جنرل حمید گُل کا مشن جاری رہے گا

Click here to View Printed Statement

شخصیات بہت اہم ہوتی ہیں۔افراد ہی قوموں کے مقدر سنوارتے اور بگاڑتے ہیں۔ فرد کو ملت کے مقدر کا ستارہ کہا گیا ہے۔رجال عظیم کسی ملت کے دامن میں سجے ہوئے وہ ہیرے اور جواہرات ہوتے ہیں جن کی تعداد سے قوموں کی توانائی کا اندازہ ہوتا ہے۔قحط الرجال کا مطلب ہی یہی ہے کہ قوم میں رہبری کے منصب پر فائز ہستیاں دُنیا میں نہ رہیں۔ مصلحین سے تہی دامن اقوام بے راہ روی اور گمراہی کا شکار ہوجاتی ہیں۔
قیام پاکستان سے قبل عظیم شخصیات کی ایک تسبیح موجود تھی۔دانے بکھرتے گئے اور قائداعظم کی جیب میں کھوٹے سکّے بچ گئے تھے۔ جو اصلی لوگ تھے وہ اُفتاد زمانہ کا شکار ہوگئے۔ گزشتہ ستر سالہ تاریخ میں ہمیں افراد کار دکھائی تو دیتے ہیں لیکن ان کی تعداد محض آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جنرل حمید گل مرحوم و مغفور ان محدوے چند لوگوں میں شامل ہیں جن کے وجود سے قوم کے اندر اُمید اور یقین کی شمعیں ٹمٹاتی رہی ہیں۔ جنرل صاحب اُن پاکستانیوں کے لئے ایک نفسیاتی سہارا تھے جو خودی اور خوداری کے اوصاف سے لیس ہو کر ملّی تعمیروترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کا مطالعہ زیادہ مفید ہے کیونکہ وہ اپنی سوچ اور فکر کے اعتبار سے مکمل طور پر آزاد تھے۔ عہدے کے بندھن یا کسی سرکاری حیثیت کی نزاکتوں سے مبّرا جنرل حمید گل کا کردار روشن بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔

Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 21 Aug 15

ڈیم بنائیں۔ پانی بچائیں

Click here to View Printed Statement

اللہ پاک نے قرآن پاک میں پانی کو زندگی قرار دیا ہے۔افسوس کہ ہم بحیثیت مسلمان قرآن کی اس انتہائی اہم ہدایت اور روشنی سے اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگیوں کو منور کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ ہر سال لاکھوں کیوسک فٹ پانی سمندر میں غرق ہوجاتا ہے۔ بارش کا پانی جو محفوظ ہوجائے تو ہماری بنجر زمینیں بھی لہلاتے کھیتوں میں تبدیل ہوجائیں۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان ریاستی سطح پر ایسی کسی پالیسی پر عملدرآمد کی پابند نہیں ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے کیا کچھ نہیں کرتا۔ زندگی کو خطرہ ہو تو ہم پوری طرح مستعد ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی اپنا بھائی بھی ہماری زندگی کے لئے خطرہ بنے تو بھائی سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نپٹا جاتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ پانی نہ ہو تو ہم سب چند برسوں کے اندر موت کے منہ میں چلے جائیں۔ تصور کریں کہ پاکستان میں دو سال پانی کی فراہمی بند ہوجائے۔ نہ زمین سے میسر ہو’ نہ بارشیں ہوں نہ گلیشیئر پگھلیں۔تو اس ملک کے اندر جانور ہی نہیں انسان بھی چلتے پھرتے ڈھانچے بن جائیں۔ خوراک اُگے نہ حلق تر کرنے کے لئے آب رواں ملے۔ Continue reading »

Posted by / 05 Aug 15

شیخ الاسلام کا ” امن نصاب’

