اچھے لوگ…. اچھی حکمرانی

Click here to View Printed Statement

بات معمولی سی ہے۔دہلی میںمنعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی دستے کی قیادت ایک کھلاڑی کر رہا تھا۔ سٹیج سے اس ویٹ لفٹر کھلاڑی کا بار بار نام بھی لیا جارہا تھا لیکن ٹی وی سکرین پر پاکستانی جھنڈا کھیل کے صوبائی وزیر نے تھام رکھا تھا۔سندھ سے تعلق رکھنے والے اس وزیر کو نمایاں ہونے کے شوق نے اس قدر دبوچ رکھا تھا کہ اس نے قائد کھلاڑی کو ایک مرحلہ پر آگے بڑھنے سے زبردستی روک دیا۔ ہزاروں لاکھوں ناظرین نے یہ منظر دیکھا۔ہوسکتا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 06 Oct 10

جو کچھ بھی ضرورت سے زیادہ ہے لٹا دو

Click here to View Printed Statement
Click here to View Printed Statement

یہ کیسی بدنصیبی ہے کہ تاریخ انسانی کا بدترین سیلاب بھی پاکستانی سیاستدانوں کو متحد نہیںکرسکا۔ یہ کیسی مٹی کے بنے ہوئےلاجز خالی ہوجانے چاہیں تھے ۔ اپنے حلقوں میں جا کر ہمدردی کے دو بول ہی بول دیتے۔ لوگ ان سے کھانے کوسونے کے نوالے اور رہنے کو محل تھوڑا ہی مانگ رہے ہیں۔بھوکے ہیںان کی بھوک بانٹ لو‘کھلے آسمان تلے ان کی بے بسی میں حصے دار بن جاﺅ۔ کسی ڈوبتے بوڑھے کی طرف کوئی ہوا بھری ٹیوب پھینک کر اسے بچالو‘ ملیریا سے تڑپتے کسی معصوم کی پیشانی پرشفقت بھرا ہاتھ ہی رکھ دو۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 14 Sep 10

ایک دن مدینے میں

Click here to View Printed Statement
Click here to View Printed Statement

روزہ کھلنے میں ابھی چالیس منٹ باقی ہیں لیکن مسجد نبوی کے ہر حصے میں نمازی افطار کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ہر شخص اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ افطاری لا رہا ہے جسے دروازوں پر کھڑے ہوئے دربان چیک کرتے ہیں۔کھجوریں‘قہوہ‘جوس کے ڈبے اندر لانے کی اجازت ہے۔سموسوں اور پکوڑوں کی ممانعت ہے۔ یہ پابندی اس لئے عائد ہے کہ مسجد میں گندگی نہ پھیلے۔ تھرموس میں اگر قہوہ ہے تو آپ اسے لے جاسکتے ہیں لیکن دودھ والی چائے پر دربان اعتراض کرتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 25 Aug 10

غیروں کی آنکھوں میں کھٹکنے والا سپہ سالار

Click here to View Printed Statement

بعض سیاسی حلقے سپہ سالار جنرل پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کو ”متنازعہ“ بنانے کی معصومانہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے جنرل (ر)مشرف کی طرف سے ہونے والے برے سلوک کا غصہ بھی جنر ل کیانی کے بارے میں کئے گئے فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بنا کر ٹھنڈا کیا ہے حالانکہ نہ سارے جرنیل مشرف کی سوچ کے حامل ہوتے ہیں اور نہ ہی سارے وزرائے اعظم جناب میاں محمد نوازشریف کی طرح جلد باز اورمختار کُل بننے کے جنون میں مبتلا ہوتے ہیں ۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Jul 10

وہ‘ واہ اور وائز

Click here to View Printed Statement

وہ بھی عجیب لوگ ہیں۔ایسے ماحول میں جب ہر بااثر شخص لُوٹنے کی دھن میں مصروف ہے وہ لوٹانے کی فکر میں مبتلا ہیں۔اس زندگی اور اس ملک نے لوگوں کو بہت کچھ دیا ‘اکثر نہیں لیکن ہر شہر اور ہر علاقے میںایسے صالح اعمال پاکستانی موجود ہیں جو اپنی کامیابیوں میں اپنے وطن کے لوگوں کو بھی شریک سمجھتے ہیں اور کچھ نہ کچھ واپس لوٹانے کاکوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Jun 10

