لیکن اپنے وطن میں قیام پاکستان کے بعد سامنے آنے والی سیاسی بلوغت محض ایک دھوکہ‘ سراب اور فریب دکھائی دیتا ہے۔ میں تفصیلات میں جانے کی بجائے حالیہ سیاسی نوک جھونک کے حوالے سے چندنکات سامنے لانے پر اکتفا کروں گا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Sep 09

مائنس وَن اور پلس ون

Click here to View Printed Statment

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ”ن“ چوٹ لگاﺅ اور بھاگو کے فلسفے پر کاربندہے اور اس جماعت کے شہ دماغ پی پی پی کیخلاف ابھی تک کسی باقاعدہ جنگ کو مناسب خیال نہیں کرتے۔ حالانکہ ”ن“ لیگ کے صف اول کے مجاہدین نے طالبانی انداز میں لانگ مارچ کی دھمکی بھی دے دی تھی۔ لیکن چند روز قبل جناب میاں محمد نوازشریف نے اخباری مالکان اور سینئر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر اپنے جن باوضو خیالات کا اظہار کیا اور عمومی سوالات کے جو مصالحانہ جوابات دیئے۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”ن“ لیگ مشرف کے احتساب کے اشو کو اب مزید آگے بڑھانا نہیں چاہتی اور اس اشو کو مستقبل میں پی پی پی کیساتھ ناراض ہونے کے لئے محض ایک پوائنٹ کے طور پر قابل تذکرہ رکھنا چاہتی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 07 Sep 09

لاوترازو تول کے دیکھو

Click here to View Printed Statment

وفاقی دارلحکومت کی بعض شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹا لی گئی ہیں اور آئندہ چند روز تک مزید ”نو گو ایریاز“ بھی ختم ہونے کا امکان ہے۔ تین چار ماہ قبل پاکستان کے شہروں کے اندر جس تواتر کے ساتھ خودکش حملے ہونا شروع ہوئے تھے ، اس سے خوف اور وسوسوں نے ہماری اجتماعی زندگی کو جکڑ لیا تھا۔ امن کی فاختائیں ہمارے منڈیروں سے اُڑ کر ہمسایہ ممالک کا رُخ کر چکی تھیں۔ سکون کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔ زندگی کیا تھی، بس ایک بے یقین سا سایہ تھا جو کسی چوک چوراہے میں خون آلود ہوتا دکھائی دیتا تھا۔ عوام تو عوام ،طبقہ اشرافیہ بھی اپنے بچاو¿ کی تدبیریںڈھونڈتا دکھائی دیتا تھا۔ جتنے اُونچے سر تھے، سب اُڑائے جانے کے ڈر سے نیچے ہو چکے تھے۔ اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں قائم پولیس کے اعلیٰ ترین افسران نے اپنی رہائش گاہوں کی طرف آنے والے راستے سنگ و خار سے بند کر دیئے تھے اور عوام کی حفاظت کے نام پر مراعات اور تنخواہیں بٹورنے والے عملاً قلعہ بند ہو کر کسی حملہ آور کے منتظر بیٹھے سانسیں گنتے تھے۔ سوائے مذمت کے حکمران طبقہ عوام کو کچھ دینے کے قابل نہ تھا اور اسلام آباد چند روز میں فتح ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔  Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 01 Sep 09

”گرین سگنل“

Click here to View Printed Statment

گزشتہ ماہ مقامی یونیورسٹی میں مختلف اداروں کے اشتراک سے سکول کے بچے بچیوں کے لئے میتھمیٹکس کے حوالے سے سمر کیمپ لگایا گیا۔ کیمپ کے آخری روز ملنے والے سرٹیفکیٹ اور سکول بیگ دکھاتے ہوئے ہماری بھتیجی نے پرجوش لہجے میں بتایا‘”انکل اب میں چالان بھی کرسکتی ہوں“اور اس کے ساتھ ہی اس نے ایک خوبصورت کارڈ دکھایا جس پر ”وارننگ کارڈ“ کے الفاظ درج تھے۔ یہ کارڈ اسلام آباد ٹریفک پولیس کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ بھتیجی نے بتایا کہ دوران کیمپ سٹوڈنٹس کو ٹریفک پولیس آفس کا دو مرتبہ وزٹ کرایا گیا۔ وہاں مختلف افسران نے ٹریفک رولز پر بریفنگ دی اور پھر شرکاءسے سوالات پوچھے۔ ایک سمارٹ سے انکل جو کہ سب سے بڑے آفیسر تھے انہوں نے ٹریفک رولز پر لیکچر دیا اور لنچ باکس بھی دیئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Aug 09