Click here to View Printed Statement

دہشت گردی اب کسی ایک مُلک یا قوم کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ ایک بین الاقوامی اشو بن چُکا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے عفریت سے بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ افواج پاکستان کو دہشت گردوں کے خاتمے کا جو ٹاسک دیا گیا تھا وہ بڑی حد تک پورا ہوچکا ہے۔ فوجی نوعیت کی فتوحات قابل ذکر ہیں۔ضرب عضب کے تین اہداف مقرر کئے گئے تھے۔پہلا ہدف ان دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کے ٹھکانے ختم کرنے تھے جو اعلانیہ طور پر ریاست اور ملک کے خلاف برسرپیکار تھے۔ الحمد اللہ ہماری عسکری قوت نے ”ناقابل شکست ” سمجھے جانے والے ان گروہوں کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہ بلوچستان کے علیحدگی پسند لشکر تھے یا اسلام کا نام استعمال کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے دونوں قسم کے گروہ اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں۔ جو چند بچے ہیں وہ بھی فرار کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ہمارے بہادر فوجی ان کی آخری پناہ گاہوں تک جاپہنچے ہیں۔دوسرا ہدف فرقہ وارانہ تنظیموں کی وارداتوں پر قابو پانا تھا۔مقام شکر ہے کہ ان کے وجود کو بھی نیست و نابود کردیا گیا ہے۔ اب ان کے اندر ہتھیار اٹھانے کی ہمت نہیں رہی اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو مضبوط گرفت میں لیا جاچُکا ہے۔ مُلک میں ٹارگٹ کلنک کے اکا دُکا واقعات تو ہوتے ہیں لیکن ایسی انتہا پسند تنظیموں کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیاہے۔ تیسرا اور اہم ترین ہدف دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور معاون لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا تھا اس حوالے سے کراچی میں جو آپریشن ہورہا ہے اس کے ذریعے بڑے بڑے نامی گرامی لوگوں کو پکڑا جا چُکا ہے۔ چونکہ کرپشن انڈسٹری کے ذریعے ہی ان شدت پسند گروہوں کو مالی مدد فراہم کی جاتی تھی اس لئے مالی بدعنوانی کے ذرائع پر آہنی ہاتھ ڈالا گیا ہے ۔ قوم کو یقین ہے کہ کراچی میں آپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر ہی ختم ہوگا۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 28 Jul 15

مودی کا پلہ کیوں بھاری رہا

Click here to View Printed Statement

ایک اخبار نے لکھا ہے کہ روس میں پاک بھارت وزرء اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھارت کے موقف کو نمایاں کوریج ملی کیونکہ بھارتی میڈیا وہاں پر موجود تھا جب کہ پاکستانی وفد کے ہمراہ پاکستانی میڈیا کو نہیں لے جایا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی سے پاکستان کے حق میں فضاء تبدیل ہوجاتی اور جو تصویریں اور فوٹیج بنی ہے اس کے مقابلے میں بھی چند تصاویر چل جاتیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ تھا ہی نہیں۔ ہمارے انکل نسیم انور بیگ (جنت نصیب) فرماتے تھے کہ معاشی آزادی کے بغیر ہر آزادی ادھوری رہتی ہے۔ پاکستان معاشی طور پر آزاد نہیں تو وہ خارجی سطح پر باعزت کیسے ہوسکتا ہے۔ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کا انگ انگ قرضوں میں جکڑا ہوا ہے بلکہ پاکستان کا ہر سال کا بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہوتا ہے اور ہمیں اپنے معاملات ریاست چلانے ‘تنخواہیں دینے اور وزیراعظم ہائوس اور ایوان صدر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے بھی قرض لینا پرتا ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 15 Jul 15