ڈیم کنارے ملاقاتیں

Click here to View Printed Statement

یہ ملاقاتیں بھی عجیب ہیں۔جب میل ملاپ کے سارے راستے بند ہوں اور فریقین کوماضی مرحوم کی محبتیں ڈسنے لگیں تو پھر کونسا طریقہ نکالاجائے کہ شریفانہ طرز سیاست پر حرف بھی نہ آئے اور ملاقات کا سبب بھی پیدا ہوجائے۔ اس کی زندہ اور تازہ ترین مثال کالا باغ ڈیم کے اشو پر سینٹ کے اندر مسلم لیگ (ن) اور (ق) کے ارکان کا یک زبان ہونا ہے ایک ایسا اشو جسے خود مسلم لیگ (ن) اور(ق) نے”وسیع تر قومی مفاد“ میںدفنا دیا تھا‘قومی وحدت کو ڈیم پر قربان نہ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا‘متبادل

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Jun 10

خونی انقلاب دستک دے رہا ہے

Click here to View Printed Statement

ماضی میں غریب غرباءاپنی غربت اور تنگدستی کو اپنا مقدر سمجھ کر دھیرے دھیرے موت کی طرف بڑھتے رہتے تھے۔بغاوت کا آپشن عام نہیں ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ساٹھ اور ستر کی دیہائیوںمیں اشتراکی نظریات اپنے تمام تر پرکشش نعروں کے باوجود پاکستانی معاشرے میں جڑ نہ پکڑ سکے اور روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ نے پاکستانی عوام کو روس سے بڑی حد تک لاتعلق ہی رکھا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Jun 10

ادھورا یومِ شہداء

Click here to View Printed Statement

لوگ مغموم بھی دکھائی دیئے۔آنسو بھی ٹپکے۔ماتمی دھنیں بھی بجائی گئیں اور شہداءکے مزاروں پر پھول بھی نچھاور کئے گئے وہ مائیں‘بہنیں اور بیٹیاں بھی تھیں جن کے عزیز دفاع وطن کی جنگ لڑتے زندگی کی سرحد پار کرکے شہادت کے تخت پر جلوہ گر ہوگئے۔ وہ ننھے بچے بھی تھے جن کے پاپا نے جام شہادت نوش کرتے وقت کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔پورا دن نغمے گونجتے رہے۔ پندرہ ہزار سے زائد شہداءاپنے دامن میں لئے دہشتگردوں کے سرپر وار کرتی افواج پاکستان نے تیس اپریل کو اپنا پہلا یوم شہداءمنایا۔ جنرل ہیڈکوارٹرز میں شام کے وقت یادگار‘ شہداءکی رونمائی ہوئی۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 May 10

تھنکرز فورم میں نظریہ پاکستان کی بازگشت

Click here to View Printed Statement

اپر کلاس دانشوروں کے ہاں نظریات اور عقائد کو عمومی طور پر تنگ نظری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ آجکل تو فیشن بن گیا ہے کہ جوں ہی کسی نے خدا ‘رسول اور قرآن کے حوالے سے ملکی معاملات میں کوئی دلیل لانے کی کوشش کی وہیں اسے مذہبی انتہا پسندی کا لیبل لگا کر ناقابل سماعت قرار دے دیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کی وجوہات بھی نئی نئی گھڑنے کی کوشش کی گئی ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Apr 10

ہاں پاکستان ایک حقیقت ہے

Click here to View Printed Statement

اگر جسونت سنگھ یہ حقیقت قبول نہ بھی کرتے تو بھی پاکستان کے لازوال وجود پر قطعاً فرق نہ پڑتا۔ یہ اس صالح فکر بھارتی رہنما کی اندر کی سچائی ہے کہ انہوںنے نہ صرف اپنی مشہور تصنیف میں اس حقیقت کو تسلیم کیا بلکہ پاکستان میں اپنی کتاب کی مارکیٹنگ کے دوران رسمی اور غیر رسمی گفتگو میں بھی اعادہ کرتے رہے۔ اسلام آباد کلب میں بھارت کے سابق وزیرخارجہ اور آج کل ہندو انتہا پسندوں کی نفرتوں کے ہدف اس سلجھے ہوئے دانشور سے مجھے ملاقات کا موقعہ ملا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Apr 10

حَد سے بڑھتی ہوئی دانشوری

Click here to View Printed Statement

کسی سچے پاکستانی کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ دانستہ طور پر کسی ایسے ادارے‘تحریک یا پروپیگنڈے کا حصہ بنے گا جس کا فائدہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو پہنچ سکتا ہو۔ اگر کچھ پاکستانی نما لوگ جان بوجھ کر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہےں تو پھر ان کو ”را“ کا ایجنٹ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ افواج پاکستان‘آئی ایس آئی اور دیگر حساس اداروں پر بے جا تنقید پر مبنی جوتبصرے یا کالم شائع ہوتے ہیں