ظُلمتِ شب میں روشن چراغ

Click here to View Printed Statement

یہ نہیں کہ اس ملک اور معاشرے میں اچھائیاں نہیں رہیں بلکہ اصل المیہ ےہ ہے کہ اچھائیاں اور بھلائیاں ہمارے نزدیک اب خبر کا درجہ نہیں پاتیں۔ اگر ہم تھوڑا سا وقت نکالیں اور اپنے شہر اور محلے پر نگاہ دوڑائیں تو ایسے مردانِ صدق وصفادکھائی دیں گے جو بغیر کِسی نام ونمودکے انسانی خدمت میں جُتے ہوئے ہیں۔ قومی سطح پر بھی ایک نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں ایسے رجال عظیم ہیں جوحسب ونسب ذات ‘اور علاقے ‘ زبان اور مکان کی تفریق رکھے بغیرخدمت خلق کے صالح عمل میں مصروف رہتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے قلم اِن بے لوث ہستیوں کی جائز تعریف میں بھی متحرک نہ ہوئے۔ ہماری زبانوں پر تخریب کاریوں کے تذکرے تو جاری رہتے ہیں لیکن اِن معماروں اور مسیحاﺅں کو ہم نے کبھی ماڈل پاکستانی کے طور پر پیش نہیں کیا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Jun 09

دردناک کوڑے….خوفناک پروپیگنڈا

Click here to View Printed Statement

عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ہی سوات میں ایک لڑکی کو کوڑے مارے جانے کے واقعہ کے تمام پہلو سامنے آسکیںگے۔ وڈیو اصلی ہے یا جعلی‘ واقعہ کے محرکات حقیقی ہیں یا بہتان پر مبنی‘ کوڑے مارنے والے اصلی طالبان ہیں یا طالبان کے روپ میں دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں۔ سزا طے کرنے اور اس پر عملدرآمد کرنے والے لوگ واقعتا اسلامی سزا اور جزا کی روح کو سمجھنے والے علماءہیں یا قبائلی سوچ کے حامل چند روایت پرست باریش لوگوں کا کوئی گروہ ہے ۔ اس طرح کے بے شمار سوالات کے جوابات عدالت کے ذریعے ہی مل سکیں گے۔ سوات اور فاٹا کے حالات ایسے ہیں کہ کسی بھی واقعہ کا فوری طور پر سچ اورجھوٹ ڈھونڈ لینا امر محال ہے۔ ہم صرف سوالات اٹھا سکتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 07 Apr 09

امریکی اعتماد

Click here to View Printed Statement

امریکی حکمران بھی عجیب وغریب قسم کے دماغی خلجان میں مبتلا رہتے ہیں۔ امریکہ بہت بڑا ملک ہے۔ باون ریاستیںہیں‘زرخیز زمینیں ہیں‘ بہترین دماغ ہیں۔ اپنے ملک میں رہیں‘ اپنے لوگوںکی صحت اور تعلیم کی سہولتوں میں اضافہ کریں اور خود خوبصورت زندگی بسر کریں اور دنیا کو اپنے نظریات اور روایات کے مطابق زندگی بسر کرنے دیں۔ خدا جانے بیٹھے بٹھائے وہاں کے شہہ دماغوں کو کون سا کیڑا کاٹتا ہے اور ہر دس سال بعد کسی دوسرے ملک پر یلغار کردیتے ہیں۔ اپنے نوجوانوں کا خون بہاتے ہیں‘ اسلحہ پھونکتے ہیں اور لاشیں گراتے‘ ملکوں کو تہس نہس کرتے ہیں۔ جب مرنے مارنے کے عمل سے تھک جاتے ہیں تو پھر باعزت واپسی کے راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں بلکہ اکثر ہاتھ باندھ کر ‘منتیں کرکے مجروح ملک سے بھاگ جاتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Mar 09

دھرنا اور دھونس

Click here to View Printed Statement

کیایہ حقیقت اب کسی سے چھپی رہ گئی ہے کہ آج کل پاکستان چاروں اطراف سے دشمنوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف بھارت اس ملک کو عالمی دہشتگرد قرار دلوانے اور دنیا بھر میں اس کے دوستوں کو بدظن کرنے کے لئے باقاعدہ سرد جنگ شروع کرچکا ہے۔ دوسری طرف افغانستان کی حکومت کے اندر چھپے ہوئے پاکستان دشمنوں نے ہمارے صوبہ سرحد میں توڑ پھوڑ کا عمل تیز کررکھا ہے ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Feb 09