اچھی اولاد ہی اچھا نصیب ہے

Click here to View Printed Statement

ہم اکثر فیس بک پر دیکھتے ہیں کہ دوست احباب اپنے نومولود بچے بچیوں کی تصاویر لگا دیتے ہیں۔ کمنٹس میں ہم پڑھتے ہیں کہ ہر کوئی بچے کی صحت’درازی عمر اور اچھے نصیب کی دعا کر رہا ہوتا ہے۔عموماً یہ لکھا ہوتا ہے کہ ”خدا زندگی دے’خدا نصیب اچھے کرے”۔ اولاد بذات خود ایک انعام ہے۔ اللہ پاک نے اولاد کو میٹھے میوے سے تشبیہہ دی ہے۔ بیٹوں کے حوالے سے ہم بہت متفکر ّ رہتے ہیں۔ہمیں فکر ہوتی ہے کہ یہ بڑے ہو کر کامیاب انسان بنیں۔خوب دولت اور ناموری کمائیں۔ ایک بڑا حلقہ ابھی تک بیٹیوں کو بوجھ سمجھتا ہے اور شائد غربت’ جہیز اور عدم تحفظ کے سبب بہت سے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹیوں کے معاملے میں حد سے زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ اور آئے دن کے سماجی حادثوں کو دیکھ کر بیٹی کے والدین ایک ہی دعا کرتے ہیں کہ ”یااللہ میری بچی کے نصیب اچھے ہوں”۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 11 Jul 15

پشین گوئیاں اور پیش بندیاں

Click here to View Printed Statement

حکمرانوںنے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ اپنے طرز حکمرانی میں بہتری نہیں لائیں گے اور وقت گزاری اور ڈنگ پٹائو پالیسی پر ہی عمل پیرا رہیں گے۔ خبریں بنانے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے نت نئے ادارے بن جاتے ہیں بلڈنگز کھڑی ہوجاتی ہیں’ تنخواہیں اور ٹی اے ڈی اے کا چکر چل پڑتا ہے لیکن مجال ہے جو کوئی مفید کام بھی ہورہا ہو۔ مجموعی طور پر پاکستان کے تقریباً تمام ملکی وسول اداروں کی یہی حالت ہے لیکن موسمی تغیریرات کی پیشگی اطلاعات بہم پہنچانے والے ادارے اپنے ناکارہ پن کے سبب کافی بدنام ہوچکے ہیں ۔
کراچی میں لُو لگنے سے بے قصور لوگوں کے جاں بحق ہونے کا سلسلہ کئی روز تک جاری رھا۔گرمی کی اس لہر نے پہلے ہندوستان میں ہزاروں انسانوں کو لقمہ اجل بنایا اور ماہرین موسمیات کو علم ہونا چاہیے تھا کہ گرمی کی یہ لہر پاکستان کے ساحلی علاقوں کا بھی رُخ کرے گی۔پھر آخر ایسا کیوں نہ ہوسکا Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Jul 15

تحقیقات اور انتظار

Click here to View Printed Statement

بی بی سی کی رپورٹ آنے کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ وزارت داخلہ حرکت میں آئے گی اور ایم کیو ایم کے متحرک رہنمائوں کے گھروں پر چھاپے پڑیں گے’ دفاتر سیل ہوں گے اور الطاف حسین صاحب کو برطانیہ سے طلب کیا جائے گا۔ ”ایگزیکٹ” کے معاملے میں چوہدری نثار علی خان نے جو سرعت دکھائی تھی’ اس سے یہی توقع تھی ۔ نیو یارک ٹائمز اور بی بی سی کا” تقدس” تقریباً ایک جیسا ہے تو ردعمل بھی برابر کا ہونا چاہیے۔ لیکن چوہدری صاحب اس کے برخلاف بارہ گھنٹے تک خاموش رہے ‘ وزیر دفاع نے بین السطور گفتگو کی اور قومی اسمبلی میں طعنہ دیا کہ ایم ۔ کیو ۔ ایم کی ”لوڈشیڈنگ ” ہونے والی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو کہیں سے فون آیا ہوگا انہوں نے چوہدری نثار کو بی بی سی کی رپورٹ کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چوہدری صاحب نے تحقیقات کے اس کام کو طول دینے کے لئے برطانیہ سے معلومات حاصل کرنے کی راہ ڈھونڈی ہے۔ خط جائے گا’ کب جائے گا’ پھر جواب آئے گا۔بی بی سی والے حکومت پاکستان کو ثبوت فراہم کریں گے یا ٹال دیں گے۔ ابلتا پانی ہے اور اس میں ٹھنڈی مدھانی ہے۔ وزارت داخلہ اسے گھماتی رہے گی۔ہلکا پُھلکا شور اُٹھے گا اور پھر میڈیا کو کوئی بڑی خبر مل جائے گی۔ جس طرح ایم۔ کیو۔ ایم کے خلاف بی بی سی کی رپورٹ نے ملک میں جاری لوڈشیڈنگ کے سبب جاری حملوں سے مسلم لیگ (ن) کو نجات دلائی ہے Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 02 Jul 15