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 17 Mar 10

پاکستان کو خانہ جنگی والی صورتحال سے بچاےا جا سکتا ہے

Click here to View Printed Statement

Posted by AAMIR JAVED / 01 Jan 10

کراچی کا جمال ۔سیّد مصطفی کمال

Click here to View Printed Statement

متحدہ قومی موومنٹ کے دامن میں ایسے ہیرے بھی ہیں کبھی سوچا نہ تھا۔شائد سوچ کا دائرہ متعصب حدوں میں محدود ہی رہتا اگر مجھے تواتر کیساتھ شہر قائد آنے کا موقع نہ ملتا۔آج کا کراچی وہ نہیں جہاں سے فقط مار دھاڑ اور فرقہ وارانہ تشدد کی خبریں موصول ہوتی تھیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 10 Dec 09

پنجاب بلوچ….سانجھی سوچ

Click here to View Printed Statment

قومی وحدت اور ملی یکجہتی کو دورِ آمریت میںجو زخم لگائے گئے تھے‘ وہ رِس رِس کرناسور بن چکے ہیں۔درد کی لہریں وفاقیت کو جھنجھوڑ رہی ہیں اور محب وطن حلقے شدید اضطراب میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔آج کھلے عام ”آزاد بلوچستان“ کے مطالبات ہورہے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 23 Nov 09

روشنی کا سفیر

Click here to View Printed Statment

تعریفی اسناد‘امتیازی اعزازات اور سنہری تمغات ہر کامیاب انسان کا حق بھی ہے اور خواہش بھی۔ ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ زندگی کے کسی شعبے میں جب بھی کوئی نمایاں کارنامہ سرانجام دے تو سماج اس کو سراہائے‘ اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے اور اس کے سینے پر تمغے سجائے۔ مردم شناس سوسائٹی کو ایسا کرنا بھی چاہیے۔ اچھائی اور نیکی کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ ہم روشن راہوں کے مسافروں کو ان کے حصے کی پذیرائی دینے میں کنجوسی نہ کریں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 31 Oct 09

غربت اور دہشتگردی

Click here to View Printed Statment

دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں جس محاذ پر سب سے زیادہ سرگرمی دکھائے جانے کی ضرورت ہے وہ غربت کا محاذ ہے۔ فوجی آپریشنز وقت مقررہ میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن دہشتگردی کی وجوہات ختم کرنے کا عمل دیرپا اور مسلسل ہوتا ہے۔آج کا پاکستان کراچی سے خیبر تک دہشتگردوں کی کارروائیوں سے لرز رہا ہے۔ کہیں پنجابی طالبان کے نام سے یہ لوگ متحرک ہیں اور کہیں پشتو بولنے والے مجرم سامنے آرہے ہیں۔اب دہشتگردی کی وبا کسی ایک صوبے‘ طبقے یا گروہ تک محدد نہیں رہی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں جہاں غربت کے سائے گہرے ہوتے ہیں‘وہیں سے خودکش بمباروں کی بھرتی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی اختلاف انتہا پسندی کی شکل اس وقت اختیارکرتا ہے جب پیٹ کی بھوک انسان کو ہر طرف سے بے اختیار کردیتی ہے۔بعض بزدل بھوکے حالات سے مجبور ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں جبکہ نوجوان خون بغاوت پر اتر آتا ہے۔ جونہی کوئی ماسٹر مائنڈ کسی غریب نوجوان کو خودکش بمبار بننے کے لئے مذہبی جواز فراہم کرتا ہے‘ پھر انتقام کی بدترین شکلیں سامنے آتی ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Oct 09

مائنس وَن اور پلس ون

Click here to View Printed Statment

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ”ن“ چوٹ لگاﺅ اور بھاگو کے فلسفے پر کاربندہے اور اس جماعت کے شہ دماغ پی پی پی کیخلاف ابھی تک کسی باقاعدہ جنگ کو مناسب خیال نہیں کرتے۔ حالانکہ ”ن“ لیگ کے صف اول کے مجاہدین نے طالبانی انداز میں لانگ مارچ کی دھمکی بھی دے دی تھی۔ لیکن چند روز قبل جناب میاں محمد نوازشریف نے اخباری مالکان اور سینئر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر اپنے جن باوضو خیالات کا اظہار کیا اور عمومی سوالات کے جو مصالحانہ جوابات دیئے۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”ن“ لیگ مشرف کے احتساب کے اشو کو اب مزید آگے بڑھانا نہیں چاہتی اور اس اشو کو مستقبل میں پی پی پی کیساتھ ناراض ہونے کے لئے محض ایک پوائنٹ کے طور پر قابل تذکرہ رکھنا چاہتی ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 07 Sep 09