مالاکنڈ میں نظام عدل اور بے بنیاد خدشات

Click here to View Printed Statement

صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کو بہرحال یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ اپنی حکمرانی کے انداز میں مشاورت کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔اب تک کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر پاکستان نے اپنے مشیروں اور مشاورت کے دائرہ کار کو اپنی پارٹی یا کسی کچن کیبنٹ تک محدود نہیں رکھا بلکہ کسی اشو سے متعلقہ ہرگروہ اور حلقے کو اعتماد میں لیکر ہی کوئی فیصلہ کیا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Feb 09

عرب امارات اور پاکستان

Click here to View Printed Statement

پاکستان کے دوست ممالک میں نمایاں ترین دوست ملک ‘متحدہ عرب امارات ہے۔ یہاں کی حکومت نے پاکستان میں سماجی ترقی‘ شعبہ تعلیم اور صحت کی بہتری اور قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
جناب شیخ سلطان النہیان مرحوم پاکستانی عوام میں مقبول ترین شخصیت تھے۔ اور محسن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام ان کی پاکستان کے لئے دوستانہ نوازشات اور سماجی شعبے کی ترقی کے لئے بے مثال خدمات کو نہ صرف احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ انہیں یاد بھی رکھتے ہیں۔اپنے عظیم باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے موجودہ صدر محترم شیخ خلیفہ بن زید النہیان نے پاکستان دوستی اور پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے شیخ زید مرحوم کی روشن خدمات کی دوستانہ روایت کو زندہ رکھا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 Feb 09

کاش کہ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے

Click here to View Printed Statement

ممبئی حملوں کے اصل ذمہ داروں کے تعین کے لئے ابھی بہت وقت درکار ہے۔ بھارت کیطرف سے دی گئی معلومات کے نتیجے میں پاکستانی حکام نے جن تنظیموں اور گروہوں کے سرکردہ رہنماﺅں کو گرفتار کیا ہے اور جن کی انکوائری شروع کردی گئی ہے ان تمام افراد اور گروپوں کا تعلق کسی نہ کسی طرح آزادی کشمیر سے جڑا ہوا ہے۔ جوں جوں یہ انکوائری آگے بڑھے گی اور ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گ

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 18 Jan 09

اقتصادی حملے سے بچنے کی ضرورت ہے

Click here to View Printed Statement

سیاسی اور عسکری قیادتوں کے اتحاد اور باہمی ربط سے ایک بار پھر یہ طے ہوا کہ پاکستانی قوم کے اندر وہ بنیادی انسانی جوہر بدرجہ اتم موجود ہے جس کے استعمال سے ہم بپھرے ہوئے دشمن کو جارحیت سے باز رکھ سکتے ہیں۔ اندرون خانہ جس برق رفتاری اور ہوشمندی کےساتھ پریذیڈنٹ ہاﺅس‘ وزیراعظم ہاﺅس‘پارلیمنٹ‘قومی وسیاسی جماعتوں اور جی ایچ کیو نے آپس میں ملکر جس طرح بھارت کی طرف سے پیدا کی گئی آتشیں صورتحال کو ٹھنڈا کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملت پاکستان بڑے سے بڑے بحران کا اپنی اجتماعی ذہانت کیساتھ حل نکال سکتی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 01 Jan 09

پاک چین تعلقات۔اعتماد ضروری ہے

Click here to View Printed Statement

معاشی مسابقت کے اس دور میں چین نے اقتصادی ترقی کو ہی اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز و محور بنا لیا ہے۔ ”ہم جنگ نہیں کرینگے“ چین کی قومی قیادت اس فلسفے پر پوری طرح یکسوئی سے عمل پیرا ہے اور دنیا بھر میں مارکیٹوں پر مارکیٹیں فتح کرتے معاشی خوشحالی کے نئے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ یہ نہیں کہ چین اپنے دفاع سے غافل ہے۔ اسلحہ سازی کے اعتبار اور دفاعی تقاضوں کے لحاظ سے بھی چینی حکومت دنیا کی سپرطاقت کے ہم پلہ ہونے کے قریب ہے۔ آج امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک بھی چین کے مقروض ہوچکے ہیں اور دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے چین کی طرف بے چین نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 16 Dec 08

فرینڈز اینڈ ماسٹرز

Click here to View Printed Statement

فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے افتتاحی اجلاس کے اختتام پر پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری نے نیویارک میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بڑے واضح الفاظ میں ”فرینڈز“ سے ممکنہ توقعات کی وضاحت کر ڈالی تھی۔ صدر صاحب نے کہا تھا کہ ہمیں کیش نہیں بلکہ سرمایہ کاری چاہیے۔ حالانکہ عمومی فضا یہی تھی کہ دولت مند ملکوں کے اجلاس میں پاکستان کو کم از کم دس ارب ڈالرز نقد مل جائیں گے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Nov 08