کراچی آپریشن اور ہماری ذمہ داریاں

Click here to View Printed Statement

یہ بات بلا شک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ کراچی میں گذشتہ ایک برس سے جاری آپریشن کسی تخصیص اور تفریق کے بغیر جاری ہے۔ کوئی پارٹی یا گروہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ رینجرز کے اس آپریشن میں کس طرح کی جانبداری برتی جارہی ہے۔ جس پارٹی کا جتنا بڑا سائز اور حجم ہے اسی حساب سے کرپشن اور بدعنوانی کے حوا لے بھی نتھی ہیں۔ ایم کیو ایم کے خلاف اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک سے بھی ثبوت اور انکشافات سامنے آرہے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ متحدہ کے مبّینہ مجرموں کے خلاف گھیرا مکمل ہوچُکا ہے اور اب آخری ہلہ بولا جانا ہے۔ دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی کے درجن بھر لوگ زیرحراست ہیں ‘بعض اہم لوگ پیشگی اطلاعات پر فرار ہوچکے ہیں’لیکن دو درجن سے زائد لوگ جن میں صوبائی وزراء اور مشیر شامل ہیںانہیں باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔نقدی پکڑی گئی ہے اور بہت سے راز دیرینہ راز دانوں نے افشاء کردیئے ہیں۔ خیال یہی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں دو سو تیس ارب روپے کی سالانہ کرپشن کا تمام نیٹ ورک پکڑا جائے گا اور دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے بھی دھر لئے جائیں گے۔ وفاقی حکومت اور افواج پاکستان کے درمیان اس معاملے پر مکمل ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 26 Jun 15

چینی مسلمان روزے کو ترستے ہیں

Click here to View Printed Statement

سنکیانگ میں دو کروڑ مسلمان آبادہیں ۔ گو ان کی زبان ترکی سے مماثلت رکھتی ہے لیکن لسانی اور ثقافتی اعتبار سے وہ خود کو وسط ایشیائی ریاستوں کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں۔صدیوں سے سنکیانگ کی معیشت کا دارومدار زراعت اور تجارت پر ہے، جس کا اظہار سلک روٹ پر واقع کاشغرجیسے مصروف شہروں سے ہوتا ہے۔بیسویں صدی کے اوائل میں کچھ عرصے کے لئے الغیور آبادی نے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا لیکن انیس سو اننچاس میں یہ علاقہ باقاعدہ طور پرکیمونسٹ چین کے مکمل کنٹرول میںلایا گیا ۔
رپورٹ شائع ہوئی ‘کہ چینی حکومت نے زیادہ تراس مسلم آبادی والے مغربی علاقے سنکیانگ میں سرکاری ملازمین، طلبہ اور اساتذہ کی طرف سے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ساتھ ہی تمام ریستوران بھی کھلے رکھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ چینی حکومت جانتی ہے کہ رمضان کے مہینے میں طلوع آفتاب سے پہلے سے لے کر غروب آفتاب تک روزہ رکھنا اسلام کے بنیادی ارکان میں شامل ہے اور دنیا کے دوسرے معاشروں کی طرح چین میں بھی ایغور اور دیگر نسلوں کے مسلمان باشندے روزے رکھتے ہیں۔ Continue reading »

Posted by AAMIR JAVED / 22 Jun 15

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player