لاوترازو تول کے دیکھو

Click here to View Printed Statment

وفاقی دارلحکومت کی بعض شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹا لی گئی ہیں اور آئندہ چند روز تک مزید ”نو گو ایریاز“ بھی ختم ہونے کا امکان ہے۔ تین چار ماہ قبل پاکستان کے شہروں کے اندر جس تواتر کے ساتھ خودکش حملے ہونا شروع ہوئے تھے ، اس سے خوف اور وسوسوں نے ہماری اجتماعی زندگی کو جکڑ لیا تھا۔ امن کی فاختائیں ہمارے منڈیروں سے اُڑ کر ہمسایہ ممالک کا رُخ کر چکی تھیں۔ سکون کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔ زندگی کیا تھی، بس ایک بے یقین سا سایہ تھا جو کسی چوک چوراہے میں خون آلود ہوتا دکھائی دیتا تھا۔ عوام تو عوام ،طبقہ اشرافیہ بھی اپنے بچاو¿ کی تدبیریںڈھونڈتا دکھائی دیتا تھا۔ جتنے اُونچے سر تھے، سب اُڑائے جانے کے ڈر سے نیچے ہو چکے تھے۔ اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں قائم پولیس کے اعلیٰ ترین افسران نے اپنی رہائش گاہوں کی طرف آنے والے راستے سنگ و خار سے بند کر دیئے تھے اور عوام کی حفاظت کے نام پر مراعات اور تنخواہیں بٹورنے والے عملاً قلعہ بند ہو کر کسی حملہ آور کے منتظر بیٹھے سانسیں گنتے تھے۔ سوائے مذمت کے حکمران طبقہ عوام کو کچھ دینے کے قابل نہ تھا اور اسلام آباد چند روز میں فتح ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔  Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 01 Sep 09

”گرین سگنل“

Click here to View Printed Statment

گزشتہ ماہ مقامی یونیورسٹی میں مختلف اداروں کے اشتراک سے سکول کے بچے بچیوں کے لئے میتھمیٹکس کے حوالے سے سمر کیمپ لگایا گیا۔ کیمپ کے آخری روز ملنے والے سرٹیفکیٹ اور سکول بیگ دکھاتے ہوئے ہماری بھتیجی نے پرجوش لہجے میں بتایا‘”انکل اب میں چالان بھی کرسکتی ہوں“اور اس کے ساتھ ہی اس نے ایک خوبصورت کارڈ دکھایا جس پر ”وارننگ کارڈ“ کے الفاظ درج تھے۔ یہ کارڈ اسلام آباد ٹریفک پولیس کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ بھتیجی نے بتایا کہ دوران کیمپ سٹوڈنٹس کو ٹریفک پولیس آفس کا دو مرتبہ وزٹ کرایا گیا۔ وہاں مختلف افسران نے ٹریفک رولز پر بریفنگ دی اور پھر شرکاءسے سوالات پوچھے۔ ایک سمارٹ سے انکل جو کہ سب سے بڑے آفیسر تھے انہوں نے ٹریفک رولز پر لیکچر دیا اور لنچ باکس بھی دیئے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Aug 09

ظُلمتِ شب میں روشن چراغ

Click here to View Printed Statement

یہ نہیں کہ اس ملک اور معاشرے میں اچھائیاں نہیں رہیں بلکہ اصل المیہ ےہ ہے کہ اچھائیاں اور بھلائیاں ہمارے نزدیک اب خبر کا درجہ نہیں پاتیں۔ اگر ہم تھوڑا سا وقت نکالیں اور اپنے شہر اور محلے پر نگاہ دوڑائیں تو ایسے مردانِ صدق وصفادکھائی دیں گے جو بغیر کِسی نام ونمودکے انسانی خدمت میں جُتے ہوئے ہیں۔ قومی سطح پر بھی ایک نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں ایسے رجال عظیم ہیں جوحسب ونسب ذات ‘اور علاقے ‘ زبان اور مکان کی تفریق رکھے بغیرخدمت خلق کے صالح عمل میں مصروف رہتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے قلم اِن بے لوث ہستیوں کی جائز تعریف میں بھی متحرک نہ ہوئے۔ ہماری زبانوں پر تخریب کاریوں کے تذکرے تو جاری رہتے ہیں لیکن اِن معماروں اور مسیحاﺅں کو ہم نے کبھی ماڈل پاکستانی کے طور پر پیش نہیں کیا۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Jun 09