نج کاری یا کاروکاری

Click here to View Printed Statement

ابھی تک وہ اعدادوشمار سامنے نہیں آئے جن کی بنیاد پر معلوم ہوسکے کہ پاکستان نے آج تک جتنے ادارے اور صنعتیں پرائیویٹائز کئے ہیں ان سے کل کتنی رقم حاصل ہوئی ہے اور اس رقم سے کتنے غیر ملکی قرضے ادا ہوسکے ہیںلیکن سادہ اور عام فہم سی حقیقت یہ ہے کہ تمام ترنج کاریوں کے باوجود پاکستان کے بیرونی اور اندرونی قرضوں میںاضافہ ہی ہوا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Nov 08

رشتہ داروں سے حسنِ سلوک

Click here to View Printed Statement

کسی امر میں دو افراد کا اشتراک جو قوم و ملک ‘مذہب و ملت ‘پیشہ یا نظریاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے ان میں سب سے بڑھ کر وہ اشتراک ہے جس کی بنیاد رحم مادر ہے۔عربی زبان میں قرابت کا حق ادا کرنے کو وصل ‘رحم ملانا یعنی صلہ رحمی کہتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کا پیدا کردہ اشتراک ہے جس کا توڑنا انسان کے بس میں نہیں۔ اسی لئے اس کے حقوق کی نگہداشت بھی انسانوں پر بہت زیادہ ضروری قرار دی گئی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Nov 08

والدین سے حسن سلوک

Click here to View Printed Statement

اسلام والدین کے متعلقین کی بھی عزت کرنے کا حکم دیتا ہے
دنیا کا ہر مذہب اور تہذیب اس بات پر متفق ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے ان کا ادب و احترام ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ اس بارے میں قرآن کی تعلیم سب سے زیادہ اہم اور اپنے ایک انفرادی سلوک کی حامل ہے۔ مثلاً جب کبھی اللہ تعالیٰ نے اپنی استطاعت وفرمانبرداری کی تعلیم دی ہے۔ ترجمہ ”اے بندو تم میرا (اللہ کا) شکر کرو اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو تم تمام کو میری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ (سورة لقمان14)

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 08 Nov 08

حمید گل امریکہ سے کیوں نہیں ڈرتے

Click here to View Printed Statement

معروضی حالات اور زمینی حقائق کے ادارک کا دعویٰ کرنے والے ہمارے تمام سکہ بند قسم کے دانشور ہمیں امریکہ سے ڈرنے کے مسلسل مشورے دیتے ہیں ۔ وہ ایسے ایسے دلائل پیش کرتے ہیں کہ اچھا خاصا بہادر آدمی خوف زدہ ہو کر کانپنے لگتا ہے۔ اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کی خاطر امریکی سی آئی اے کی مثبت رپورٹ کے لئے ہمارے اکثر وفاقی سیکرٹریز‘حکومتی عہدیداران جرنیل ‘صنعتکار اور جاگیردار قسم کے لوگ امریکہ کیخلاف بولنا تو درکنار سوچنے کا بھی رسک نہیں لیتے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Nov 08

سندھی‘پنجابی بھائی بھائی

Click here to View Printed Statement

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حسبِ توقع سندھی اور پنجابی کے درمیان نفرتیںپھیلانے والے عناصر پھر سے سرگرم ہوگئے ہیں۔ بعض سیاستدان انتخابی جلسوںکو گرمانے کے لئے صوبائی تعصب سے آلودہ زبان بول رہے ہیں۔ ایسے پارٹی اشتہارات بھی شائع ہوئے ہیں جن سے سندھیوں کے جذبات مجروح ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Oct 08

اسلم جناح کو بھی گھر مل جائے گا

Click here to View Printed Statement

ٹرانسپئرنسی انٹرنیشنل نے کوئی انکشاف نہیںکیاکہ پاکستان کا کرپشن کے اعتبار سے ساٹھواں نمبر ہے۔ تیسری دنیا کے تمام ممالک کم و بیش مالی خوردبرد کی بیماری میں مبتلا ہیں۔آج اگر امریکہ اور یورپ کے اندر بھوک پھیل جائے تو اس کا نتیجہ بھی کرپشن کی بدترین سطح کی صورت میں ہی برآمد ہوگا۔ جہاں وسائل کم اور کھپت زیادہ ہو وہاں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جاتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Sep 08

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player