نظریاتی تعلیم وقت کی اہم ترین ضرورت

Click here to View Printed Statment

Posted by AAMIR JAVED / 04 Apr 09

امریکی اعتماد

Click here to View Printed Statement

امریکی حکمران بھی عجیب وغریب قسم کے دماغی خلجان میں مبتلا رہتے ہیں۔ امریکہ بہت بڑا ملک ہے۔ باون ریاستیںہیں‘زرخیز زمینیں ہیں‘ بہترین دماغ ہیں۔ اپنے ملک میں رہیں‘ اپنے لوگوںکی صحت اور تعلیم کی سہولتوں میں اضافہ کریں اور خود خوبصورت زندگی بسر کریں اور دنیا کو اپنے نظریات اور روایات کے مطابق زندگی بسر کرنے دیں۔ خدا جانے بیٹھے بٹھائے وہاں کے شہہ دماغوں کو کون سا کیڑا کاٹتا ہے اور ہر دس سال بعد کسی دوسرے ملک پر یلغار کردیتے ہیں۔ اپنے نوجوانوں کا خون بہاتے ہیں‘ اسلحہ پھونکتے ہیں اور لاشیں گراتے‘ ملکوں کو تہس نہس کرتے ہیں۔ جب مرنے مارنے کے عمل سے تھک جاتے ہیں تو پھر باعزت واپسی کے راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں بلکہ اکثر ہاتھ باندھ کر ‘منتیں کرکے مجروح ملک سے بھاگ جاتے ہیں۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Mar 09

مالاکنڈ میں نظام عدل اور بے بنیاد خدشات

Click here to View Printed Statement

صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کو بہرحال یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ اپنی حکمرانی کے انداز میں مشاورت کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔اب تک کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر پاکستان نے اپنے مشیروں اور مشاورت کے دائرہ کار کو اپنی پارٹی یا کسی کچن کیبنٹ تک محدود نہیں رکھا بلکہ کسی اشو سے متعلقہ ہرگروہ اور حلقے کو اعتماد میں لیکر ہی کوئی فیصلہ کیا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Feb 09

عرب امارات اور پاکستان

Click here to View Printed Statement

پاکستان کے دوست ممالک میں نمایاں ترین دوست ملک ‘متحدہ عرب امارات ہے۔ یہاں کی حکومت نے پاکستان میں سماجی ترقی‘ شعبہ تعلیم اور صحت کی بہتری اور قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
جناب شیخ سلطان النہیان مرحوم پاکستانی عوام میں مقبول ترین شخصیت تھے۔ اور محسن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام ان کی پاکستان کے لئے دوستانہ نوازشات اور سماجی شعبے کی ترقی کے لئے بے مثال خدمات کو نہ صرف احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ انہیں یاد بھی رکھتے ہیں۔اپنے عظیم باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے موجودہ صدر محترم شیخ خلیفہ بن زید النہیان نے پاکستان دوستی اور پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے شیخ زید مرحوم کی روشن خدمات کی دوستانہ روایت کو زندہ رکھا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 05 Feb 09

نج کاری یا کاروکاری

Click here to View Printed Statement

ابھی تک وہ اعدادوشمار سامنے نہیں آئے جن کی بنیاد پر معلوم ہوسکے کہ پاکستان نے آج تک جتنے ادارے اور صنعتیں پرائیویٹائز کئے ہیں ان سے کل کتنی رقم حاصل ہوئی ہے اور اس رقم سے کتنے غیر ملکی قرضے ادا ہوسکے ہیںلیکن سادہ اور عام فہم سی حقیقت یہ ہے کہ تمام ترنج کاریوں کے باوجود پاکستان کے بیرونی اور اندرونی قرضوں میںاضافہ ہی ہوا ہے

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 20 Nov 08

بحران ٹل بھی سکتے ہیں

Click here to View Printed Statement

عوام تو یہی خواب دیکھ رہے تھے کہ پرویزمشرف کے جانے کے بعد ملک میں استحکام آئے گا اور قومی معاملات کی گاڑی پھر سے پٹڑی پر چڑھ کر بھاگنے لگے گی۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی لوگوں کی آزمائشیں ابھی کم نہیں ہوئیں اور ہر روز ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہماری سیاسی قیادتیں محلاتی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اور ملک معاشی‘خارجی اور داخلی محاذوں پر نت نئی شکست سے دوچار ہورہا ہے۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 27 Aug 08

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player